☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
ہماری پہچان ،ہمارے میلے ٹھیلے

ہماری پہچان ،ہمارے میلے ٹھیلے

تحریر : ایم آر ملک

04-19-2020

 وقت نے اپنے تیور کیا بدلے انسان کے جذبات ،احساسات ،خیالات تک بدل گئے ،مصروفیت ،مہنگائی ،گرانی ،بیروزگاری نے اطوار اور ثقافتی اقدار تک کو نگل لیا ایک عہد کے ساتھ جڑا ہوا ہمارا کلچر تک بکھر گیا ،انسانی رویوں نے رنجشوں ،تشنہ خواہشوں کا لباس اوڑھ لیا ،جدت کی بے سمت اُڑان نے خوشیاں چھین لیں ۔

 

 

نُو رکے تڑکے ڈھول کی آواز گائوں کے باسیوں کے کانوں میں بہت بھلی محسوس ہوتی ہے جب ایک بڑا بھائی چھوٹے بھائی کو کہنی مار کر جگا دیتا اور اس کی توجہ ڈھول کی آواز کی جانب مبذول کراتا پھر اس آواز کے ساتھ ’’توتی ،بینسری ‘‘کی سریلی موسیقی بھی شامل ہوجاتی۔ ’’موتھا کھوہ ‘‘کا مہر شیر محمد لوہانچ ،گوگی کا رمضان پہلوان ،بستی یارووالا کا مہر امین سمرا ڈھول کی اس تھاپ پر اپنے سدھائے ہوئے بیلوں کو دوڑ کیلئے تیار کرتے جنوبی پنجاب کے زمیندار مرحوم سردار افضل خان کلاچی کے بیلوں کی دھوم دور دور تک تھی۔ جب گندم کی کٹائی عروج پر ہوتی تو مذکورہ افراد اپنے سدھائے ہوئے بیلوں کو بیل دوڑ کیلئے لیکر مخصوص جگہ پر دوڑ انے کیلئے لیکر جاتے جہاں ڈھول کی تھاپ پر یہ بیل پوری رفتار سے دوڑتے اور دوڑنے والے بیلوں کے چکر گننے کیلئے ایک ’’منصف ‘‘وہاں موجود ہوتا اور جب کسی زمیندار کا بیل سب سے زیادہ چکر لگاتا تو اسے ’’فاتح ‘‘قرار دیکر انعام سے نوازا جاتا۔ بیل مالک اور بیل کاشجرہ نسب بیان کیا جاتا یہی نہیں اس بیل کو باقاعدہ اس سال کی ’’پگ ‘‘ پہنائی جاتی گلے میں ’’مالا ‘‘ڈال کر اس کا مالک فخریہ انداز میں ’’پڑ ‘‘کا چکر لگواتا اسی طرح دوم اور سوم آنے والے بیلوں کو بھی انعام دیا جاتا اس کے علاوہ کئی روز قبل ایک طویل فاصلاتی گرائونڈ نما جگہ کو ہل چلا کر نرم کیا جاتا اور پھر اس پر سہاگہ مار کر ہموار کیا جاتا ’’ہل ‘‘کے ذریعے دو ایکڑ لمبائی اور دو ایکڑ چوڑائی والے تیار کئے گئے رقبہ میں دونوں کونوں میں ایک لمبی ’’سی ‘‘گہری لکیر لگائی جاتی اور دو مختلف مقابلے کی بیلوں کی جوڑیوں کے پیچھے ہل جوت کر ان لکیروں میں بیک وقت اشارے سے بھگایا جاتا اسی طرح کئی بیلوں کی جوڑیوں کے پیچھے ’’سہاگہ ‘‘نما پھٹی بھی باندھ کر برابر کھڑے کرکے دوڑ لگوائی جاتی اور جو جوڑی یہ فاصلہ سب سے پہلے طے کر لیتی اسے اول انعام کا حقدار قرار دیا جاتا پھر علاقہ میں بیلوں کی اس جوڑی کی جیت کی دھوم کئی روز تک کانوں میں گونجتی۔ 
  

