☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل رپورٹ سنڈے سپیشل
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

تحریر : مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ

11-10-2019

دنیا جانتی ہے کہ نبی عربی حضرت محمد ﷺانسانیت کے اس برگزیدہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ، جو قدیم ترین زمانہ سے نوع انسانی کو خدا پرستی اور حسن اخلاق کی تعلیم دینے کے لیے اٹھتا رہاہے ۔ ایک خدا کی بندگی اور پاکیزہ اخلاقی زندگی کا درس جو ہمیشہ سے دنیا کے پیغمبر دیتے رہے ہیں ، وہی آنحضرتﷺ نے بھی دیاہے ۔

آپﷺ نے کسی نئے خدا کا تصور پیش نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی نرالے اخلاق ہی کا سبق دیا ہے جوان سے پہلے رہبران انسانیت کی تعلیم سے مختلف ہو ۔ پھر سوال یہ ہے کہ آپ ؐکا وہ اصلی کارنامہ کیاہے جس کی بنا پر ہم انہیںؐ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا آدمی قرار دیتے ہیں ؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے شک آنحضرت ﷺسے پہلے انسان خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت سے آشنا تھا ، مگر اس بات سے پوری طرح واقف نہ تھا کہ اس فلسفیانہ حقیقت کا انسانی اخلاقیات سے کیا تعلق ہے ۔ بلاشبہ انسان کو اخلاق کے عمدہ اصولوں سے آگاہی حاصل تھی ، مگر اسے واضح طور پر یہ معلوم نہ تھا کہ زندگی کے مختلف گوشوں اور پہلوئوں میں ان اخلاقی اصولوں کی عملی ترجمانی کس طرح ہونی چاہیے ۔ خدا پر ایمان ، اصول اخلاق اور عملی زندگی ۔ یہ تین الگ الگ چیزیں تھیں جن کے درمیان کوئی منطقی ربط ، کوئی گہرا تعلق اور کوئی نتیجہ خیر رشتہ موجود نہ تھا ۔ یہ صرف حضرت محمدﷺ ہیں جنہوں نے ان تینوں کو ملا کر ایک نظام میں سمو دیا اور ان کے امتزاج سے ایک مکمل تہذیب و تمدن کا نقشہ محض خیال کی دنیا ہی میں نہیں بلکہ عمل کی دنیا میں بھی قائم کر کے دکھادیا ۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ خدا پر ایمان محض ایک فلسفیانہ حقیقت کے مان لینے کا نام نہیں ہے بلکہ اس ایمان کا مزاج اپنی عین فطرت کے لحاظ سے ایک خاص قسم کے اخلاق کا تقاضا کرتاہے اور اس اخلاق کا ظہور انسان کی عملی زندگی کے پورے رویہ میں ہونا چاہیے ۔ ایمان ایک تخم ہے جو نفس انسانی میں جڑ پکڑتے ہی اپنی فطرت کے مطابق عملی زندگی کے ایک پورے درخت کی تخلیق شروع کر دیتاہے اور اس درخت کے تنے سے لے کر اس کی شاخ شاخ اور پتی پتی تک میں اخلاق کا وہ جیون رس جاری و ساری ہو جاتاہے کہ جس کی سو تیں تخم کے ریشوں سے ابلتی ہیں ۔ جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ زمین میں بوئی تو جائے آم کی گٹھلی اور اس سے نکل آئے لیموں کا درخت ۔ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ دل میں بویا تو گیا ہو خدا پرستی کا بیج اور اس سے رونما ہو جائے ایک مادہ پرستانہ زندگی جس کی رگ رگ میں بد اخلاقی کی روح سرایت کیے ہوئے ہو ۔ خدا پرستی سے پیدا ہونے والے اخلاق اور شرک ، دہریت یا رہبانیت سے پیدا ہونے والے اخلاق یکساں نہیں ہو سکتے ۔ زندگی کے یہ سب نظریے اپنے اپنے الگ مزاج رکھتے ہیں اور ہر ایک کا مزاج دوسرے سے مختلف قسم کے اخلاقیات کا تقاضا کرتاہے ۔ پھر جو اخلاق خدا پرستی سے پیدا ہوئے ہیں وہ صرف ایک خاص عابد و زاہد گروہ کے لیے مخصوص نہیں ہیں کہ صرف خانقاہ کی چار دیواری اور عزلت کے گوشے ہی میں ان کا ظہور ہو سکے ۔ ان کا اطلاق وسیع پیمانے پر پوری انسانی زندگی اور اس کے ہر پہلو میں ہونا چاہیے ۔ اگر ایک تاجر خدا پرست ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی تجارت میں اس کا خدا پرستانہ اخلاق ظاہر نہ ہو ۔ اگر ایک جج خدا پرست ہے تو عدالت کی کرسی پر ، اور ایک پولیس مین خدا پرست ہے تو پولیس پوسٹ پر اس سے غیر خدا پرستانہ اخلاق ظاہر نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح اگر کوئی قوم خدا پرست ہے تو اس کی شہری زندگی میں ،اس کے ملکی انتظام میں ، اس کی خارجی سیاست میں اور اس کی صلح و جنگ میں خدا پرستانہ اخلاق کی نمود ہونی چاہیے ورنہ اس کا ایمان باللہ محض ایک لفظ بے معنی ہے ۔ 

