☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کلچر(ایم آر ملک) فیچر( طارق حبیب مہروز علی خان، احمد ندیم) متفرق(محمد سعید جاوید) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا اسپیشل(طاہر محمود) سپیشل رپورٹ(نصیر احمد ورک) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) سیاحت(نورخان سلیمان خیل)
حقہ ہمارے کلچر اور وسیب کی نشانی

حقہ ہمارے کلچر اور وسیب کی نشانی

تحریر : ایم آر ملک

02-09-2020

حقہ ہمارے کلچر اور وسیب کی ایسی نشانی ہے جو آہستہ آہستہ ماضی کا حوالہ بنتی جارہی ہے۔ بستی یاگائوں کے بزرگ جب چوپال پر یا دارہ پر کسی خوشی یا غم کے موقع پر اکٹھے ہوتے تو دائرے میں گھومنے والا بڑی ’’نڑی ‘‘والا فر شی حقہ ان کے اتحاد،رشتوں اور تعلق کی علامت بنتاتھا۔
 

 

ہمارے معاشرے میں حقہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب کسی ناپسندیدہ فعل پر لوگ کسی فردکے خلاف فیصلہ صادر کرتے ہیں تو بر ملا یہ کہتے ہیں کہ آج سے اس کا حقہ پانی بند کر رہے ہیں ۔
حقہ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ۔ایک شخص کے پیٹ میں درد اُٹھا وہ حکیم لقمان کے پاس پہنچا ،انہوں نے اسے ناریل کے کھوپرے سے حقہ تیار کرکے پینے کیلئے کہا ۔ حقہ پینے سے اس کو افاقہ ہوا ۔برصغیر میں حقہ کا تصور مغل حکمرانوں کے دور میں بھی ملتا ہے، جلال الدین محمد اکبر کی ایسی خیالی تصاویرہم دیکھتے ہیں جن میں ’’حقہ ‘‘ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ شہنشاہ جہانگیر نے گو تمباکو کو انگریز کا تحفہ قرار دیا مگر ایک بار جب وہ بیمار ہوا تو حکماء نے اسے حقہ پینے کیلئے کہا ۔برطانیہ میں لندن کے عجائب گھر میں جہانگیر کے دور کا ایک حقہ آج تک محفوظ ہے۔ بہادر شاہ ظفر کو حقہ سے بہت لگائو تھا وہ جب رنگون میں قید ہوئے تو حقہ ان کے ساتھ تھا کہا جاتا ہے ان کی تنہائیوں کا ساتھی صرف حقہ تھا اور آخری وقت میں حقہ ان کے سرہانے پڑا ہوا تھا ،نیشا پور انڈیا میں بھی مغلیہ ساخت کے حقے ملے ہیں ۔
حقہ اور چوپال لازم و ملزوم ہیں چوپالیں اجڑتی جارہی ہیں ۔چوپالوں پر جب بیٹھنے والے نہ رہیں تو چو پالیں بھلا کیسے آباد ہو سکتی ہیں ۔نئی نسل اب چوپالوں پر بیٹھنا پسند نہیں کرتی ، پرانے وقتوں میں بزرگ حقہ لیکر جب چوپال پر بیٹھتے تو گائوں کے دیگر بزرگ بھی وہاں آنکلتے ،باری باری حقہ پیتے اور گائوں کے دکھ سکھ بانٹتے۔ خوشاب ،اٹک ،میانوالی ،تلہ گنگ ،گوجر خان گجرات ،شیخوپورہ ،گوجرانوالہ ،سرگودھا ،منڈی بہائو الدین ،ملکوال میں’’ بیٹھک ‘‘یا ڈیوڑھی ‘‘پر آج بھی لوگ بیٹھتے ہیں۔ خوشاب ،میانوالی ،تلہ گنگ ،اٹک میں کہر آلود راتوں میں داروں پر آگ جلتی ہے اور اس کے گرد محفلیں جمتی ہیں نئی نسل پرانی نسل کے تجربات کا رس اپنے کانوں میں گھولتی ہے سبق آموز واقعات کا تسلسل نسل در نسل چلتا آرہا ہے مگر ان محفلوں کی مخصوص روایت ’’حقہ ‘‘ کی گڑ گڑ ہوتی ہے۔ ان علاقوں میں کسی قریبی عزیز کے مرگ کے بعد چالیس روز تک اس کے لواحقین اپنے ’’داروں ‘‘پر بیٹھتے ہیں یہاں بھی حقہ ہی ان کا محور ہوتا ہے۔ سرائیکی خطہ کے علاقوں میں بھی بڑوں کی محفلوں کو رونق حقہ سے ملتی ہے تاہم سرائیکی خطہ میں سیدھی ’’نڑی ‘‘والا حقہ زیادہ استعمال ہوتا ہے اسے ’’سُو ٹی حقہ ‘‘ کہا جاتا ہے اس کو سانس کا زور لگا کر پینا پڑتا ہے اسے ایک زیادہ تر ایک یا دو آدمی استعمال کرتے ہیں ’’چلم ‘‘پر تھوڑا سا تمباکو رکھ کر ماچس کی تیلی جلا کر جلتی ہوئی تیلی کے شعلے کو تمباکو کے قریب لے جاکر سانس کی طاقت سے تمباکو کو جلایا جاتا ہے اور اس طرح یہ حقہ پیا جاتا ہے۔
 زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب کسان دیہی علاقوں میں نور کے تڑکے (یعنی صبح سویرے )اپنے بیلوں کی جوڑی کو ہل چلانے کی غرض سے کھیتوں کی جانب جاتا ۔وہ صبح بیدار ہوتے ہی آگ جلاتا ،حقے میں تازہ پانی ڈالتا تب تک آگ تیار ہوجاتی اور پھر ’’چلم ‘‘میں گڑ اور تمباکو رکھ کر اسے آگ سے بھرتا اور بیل لیکر کھیتوں کی جانب جب روانہ ہوتا تو اس کے ایک کندھے پر ہل ہوتا اور دوسرے ہاتھ میں ’’حقہ ‘‘ہوتا تھا۔ وہ کھیتوں میں ہل چلاتا جب دو چار کنال جگہ میں ہل چلا لیتا تو کچھ دیر کیلئے بیلوں کو سستانے کیلئے کھڑا کردیتا تب تک وہ کھیت کے ایک کونے میں پڑے حقہ کو اُٹھاتا اور کش لگا کر پیتا کچھ دیر کے بعد اس کی بیوی روٹی لیکر کھیت میں پہنچ جاتی ،وہ روٹی کھتا اور روٹی کے بعد ایک بار پھر ’’حقے ‘‘ کی طلب بڑھ جاتی ۔حقہ پیتے ہوئے بعض اوقات کھیت کے پاس سے گزرتے ہوئے کسی اور گائوں کے مسافر کی نظر جبحقہ پیتے ہوئے کسان پر پڑتی تو وہ اپنی تشنگی مٹانے کی خاطر اس کسان کے ساتھ حقہ پینے بیٹھ جاتا ۔ایک دوسرے کا احوال اور جائے رہائش کے بارے میں معلومات بانٹی جاتیں ۔چند لمحات کی یہ مل بیٹھنے کی شناسائی برسوں کے انمٹ تعلق پر محیط ہوجاتی حتیٰ کہ یہ تعلق جس کی بنیاد ’’حقہ ‘‘سے شروع ہوتی رشتوں ،ناتوں تک جاپہنچتا اور یہ رشتے نسل در نسل چلتے دیہی علاقوں میں جب کسی اہم مسئلہ کیلئے کسی گائوں یا بستی کے لوگ اور بڑے اکٹھ یا پنچایت کرتے تو ’’حقہ ‘‘ بطور خاص ایسی محفلوں کا محورخاص ہوتا مگر دیہی علاقوں میں بھی کسی اکٹھ یا پنچایت میں بھی حقہ کا تصور تقریبا ً تقریباً ختم ہوچکا ہے شوقین حضرات ’’حقہ‘‘ کی خوبصورتی کو کئی حوالے سے یقینی بناتے تاکہ کسی بھی محفل میں موجود گائوں کا فرد اس کے حقے کی تعریف کرتا نظر آئے،ایک زمانے میں لکڑی کے ڈھول والا حقہ بھی بہت مشہور ہوا جس پر خرادیہ رنگ کرتا تھابعض زمیندار خود خراد مشین پر اچھی لکڑی کا ڈھول تیار کراتے یہ حقہ پاکپتن اور بہاولنگر میں خاص طور پر تیار کیا جاتا حویلی لکھا کے تانبے کے نگینوں والے