☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) رپورٹ(صہیب مرغوب) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری )
خطباتِ رسول پاکﷺ اور قرآن حکیم

خطباتِ رسول پاکﷺ اور قرآن حکیم

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر غلام ربانی عزیز

11-10-2019

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ، انا افصح العرب ولا فخر۔ جس زمانے میں آپ ﷺکی بعثت ہوئی، عرب میں بڑے بڑے جلیل القدر شعراء اور خطیب موجود تھے۔ اس لیے آپ ﷺپر جو کلام نازل ہوا، اس میں فصاحت اور بلاغت کے پہلو کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ چنانچہ قرآن حکیم کی اثر انگیزی کا یہ عالم تھاکہ ابو جہل اور ابو لہب ایسے حق دشمن بھی سن کر جھوم اٹھے۔ اسی بنا پر کفار قریش نے یہ ا ہتمام کر رکھا تھا کہ خود قرآن سنتے، نہ کسی کو سننے کی اجازت دیتے،

حضرت ابوبکرؓ نے اپنے مکان کے پاس ایک چبوترہ بنا رکھا تھا کہ عموماً صبح کے وقت وہاں بیٹھ کر تلاوت کرتے۔ اگرچہ کفار قریش کلام اللہ کو حضور اکرم ﷺ ہی کی تخلیق قرار دیتے تھے۔ظاہر ہے کہ قرآن کا مقابلہ تو کسی کے بس کی بات نہیں لیکن آپ ﷺکے مختلف خطبات کے مطالعے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک کسی شخص کو بھی ان خطبات کی فصاحت و بلاغت پر نقطہ چینی کا حوصلہ نہیں پڑ سکا۔ ہم ذیل میں چند خطبات پیش کرتے ہیں تاکہ اہل ذوق ان کی خوبیوں کا اندازہ لگا سکیں۔کوہ صفا پر آ پ ﷺنے اکابر قریش کے سامنے جو خطبہ دیا، اس کا ایک اقتباس ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

’’قافلے کا نگہبان ، قافلے والوں کو دھوکا نہیں دیتا، بخدا اگر میں تمام دنیا سے جھوٹ بولنا گوارا کر لوں تم لوگوں سے کبھی جھوٹ نہ بولوں گا۔ اور اگر میں تمام مخلوق کو دھوکہ دوں تمہیں دھوکا نہیں دوں گا۔ اس ذات کی قسم جس کے بغیر کوئی معبود نہیں کہ میں بالخصوص تمہاری طرف اور بالعموم تمام اہل عالم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں جس طرح تم سو جاتے ہو اسی طرح تمہاری موت واقع ہو جائے گی ، اور تمہاراحشر اس طرح ہوگا جس طرح نیند سے جاگ اٹھتے ہو ۔ تمہارے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ احسان کا بدلہ احسان اور برائی کا بدلہ برائی ہے یعنی ابدی جنت یا ابدی جہنم‘‘۔

 جس دن حضور اکرمؐ قبا سے مدینے کو روانہ ہوئے جمعہ تھا۔ جب بنو سالم کے محلے میں پہنچے تو نماز جمعہ ادا کی۔ اور ذیل کا خطبہ ارشاد فرمایا:

’’خدا کی حمد ، میں اس کی حمد کہتاہوں اور معافی مانگتا ہوں اس سے ہدایت طلب کرتا ہوں اس پر ایمان لاتا ہوں اور اس کی نافرمانی نہیں کرتا۔ بلکہ جو خدا کا نافرمان ہے میں اس کا مخالف ہوں میں شاہد ہوں کہ اس کے بغیر کوئی معبود نہیں وہ وحد ہ لا شریک ہے اور حضرت محمدؐ، رسول پاک ؐہیں‘‘۔

