☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل رپورٹ سنڈے سپیشل
سرکارِ دو عالم ﷺ کی حیات و تعلیمات

سرکارِ دو عالم ﷺ کی حیات و تعلیمات

تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

11-10-2019

حضرت واثلتہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ’’ اللہ تعالیٰ نے اولاد اسمعیلؑ میں سے کنانہ کو منتخب فرمایا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب فرمایا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب فرمایا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا‘‘ ۔

آپ ﷺ شہر مکہ میں سردار قریش حضرت عبد المطلبؓ کے گھر پیدا ہوئے آپ ﷺ کے والد ماجد کا نام نامی عبد اللہ اور والدہ محترمہ کا اسم گرامی آمنہ تھا۔آپ ﷺ کی ولادت سراپا بشارت ربیع الاول کے مہینہ میں دو شنبہ کے دن صبح صادق کے وقت آٹھویں یا نویں تاریخ کو ہوئی، انگریزی تاریخ ۲۰ اپریل ۵۷۱ء بیان کی گئی ہے اس وقت ایران میں نوشیروان عادل کی حکومت تھی۔آپ ﷺ کی ولادت بابرکت کے وقت بہت سے عجائب قدرت کا ایسا ظہور ہوا کہ کبھی دنیا میں وہ باتیں نہیں ہوئیں، بے زبان جانوروں نے انسانی زبان میں آپ کی خوشخبری سنائی، درختوں سے آوازیں آئیں، بت پرستوں نے بتوں سے آپؐ کی خوشخبری سنی، دنیا کے دونوں بڑے بادشاہوں یعنی شاہ فارس اور شاہِ رُوم کو بذریعہ خواب آپ ﷺ کی عظمت و رفعت سے آگاہی دی گئی اور یہ بھی ان کو بتایا گیا کہ آپ ﷺ کی سطوت و جبروت کے سامنے نہ صرف کسریٰ و قیصر بلکہ ساری دنیا کی شوکتیں سرنگوں ہو جائیں گی۔

آپ ﷺ شکم مادر میں تھے کہ والد ماجد کا انتقال ہو گیا اور چار برس کی عمر میں مادرِ مہربان کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔بچپن میں عجیب و غریب حالات مشاہدے میں آئے، ایک بڑا حصہ آپؐ کی کم سنی کے حالات کا حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، حق یہ ہے کہ بڑی خوش نصیب تھیں۔ بت پرستی اور بے حیائی کے کاموں سے آپ ﷺ ہمیشہ پرہیز کرتے رہے، آپ ﷺ کی صداقت اور امانت قبل از نبوت بھی تمام مکہ میں مشہور اور مسلم الکل تھی حتیٰ کہ آپ ﷺ کا لقب صادق اور امین زبان زد خلائق تھا۔جب آپ ﷺ کی عمر گرامی پچیس سال کی ہوئی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ ﷺ کا نکاح ہوا جو خاندانِ قریش میں ایک بڑی دانشمند اور دولت مند خاتون تھیں، نکاح کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال تھی۔

جب آپ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی تو دو شنبہ کے دن ۱۷ رمضان کو اور ایک قول کے مطابق ۲۴ رمضان کو جب کہ خسرو پرویز بادشاہ ایران کے جلوس کا بیسواں سال تھا، وہ دولت عظمیٰ آپ ﷺ کو عطا ہوئی جو روزِ ازل سے آپ ﷺ کے لیے نامزد ہو چکی تھی جس کی دعا حضرت خلیل علیہ السلام نے مانگی جس کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی یعنی حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنا رسول بنایا اور سارے عالم کی طرف مبعوث کیا۔ نبوت کے بعد تیرہ برس آپؐ کا قیام مکہ معظمہ میں رہا پھر ہجرت کر کے آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، دس برس مدینہ میں قیام رہا، اس دس سال کے عرصہ میں انیس لڑائیاں بھی آپ کو کافروں سے لڑنی پڑیں۔بکثرت معجزات و خوارق عادات کا آپ ﷺ سے ظہور ہوا۔ سب سے بڑا معجزہ آپؐ کا قرآن شریف ہے جس میں فصاحت و بلاغت کا اعجاز بھی ہے اور اخبارِ غیب کا بھی اور قوتِ تاثیر و سرعت تاثیر بھی۔نبوت کے بارہویں سال جب کہ عمر شریف اکیاون سال نو ماہ کی تھی، حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کو معراج عطا فرمائی، یعنی آپ ﷺ کو آسمانوں پر بلایا گیا، جنت و دوزخ کی سیر آپ ﷺ کو کرائی گئی اور عالم ملکوت کے عجائب اور اللہ تعالیٰ کی آیاتِ کبریٰ کا مشاہدہ آپ ﷺ کو کرایا گیا۔جب عمر شریف تریسٹھ برس کی ہوئی اور ہجرت کا گیارہواں سال شروع ہوا تو بارہویں ربیع الاول کو دو شنبہ کے دن بوقت چاشت چودہ دن بیمار رہ کر اس عالم سے رحلت فرمائی: انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آخری وصیت جو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو فرمائی وہ یہ تھی کہ نماز کی حفاظت کرنا اور اپنے لونڈی غلاموں کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں جس جگہ آپ ﷺ کی وفات ہوئی تھی وہیں آپ ﷺ کی قبر شریف بنائی گئی جو زیارت گاہِ عالم ہے۔