حقے بہت قیمتی اور خوبصورت تھے بڑے زمیندار دور دراز علاقوں سے کئی ماہ قبل ’’سائی ‘‘ دیکر یہ حقے بنواتے کیونکہ کاریگروں کے پاس اس حقہ کی مانگ بہت زیادہ ہوتی تھی ان کی نڑیاں ڈوریوں ،نگینوں ،مکیش ،نگینوں سے جڑی جاتیں جبکہ ’’چموڑے حقہ ‘‘پر خوبصورت چمڑے سے جو خول چڑھایا جاتا اس کی سلائی ایسے کی جاتی کہ سلائی کا پتہ تک نہ چلتا ایسے محسوس ہوتا کہ سارا ڈھول ہی چمڑے کا ہے اس چمڑے پر اس سے قبل خوبصورت کڑھائی بھی کرائی جاتی پاکستان میں ضلع جھنگ کے ایک دیہی علاقے لالیاں میں چمڑے کے بنے ’’چموڑے حقے ‘‘ بہت مشہور ہوئے اس حقہ کے بارے میں بنانے والے خریدار کو یہ تاکید کرتے کہ اس میں ہر وقت پانی موجود رہنا چاہیئے وگرنہ یہ سوکھ جاتا ہے اور بیکار ہوجاتا ہے ماضی میں گجرات کے بنے ہوئے حقے برصغیر بھر میں مقبول تھے کچی مٹی سے بنے ہوئے اور کمہار کی آوی میں پکے ہوئے حقے کے نچلے حصے پر خوبصورت بیل بوٹے بنائے جاتے اور ان پر مختلف رنگ کئے جاتے ا حقے بناے والوں نے جدت سے کام لیا تو گوجرانوالہ میں پیتل اور تانبے سے بنا حقہ جسے فرشی حقہ کہا جاتا تھا بہت مشہور ہوا کاریگروں نے یہ حقہ ایسا بنایا کہ اس کے نیچے دائرے کی شکل میں پہیئے لگے ہوتے اور یہ خو بخود ہاتھ لگانے سے گھومتا تھایہ پہلے پہل مراد آباد میں بنایہ کسی دوسرے فریق کو اٹھاکر نہیں دینا پڑتا تھا مختلف سائز کے حقے کیلئے مختلف قسم کی چلم ہوتی تھی چھوٹے حقے کیلئے چھوٹی چلم ہوتی ،بڑی چلم اس لئے رکھی جاتی تاکہ کسی چوہدری ،یا وڈیرے کے ڈیرے پر آنیوالوں کو تمام دن محظوظ رکھے اس چلم میں 5یا 6کلو لکڑیوں کی آگ باآسانی سما سکتی ہے جو تمام دن حقہ کو تازہ رکھتی ہے سرائیکی خطے میں جو سوٹی حقہ استعمال ہوتا ہے اس کی چلم جست کی بھی ہوتی ہے اس ’’سوٹی حقہ ‘‘کی نڑی پر بھی مختلف رنگ کے دھاگوں اور کپڑے کی کتروں سے خوبصورت بنائی کی جاتی اور چوپالوں میں یہ حقہ اب بھی موجود ہے اسے بڑی بوڑھیاں بھی استعمال کرتی تھیں گجرات ،گوجرانوالہ ،سرگودھا ،منڈی بہائو الدین ،شیخو پورہ ،سیالکوٹ کے بڑے زمیندار اپنے ڈیرے پرمہمانوں کیلئے حقہ ہمہ وقت تیار رکھنے کیلئے ایک ملازم رکھتے تھے جسے ’’کاما ‘‘کہا جاتا تھا جسے اس کام کی باقاعدہ تنخواہ دی جاتی تھی دریائے سندھ کے کنارے رہنے والے قبائل جب رات کو مچھلی کا شکار کرتے ہین تو پرانے شکاری جو حقہ کے دلدادہ ہیں آگ کا آلائو دریا کنارے جلا کر حقہ بھی ساتھ رکھتے ہیں جنہیں ایک جانب آگ کی گرمائش اور دوسری جانب حقے کا مزہ انہیں تازہ دم رکھتا ہے پاکستان کی سیاست میں بھی کئی شخصیات کے ساتھ حقہ جڑا ہوا ہے مگربا با ئے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ نے حقہ کو ایک دوام بخشا یعنی سیاست میں بھی حقہ کا عمل دخل رہا نوابزادہ صاحب کا حقہ ہمیشہ حکومت مخالف تحاریک میں ان کا ساتھی رہا نکلسن روڈ لاہور میں نوابزادہ نصراللہ خان کی رہائش گاہ پر بڑے بڑے سیاست دان دوزانو ہو کر بیٹھے ایسے مین نوابزادہ نصراللہ خان ان سیاست دانوں کا ہراول نظر آتے درمیان میں پڑے حقے کا کش لیکر وہ خلائوں میں دھواں چھوڑتے ہوئے مستقبل کا کوئی بڑا فیصلہ صادر کرتے یوں سفر میں حضر میں حقہ اُن کے ساتھ ساتھ ہوتا گاڑی میں رکھنے کیلئے ان کے پاس ٹفن حقہ ہوتا تھا ۔