 خدا نے آپ ؐکو ہدایت نور اور موعظمت دے کر بھیجا۔ مدت سے کوئی رسول نہیں آیا۔ علم گھٹ گیا اور گمراہی بڑھ گئی اس آخری زمانے میں کہ قیات اور موت قریب آگئی ہے بھیجا گیا ۔ جس شخص نے خدا اور رسول پاک ﷺکی اطاعت کی اس نے ہدایت پائی اور جس نے نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا، حد سے تجاوز کر گیا۔ اور بری طرح بھٹک گیا۔’’ میں تمہیں خدا سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور بہترین وصیت جو مسلمان دوسر ے مسلمان کو کر سکتا ہے کہ وہ اسے آخرت کیلئے تیار کرے اور اسے خدا سے ڈرائے۔ اے لوگو! ان چیزوں سے بچو جن سے خدا نے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے بہتر اور کوئی نصیحت نہیں۔ اور خدا کا ڈر اس شخص کے لیے جو اس سے ڈر کر عمل کرتا ہے بہترین مددگار ثابت ہوگا۔ آخرت کے معاملات میں ۔اور جو شخص ظاہر و باطن میں اپنے معاملات خدا سے درست رکھتا ہے اور اس سے اس کا مقصد صرف رضائے الٰہی حاصل کرنا ہے تو دنیا میں یہ چیز اس کے لیے باعث نصیحت اور آخرت میں توشہ ثابت ہوگی۔ جب ہر آدمی کو اچھے اعمال کی شدید ضرورت محسوس ہوگی اور اس کے سوا جو کچھ اس سے سرزد ہوا ہوگا اس وقت اس کی خواہش ہوگی کہ کاش اس کے ان اعمال اور اس میں زبردست دوری ہوتی ۔ خدا تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ جس نے خدائی احکام کی تصدیق کی، اور ایفائے عہد کیا، تو ایسے شخص کے بارے میں خدا کا یہ قول موجود ہے کہ ہم اپنی بات نہیں بدلتے، اے مسلمانو! تم دین دنیا اور ظاہر و باطن میں خدا سے ڈرتے رہو کیونکہ جو خدا سے ڈرتا ہے کامیابی اس کے قدم چومتی ہے اور اللہ کا ڈر اس کے غضب سے اس کے عذاب سے اس کی نارضا مندی سے بچاتا ہے۔ اور اللہ کے ڈر سے چہرے چمک اٹھتے ہیں۔ خداوندتعالیٰ کی رضامندی حاصل ہوتی ہے اور انسان کا درجہ بلند ہوتا ہے۔ اللہ کے دشمنوں کو اپنا دشمن جانو اور اللہ کی راہ میں پوری کوشش کرو اس نے تمہارا انتخاب کیا۔ اور تمہارا نام مسلمان رکھا ، تاکہ جس نے ہلاک ہونا ہے اور جس نے نجات پانی ہے، ہر دور کے لیے دلیل موجود ہو۔ قوت کا سرچشمہ خدا کی ذات ہے۔ اللہ کو خوب یاد کرو اور اگلی دنیا کا دھیان رکھو کیونکہ جو شخص اپنے اور خدا کے درمیان معاملات کو سلجھا لیتا ہے خدا اس کے اور بندوں کے باہم معاملات کو درست کر دیتا ہے۔ اس پر کسی کا حکم نہیں چلتا۔ اس کا اختیار لوگوں پر چلتا ہے لیکن اس پر کسی کا اختیار نہیں چلتا۔ خدا بڑا ہے اور قوت کا سرچشمہ وہی ہے‘‘۔ حضور اکرم ﷺ وارد مدینہ ہوئے، تو آپﷺ نے پہلے جمعہ کو ذیل کا خطبہ ارشاد فرمایا:

