☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد یونس پالنوری) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) نواجوان نسل(صہیب مرغوب) کچن کی دنیا() خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) فیشن(طیبہ بخاری ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین(نجف زہرا تقوی) شوبز(عبدالحفیظ ظفر) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) متفرق(اسد سلیم شیخ) ادب(طاہر اصغر) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
کامیابی کیلئے اپنی قدر پہچانو اور بڑھائو

کامیابی کیلئے اپنی قدر پہچانو اور بڑھائو

تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

08-18-2019

دنیامیں کوئی کروڑ پتی ہے تو کوئی چندروپوں کو ترس رہا ہے۔ کوئی خزانوں کا مالک ہے تو کسی کے گھر میں فاقوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کوئی دنوں میں لاکھوں کماتا ہے تو کسی کو سالوں میں ہزاروں سے گذارہ کرنا پڑتا ہے۔

اس بہت وسیع تفاوت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر فرد کی ایک معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی قدر ہوتی ہے جسکے مطابق ہی اُس کے وقت کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے۔

 

اور اسی سے یہ طے ہوتا ہے فرد کا دائرہ کار اور دائرہ اثر کتناہے؟ یعنی فرد کی قدر کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کی اپنی نظروں اور معاشرے میں کیا قدر ہے؟ یہ کامیابی کا بنیادی عنصر ہے۔ خود توقیری یعنی Self Worthسے مراد اپنی توقیر آپ کرنا یا اپنی نظروں میں اپنے آپ کو قابلِ قدر محسوس کرنا یا اپنے آپ کو قابل ِ عزت تصور کرناہے۔ مگر یہ بات یاد رہے کہ یہاں خود توقیری سے مراد خود پسندی یعنی خود کوبڑا سمجھنا ہرگز نہیں ہے۔ دنیا میں ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اُس کی قدر بڑھ جائے کیونکہ اس کی بدولت فرد کا نہ صرف دائرہ اختیار، دائرہ کار اور دائرہ اثربڑھتا ہے بلکہ دولت کے ساتھ ساتھ اُس کی سماجی ساکھ اور عزت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جب تک فرد خود کو قابل ِ عزت تصور نہیں کرتا دنیا کی کوئی طاقت اُسے دوسروں سے عزت نہیں دلوا سکتی۔ یعنی سب سے پہلے آپ اپنی قدر کو جان کر اس کا تعین کرتے ہیں اور پھر معاشرہ اسے قبول کرتا ہے۔ ہم اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں دوسروں کی نظر میں آپ کی وہی قیمت ہے جو آپ اپنے لئے مقرر کرتے ہیں۔ 