ایک بزرگ کی یہ منطق تھی کہ ’’حقہ ‘‘مٹی ،ہوا اور آگ کا مجموعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جس طرح انسان کی زندگی پانی اور ہوا کے بغیر ناممکن ہے اسی طرح ’’حقہ ‘‘ کی تکمیل بھی پانی اور ہوا کے بغیر نہیں ہو سکتی ‘‘،ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ اپنے موقف کی تشریح کیسے کریں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’انسان جب سانس کے ذریعے حقہ پیتا ہے تو یہ ہوا ہی ہے جو حقے کی ’’گڑ گڑ ‘‘کی آواز پیدا کرتی ہے اسی طرح حقے کی تلوے میں جسے ہم ’’ڈھول ‘‘ کہتے ہیں ،میں پانی ہوتا ہے یوں پانی بھی حقے کا اہم جزو ہے ،یہ ڈھول مٹی کا بنا ہوتا ہے اس طرح انسان بھی مٹی کا بنا ہوا ہے یوں انسان اور حقہ پانی مٹی اور ہوا کا مجموعہ ہوا اس حوالے سے انسان اور حقے میں تفاوت نہیں ‘‘۔
 
ہمارے کلچر اور وسیب کی نشانی 
اس کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سماجی تعلق اور رشتے بھی کمزور ہوتے جا رہے ہیں 
ایم آر ملک
بستی کے بزرگ جب کسی خوشی یا غمی کے موقع پر اکٹھے ہوتے تو دائرے میں گھومنے والا حقہ رشتے ،تعلق اور محبت کی علامت بنتا
 لندن کے عجائب گھر میں جہانگیر کے دور کا ایک حقہ آج تک محفوظ ہے
 بہادر شاہ ظفر کو حقہ بہت پسند تھا ،رنگون میں دوران قید حقہ ہی ان کی تنہائیوں کا ساتھی تھا
 ۔۔۔۔ 
حقہ ہمارے کلچر اور وسیب کی ایسی نشانی ہے جو آہستہ آہستہ ماضی کا حوالہ بنتی جارہی ہے۔ بستی یاگائوں کے بزرگ جب چوپال پر یا دارہ پر کسی خوشی یا غم کے موقع پر اکٹھے ہوتے تو دائرے میں گھومنے والا بڑی ’’نڑی ‘‘والا فر شی حقہ ان کے اتحاد،رشتوں اور تعلق کی علامت بنتاتھا۔ ہمارے معاشرے میں حقہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب کسی ناپسندیدہ فعل پر لوگ کسی فردکے خلاف فیصلہ صادر کرتے ہیں تو بر ملا یہ کہتے ہیں کہ آج سے اس کا حقہ پانی بند کر رہے ہیں ۔
حقہ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ۔ایک شخص کے پیٹ میں درد اُٹھا وہ حکیم لقمان کے پاس پہنچا ،انہوں نے اسے ناریل کے کھوپرے سے حقہ تیار کرکے پینے کیلئے کہا ۔ حقہ پینے سے اس کو افاقہ ہوا ۔برصغیر میں حقہ کا تصور مغل حکمرانوں کے دور میں بھی ملتا ہے، جلال الدین محمد اکبر کی ایسی خیالی تصاویرہم دیکھتے ہیں جن میں ’’حقہ ‘‘ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ شہنشاہ جہانگیر نے گو تمباکو کو انگریز کا تحفہ قرار دیا مگر ایک بار جب وہ بیمار ہوا تو حکماء نے اسے حقہ پینے کیلئے کہا ۔