حضرت رسول اللہ ﷺکے ارشادات مبارکہ میں دعوتِ حق کا اندازہ کرنے کے لیے اس پہاڑی کے وعظ کو دیکھئے جس پر سے یا اٰلَ فِہْرٍ وَیَااٰلَ غَالِبٍ کی آواز سے عرب کو حضورﷺنے بلایا تھا۔اس خلوت کدہ کا خیال کیجیے جہاں مکہ سے دور اور دامانِ کوہ کے سایہ میں ارقم بن ابی ارقم کے گھر کے اندر خفیہ تعلیم دی جاتی تھی۔کوہِ طائف کا واقعہ یاد کیجیے جہاں حضور ﷺکا خون جسم سے بہہ رہاتھا اور جوتے میں جم رہا تھا اور زبان پر دعوت الی اللہ کا وعظ جاری تھا۔عکاظ کے بڑے سالانہ میلے پر نظر ڈالیے جہاں حضرت نبی کریم ﷺ ’’یا یھا الناس قولوا لا الہ الا اللّٰہ تفلحوا‘ کا ارشاد فرما رہے ہیں اور ابو لہب حضور ﷺکے پیچھے پیچھے جاتے ہوئے سچائی سے منکر ہے۔ مکہ سے باہر پہاڑیوں کی گھاٹی عقبہ کا تصور کیجیے تاریکی چھا گئی ہے کوئی مسافر اس پر خطر مقام پر ٹھہرنا نہیں چاہتا ہے، مگر راستہ کی صعوبت کے تصور نے یثرب کے قافلہ کو اسی جگہ ٹھہرجانے پر مجبور کر دیا ہے۔ نور عالم ﷺاسی تاریکی میں یکہ و تنہا اس لیے گئے کہ شاید کسی ایک نفس ہی کے کان میں اپنی دعوت کی آواز پہنچا سکیں۔

کوہ تنعیم کے دامن تک نظر کو بڑھایئے چالاک دشمن نے حضورؐ کو بے یارو مددگار اور آرام میں دیکھ کر حضور ﷺ کی تلوار پر قبضہ کر لیا ہے‘ حضور پاک ﷺکو گستاخانہ لہجہ اور متکبرانہ انداز سے جگایا ہے، حضور ﷺدیکھتے ہیں کہ دشمن ایک تلوار تانے کھڑا ہے اور پوچھتا ہے کہ اب تمہیں کون بچائے گا؟ حضور ﷺاس وقت بھی دعوت الی اللہ کے فرض کو فراموش نہیں فرماتے‘ اسے وہی مبارک نام سناتے ہیں، جو غافل انسان کے زنگ آلود دل کا حجاب اٹھا دیتا ہے، جو قلب مردہ کو حیات تازہ عطا کرتا ہے۔

