☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل
بزمِ کونین سجانے کیلئے آپﷺ آئے

بزمِ کونین سجانے کیلئے آپﷺ آئے

تحریر : صاحبزادہ پیر مختار احمد جمال تونسوی

11-03-2019

جونہی ربیع الاوّل شریف…کے ماہِ مقدس کا آغاز ہوتا ہے تو عاشقانِ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم …خوشی سے جھوم اُٹھتے ہیں۔اور اِس پورے ماہِ مقدس کو انتہائی عقیدت و احترام اور شایانِ شان طریقے سے مناتے ہیں…گھر گھر محافلِ جشنِ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا انعقادہوتا ہے …گلیوںاور بازاروں کودلہن کی طرح سجادیا جاتا ہے …مساجد اور بلندوبالا عمارات پہ چراغاں کے خوبصورت مناظر آنکھوں کو فرحت آنگیں نظارے پیش کرتے ہیں…

درودوسلام کی بے مثل اور خوب صورت صدائیں سماعتوں سے ٹکرا کر کانوں میں رس گھولتی ہیں…گھر گھر صدقات وخیرات اور لنگر کا وسیع اہتمام وانتظام کیا جاتا ہے…سکول اورکالجز کی سطح پر،تقاریر اور نعت خوانی کے مقابلے ہوتے ہیں… پوری دنیا میں سرکاری وغیر سرکاری سطح پر ’’سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم‘‘کے موضوع پر سیمینارز اورتقریبات منعقد کی جاتی ہیں…پرنٹ میڈیاخصوصی ایڈشنزشائع کرنے اور الیکٹرانک میڈیا خصوصی نشریات اپنے ناظرین کیلئے پیش کرنے کا اہتمام کرتا ہے…شکرانے کے نوافل ادا کیے جاتے ہیں اورایک دوسرے کو خوشی کے اس موقع پر ’’ جشنِ آمدِ رسولؐ ‘‘کی ’’مبارکبادیں‘‘دینے کا عظیم سلسلہ چل نکلتا ہے۔

یہ سارے اہتمام و انتظامات کس لیے ہوتے ہیں…؟اس لیے کہ آج کے دن ہی پروردگارِ عالم نے حضور سیدِعالمؐ… سرورِکائناتؐ…فخرِموجوداتؐ…ہادیء عالمؐ… رحمتِ عالمؐ… آقائے نامدارؐ…حبیبِؐ خدا…حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس دنیا میں مبعوث فرما کر امتِ مسلمہ پر ایک بہت بڑا احسان فرمایا…خدا وندِقدوس نے واضح ارشاد فرمایاکہ

’’اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!آپ فرمادیں کہ جب تم پر اللہ کا فضل اور اُس کی رحمت ہو تو،خوش ہوا کرو،تمہارا خوشیاں منانااس سے بہتر ہے ،جو تم اپنے لیے جمع کیے رکھتے ہو۔‘‘

اور جگہ ربِ کائنات نے ارشاد فرمایا کہ’’پس!یاد کرو تم اللہ کی نعمتیں،تاکہ تم فلاح پائو۔‘‘اسی طرح اورایک مقام پرربِ قدوس نے ارشادفرمایا ’’اوراپنے پروردگارکی نعمت کوخوب کھول کربیان کروــ۔،،

کیا…آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم… سے بڑھ کر بھی کوئی ’’نعمت‘‘کوئی ’’فضل‘‘اور کوئی ’’احسان‘‘ ہوسکتا ہے؟… یقینا نہیں !

حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ پاک کا ایک ایک لمحہ …نہ صرف امتِ مسلمہ کیلئے ،بلکہ پوری انسانیت کیلئے ’’مینارہء نور‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے،گویارحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس دنیا میں آمد…ایک بہت بڑا انقلاب تھا،اور ایسا انقلاب کہ جس کے انتظار میں یہ سسکتی بِلکتی انسانیت صدیاں تڑپتی اور ترستی رہی… کہ کوئی عظیم راہنما…کوئی عظیم ہستی…کوئی عظیم مسیحا اس دنیا میں تشریف لائے اور ہماری تاریک اور اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگیوں کو روشنی بحش دے…بے راہ روی سے ہٹا کر ’’صراطِ مستقیم‘‘ پہ چلادے…اللہ رب العزت کا پتا دے… دلوں پہ لگے زنگ کو اتار دے اور گرد آلود روح کو نکھار دے۔