برطانیہ میں لندن کے عجائب گھر میں جہانگیر کے دور کا ایک حقہ آج تک محفوظ ہے۔ بہادر شاہ ظفر کو حقہ سے بہت لگائو تھا وہ جب رنگون میں قید ہوئے تو حقہ ان کے ساتھ تھا کہا جاتا ہے ان کی تنہائیوں کا ساتھی صرف حقہ تھا اور آخری وقت میں حقہ ان کے سرہانے پڑا ہوا تھا ،نیشا پور انڈیا میں بھی مغلیہ ساخت کے حقے ملے ہیں ۔
حقہ اور چوپال لازم و ملزوم ہیں چوپالیں اجڑتی جارہی ہیں ۔چوپالوں پر جب بیٹھنے والے نہ رہیں تو چو پالیں بھلا کیسے آباد ہو سکتی ہیں ۔نئی نسل اب چوپالوں پر بیٹھنا پسند نہیں کرتی ، پرانے وقتوں میں بزرگ حقہ لیکر جب چوپال پر بیٹھتے تو گائوں کے دیگر بزرگ بھی وہاں آنکلتے ،باری باری حقہ پیتے اور گائوں کے دکھ سکھ بانٹتے۔ خوشاب ،اٹک ،میانوالی ،تلہ گنگ ،گوجر خان گجرات ،شیخوپورہ ،گوجرانوالہ ،سرگودھا ،منڈی بہائو الدین ،ملکوال میں’’ بیٹھک ‘‘یا ڈیوڑھی ‘‘پر آج بھی لوگ بیٹھتے ہیں۔ خوشاب ،میانوالی ،تلہ گنگ ،اٹک میں کہر آلود راتوں میں داروں پر آگ جلتی ہے اور اس کے گرد محفلیں جمتی ہیں نئی نسل پرانی نسل کے تجربات کا رس اپنے کانوں میں گھولتی ہے سبق آموز واقعات کا تسلسل نسل در نسل چلتا آرہا ہے مگر ان محفلوں کی مخصوص روایت ’’حقہ ‘‘ کی گڑ گڑ ہوتی ہے۔ ان علاقوں میں کسی قریبی عزیز کے مرگ کے بعد چالیس روز تک اس کے لواحقین اپنے ’’داروں ‘‘پر بیٹھتے ہیں یہاں بھی حقہ ہی ان کا محور ہوتا ہے۔ سرائیکی خطہ کے علاقوں میں بھی بڑوں کی محفلوں کو رونق حقہ سے ملتی ہے تاہم سرائیکی خطہ میں سیدھی ’’نڑی ‘‘والا حقہ زیادہ استعمال ہوتا ہے اسے ’’سُو ٹی حقہ ‘‘ کہا جاتا ہے اس کو سانس کا زور لگا کر پینا پڑتا ہے اسے ایک زیادہ تر ایک یا دو آدمی استعمال کرتے ہیں ’’چلم ‘‘پر تھوڑا سا تمباکو رکھ کر ماچس کی تیلی جلا کر جلتی ہوئی تیلی کے شعلے کو تمباکو کے قریب لے جاکر سانس کی طاقت سے تمباکو کو جلایا جاتا ہے اور اس طرح یہ حقہ پیا جاتا ہے۔
 زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب کسان دیہی علاقوں میں نور کے تڑکے (یعنی صبح سویرے )اپنے بیلوں کی جوڑی کو ہل چلانے کی غرض سے کھیتوں کی جانب جاتا ۔وہ صبح بیدار ہوتے ہی آگ جلاتا ،حقے میں تازہ پانی ڈالتا تب تک آگ تیار ہوجاتی اور پھر ’’چلم ‘‘میں گڑ اور تمباکو رکھ کر اسے آگ سے بھرتا اور بیل لیکر کھیتوں کی جانب جب روانہ ہوتا تو اس کے ایک کندھے پر ہل ہوتا اور دوسرے ہاتھ میں ’’حقہ ‘‘ہوتا تھا۔ وہ کھیتوں میں ہل چلاتا جب دو چار کنال جگہ میں ہل چلا لیتا تو کچھ دیر کیلئے بیلوں کو سستانے کیلئے کھڑا کردیتا تب تک وہ کھیت کے ایک کونے میں پڑے حقہ کو اُٹھاتا اور کش لگا کر پیتا کچھ دیر کے بعد اس کی بیوی روٹی لیکر کھیت میں پہنچ جاتی ،وہ روٹی کھتا اور روٹی کے بعد ایک بار پھر ’’حقے ‘‘ کی طلب بڑھ جاتی ۔