تمھارا مقابلہ صرف تُم سے ہے:زندگی میں ایک بات مت بھولیں کہ آپ کا مقابلہ صرف آپ ہی سے ہے۔ کسی سے اپنا تقابل اور موازنہ کر کے خود کو شرمندہ اور پریشان نہ کرو۔ خدا نے تُمھیں منفرد اور الگ پیدا کیا ہے۔بس اپنے آپ کو اعلیٰ بنا لو تو تُمھیں کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ کہانی تمھیں اس حقیقت کو سمجھنے میں بہت مدد دے گی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کروڑ پتی امیر آدمی کہیں جا رہا تھا ۔اُس کی اپنی کئی فیکٹریاں اور شاپنگ سٹور تھے۔ وُہ اپنی سوچوں میں گم کہیں جا رہا تھا کہ اُسے ایک ادھیڑ عمر کے نوجوان لڑکے نے روکا اور درخواست کی ۔محترم ! اگر آپ کے پاس موبائل فون ہے تو مجھے دیدیں ۔میں نے ایک ضروری کال کرنی ہے۔اُس امیر آدمی نے بخوشی اپنا فون اُس کو دیدیا ۔لڑکے نے نمبر ملایا تو آگے سے کسی خاتون کی آواز آئی کہ بتائے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں؟ نوجوان بڑے ادب، چائو اور مان سے بولا میڈم ! مجھے آپ سے ایک درخواست کرنا ہے کہ آپ مجھے اپنے لان کی صفائی ستھرائی کا ٹھیکہ دیدیں۔خاتون نے سپاٹ لہجے میں انکار کر دیا۔ لڑکا بولا! میڈم میں لان کی صفائی نصف داموں میں کردوں گا۔اب آپ کا خیال ہے؟ خاتون نے پھر انکار کر دیا۔ لڑکے نے اپنی پیش کش بڑھا دی اور کہا کہ وُہ لان کی صفائی کے ساتھ ساتھ گیراج بھی اُسی معاوضے میں صاف کر دے گا۔ مگر خاتون نے کہا نہیں بیٹا! ہم جس سے اپنالان صاف کراتے ہیں اُس کے کام اور خدمات سے خوش ہیں اورہر گز کسی اور کو یہ کام نہیں سونپنا چاہتے۔ لڑکے نے شکریہ کہہ کر فون بند کردیا۔ امیر آدمی لڑکے سے بہت متاثر ہو ا اور اُسے فوراًاپنے ہاں ملازمت کی پیش کش کردی۔ مگر لڑکے نے بڑے مودب انداز میں شکریہ کے ساتھ اس پیش کش سے انکار کر دیا کہ اُس کے پاس پہلے ہی ملازمت موجودہے۔ امیر آدمی حیران ہوکرلڑکے سے پوچھا کہ وُہ کہاں ملازمت کرتا ہے؟ تو لڑکے نے جواب دیا کہ وُہ اسی خاتون کے گھر کے لان کو صاف ستھرا رکھتا ہے جس سے وُہ اپنے تعلیمی اخراجات کیلئے مناسب رقم حاصل کر لیتا ہے جو اُس کیلئے کافی ہے۔ وُہ بس یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ وُہ خاتون اُس کے کام سے مطمئن ہے یا نہیں؟ ہماری زندگی میں یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ ہماری زندگی میں ہمارے کام کا معیار کیسا ہے ؟ کیونکہ ہمیں اپنے معیار کو خود ہی بہتر بنانا ہے۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی زندگی میں ہمارا مقابلہ کسی سے نہیں بلکہ خود سے ہے اور ہمیں ہی اپنی ذات کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔

اپنی کارکردگی، علم اور قابلیت بڑھائو: علم ، کارکردگی اور قابلیت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ اس کے حصول میں یکسو اور استقامت سے لگے ہوئے فرد کو ہرانا اگر ناممکن نہیں ہو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ ہر گذرتے دن میں اپنے آپ کو بہتر بنانا ، اپنی قابلیت ، لیاقت اور ذہانت میں نشوونما کی ذمہ داری خود قبول کر کے اپنی کارکردگی بڑھانے کی کوشش جاری رکھنا دنیا میں کامیابی کے ہر دروازے کی وُہ کنجی ہے جسے ہر کوئی استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ اس میںسخت مشقت اور محنت درکار ہوتی ہے ۔مہارت اور قابلیت کی بنیادوں میں لگاتار اور مسلسل محنت اور جدوجہد کا خون پسینہ ڈالنا پڑتا ہے تب جا کر کہیں کامیابی کی ٹھوس اور مضبوط عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ کامیابی اور مہارت دونوں کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ دونوں لازم و ملزوم بھی ہیںاور لگاتار اور مسلسل مشق کے متقاضی بھی۔ مشق مہارت کی بنیاد ہے جس کا کوئی نعم البدل آج تک کوئی انسان دریافت نہیں کر سکا۔دنیا کے کسی میدان کے چمپئن کے جیت کے دن کے پیچھے لاکھوں گھنٹوں کی مسلسل مشق اور محنت پوشیدہ ہوتی ہے۔ وُ ہ اُس وقت بھی جاگ کر محنت کر رہا ہوتا ہے جب اس کے حریف تھک ہار کر آرام کر رہے ہوتے ہیں۔اپنے متعلقہ میدان ِ مہارت میں روز کچھ نیا سیکھنا اور کرنا آپ کو زندگی میں دوسروں سے ممتاز اور الگ کردیتا ہے اور بالآخر آپ کو کامیابی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ مہارت میں فوری اضافے کیلئے کسی ماہر کو مُرشد مان لیں اور اپنی مہارت میں اضافے کا واضح منصوبہ لکھ کر تشکیل دیں جس میں کارکردگی بڑھانے کے چھوٹے چھوٹے مراحل اور اقدام کی وضاحت کی گئی ہو پھر اس پر عمل پیرا ہو جائیں۔مگر یہ بات یاد رکھیں کہ کامیابی کے لئے ثابت قدمی اور استقامت بنیادی شرط ہے کیونکہ یہ عمل تھکا دینے والا اور بہت زیادہ محنت طلب ہوتا ہے۔ 