آخر کار ربِ کائنات کو’’انسانیت‘‘ پر ترس آیااورذاتِ باری تعالیٰ نے12ربیع الاول کی صبح سعادت کو وہ’’نور‘‘ عطا فرمایاکہ جس کی تابندہ کرنوں سے پوری کائنات جگمگا اُٹھی،اور جس کی خوشبو سے سارا عالم معطر ہوگیا…محبتوں کے بے مثل پھول کِھل اُٹھے…خلوص وپیار کے چراغ روشن ہوگئے…چاند،سورج اور ستاروں کو ضوفشائی نصیب ہوئی… دریائوںاور سمندروں کو روانی ملی…خوشبوئوں کو پاکیزہ احساس ملا…ہوائوں اور فضائوں کو جینے اور سنورنے کا سلیقہ آیا…تہذیب وتمدن پہ روپ آیا۔،،

محمد علی ظہوریؒصاحب اپنے نعتیہ کلام میںبارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہدیہء عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آمد کا یوں تذکرہ کرتے ہیں

بزمِ کونین سجانے کیلئے آپؐ آئے

شمعء توحید جلانے کیلئے آ پؐ آئے

ایک پیغام جو ،ہر دل میں اُجالا کردے

ساری دنیا کو سنانے کیلئے آپؐ آئے

یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے خاص فضل وکرم سے آقائے نامدار،حبیبِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جو عظیم انقلاب برپا کیا،وہ ہمہ پہلو اورہمہ گیر انقلاب تھا…یہ عقائد وافکار اور سیرت وکردار میں انقلاب تھا…معاشرت اور معیشت میں انقلاب تھا…قانون اور سیاست میں انقلاب تھا…تعلیم وتربیت میں انقلاب تھا… اخلاق و عبادات میں انقلاب تھا…اخلاص و ایثار اور محبت و ہیار میں انقلاب تھا…مساوات و احساسات میں انقلاب تھا۔ انسانی زندگی کا کوئی ایسا گوشہ اور کوئی شعبہ ایسا نہ تھا کہ جس کیلئے حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے راہنما اور زریں اصول عطا نہ فرمائے ہوں۔

دعائے خلیل ؑ کی اجابت،رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مقدس کے کیا کہنے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اطاعت کو اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت سے مشروط کردیا…اور اپنی محبت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت سے لازم وملزوم ٹھہرایا،تاکہ لوگ کوچہء سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فیض یاب ہو کر مجھ تک پہنچیں،مجھ تک رسائی حاصل کریں،یعنی بارگاہِ خدا وندِ قدوس میں حاضر ہونے سے پہلے ’’اتباع سنت‘‘ کا خوب صورت لباس زیب تن کرنا بے حد ضروری ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اس دنیا میں تشریف لانا ایک ، مقصد کے تحت ہی تو تھا،خدائے واحد کی ذاتِ کریمی کا ارشادِ پاک ہے کہ ’’وہ رسولؐ…اللہ کی آیاتِ مقدس کی تلاوت فرما کے انہیں سناتے،اُن کا تزکیہ فرماتے اوراُنہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں حالانکہ اِس سے پہلے یہی لوگ صریح گم راہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔،،

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے قبل کا نقشہ،حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے’’شاہِ حبش‘‘ نجاشی کے دربار میں خطاب کرتے ہوئے یوں پیش کیا،آپؓ فرماتے ہیں:

’’اے بادشاہِ سلامت!ہم بے دین اور کم علم تھے،بتوں کی پرستش کرتے،مردار کھاتے اوربے حیائی کے دلدادہ تھے،اپنے بھائیوں پر ظلم ڈھاتے اور ہمسائیوں کو تکلیف پہنچاتے تھے،ہم میں سے طاقت ور،کمزور پر ظلم وستم کیا کرتا تھا،ہم میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہ تھی اور مہمانداری کا نام ونشان نہ تھا،کوئی قائدہ اور قانون نہ تھا… کہ اچانک ہم میں سے ایک پاکیزہ انسان کو اللہ رب العزت نے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بنا کر مبعوث فرمایا…جس کے حسب ونسب،سچائی،امانت،نیک دامنی، دیانت داری،تقویٰ وطہارت،ہمدردی و پاکیزگی کو ہم خوب جانتے ہیں۔اُس درِیتیمؐ نے ہم کو بتایا کہ ہم سب کا پروردگار بس ایک ’’اللہ‘‘ ہے،اُس کا کوئی شریک نہیں اور وہ ماں ،باپ اور اولاد سے مُبرا ہے،وہ اللہ ہمیشہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہے گا،وہی سب کا خالق و مالک اور رازق ہے،نفع ونقصان اُس کے ہاتھ میں ہے،یہ بت کسی بھی چیز کے مالک نہیں ہیں،ایک اللہ تعالیٰ کی ذاتِ کریمی ہی حاجت روا اورمشکل کشا ہے…اِس کے ساتھ ساتھ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہمیں یہ بھی ہدایات فرمائیںکہ ہمیشہ سچ بولا کرو،اپنا وعدہ پورا کیا کرو،تمام گناہوں سے الگ رہو،آپس میں صلہ رحمی کرو،ہمسائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو،حرام باتوں سے بچو،خون ریزی اور یتیم کے مال کھانے سے دور رہو،کسی کا ناحق مال نہ کھائو…اِسی طرح پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع کیااور ساتھ ہی نماز پڑھنے کا حکم بھی دیا،روزے رکھنے اورزکوٰۃ ادا کرنے کی تاکید فرمائی،مہمان نوازی کا درس دیا…ہم سب اُن پر ’’ایمان‘‘ لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر دل و جان سے فدا ہوئے۔،،

قارئین محترم !یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقدس اور خوشبو دار ارشاداتِ عالیہ حکمت و بصیرت کے ان بیش قیمت اور انمول موتیوں اور ہیروں پر مشتمل ہیں،جن سے زندگی کے نئے اُفق اور نئی راہوں کا سراغ ملتا ہے۔اور انسان میں بھر طریقے سے ’’جذبہء عمل‘‘بیدار ہوتا ہے …پھر ان پر مستزاد یہ کہ ہادیء عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان ارشاداتِ مقدسہ پر ہی اکتفا نہ فرمایا،بلکہ اپنے’’حسن عمل سے،سیرت و کردار سے اوراپنے اسوہء حسنہ سے‘‘پوری عالمِ انسانیت کیلئے ایک دائمی اور عملی نمونہ پیش فرمایا…جیسا کہ ربِ کریم عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ ’’درحقیقت تم لوگوں کیلئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی میں ایک بہترین نمونہ ہے۔،،

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم…سے سچی اور حقیقی محبت اِس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاداتِ گرامی کی ’’روشنی‘‘میں ربِ غفور کی طرف سے عطا کردہ اپنی زندگی کے شب و روز گزاریں…اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اسلام میں پورا پورا داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائے،اور ہمارے ایمان کی سلامتی اور صغیرہ ،کبیرہ گناہوں کو اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدقے معاف فرمائے۔ 

خوشبو ہے دوعالم میں تری اے گلِ چیدہؐ

کس منہ سے ہوں بیاں ترے اوصافِ حمیدہ

عاشقانِ رسولِ عربیﷺ…یہ اُس وقت کی بات ہے کہ جب ساری دنیا تاریکی اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔خیابانِ ہستی اُجڑا ہوا تھا…سر سبز اور روشن روشیں ویران تھیں اور پریشان تھیں…جہاں کبھی سبزہء نورستہ جنت نگاہ ہوا کرتا تھا،وہاں اس وقت خاک اُڑ رہی تھی…لوگ طرح طرح کی سماجی اور اخلاقی اوردینی برائیوں میںمبتلا تھے…شراب نوشی، جوا ،چوری ڈاکہ زنی،قتل وغارت اور بدکاری اُن کا روز مرہ کا معمول بن چکی تھی۔