حقہ پیتے ہوئے بعض اوقات کھیت کے پاس سے گزرتے ہوئے کسی اور گائوں کے مسافر کی نظر جبحقہ پیتے ہوئے کسان پر پڑتی تو وہ اپنی تشنگی مٹانے کی خاطر اس کسان کے ساتھ حقہ پینے بیٹھ جاتا ۔ایک دوسرے کا احوال اور جائے رہائش کے بارے میں معلومات بانٹی جاتیں ۔چند لمحات کی یہ مل بیٹھنے کی شناسائی برسوں کے انمٹ تعلق پر محیط ہوجاتی حتیٰ کہ یہ تعلق جس کی بنیاد ’’حقہ ‘‘سے شروع ہوتی رشتوں ،ناتوں تک جاپہنچتا اور یہ رشتے نسل در نسل چلتے دیہی علاقوں میں جب کسی اہم مسئلہ کیلئے کسی گائوں یا بستی کے لوگ اور بڑے اکٹھ یا پنچایت کرتے تو ’’حقہ ‘‘ بطور خاص ایسی محفلوں کا محورخاص ہوتا مگر دیہی علاقوں میں بھی کسی اکٹھ یا پنچایت میں بھی حقہ کا تصور تقریبا ً تقریباً ختم ہوچکا ہے شوقین حضرات ’’حقہ‘‘ کی خوبصورتی کو کئی حوالے سے یقینی بناتے تاکہ کسی بھی محفل میں موجود گائوں کا فرد اس کے حقے کی تعریف کرتا نظر آئے،ایک زمانے میں لکڑی کے ڈھول والا حقہ بھی بہت مشہور ہوا جس پر خرادیہ رنگ کرتا تھابعض زمیندار خود خراد مشین پر اچھی لکڑی کا ڈھول تیار کراتے یہ حقہ پاکپتن اور بہاولنگر میں خاص طور پر تیار کیا جاتا حویلی لکھا کے تانبے کے نگینوں والے حقے بہت قیمتی اور خوبصورت تھے بڑے زمیندار دور دراز علاقوں سے کئی ماہ قبل ’’سائی ‘‘ دیکر یہ حقے بنواتے کیونکہ کاریگروں کے پاس اس حقہ کی مانگ بہت زیادہ ہوتی تھی ان کی نڑیاں ڈوریوں ،نگینوں ،مکیش ،نگینوں سے جڑی جاتیں جبکہ ’’چموڑے حقہ ‘‘پر خوبصورت چمڑے سے جو خول چڑھایا جاتا اس کی سلائی ایسے کی جاتی کہ سلائی کا پتہ تک نہ چلتا ایسے محسوس ہوتا کہ سارا ڈھول ہی چمڑے کا ہے اس چمڑے پر اس سے قبل خوبصورت کڑھائی بھی کرائی جاتی پاکستان میں ضلع جھنگ کے ایک دیہی علاقے لالیاں میں چمڑے کے بنے ’’چموڑے حقے ‘‘ بہت مشہور ہوئے اس حقہ کے بارے میں بنانے والے خریدار کو یہ تاکید کرتے کہ اس میں ہر وقت پانی موجود رہنا چاہیئے وگرنہ یہ سوکھ جاتا ہے اور بیکار ہوجاتا ہے ماضی میں گجرات کے بنے ہوئے حقے برصغیر بھر میں مقبول تھے کچی مٹی سے بنے ہوئے اور کمہار کی آوی میں پکے ہوئے حقے کے نچلے حصے پر خوبصورت بیل بوٹے بنائے جاتے اور ان پر مختلف رنگ کئے جاتے ا حقے بناے والوں نے جدت سے کام لیا تو گوجرانوالہ میں پیتل اور تانبے سے بنا حقہ جسے فرشی حقہ کہا جاتا تھا بہت مشہور ہوا کاریگروں نے یہ حقہ ایسا بنایا کہ اس کے نیچے دائرے کی شکل میں پہیئے لگے ہوتے اور یہ خو بخود ہاتھ لگانے سے گھومتا تھایہ پہلے پہل مراد آباد میں بنایہ کسی دوسرے فریق کو اٹھاکر نہیں دینا پڑتا تھا مختلف سائز کے حقے کیلئے مختلف قسم کی چلم ہوتی تھی چھوٹے حقے کیلئے چھوٹی چلم ہوتی ،بڑی چلم اس لئے رکھی جاتی تاکہ کسی چوہدری ،یا وڈیرے کے ڈیرے پر آنیوالوں کو