 خود کو برداشت نہیں قبول کرو: بہت سے لوگ اپنی ذات اور شخصیت کو مکمل طور پر قبول ہی نہیں کر پاتے۔ دنیا میں اپنی ذات کے سب سے بڑے نقاد اور نکتہ چیں وُہ لوگ خود ہی ہوتے ہیں۔ وُہ اپنے ساتھ ہی چند منٹ نہیں گذار سکتے اور دوسروں کی موجودگی میںاپنی تذلیل کرنا شروع کردیتے ہیں۔وُہ اپنے آپ کو معاف ہی نہیں کرپاتے کیونکہ انہیں اپنی غلطیاں اتنی بڑی لگتی ہیں کہ ان کا رونا پیٹنا ہی ختم نہیں ہوتا۔ ایسی شخصیات جہاں بیٹھتی ہیں وہیں اپنے خلاف ہی عدالت لگا لیتی ہیں اور اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کا رونا اس قدر روتی ہیں کہ سنُنے والے کو ان پر ترس آنے لگتا ہے۔ اور یہ اندر کا نقاد ان پر تنقید اتنی بار کرتا ہے کہ انہیں سچ لگنے لگتا ہے۔ اگر آپ کی کیفیات بھی اس سے ملتی جلتی ہیں تو جناب !آج ہی اپنے آپ کو برداشت نہیں بلکہ مکمل طور پر قبول کرنا شروع کردیں۔ اپنے آپ کو قدرت کا ایک مکمل پیکج تصور کریں جس میں کامیابیاں بھی ہیں تو ناکامیاں بھی، مثبت جذبات اور خصوصیات ہیں تو منفی بھی، خوشیاں بھی ہیں تو اُداسیاں بھی، دکھ بھی ہیں تو سُکھ بھی۔ یعنی اپنے آپ کو قدرت کا وُہ شاہکار مان لیں جو پرفیکٹ نہیں ہے۔سادہ لفظوں میں زندگی کو جہاں ہے اور جیسے ہے کی بنیاد پر قبول کر لیں اور اگر مگر چونکہ چنانچہ سے آگے بڑھ جائیں اور اپنی ذات کو مثبت اندازِ فکر اور عمل سے بہتر بنانے کی کوشش کریں ۔ زندگی آسان ہو جائے گی او ر حسین لگنے لگے گی۔ 