جب لوگ گھر کی عزت یعنی عورت کو جوتے کی نوک کے برابر سمجھتے تھے،اُسے ماں اور بہن والا پیار و محبت اور احترام نہیں دیتے تھے،اُن کا جب جی چاہتا اس مظلوم ہستی کو اپنے پائوں تلے روند ڈالتے تھے…لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی وحشت اوربے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمین میں زندہ دفن کر دیتے تھے۔

جب زمین پر کوئی اللہ کو پہچاننے والا اور ’’اللہ اللہ‘‘ کرنے والا نہ تھا… دلوں میں محبت کی بجائے،نفرتوں،کدورتوں،اور رنجشوں نے ڈال رکھے تھے…حسنِ سلوک نام کی کوئی چیز سرے سے ہی موجود نہ تھی…ایک دوسرے کا احترام،تمیزاور لحاظ باکل ختم ہو چکا تھا…نہ احکاماتِ خداوندِ قدوس کا کوئی پاس تھا،اور نہ ہی انسانیت کا احساس تھا…مساوات کا دور دور نشان نہ تھا…افراد اور معاشرہ بے حس ہو چکا تھا۔

جب خاموش نظارے،بے تاب ستارے اور بے کس کنارے تھے…پھولوں میںسے خوشبو غائب ہو چکی تھی…محبت کی فضائیں سنسان ہو چکی تھیں اورہوائیں خوف زدہ اورسراسیمہ تھیں…ہر طرف تاریکی اور بے رونقی کا عالم تھا۔

پھر کیا ہوا…کہ…اچانک ربِ قدوس،خالقِ کائنات کو اِس سسکتی اور بِلکتی ہوئی انسانیت پر آخر کار رحم آ ہی گیا۔اور فاران کی چوٹی سے ایک ایسی نورانی،وجدانی اورخوش بخت گھنگھور گھٹا اُٹھی،جس کا ہر قطرہ بہار آفریں اورجس کا ہرچھینٹا فردوسِ بریں بداماں تھا۔

وادیء عرب میں پہلی بار یعنی ربیع الاول شریف کے ماہِ مقدس میں ایک ایسا پھول کِھلا کہ جس کی خوشبو نے سارے عالم کو معطر کردیا۔عربی زبان میں ربیع الاول شریف کے معنی ہی ’’پہلی بہار‘‘ کے ہیں۔

آج ہی کی سحر…پوری بزمِ امکاں کیلئے روشنی اور اجالے کا پیغام لائی،جس نے نا مرادوں اور دکھی دلوں کے لوگوں کو’’زندگی‘‘ کی خوشبو سے بھر دیا۔

عاشقِ رسولؐ الحاج محمد علی ظہوریؒنے بہت خوب نقشہ کھینچا ہے کہ

بزمِ کونین سجانے کیلئے آپؐ آئے

12ربیع الاول کی ہی صبح وہ آفتاب ِہدایت وسعادت طلوع ہوا،جس نے اپنی تابندہ کرنوں سے عالمِ انسانیت کے گوشے گوشے کو رشکِ صد طور بنا دیا۔

ہم عاجزانہ اس صبح سعادت کو’’ سلام ‘‘پیش کرتے ہیں،کہ جس کی سہانی اور دلفریب ساعتوں میں عرب کا چاند… وادیء مکہ میںپوری شان اور رحمت کے ساتھ چمکاجس نے پورے جہاں کو آب و تاب سے ایسا روشن کردیا کہ یہ روشنی تاابد قائم و دائم رہے گی۔

اور اس صبح کو…جب فضائے عالم مسرتون کے دل آویز نغموں سے گونج اُٹھی …اور سلام پیش کرتے ہیں اس صبح کو… کہ جس نے تہذیب کو وقار،ثقافت کو تقدس،علم کو وسعت،فکر وندرت،عمل کو طہارت و پاکیزگی،انسانیت کو اتحاد اور اخوت ومحبت کے انمول تحفے عطا کیے…جب زندگی کو بندگی اور بندگی کو سرور ملا،جب رحمت عالم ﷺاور انسان کو خالقِ حقیقی تک کی رسائی نصیب ہوئی۔اور سلام پیش کرتے ہیں اس صبح درخشاں کو…جس میں اترنے والے ’’نور‘‘ نے ستاروں کو روشنی،شمس و قمر کو ضوفشائی، گلستانوں کو بہار اور بہاروں کو ایک خوب صورت،منفرد اور انوکھا سا بانک پن بخش دیا۔