بیل دوڑ 

   

کوٹلہ حاجی شاہ میں400سال سے تسلسل کے ساتھ میلہ لگتا ہے جہاں جنوبی پنجاب کے معروف بیلوں کے مالکان گروپوں کی شکل میں اس میلہ میں شرکت کرتے اس میلہ کے بارے میں روایت ہے ایک بزرگ سید حاجی محمد شاہ کا گزر جب یہاں سے ہوا تو ایک کنواں چل رہا تھا انہوں نے کنوئیں پر موجود افراد سے پانی مانگا جنہوں نے پانی دینے سے انکار کردیا اس بزرگ نے وہیں زمین پر دائرہ مارا جہاں کنواں نکل آیا اور یہ کنواں انہوں نے مقامی افراد کیلئے وقف کردیا اور اس پر تیز بھاگنے والے بیل دوڑائے تب سے ان کے اس عمل کوعملی شکل دینے کیلئے مقامی افراد چار سو سال سے اس کنوئیں پر بیل دوڑ کا مقابلہ کراتے ہیں جنوبی پنجاب کا یہ سب سے بڑا میلہ ہوتا ہے جہاں جنوبی پنجاب سے مہر امین سمرا گروپ ،کلاچی گروپ، دھول گروپ ،گھانکی گروپ ،موتھا گروپ سب سے زیادہ مشہور گروپ ہیں جو کنوئوں پر بیل جوت کر مقابلے کی دوڑ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں80کی دہائی میں پرانے کنوئیں ہوتے تھے جن پر لوہے کی ’’ماہل ‘‘ایک بڑے لوہے کے پہیئے پر گھومتی تھی اور اس ماہل میں 100سے زیادہ لوہے کی بنی ہوئی ’’ٹنڈیں ‘‘ہوتی تھیں جو اس چرخی پر گھومتی تھیں اس کنوئیں سے متصل لکڑی کی ایک نالی بنی ہوتی تھی جس میں یہ لوہے کی ٹنڈیں پانی پھینکتی تھیں بیل کو ’’گادھی ‘‘(گادھی وہ لکڑی ہوتی تھی جس کے آگے بیل کو جوتا جاتا تھا )بیل کے گلے میں ’’پنجالی ‘‘ہوتی تھی جس کو زور لگا کر کھینچتا تھا جبکہ گادھی کے ساتھ اور پنجالی کے ساتھ رسہ بندھا ہوتا تھا جس کے نتیجے میں نکلنے والے پانی سیاراضی کو سیراب کیاجاتاتھا مہر شیرا کہتا ہے کہ 12سال ہم نے پنجاب کے بڑے بیساکھی میلوں میں حصہ لیا تب پانی کے کنوئیں پر بیل کو جوتا جاتا تھا اور 4منٹ کا وقت ہر بیل کو دوڑ کیلئے دیا جاتا۔کوئی کہتا، ہمارے بیل نے 8سال لگاتار میلہ میں پہلا انعام حاصل کیا ۔کسی کی آواز سنائی دیتی ،ہمارے بیل نے4منٹ میں 57چکر لگائے ۔
قیام پاکستان سے قبل کنوئیں 200فٹ تک گہرے ہوتے تھے اور ان پر 300تک ٹنڈیں ہوتی تھی اتنے بھاری کنوئیں کو کھینچنا بہت مشکل ہوتا تھا ان کنوئوں پر جوتے جانے والے بیلوں کی دیسی گھی سے خاطر مدارت کی جاتی تھی بعد میں کنوئیں ختم ہوگئے اور ان کی جگہ خالی ’’گادھی ‘‘نے لے لی یہ ٹنڈوں والے کنوئیں کی نسبت کم وزنی ہوتی ،جنوبی پنجاب میں چاہ پھیلی والا میں ڈاکٹر جاوید اقبال کنجال ثقافت اور کلچر کو زندہ و جاوید رکھنے کیلئے ایک بڑے میلہ کا اہتمام کرتے جہاں بیل