راہِ ہجرت کی سیر کیجیے سینکڑوں میل کا سفر درپیش ہے‘ خشک پہاڑیوں اور بے آب و گیاہ میدانوں سے دو اونٹ گزر رہے ہیں جنہوں نے راہ میں کہیں آرام نہیں کیا‘ حضور ﷺ کے ہمرکاب دو مخلص اور ایک وفادار ہے کینہ دوز دشمن کے تعاقب کا ہر لحظہ خطرہ لگا ہوا ہے اور یہی اندیشہ مسافروں کو جلدی لیے جا رہا ہے پھر بھی نبی ﷺدعوت الی اللہ کے فرض کو نہیں بھولے اُم معبد الخزاعیہ سراقہؓ بن مالک المدلجی اور بریدہؓ بن الحصیب اسلمی اور اس کے ستر ساتھی وغیرہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس بیابان ہی میں آب حیات پیا اور چشمۂ زندگی حاصل کیا ہے۔خدا کے رسول پاکؐ قبا پہنچتے ہیں‘ صبر آزما سفر نے بے زبان حیوانوں کو بھی تھکا دیا ہے۔ مگر حضور پاک ﷺاس دعوت الی اللہ کے شوق کی تعمیل میں دوسرے ہی دن ایک مسجد کے قیام کا اہتمام فرما رہے ہیں جہاں سے حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کی صدا ہر صبح و شام پہاڑیوں سے ٹکراتی غافلوں کو جگاتی، شائقوں کو بلاتی ہے اور آج تک اس داعی کی پکار کو تازہ کر رہی ہے۔

مدینہ میں بنو اشہل اور بنو غفار، اوس خزرج کا ہر شخص دل و جان سے حضور ﷺکو بابی و امی، بابی و امی عرض کر رہا ہے، مگر حضورؐ دعوت الی اللہ کے لیے ابن سلول کے پاس جاتے ہیں کوچہ میں صاف زمین پر اس کے قریب تشریف فرماتے ہیں۔ وہ ناک چڑھاتاہے ۔حضرت نبی ﷺہنس پڑتے ہیں اور آیاتِ قرآنیہ کی تبلیغ فرما کر دعوت الی اللہ کو مکمل فرماتے ہیں۔ربیع بنت معوذ ایک شب کی بیاہی ہوئی دلہن کے پاس تشریف لے جاتے اور اسے دعوت الی اللہ فرماتے ہیں‘ وہاں انصار کی چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو عربیہ اشعار فخریہ لہجہ میں پڑھتے ہوئے سنتے ہیں تو ان کو بھی عقائد صحیحہ کی تلقین فرماتے ہیں۔

سسکتی ہوئی جان توڑتی نواسی کو گود میں لیتے ہیں۔ اس وقت بھی دعوت الی اللہ میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اکلوتے بچہ ابراہیم کی لاش پر بیٹھے ہیں اس وقت بھی حاضرین کو رضا ئے الٰہی کے معانی سمجھاتے، استقامت کا نمونہ دکھاتے ہیں۔آخری مرض میں گیارہ دن کے تپ شدید اور دردِ سر میں ذرا تخفیف ہوئی ہے‘ ضعف اس قدر ہے کہ پائوں کے بل کھڑا نہیں ہوا جاتا، مگر دعوت الی اللہ میں وہی سرگرمی ہے سر پر پٹی باندھے ہوئے حضرت عباس رضی اللہ عنہ و حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کندھوں پر سہارا دیئے ہوئے مسجد میں تشریف لاتے ہیں۔ ممبر پر نہ کھڑا ہوا جاتا ہے اور نہ چڑھا جاتا ہے۔ بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کی نچلی سیڑھی پر ہی دعوت الی اللہ کی تکمیل فرماتے ہیں۔آپ ﷺ کی تعلیمات میں نیکی اور گناہ کے لیے بنیادی اصول یہ ہے کہ جو عمل اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺکے احکام کے مطابق ہو وہ نیکی ہے اور اگر اس کے خلاف ہوتو وہ گناہ ہے۔ حتیٰ کہ عبادات جو کہ سراسر نیکی ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف کی جائے تو بجائے نیکی کے گناہ کا سبب بن جاتا ہے مثلاً نماز پڑھنا بہت بڑی عبادت ہے لیکن سورج کے طلوع ہوتے وقت‘ غروب ہوتے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے اگرکوئی شخص ان مکروہ ا وقات میں نماز پڑھے تو وہ گناہ کا سبب بن جائے گا۔ اسی طرح روزہ رکھنا عظیم عبادت ہے لیکن عید کے دن چونکہ روزہ رکھنا ممنوع ہے اس لئے اگر عید کے دن روزہ رکھا تو یہ گناہ کا سبب ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیکی اصل میں اطاعت الٰہی کا نام ہے اللہ رب العزت نے اسلام کے ذریعہ ہمیں اچھے اخلاق کی تعلیم دی حسن خلق یعنی لوگوں سے اچھا برتاؤ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔آپﷺ نے مکمل نظام حیات پیش کرتے ہوئے خوشگوار زندگی کے نو اصول بتائے، جن پر چل کر آخرت کا ساما ن بھی ہو سکتا ہے اور دنیا میں بھی نیکیاں کما سکتے ہیں۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا: 