جس رات اللہ کریم نے قرآن پاک نازل فرمایا ،وہ رات’’ لیلۃالقدر‘‘بن گئی۔ہزار ماہ کی گریہ و زاری اور عبادت و ریاضت سے ایک رات میں ظہور پذیر ہونے والی نیاز مندیاں سبقت لی گئیں۔ہر سال جب وہ رات آتی ہے،جس میں چودہ سو سال بھی زائد صدیوں پہلے قرآن پاک کے نزول کا آغاز ہوا تو یہ اپنے دامن میںوہی برکتیں،رحمتیں،وہی سعادتیںبھر لاتی ہے اور اللہ کریم کے نیک بندوں پر نچھاور کرتی ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔جب اس مقدس اور بابرکت رات کا یہ حال ہے،جس میں کلامِ الہٰی نازل ہوا…تو وہ صبح سعادت کس شان و شوکت کی مالک ہو گی،جس میں محبوبِ الہٰیﷺحاملِ قرآن اورخود صاحبِ قرآن رحمتِ عالم،نبی پاکﷺاس بزمِ امکاں میں جلوہ فگن ہوئے۔اس یومِ مقدس کا مقابلہ،ماہ و سال تو کجا صدیاں اور قرن و قرون بھی نہیں کرسکتے۔

اِس دنیائے فانی میں تاجدارِ انبیاءﷺکی آمد مبارک کو اللہ کریم نے ہم سب پر ’’احسانِ عظیم‘‘ٹھہرایا۔اور فرمایا کہ اگر میں اپنے حبیبﷺ کو پیدا نہ فرمانا ہوتا،تو اپنا رب ہونا بھی ظاہر نہ کرتا۔

جب حضور ِ اقدس،رحمتِ عالم،آقائے نامدار ﷺاس دنیا میں تشریف لائے تو بڑے حیرت انگیز اور عجیب وغریب واقعات پیش آئے۔اُن میں سے چند ایک ،ملاحظہ فرمایئے کہ اُس وقت دنیا میں کیا کیا ہوا۔

٭…جس روز حضور نبی کریمﷺ اس دنیا میں تشریف لانے والے تھے اُس شب کو کعبہ شریف میںرکھے ہوئے تمام بت سر کے بَل گر گئے،کیونکہ یہ رات ایک عظیم بت شکن اوردنیا کے سب سے بڑے انسان حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت کی رات تھی۔

٭…ولادت کے وقت ایک ایسا نور ظاہر ہوا کہ جس کی روشنی سے،امامُ الانبیاء ﷺ کی والدہ ماجدحضرت آمنہؓ کو شام کے محلات دکھائی دینے لگے۔

٭…اس رات کسریٰ کا ایوان کسی غیر معمولی طاقت اور ہیبت کے باعث لرزگیااور اس کے چودہ کنگرے گر گئے۔

٭…ایران کا وہ مرکزی آتش کدہ،جس میں ایک ہزار سال سے مسلسل آگ بھڑک رہی تھی،اور کبھی بجھی نہیں ،اچانک بجھ گئی۔

غرض… رحمتِ عالمؐ نے نفرت کو محبت کے خوبصورت سانچے میں ڈھال دیا…جہالت کو،فہم وفراست کے اور عقل ودانائی کے آئینے میں اتاردیا…دشمنیوں کے بدلے،اتفاق واتحاد،محبت،پیار ،خلوص اوراعلیٰ اخلاق کی فضائیںقائم کردیں… شعلوں کو ٹھنڈی ہوائوں کے جھونکوں میں بدل دیا…خزاں کو بہار بنا دیا اور بہار میں خوبصورت رعنائیاں بھر دیں۔

حضور سیدِ عالمﷺنے محبت اور خلوص کو اس طرح فروغ دیا کہ جس سے انسان نے انسان کو پہچان لیا ،اللہ کو اللہ مان لیامردوں کو عورتوں کی قدر وقیمت کا اندازہ ہو گیااور عورتوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا،لڑکیوں کو،ماں،باپ کی شفقت اور بھائیوں کا پیار ملنے لگا۔