دوڑ کے علاوہ کبڈی اور دودہ جیسی ’’وسیبی تفریحات ‘‘دیکھنے کو ملتیں مختلف جگہوں پر لگائے جانیوالے میلوں پر ہر قسمی خرید و فروخت کے سامان کی بھی دکانیں سجتیں جن میں عورتوں کیلئے ان کے مرد چوڑیوں کی خاص طور پر خریدو فروخت کرتے جبکہ بچوں کیلئے جلیبیاں خرید کر لے جاتے ان میلوں پر لوگوں کی کثیر تعداد مختلف جگہوں پر لگے مجمعوں میں بانسری بجانے والے افراد کی موسیقی ،سیف الملوک ،ہیر رانجھا ،سوہنی مہینوال ،مرزا صاحباں ،سسی پنوں کی لوک داستانوں کو پرانے بزرگوں سے سن کر محظوظ ہوتے جنوبی پنجاب میں بیل دوڑ میں تسلسل کے ساتھ فاتح قرار پانے والے سمرا خاندان کے سپوت مہر محمد امین سمرا نے اس ضمن میں خاصی دل چسپ معلومات فراہم کیں ان کا کہنا تھا کہ زراعت جب جدید مشینری کی مرہونِ منت نہ تھی تب زراعت اور کھیتی باڑی بیلوں سے جڑی ہوئی تھی لکڑی کے ہل سے لیکر کنوئیں سے پانی نکالنے کے عمل تک بیل ہی سے کام لیا جاتا بیل دوڑ کے مقابلہ جات پنجاب بھر کے مختلف اضلاع میں مختلف اوقات اور مختلف طور پر سرانجام پاتے ہیں ضلع جہلم میں آج بھی کنوئیں موجود ہیں مگر وہاں پانی بہت گہرا ہے تقریباً300فٹ تک گہرے کنوئیں ہیں جہاں پانی کھینچنے میں بیلوں کو زیادہ طاقت صرف کرنا پڑتی ہے اس لئے وہاں دو بیل کنوئیں پر جوتے جاتے ہیں اور وہاں مقابلہ کیلئے 10منٹ کا وقت فی بیلوں کی جوڑی کو دیا جاتا ہے جو ان دس منٹ میں 160تک چکر لگاتے ہیں اسی طرح فیصل آباد ،وہاڑی اور سرگودھا میں بھی کنوئوں پر دو بیل ہی جوتے جاتے ہیں مگر مذکورہ اضلاع میں وقت پانچ منٹ رکھا جاتا ہے ان پانچ منٹ میں بھی بیلوں کی جوڑی 100چکر لگاکر جیت کی دوڑ میں شامل ہوجاتی ہے اسی طرح ملتان ،خانیوال اور جھنگ کے اضلاع میں بھی کنواں دوڑ میں دو بیل جوڑے جاتے ہیں مگر ان اضلاع میں وقت صرف دو منٹ ہوتا ہے اور ان دومنٹ میں بھی اچھی جوڑی 58چکر پورے کرتی ہے بھکر ،ڈیرہ غازی خان ،لیہ میں صرف ایک بیل کنوئیں پر جوتا جاتا ہے اور یہاں وقت 4منٹ ہوتا ہے ان چار منٹوں میں 85سے93چکر لگا کر بیل جیت جاتا ہے مہر امین سمرا کا کہنا تھا کہ بیساکھی کی رونقیں ماضی کی بدولت زیادہ ہیں اب تعلیم یافتہ نوجوان میلوں اور ثقافتی تہواروں کی تفریحات میں شمولیت اختیار کرتے ہیں ایک رسم جو ماضی کا قصہ ہو گئی گندم کی کٹائی کے موقع پر ایک رسم ’’چوری ‘‘کی بھی ہوتی تھی جس میں کوئی بھی زمیندار چار من تک گندم کو لیکر کسی چکی سے موٹی پسائی کراتا پھر گھر کی عورتیں جن میں گائوں کی دیگر عورتیں بھی ہاتھ بٹاتیں مذکورہ آٹے کی موٹی روٹیاں پکاتیں بعد ازاں ان روٹیوں کو باریک چورے کی شکل میں ’’بھور ‘‘ لیا جاتا پھر ایک من گڑ لیکر اس کو ایک بڑے کڑاہے میں ڈالا جاتا اور اس کے نیچے آگ جلا کر اس کی پت بنائی جاتی اور اس پت میں سات کلو دیسی گھی ڈالا جاتا پھر اس پت میں روٹیوں کے اس چورے کو ڈال دیا جاتا جس سے چوری بن جاتی بستی کے باسیوں کو اس چوری کی باقاعدہ دعوت دی جاتی اور محبت کا یہ عالم تھا کہ بستی کے جوافراد اس دعوت سے رہ جاتے وہ از خود چوری کھانے پہنچ جاتے چوری کھانے سے قبل بستی کے باسی اور نوجوان ایک دوسرے کا بازو پکڑنے اور چھڑانے کا مقابلہ کرتے جسے ’’بینی پکڑنا ‘‘کہا جاتا تھا جیتنے اور ہارنے والے دونوں نوجوان کھڑے ہوکر ایک دوسرے کے گلے ملتے اور ایک دوسرے کو طاقتور ہونے کی داد دیتے اس کے بعد گائوں یا بستی کے مدعو افراد چوری کھا کر اپنے گھروں کو چلے جاتے گندم کی کٹائی بھی ہماری ثقافت کا حصہ گندم کی کٹائی سے قبل گائوں کے لوہار سے اچھی قسم کے لوہے کی درانتیاں بنوائی جاتیں گندم کی کٹائی اور گہائی ایک انتہائی دل چسپ کام ہوا کرتا تھا جس فرد کی گندم زیادہ رقبہ پر کاشت ہوتی بار آوری کے بعد وہ کسان یا زمیندار گائوں کے نوجوانوں و دیگر ادھیڑ عمر افراد کو گھر گھر جاکر مطلع کرتا کہ فلاں دن میری گندم کی کٹائی شروع ہے اور آپ نے کٹائی میں میرا ہاتھ بٹانا ہے اتفاق اور محبت کا یہ عالم تھا کہ ہر فرد اس اطلاع پر بلا چون چرا عمل کرنے میں اپنی بڑائی سمجھتا گندم کاٹنے والے افراد کے اکٹھ کو ’’ونگار ‘‘ کا نام دیا جاتا تھا اس کٹائی میں ایسے نوجوں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے جن کے بارے میں مشہور ہوتا کہ انتہائی کم وقت میں گندم کی کٹائی میں ان کا کوئی ثانی نہیں اس ونگار میں ایسے کئی نوجوان شامل ہوتے جو یہ ثابت کرنے کیلئے بھی حصہ لیتے کہ ان کے مد مقابل کوئی نہیں جو گندم کاٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو ایسے نوجوانوں کو پیتل کے بنے برتن میں جسے ’’گاگر ‘‘ کہا جاتا تھا دو تین کلو تک گھی ڈال کر دیا جاتا اس میں سے کوئی نوجوان گندم کاٹنے سے پہلے ایک کلو دیسی گھی ڈکار جاتا اور کوئی نوجوان دو کلو تک دیسی گھی پی جاتا صبح سے لیکر شام تک ایسے نوجوں کے ہاتھوں میں درانتی اتنی تیزی سے چلتی کہ دیسی گھی ان کے جسم کے مساموں سے پسینہ کی شکل میں باہر نکل آتاپھر ان نوجوانوں کی پوری بستی اور علاقہ میں شہرت ہوتی ونگار عام طور پر چالیس افراد پر مشتمل ہوتی تھی ۔
 