تمام دن محظوظ رکھے اس چلم میں 5یا 6کلو لکڑیوں کی آگ باآسانی سما سکتی ہے جو تمام دن حقہ کو تازہ رکھتی ہے سرائیکی خطے میں جو سوٹی حقہ استعمال ہوتا ہے اس کی چلم جست کی بھی ہوتی ہے اس ’’سوٹی حقہ ‘‘کی نڑی پر بھی مختلف رنگ کے دھاگوں اور کپڑے کی کتروں سے خوبصورت بنائی کی جاتی اور چوپالوں میں یہ حقہ اب بھی موجود ہے اسے بڑی بوڑھیاں بھی استعمال کرتی تھیں گجرات ،گوجرانوالہ ،سرگودھا ،منڈی بہائو الدین ،شیخو پورہ ،سیالکوٹ کے بڑے زمیندار اپنے ڈیرے پرمہمانوں کیلئے حقہ ہمہ وقت تیار رکھنے کیلئے ایک ملازم رکھتے تھے جسے ’’کاما ‘‘کہا جاتا تھا جسے اس کام کی باقاعدہ تنخواہ دی جاتی تھی دریائے سندھ کے کنارے رہنے والے قبائل جب رات کو مچھلی کا شکار کرتے ہین تو پرانے شکاری جو حقہ کے دلدادہ ہیں آگ کا آلائو دریا کنارے جلا کر حقہ بھی ساتھ رکھتے ہیں جنہیں ایک جانب آگ کی گرمائش اور دوسری جانب حقے کا مزہ انہیں تازہ دم رکھتا ہے پاکستان کی سیاست میں بھی کئی شخصیات کے ساتھ حقہ جڑا ہوا ہے مگربا با ئے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ نے حقہ کو ایک دوام بخشا یعنی سیاست میں بھی حقہ کا عمل دخل رہا نوابزادہ صاحب کا حقہ ہمیشہ حکومت مخالف تحاریک میں ان کا ساتھی رہا نکلسن روڈ لاہور میں نوابزادہ نصراللہ خان کی رہائش گاہ پر بڑے بڑے سیاست دان دوزانو ہو کر بیٹھے ایسے مین نوابزادہ نصراللہ خان ان سیاست دانوں کا ہراول نظر آتے درمیان میں پڑے حقے کا کش لیکر وہ خلائوں میں دھواں چھوڑتے ہوئے مستقبل کا کوئی بڑا فیصلہ صادر کرتے یوں سفر میں حضر میں حقہ اُن کے ساتھ ساتھ ہوتا گاڑی میں رکھنے کیلئے ان کے پاس ٹفن حقہ ہوتا تھا ۔
ایک بزرگ کی یہ منطق تھی کہ ’’حقہ ‘‘مٹی ،ہوا اور آگ کا مجموعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جس طرح انسان کی زندگی پانی اور ہوا کے بغیر ناممکن ہے اسی طرح ’’حقہ ‘‘ کی تکمیل بھی پانی اور ہوا کے بغیر نہیں ہو سکتی ‘‘،ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ اپنے موقف کی تشریح کیسے کریں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’انسان جب سانس کے ذریعے حقہ پیتا ہے تو یہ ہوا ہی ہے جو حقے کی ’’گڑ گڑ ‘‘کی آواز پیدا کرتی ہے اسی طرح حقے کی تلوے میں جسے ہم ’’ڈھول ‘‘ کہتے ہیں ،میں پانی ہوتا ہے یوں پانی بھی حقے کا اہم جزو ہے ،یہ ڈھول مٹی کا بنا ہوتا ہے اس طرح انسان بھی مٹی کا بنا ہوا ہے یوں انسان اور حقہ پانی مٹی اور ہوا کا مجموعہ ہوا اس حوالے سے انسان اور حقے میں تفاوت نہیں ‘‘۔
 باکس
اچھاتمباکو تیار کرنے کا نسخہ بھی آسان نہ تھا