’’اما بعد، اے لوگو! اپنا زاد سفر تیار کرو ، تم اچھی طرح جانتے ہو بخدا جب تم میں سے ایک شخص اپنے حواس کھو بیٹھے گا اور اپنی بکریاں چھوڑ دے گا اور کوئی ان کا چرواہا نہ ہوگا وہاں اس سے اس کا رب مخاطب ہوگا۔ وہاں نہ کوئی حاجب ہوگا خدا پوچھے گا کیا میرا رسولؐ تمہارے پاس نہیں آیا۔ اور اس نے میرا پیغام نہیں پہنچایا۔ میں نے تجھے مال دیا۔ اور ضرورت سے زیادہ دیا۔ تو اپنے لیے کیا لایا ہے۔ وہ دائیں بائیں دیکھے گا۔ لیکن اسے کچھ نہ دکھائی دے گا پھر سامنے دیکھے گا مگر سوائے جہنم کے کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ جو شخص خدا کے غضب سے کھجور کے ٹکڑے کے برابر بھی بچنا چاہیے اسے ضرور بچنا چاہیے اگر یہ نہ ہوسکے تو پاکیزہ کلمے سے امداد لو، کیونکہ اس کا بدلہ دس گنا سے سو گنا تک دیا جائے گا۔ تم پر سلام، رحمت اور خدا کی برکتیں ہوں۔

اے لوگو! اسلام کی اشاعت میں حصہ لو، لوگوں کو کھانا کھلائو، اور خدا کویاد کرو ، جب لوگ سو رہے ہوں اس طرح جنت میں مقام پائو گے‘‘۔

8ہجری میں جب حضوراکرم ﷺ کے شیر خوار صاحبزادے حضرت ابراہیم نے وفات پائی، اس دن سورج گرہن تھا۔ بعض حضرات نے بر بنائے خوش اعتقادی اسے صاحبزادے کی وفات کا اثر سمجھا۔ جب حضور اکرم ﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے لوگوں کو مسجد نبوی ؐمیں جمع کر کے ذیل کا خطبہ دیا:

’’امام بعد! اے لوگو! سورج اور چاند قدرت کے دو نشان ہیں۔ اور ان میں کسی آد می کی موت کی وجہ سے گہن نہیں لگتا، میں نے جن چیزوں کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ وہ آج یہاں دیکھ لیا ہے حتیٰ کہ جنت اور دوزخ بھی، مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم قبر میں اس طرح آزمائے جائو گے جس طرح فتنہ دجال سے تم سے ہر آدمی کے پاس ایک آدمی اورپوچھے گا۔آیا تم اس آدمی کو جانتے ہو مومن تو کہے گا ہاں وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جو روشن دلائل اور ہدایت لے کر آئے ، ہم نے مان لیا، اور ان کی اطاعت کی ، لیکن متشکک کہے گا، میں نہیں جانتا میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا میں نے بھی کہہ دیا۔ نیز میرے سامنے وہ تمام چیزیں پیش کی گئیں جن مں تمہیں داخل ہونا ہے جنت لائی گئی اگر میں چاہتا تو ایک خوشہ توڑ لیتا۔ لیکن میں نے ہاتھ روک لیا۔ پھر جہنم لائی گئی۔ وہاں ایک عورت دیکھی جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جارہا تھا۔ اسے باند ھ رکھا تھا۔ اور کھانے کو کچھ نہ دیا نہ رہا تھا تاکہ گری پڑی چیزیں کھا لیتی۔ میں نے ابو شمامہ عمرو بن مالک کو کپڑے گھسیٹتے دیکھا یہ لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند کو بڑے آدمیوں کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے حالانکہ وہ اللہ کی نشانیاں ہیں۔ جو تمہیں دکھائی جاتی ہیں جب انہیں گہن لگے تو تم نماز پڑھو تاآنکہ وہ حالت ختم ہو جائے‘‘۔

مزید پڑھیں

دنیا جانتی ہے کہ نبی عربی حضرت محمد ﷺانسانیت کے اس برگزیدہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ، جو قدیم ترین زمانہ سے نوع انسانی کو خدا پرستی اور حسن اخلاق کی تعلیم دینے کے لیے اٹھتا رہاہے ۔ ایک خدا کی بندگی اور پاکیزہ اخلاقی زندگی کا درس جو ہمیشہ سے دنیا کے پیغمبر دیتے رہے ہیں ، وہی آنحضرتﷺ نے بھی دیاہے ۔

مزید پڑھیں

حضرت واثلتہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ’’ اللہ تعالیٰ نے اولاد اسمعیلؑ میں سے کنانہ کو منتخب فرمایا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب فرمایا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب فرمایا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا‘‘ ۔