 اصولوں کی بنیاد پر زندگی گذارو: زندگی میں اپنے آپ پر یقین رکھیں مگر اپنی حدود کا واضح تعین کر لیں جینا آسان لگنے لگے گا۔ میں کیا کر سکتا ہوں سے زیادہ اہم یہ ہے مُجھے کیا نہیں کرنا چاہیے۔ اس کیلئے لازم ہے کہ آپ واقعات اور حادثات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر زندگی گذاریں۔ اصول بنا نا اور پھر ان پر چلنا ہی کامیاب لوگوں کی زندگی کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ دوسروں کیلئے قوانین بنانے کی بجائے اپنی ذات پر لاگو کرنے سے منزل کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔ اپنی روٹین یعنی روزمرہ نظام الاوقات کو متعین کرو اور پھر اس پر عمل پیرا ہو جائو۔ اپنی سوچ کو عارضی سے نکال کر طویل المدتی کاموں اور منصوبوں پر مائل کرو کیونکہ کامیابی وہیں کہیں ملے گی۔اپنی ذات کو فتح کئے بغیر دنیا پر فتح پانا نا ممکن ہے۔ اپنے آپ پر قابو پائو اور ہر اُس سوچ اور قوت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جائو جو تمھیں آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔ اپنی ذات پر کنٹرول پانے کیلئے تمھیں بے رحمی سے اپنااحتساب کرنا پڑے گا۔آج دنیا میں آزادی کے لفظ کا سب سے زیادہ غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ آزادی کا مطلب اصولوں اور قوانین کی پیروی نہ کرنا نہیں بلکہ ان پر چل کر کامیابی حاصل کرنا ہے۔ اگرآپ کی زندگی میں اعلیٰ اصولوںاور قوانیں کی حکمرانی ہے تو پھر کہیں بھی انتخاب میں مشکل نہیں ہو گی اور سفر آسان گذرے گا۔ ورنہ قدم قدم پر مشکلیں اور مصیبتیں تمھارا انتظار کر رہی ہیں۔ نہیں یقین آتا تو آزما کر دیکھ لو۔ 

توجہ صرف اُس پر مرکوز کرو جو بدل سکتے ہو: آپ دنیا میں ہر چیز بدل کر بہتر نہیں بنا سکتے۔آپ یہ طے کرلیں کہ آپکا دائرہ اثر اور دائرہ کار کتنا ہے ؟یعنی آپ کن چیزوں کو بدلنے کا اختیار رکھتے ہیں؟اپنی پوری توجہ صرف اور صرف اس پر مرکوز کر دیں کیونکہ اس راہ میں اپنے خوف اور تشویش پر آپ کو خود ہی قابو پانا ہے۔زندگی میں آنے والے کسی طوفان کو تو آپ نہیں روک سکتے مگر اس کا مقابلہ کرنے کے لئے آپ اپنے کو تیار کر سکتے ہیں۔ آپ دوسروں میں اگر مثبت تبدیلی نہیں لاسکتے مگر اپنی ذات کو تو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اور یہ بھی بات ملحوظِ خاطر رہے کہ دنیا میں جو صرف ایک فرد آپ بہتر بنا سکتے ہیں وُہ آپ خود ہی ہوتے ہیں۔ بس اپنی تمام تر توجہ اُسی پر لگا دیں جس پر آپ کا اختیار ہے کیونکہ اس سے زیادہ کے آپ مکلف بھی نہیں اور آپ سے اُس کے بارے میں پوچھا بھی نہیں جائے گا۔اپنی قوتوں اور توانائیوں کا ۔سب سے اعلیٰ ترین استعمال اُسی وقت ممکن ہے کہ جب آپ کو اپنے واضح مقصد کا علم ہو اور آپ اپنی حدود و قیود سے بخوبی آگاہ ہوں۔جتنا کر سکتے ہووُہ پوری قوت اور شدت سے کر گذریں باقی سب اللہ پر چھوڑ دیں کیونکہ یہی دانشمندی ہے۔   