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مجھے میرے پروردگار نے نو باتوں کا حکم دیا ہے: (۱) ظاہر و باطن میں خدا سے ڈرنا، (۲) انصاف کی بات کہنا غصہ میں اور رضا مندی میں، (۳) افلاس اور دولت مندی دونوں حالتوں میں میانہ روی اختیار کرنا، (۴) جو مجھ سے قطع تعلق کرے میں اس سے قرابت کو قائم رکھوں، (۵) جو مجھے محروم رکھے میں اس شخص کو دوں، (۶) جو شخص مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کر دوں، (۷) میری خاموشی غور و فکر ہو میرا بولنا ذکر الٰہی ہو، (۸) میرا دیکھنا عبرت کے لیے ہو، (۹) اور میں نیکی کا حکم دوں۔‘‘ (رواہ رزین، مشکوٰۃ باب البکاء والخوف)

ان میں سے اول چیز خوف خدا ہے قرآن حکیم میں انسان کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرنے کے لیے مختلف انداز سے دلائل دیئے گئے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ کہ دیکھو اللہ نے تمہارے لیے دنیا کی تمام نعمتیں بنائی ہیں یہ آسمان و زمین اور اس کے اندر کی تمام چیزیں یہ پہاڑ، دریا، درخت اور بارش برسا کر زمین سے تمہارے لیے رزق پیدا کرنا، اس قدر نعمتیں اس رب نے انسان کو عطا فرمائی ہیں کہ اس نے فرما دیا ’’ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوہ‘‘ یعنی ’’اگر تم اللہ کی نعمتیں گننے لگو تو شمار نہیں کر سکو گے‘‘۔رب ذوالجلال نے انسان کو اپنی عطا کردہ نعمتیں یاد دلا کر کہا کہ دیکھو اب صرف مجھ سے ڈرو اور میری نافرمانی سے بچو۔اسی طرح انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کا ڈر پیدا کرنے کے لیے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی بات اور اس کی قدرت کا خوب تذکرہ کیا گیا۔ تاکہ انسان کے اندر خدا کا صحیح تصور پیدا ہو جائے اس لیے کہ اگر خدا کا تصور انسان کے دل میں پختہ ہو جائے تو پھر اس کے نتیجہ میں اللہ کا ڈر یعنی تقویٰ پیدا ہو جائے گا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے گذشتہ دور کے انسانوں کے واقعات بیان کرکے انسان کی حیات کو خوب واضح فرمایا کہ بعض لوگ اللہ کے احسانات و انعامات کی وجہ سے اللہ سے ڈرتے ہیں اور بعض لوگ اللہ کی قدرت کا مظاہرہ دیکھ کر ڈرتے ہیں۔ یہی کیفیات آج کے معاشرے کے انسان میں بھی نظر آتی ہیں۔ بسا اوقات انسان پر اللہ کی نعمتوں کی برسات ہو رہی ہوتی ہے تو انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور یہ تو میری محنت اور زور بازو کا کمال ہے۔ بس اس غلط فہمی کی وجہ سے اللہ کا ڈر دل سے نکل جاتا ہے۔ پھر اسی انسان کے دل سے یہ بھی نکل جاتا ہے کہ نماز سے کیا ہوتا ہے تلاوت قرآن حکیم کی کیا ضرورت ہے۔یہ تمام باتیں اللہ کا ڈر نہ ہونے کی علامات ہیں۔ پھر اسی انسان کو جب دنیا میں دکھوں اور مصیبتوں کا سامنا ہوتا ہے کوئی قریبی عزیز بیمار ہو جاتا ہے یا خود کسی مالی یا ذہنی پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے پھر خوب قرآن حکیم کی تلاوت کرتا ہے ،پانچ وقت نماز مسجد میں ادا کرتا ہے اس لیے کہ اس کے دل میں اللہ کا یقین تو تھا اگر یہی یقین انسان کے دل میں پختہ ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اس انسان کے ہر کام کو دیکھ رہا ہے تو پھر اس ڈر کی وجہ سے وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرے گا اور یوں یہ انسان ایک کامیاب زندگی گزارے گا۔ معلوم ہوا کہ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے اللہ کا ڈر انسان کے اندر ہونا بہت ضروری ہے۔

قرآن مجید میں اللہ نے انسان کے اندر اپنا ڈر پیدا کرنے کے لیے جہاں اپنے احسانات انعامات اور اپنی قدرت اور صفات کا تذکرہ فرمایا وہاں انسان کو اس کے برے اعمال کے برے انجام سے بھی ڈرایا۔ انسان کے دل میں اللہ کا ڈر پیدا کرنے کا ایک اہم محرک عقیدۂ آخرت ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عقیدہ آخرت کے تمام پہلوئوں کو خوب وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا کہ انسان کو آخرت میں یعنی موت کے بعد آنے والی زندگی میں اس کے ہر عمل کا اچھا بدلہ اور برے عمل کا برا بدلہ ملے گا۔

جب انسان کے اندراللہ کا ڈر پیدا ہو جاتا ہے تو اس انسان کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب آجاتا ہے اس کی زندگی میں بہت سی خوشگوار اور عمدہ تبدیلیاں آجاتی ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان باتوں کی نشاندہی فرمائی ہے جو اللہ سے ڈرنے کے نتیجہ میں سامنے آتی ہیں ایسا شخص اللہ پر پختہ ایمان رکھتا ہے، پابندی سے نماز ادا کرتا ہے وممارزقنہم ینفقون ’’جو کچھ اللہ نے اسے دیا اس میں سے خرچ کرتا ہے‘‘ زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔والموفون بعہدہم اذا عاہدوا ’’جب وعدہ کرتے ہیں تو پھر ایسے لوگ وعدہ پورا کرتے ہیں‘‘۔ والصابرین فی الباساء والضراء و حین الباس۔’’اور اللہ سے ڈرنے والے لوگ جب تنگ دستی میں مبتلا ہوتے ہیں یا بیماری اور مصیبت میں گھر جاتے ہیں تو صبر کرتے ہیں اور ثابت قدم رہتے ہیں‘‘۔

اللہ سے ڈرنے والوں میں ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کون سی چیز حلال ہے اور کون سی حرام ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق تو انسان متقی یعنی اللہ سے ڈرنے والوں میں اس وقت شمار ہوتا ہے جب وہ ہر اس چیز سے بچتا ہے جو دل میں کھٹکتی ہے۔ اس لیے کہ جب خوف خدا نصیب ہوتا ہے تو انسان مشتبہ چیزوں سے بھی بچتا ہے۔ بلکہ بظاہر چھوٹے گناہ کو بھی پہاڑ کے برابر بوجھل سمجھتا ہے۔ ایسا انسان پھر دوسرے انسان کے حقوق کا بھی ہر مرحلے میں خیال رکھتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس بندے کے لیے بہت سے فوائد بتائے ہیں جو اللہ سے ڈرتا ہے جیسے سورۂ حجرات میں فرمایا:

{ان اکرمکم عنداللہ اتقکم}

’’تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگا ر ہو۔‘‘

جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہی بات سورۂ طلاق میں ارشاد فرمائی:

’’ومن یتق اللہ یجعل لہ مخر جاویرزقہ من حیث لا یحتسب‘‘اور اسی سورت کی چوتھی آیت میں فرمایا جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے کام آسان کر دیتا ہے۔

سورۂ انفال میں فرمایا۔(ترجمہ) اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تمہیں حق اور باطل میں فرق کرنے کی قوت عطا فرما دے گا اور تمہارے گناہ دور کر کے تمہیں بخش دے گا پھر جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دوسری چیزوں کے ڈر سے نجات دیدیتاہے ۔سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ، 

ترجمہ:جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا اور نیک ہو گئے ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ غمگین ہوں گے۔اللہ سے ڈرنے والوں پر برکتوں اور رحمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

 سورۂ اعراف میں فرمایا،

ترجمہ: اگر اسی بستی والے ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے ہوئے پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔

سورۃ البقرہ میں فرمایا:{ واعلموا ان اللہ مع المتقین}

’’ اور تم مان لو بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں تو پھر اللہ بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے آج معاشرہ میں کسی کا تعلق کسی بڑے عہدیدار سے ہو جائے تو وہ کتنا فخر کرتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ مجھے صرف اسی کا ڈر ہے اور کسی کا نہیں۔ اگر انسان کے دل میں صرف اپنے رب کا ڈر پیدا ہو جائے تو یوں کہنے لگے کہ مجھے تو صرف خدا کا ڈر ہے اور کسی کا نہیں تو پھر یقینا انسان کی زندگی کا ہر لمحہ سنور جائے۔اللہ رب العزت ہم سب کے دلوں سے مخلوق کا ڈر نکال کر خالق کا ڈر ڈال دے اور پھر اس کے نتیجہ میں رب ذوالجلال اپنے وعدے کے مطابق ہمارے تمام کام آسان بنا دے مشکلات سے نکلنے کے راستے بنا دے، جہاں سے گمان بھی نہ ہو وہاں سے رزق عطا کرے اور ہماری دنیا و آخرت کی زندگی میں برکتیں اور رحمتیں نازل فرما دے۔آپ ﷺان تمام اسلامی تعلیمات کا مجسم پیکر تھے ۔آخری دن ہے۔ سفر آخرت میں صرف پانچ گھنٹہ کا وقفہ رہ گیا ہے۔ مسلمان صبح کی نماز کے لیے مسجد میں جمع ہیں۔ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضعف اور شدتِ دردِ سر کی وجہ سے اپنے بستر پر جسے کھجوروں کے پٹھوں سے نرم بنایا گیا ہے، لیٹے ہیں۔ دعوت الی اللہ کا فرض پھر حضورﷺکے قلب پاک میںتازہ حرارت پیدا کرتا ہے مسجد اور حجرہ مبارک کے درمیان جو پردہ پڑا ہوا تھا اسے ہٹاتے ہیں تھوڑی دیر تک تبسم کے ساتھ اس نظارہ کو ملاحظہ فرماتے ہیں جو ایک خد اکی عبادت کے لیے سینکڑوں مسلمانوں کے یک دل و یک جہت و یک آواز ہونے سے پیدا ہو گیا تھا اب پھر زمین پر گھسٹتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور اس بڑے مجمع کے سامنے پھر آخری دفعہ دعوت الی اللہ کی نورانی مثال قائم فرماتے ہیں۔

مزید پڑھیں

دنیا جانتی ہے کہ نبی عربی حضرت محمد ﷺانسانیت کے اس برگزیدہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ، جو قدیم ترین زمانہ سے نوع انسانی کو خدا پرستی اور حسن ...

مزید پڑھیں

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ، انا افصح العرب ولا فخر۔ جس زمانے میں آپ ﷺکی بعثت ہوئی، عرب میں بڑے بڑے جلیل القدر شعراء اور خطیب موجود تھے۔ اس ...

مزید پڑھیں

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک عدیم المثال فلاحی ریاست قائم فرمائی۔ ہمارے سیاسی اکابرین نے اس ماڈل ریاست ...

مزید پڑھیں

اعلان حق، اظہار صداقت اور تبلیغ خیر و ہدایت پر منصب نبوتؐ اور فریضہ رسالتؐ کی بنیاد ہے، حضرت محمدﷺ رسول اللہ بھی اسی کام پر مامور کئے گئے ...

مزید پڑھیں

آج سے ہزاروں سال قبل کسی زمانہ میں قبیلہ بنو جرہم کے کچھ لوگ عرب کے مشہور شہر ’’مکہ مکرمہ‘‘ میں آباد ہوگئے تھے، جن کی اولاد س ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

اسلام امن پسند مذہب ہے لیکن اسے دنیا بھر میں دہشت گردی اور تشدد کا سامنا ہے ،بھارت سے لے فلسطین اور عرق سے لیبیا تک ہر جگہ غیر ملکی مداخلت ...

مزید پڑھیں

روزی کے متعلق سب سے پہلے اسلام نے خوب اچھی طرح یقین دلایاہے کہ دنیا اور اس کی تمام اشیاء کامالک ایک اﷲ ہے۔یہ مال ودولت حقیقت میں میر اتیر ...

مزید پڑھیں

عائلۃ عربی زبان میں بیوی اور گھر کے دیگر افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عائلی زندگی سے اسلام نے قرآن حکیم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ...

مزید پڑھیں