مزید پڑھیں

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک عدیم المثال فلاحی ریاست قائم فرمائی۔ ہمارے سیاسی اکابرین نے اس ماڈل ریاست سے کیا سیکھا؟ ہمارے ہسپتالوں کے باہر غریب مریضوں کے رشتہ دار دوائی اور علاج وغیرہ کے لیے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیں

اعلان حق، اظہار صداقت اور تبلیغ خیر و ہدایت پر منصب نبوتؐ اور فریضہ رسالتؐ کی بنیاد ہے، حضرت محمدﷺ رسول اللہ بھی اسی کام پر مامور کئے گئے، یہ فرض جس قدر اہم اور برتر و اعلیٰ ہے اسی قدر نازک اور دشوار بھی ہے، یہاں قدم قدم پر مصیبتوں، رکاوٹوں اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاجدار نبوتﷺ کی راہ میں کانٹے بھی بچھائے جاتے ہیں، سر پر خاک بھی ڈالی جاتی ہے، اظہار حق کی پاداش میں گالیاں بھی سننی پڑتی ہیں اور پتھروں کی بارش سے بدن بھی لہولہان ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

آج سے ہزاروں سال قبل کسی زمانہ میں قبیلہ بنو جرہم کے کچھ لوگ عرب کے مشہور شہر ’’مکہ مکرمہ‘‘ میں آباد ہوگئے تھے، جن کی اولاد سے آگے چل کر فہر یا نضر بن کنانہ نے جنم لیا ، ان کی اولاد کو ’’قریش‘‘ کہاجاتا ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺکا تعلق اسی قریش کے قبیلہ سے تھا ۔آپؐ مؤرخہ 12 ؍ربیع الاوّل 20؍ اپریل 571 ء بمطابق یکم جیٹھ 628 بکرمی پیر کے دن صبح صادق کے بعد آفتاب نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کے وقت 4:25 منٹ پر اس دنیا میں تشریف لائے ۔ساتویں دن قربانی ہوئی ، جس میں تمام قریش کو دعوت دی گئی ۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ہرانسان کا کوئی نصب العین ہونا چاہیے اگر کسی کا نصب العین نہ ہو تو پھر نیک آدمی کو کس طرح نیکی پر آمادہ کیا جا سکے گا؟ برے شخص کو برائی سے کس طرح روکا جا سکے گا؟ اس لیے کہ نیک کام کی خواہش اور برے کام سے پرہیز جب ہی ممکن ہے جب کوئی نصب العین ہو۔ اگر بے مقصد زندگی گزاری جائے تو پھر یہ انسان، انسانیت کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے جبکہ ایک بے شعور بچہ بھی ماں کی گود میں بے مقصد نہیں روتا۔ یا اسے بھوک لگتی ہے یا کوئی تکلیف ہوتی ہے تو پھر ایک عقلمند انسان بے مقصد زندگی گزارنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھیں

ہماری زندگی غم و خوشی سے عبارت ہے ۔دنیا میں دکھ اور رنج بھی ہے ،ہمیں خوشیاں منانے کے مواقع ملتے رہتے ہیں،دنیا میں مٹھاس بھی ہے اور تلخی بھی‘ خوشگواری بھی ہے اور ناخوشگواری بھی۔لیکن ہر مومن کا یقین ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور فیصلہ سے ہوتاہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے بندوں کا یہ حال ہونا چاہیے کہ جب کوئی دکھ اور مصیبت پیش آئے تو مایوسی کا شکار ہونے یا غلط طریقے سے اظہار غم کرنے کے بجائے صبر سے کام لیںاور اس یقین کو دل میں تازہ رکھیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی دکھوں سے نجات دینے والا ہے۔

مزید پڑھیں

 اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی نشانیوں سے ڈراتے ہیں تاکہ وہ عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اللہ ہی کی طرف رجوع کریں،سورج گرہن بھی ا ن میں سے ایک ہے

مزید پڑھیں