 
گندم کی گہائی 

   

برسوں پہلے ہونے والی گندم کی گہائی سے نئی نسل یقینا نابلد ہے تب گندم کی کٹائی اور گہائی جدید طریقہ سے نہیں ہوتی تھی تھریشر اور ہارویسٹر کا تصور تک نہ تھا گندم کی کٹائی اور گہائی میں تین ماہ کا طویل عرصہ لگ جاتا تھا دوکنال کی جگہ مخصوص کر لی جاتی تھی جس کی پہلے لپائی کی جاتی تھی جسے ’’پِڑ ‘‘کہا جاتا تھا مقامی زبان میں اسے ’’انگنی ‘‘بھی پکارا جاتا تھا گائوں کے وہ افراد جو ونگار کی شکل میں گندم کاٹتے تھے اس گندم کوبندھی ہوئی گٹھڑیوں ’’پولوں ‘‘کی شکل میں ایک جگہ پر اکٹھا کردیتے تھے پھر ان گٹھڑیوں میں سے پچاس گٹھڑیاںاس لپے ہوئے پڑ پر بکھیر دی جاتی تھیں اس سے پہلے بیری کے درخت سے بڑے بڑے ٹہنے کاٹ کر ان کو یکجا کیا جاتا اور ان پر چار ‘‘بھریاں ‘‘رکھ کر ان کے آگے دو بڑے اور طاقتور بیل جوت دیئے جاتے اور مقامی زبان میں جسے ’’فلسہ یا پھلہ ‘‘ کہا جاتا تھا اسے کھینچتے ان پچاس بھریوں پر فلسہ کو کھینچ کر تین دن تک بیلوں کی جوڑی چلتی یہاں تک میں بھوسہ اور دانہ الگ ہوجاتا پھراس سے دانہ الگ کرنے کیلئے ’’کراہی ‘‘سے نوجوان آدمی ہوا میں بھوسہ کو اڑاتا اس طرح گندم الگ اور بھوسہ الگ ہوتا جاتا بعد میں پچاس بھریاں اور ڈال دی جاتیں اور اس پر بھی پھلہ کے ساتھ تین دن تک بیلوں کی جوڑی چلتی رہتی گندم اور بھوسہ الگ کرنے کیلئے مذکورہ گندم کو بھی پہلے مرحلے سے گزارا جاتااس طرح بھوسے اور گندم کے دو الگ الگ بڑے ڈھیر لگ جاتے اس کے گندم کو تولنے کا مرحلہ آتا گائوں کے بزرگ صبح کی نماز پڑھ کر سورج طلوع ہونے سے قبل لوہے کا ’’ٹوپہ ‘‘جس میں اڑھائی کلو گندم سما جاتی تھی گندم کے ڈھیر کے پاس بیٹھ جاتے مگر اس سے قبل درود شریف اور قرآن مجید کی تلاوت کرکے گندم کے ڈھیر سے ذرا دور گول دائرہ لگا دیا جاتا گندم تولنے تک گائوں کا کوئی فرد اس دائرے کو کراس نہ کرتا تھا پہلا ٹوپہ بستی کی مسجد کے اخراجات کیلئے نکالا جاتا اسی طرح ایک ٹوپہ گائوں کے غریب فرد ،بیوہ عورت ،یتیم بچوں کیلئے نکالا جاتا ایک من کے قریب بستی یا گائوں کے بچوں کو ’’ریڑی ‘‘کی شکل میں دے دئے جاتے جبکہ اسی دوران کئی مانگنے والے جنہیں ’’ڈھاڈی ‘‘کہا جاتا تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آنکلتے ان کو بھی گندم دے دی جاتی بزرگوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ آج فصلات کی بارآوری پر قدرتی آفات کا تسلط بھی اس بنا پر ہے کہ انسان نے اپنی فصل سے حصہ نکالنا معیوب سمجھ لیا ہے۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

حقہ ہمارے کلچر اور وسیب کی ایسی نشانی ہے جو آہستہ آہستہ ماضی کا حوالہ بنتی جارہی ہے۔ بستی یاگائوں کے بزرگ جب چوپال پر یا دارہ پر کسی خوشی یا غم کے موقع پر اکٹھے ہوتے تو دائرے میں گھومنے والا بڑی ’’نڑی ‘‘والا فر شی حقہ ان کے اتحاد،رشتوں اور تعلق کی علامت بنتاتھا۔    

مزید پڑھیں