غلطیوں سے نہیں بلکہ ان سے نہ سیکھنے سے ڈرو: دنیا میں صرف ایک ہی فرد ہے جو کبھی ہار نہیں سکتا اور وُہ فرد جو کبھی کچھ کام نہ کرے ۔ زندگی میں ناکامی کا سامنا کئے بغیر کچھ بھی اچھا اور بڑا کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ہار جانے کے خوف سے ہی شکست جنم لیتی ہے۔ ڈر آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ کوشش کر کے ہار جانا کوشش نہ کرنے سے لاکھ درجے بہتر ہے۔ نتائج کی پرواہ کئے بغیر عمل کے میدان میں کود جانے والے ہی منزلوں کو پاتے ہیں ورنہ زندگی کے کنارے پر ناکامی کے خوف سے گم سُم کھڑے لوگوں کی بھیڑ ہے کہ کم ہی نہیں ہوتی۔ ناکامی دنیا کا سب سے بہترین اُستاد ہے جس سے سیکھے بنا سبق کبھی نہیں بھولتے۔ یہ ہمیں ہماری کمزوریوں سے آگاہ کرتا ہے اور زندگی کی جنگ پھر سے دوبارہ نئے طریقے سے لڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔ تھکنے والے جیتتے نہیں اور جیتنے والے تھکتے نہیں کیونکہ ناکامیاں ہی ہمارے وجود میں سب سے اعلیٰ اور بہترین انسان کو باہر نکال لاتی ہیں۔ناکامیاں ہی تو قوت دیتی ہیں۔ ٹھوکر کھا کر گرجانا معمول کی بات ہے چلنے کا ہنر سیکھنے کیلئے گرنا تو پڑتا ہے۔ اس لئے رکو نہیں آگے بڑھتے رہو، نئی شروعات کرنے سے نہ ڈرو۔غلطیوں سے نہیں بلکہ ان سے نہ سیکھنے سے خوف کھائو۔

خود اعتماد نظر آئیں: خود اعتمادی کا اظہار آپ کی اپنی نظروں میں اور خاص طور پر معاشرے کی نظروں میں قدرو قیمت بڑھاتا ہے۔ اپنی ذات سے جب بھی بات ہو تو خود پر اپنی تنقید کو رد کرنا سیکھیں اور مثبت سوچ اور عمل سے زندگی کو آگے لے کر چلیں۔ دوسروں سے موازنہ چھوڑ دیں کیونکہ آپ خدا کی منفرد تخلیق ہیں اس لئے دنیا میں کوئی آپ جیسا ہے نہ ہو سکتا ہے ۔اس لئے اپنے آپ کو مکمل طورپرقبول کر کے آگے بڑھیں ۔ سب سے پہلے جس شخص پر آپ کو مہربان ہونا ہے اور بہت نرمی سے پیش آنا ہے وُہ آپ عالی جناب خود ہیں۔اس لئے خود سے گلے کرنے کی بجائے خود کو قبول کر لیں ۔مان لیں کہ خامیاں ،کوتاہیںاور کمیاں سب میں ہوتی ہیں۔خود کو مسٹر پرفیکٹ بنانے کی کوشش چھوڑدیں۔ اگر حالات نہیں بدل سکتے تو حالات کا جائزہ لینے کا اندازِ فکر ہی بدل دیں ۔زندگی بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔ ایسے لوگوں میں رہیں جو آپ کا حوصلہ اور ہمت بڑھائیں تاکہ آپ کی شخصیت میں خوداعتمادی نظرآئے۔کیونکہ یہ کامیابی کی وُہ سیڑھی جسے آپ کو ہر حال میں اچھے طریقے سے چڑھنا ہے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وُہ ہماری زندگی میں ہمیں وُہ اپنی قدر جاننے اور ا س کو بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ (آمین)۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

لوگ صرف دولت کما لینے کو ہی ترقی تصور کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر کا دھن اکٹھا کر لینے اور مال وزر جمع کر لینے کے بعد اگر روح پُرسکون نہیں ہے او ...

مزید پڑھیں

زمانہ قدیم سے ہی دنیا بھر میں کہانیاں سُننا اور سنانا پسندیدہ ترین شغل رہا ہے۔ کہانیوں سے ہم نہ صرف اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں بلکہ ان سے سی ...

مزید پڑھیں

زمانہ قدیم سے ہی دنیا بھر میں کہانیاں سُننا اور سنانا پسندیدہ ترین شغل رہا ہے۔ کہانیوں سے ہم نہ صرف اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں بلکہ ان سے سی ...

مزید پڑھیں