رسولِ عربیﷺ نے پوری کائنات کو حقیقی خوبصورتی میں ڈھال دیا،ربِ ذوالجلال کا سبق دیا،دینِ بے مثال سے نوازا، اور اس انداز سے نوازا کہ بت اپنے عقیدت مندوں سے محرم ہوگئے۔بت خانوں کی رونقیں ختم ہو گئیں اور ہر طرف خالقِ کائنات کے ڈنکے بجنے لگے۔

رسولِ اکرمﷺکے حسنِ تربیت اور حسنِ اخلاق سے، حضرت ابُو بکر صدیقؓ،حضرت عمرِفاروقؓ،حضرت عثمانِ غنیؓ ، حضرت علیؓ، حضرت بلالؓ،حضرت خالد بن ولیدؓ،حضرت فاطمۃالزہراؓ،حضرت عائشہ صدیقہؓ،حضرت خدیجۃالکبریٰؓ، حضرت امام حسنؓ،حضرت حسینؓاور دیگر صحابہ کرام علیہ رضوان،ایسے عظیم سپوت پیدا ہوئے۔اور جن کی مثالیں پوری کائنات اور عرش وفرش پر دی جاتی ہیں۔

آپﷺ کی محبت کا یہ عالم تھاکہ ہر صحابیؓ یہ سمجھتا تھا کہ آپﷺ سب سے زیادہ پیار اور محبت مجھ ہی سے فرماتے ہیں۔

امامُ الانبیاء،حضورِ اقدسﷺ کی سیرت وکردار پر اگر لاتعداد ضخیم کتابیں بھی لکھ دی جائیںتو آپﷺ کے مقام،سیرت اور کردار کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔قلم ٹوٹ جائیں گے،سیاہی ختم ہوجائے گی…مگر آپﷺ کی تعریف وتوصیف اور مقام کا ایک باب بھی مکمل نہ ہو پائے گا۔

جشنِ عید میلاد النبیﷺ منانااور آپﷺ سے سُچی محبت کا دم بھرنا…اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ احکاماتِ خدا وندِ قدوس کا پاس رکھتے ہوئے اتباعِ رسولؐ اختیار کیا جائے کہ یہی زندگی کا اصل حاصل ہے اور یہی دنیا وآخرت کی کامیابی کا راز!

ربِ قدوس کے ہاں دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے حبیبﷺ کے صدقے ہماری خطائوں کو معاف فرمائے، ایمان کی سلامتی فرمائے اور خرافات سے بچتے ہوئے صحیح معنوں میں اسلام میں پورا پورا داخل ہونے کی توفیق وہمت عطا فرمائے۔

اُس اوج تک نہ جائے گی بستی شعور کی

بالا ہے ہر خیال سے ہستی حضور ؐ کی 

٭٭٭٭

 

مزید پڑھیں

حضرت رسول پاک ﷺ مکہ معظمہ میں حج کے ایام میں باہر سے آنے والوں میں اسلام کی تبلیغ کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ یثرب سے قبیلہ اوس اور خزرج کے چھ ...

مزید پڑھیں

اللہ کریم نے قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر اپنے حبیب کریم حضرت محمد مصطفیﷺکی شان وعزت وعظمت، ادب وتعظیم وتوقیر، رفعت وسربلندی، انتہا ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

آپ ﷺ کی روزمرہ کی زندگی سادہ سی تھی ۔آپﷺ اپنے کام کام خود کرتے تھے۔ مویشیوں کو چارہ ڈالتے ، بازار سے سامان خریدتے، کپڑوں کو پیوند لگات ...

مزید پڑھیں

دنیا جانتی ہے کہ نبی عربی حضرت محمد ﷺانسانیت کے اس برگزیدہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ، جو قدیم ترین زمانہ سے نوع انسانی کو خدا پرستی اور حسن ...

مزید پڑھیں

حضرت واثلتہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ’’ اللہ تعالیٰ نے اولاد اسمعیلؑ میں سے کنانہ ...

مزید پڑھیں