حقہ پینے والے افراد ایسے تمباکو کا انتخاب ضروری تصور کرتے جو کڑوا اور اچھی قسم کا ہو۔ دیہی علاقوں میں بڑے زمیندار ایک مخصوص قطعہ اراضی کو مختص کرتے ،اس میں بار بار ہل چلا کر نرم کرتے اس میں جانوروں کے گوبر کو بطور قدرتی کھاد استعمال کیا جاتا ، پھر تمباکو کی پنیری جو کسی دوسری جگہ پر بوئی ہوتی اس کو اکھیڑ کر اس قطعہ اراضی میں بویا جاتا۔ تمباکو کو بار آوری تک پہنچنے کی عمر تک اس کی خوب دیکھ بھا ل کی جاتی، اس تمباکو کے جوان ہونے تک اس کی ’’ڈوڈیاں ‘‘توڑی جاتیں پھر اس تمباکو کو کاٹ کر ایک گڑھا کھود کر اس میں ایک متعین مدت تک دبا دیا جاتا ہے اور پھر اس مدت کے پورے ہونے کے بعد گائوں کے بزرگ اور ادھیڑ عمر افراد جو حقہ پینے کے رسیا ہوتے ہیں رسی کی طرح ’’وٹ ‘‘چڑھا کر ’’سُبے ‘‘بنانے میں لگ جاتے ہیں جنہیں چھائوں میں رکھ کر سکھایا جاتا ہے اور اس دوران وہ بڑا زمیندار ’’ونگارو ‘‘افراد کو بھی اس تمباکو میں سے کئی ’’سُب ‘‘بطور تحفہ دان کرتا ہے، اس طرح یہ کڑوا تمباکو محفلوں میں بطور خاص موضوع بحث ہوتا ہے، جبکہ حقہ پینے والے اس کے رسیا ایسی لکڑی کا انتخاب بھی کرتے ہیں جو تادیر حقے کی چلم کو تازہ رکھے ۔
باکس
حقے کے 9حصے
عربی میں جواہرات کی ڈبیہ کو ’’حقہ ‘‘ کہا جاتا ہے اور جو افراد حقہ کے شوقین ہیں وہ ایک طرح سے حقہ کو اس ڈبیہ سے بھی بالا تر قرار سمجھتے ہیں۔ حقہ 9حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں (نے ) نڑی، (نیچہ ) پیندا، (سر پوش ) ڈھکن، (ٹوپی )چلم ،(منہال )نے کا سرا ،سنگلی چمٹا ،ضامن اور قلفی شامل ہیں ۔ضامن سے مراد لوہے یا پیتل کی تار جو دو نلیوں کو جوڑ کر رکھتا ہے۔ اسی طرح نے کو اوپر نیچے کرنے کیلئے انگریزی زبان کے حرف ایل شکل کا جوڑ لگایاجاتا ہے جسے ’’قلفی ‘‘کہا جاتا ہے۔حقے کی ’’نے ‘‘جسے ’’نیچہ ‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو ایک مخصوص بانس کی ہوتی جو چٹا گانگ سے آتا تھا پر لوہے اور تانبے کی باریک تاروںجن میں خوبصورت موتی جڑے ہوتے جال تیار کیا جاتا، یہ نڑی ان تاروں اور موتیوں سے گندھی ہوتی یوں معلوم ہوتی جیسے تاروں اور موتیوں کی بنی ہوئی ہو۔ آگ کیلئے ’’چلم ‘‘ کی خوبصورتی جو پتریوں میں جکڑی ہوتی کا بھی خاص خیال رکھا جاتا تھا اور پھر جب وہ حقہ کسی محفل کی زینت بنتا تو ’’حقہ ‘‘ کے شوقین حضرات اس کی نہ صرف توصیف کرتے بلکہ اس کاریگر کا بھی پوچھتے جس سے یہ حقہ بنوایا گیا تھا۔سر پوش چلم کے اوپر رکھنے والا ڈھکن ہوتا ہے تاکہ چلم سے آگ نہ اُڑے۔
مردے کے ساتھ حقہ بھی دفن! 
 مہاراشٹر (بھارت )میں قبیلے دراوڑ کے ہاں یہ رسم ہے کہ وہ مردے کے ساتھ حقے کو بھی دفن کر دیتے ہیں۔ یہ کام نسل در نسل ہوتاچلا آرہا ہے ۔وہ سمجھتے ہیں مرنے والے کوبارہ گھنٹے کے بعد پہلی طلب حقہ کی ہوگی ۔وہ اُٹھ کر ایک گھنٹہ حقہ پیتا ہے اور پھر ہمیشہ کیلئے سو جاتا ہے ۔ انہیں یہ غلط فہمی بھی ہے کہ اگر حقہ دفن نہ کیا جائے تو مردے کو سکون نہیں ملتا، روح بے چین ہو کر بھٹکتی رہتی ہے اور اس کا نقصان لوا حقین کو بھی ہوتا ہے۔