اب رہی یہ بات کہ خدا پرستی کس قسم کے اخلاق کا تقاضا کرتی ہے اور ان اخلاقیات کا ظہور کس طرح انسان کی عملی زندگی میں اور انفرادی و اجتماعی رویہ میں ہونا چاہیے ، تو یہ ایک وسیع مضمون ہے جسے ایک مختصر گفتگو میں سمیٹنا مشکل ہے مگر میں نمونے کے طور پر محمد ﷺکے چند ارشادات پیش کرتاہوں جن سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ آنحضرت ؐ کے مرتب کیے ہوئے نظام زندگی میں ایمان ، اخلاق اور عمل کا امتزاج کس نوعیت کا ہے ۔ حضور ؐ فرماتے ہیں :

٭۔ایمان کے بہت سے شعبے ہیں اس کی جڑ یہ ہے کہ تم خدا کے سوا کسی کو معبود نہ مانو اور اس کی آخری شاخ یہ ہے کہ راستے میں اگر تم کوئی ایسی چیز دیکھو جو بندگا ن خدا کو تکلیف دینے والی ہو تو اسے ہٹا دو اور حیا بھی ایمان ہی کا ایک شعبہ ہے ۔ 

٭ ۔ جسم و لباس کی پاکیزگی آدھا ایمان ہے ۔ 

٭۔مومن و ہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان و مال کا کوئی خطرہ نہ ہو ۔

٭ ۔ اس شخص میں ایمان نہیں ہے جس میں امانتداری نہیں اور وہ شخص بے دین ہے جو عہد کا پابند نہیں۔

٭ ۔ جب نیکی کر کے تجھے خوشی ہو اور برائی کر کے تجھے پچھتاوا ہو تو تو مومن ہے ۔

٭۔ایمان تحمل اور فراخدلی کا نام ہے ۔ 

٭ ۔ بہترین ایمانی حالت یہ ہے کہ تیری دوستی اور دشمنی خدا کے واسطے کی ہو ۔تیری زبان پر خدا کا نام جاری ہو اور تو دوسروں کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتاہے اور ان کے لیے وہی کچھ ناپسند کرے جو اپنے لیے ناپسند کرتاہے ۔

٭ ۔تم میں سب سے زیادہ کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں اور جو اپنے گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک میں سب سے اچھے ہیں اور جو اپنے گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک میں سب سے بڑھا ہوا ہے ۔

٭ ۔جو شخص خدا اور آخرت پر ایمان رکھتاہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے ۔ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہیں دینی چاہیے اور اس کی زبان کھلے تو بھلائی پر کھلے ، ورنہ چپ رہے ۔

٭۔مومن کبھی طعنے دینے والا ، لعنت کرنے والا ، بد گو اور بد زبان نہیں ہوا کرتا ۔ 

٭ ۔مومن سب کچھ کر سکتاہے مگر جھوٹا اور خائن نہیں ہو سکتا ۔

٭۔مومن نہیںہے ، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے ، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کی بدی سے اس کا ہمسایہ امن میں نہ ہو ۔

٭۔جو شخص خود پیٹ بھر کر کھائے اور اسکے پہلو میں اس کا ہمسایہ بھوکا رہ جائے وہ ایمان نہیں رکھتا۔

٭ ۔ جو شخص اپنا غصہ نکال لینے کی طاقت رکھتا ہو اور پھر ضبط کر جائے اس کے دل کو خدا ایمان اور اطمینان سے لبریز کر دیتاہے ۔ 

٭۔جو شخص کسی ظالم کو ظالم جانتے ہوئے اس کا ساتھ دے وہ اسلام سے نکل گیا۔

٭ ۔جس نے لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا ۔ جس نے لوگوں کو دکھانے کے لیے روزہ رکھا ، اس نے شرک کیا اور جس نے لوگوں کو دکھانے کے لیے خیرات کی اس نے شرک کیا ۔ 

٭ ۔ وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جو اپنے ماتحتوں پر بری طرح افسری کرے ۔ 

٭ ۔ چار صفات ایسی ہیں جس میں پائی جائیں وہ خاص منافق ہے 

٭۔امین بنایا جائے تو خیانت کرے ۔ بولے تو جھوٹ بولے ۔ عہد کر ے تو اسے توڑ دے اور لڑے تو شرافت کی حد سے گزر جائے ۔

٭۔جھوٹی گواہی اتنا بڑا گناہ ہے کہ ہلاکت کے قریب جا پہنچتاہے ۔

٭۔اصلی مجاہد وہ ہے جو خدا کی فرمانبرداری میں خود اپنے نفس سے لڑے اور اصلی مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑے جنہیں خدا نے منع فرمایا ہے 

٭۔ جانتے ہو کہ قیامت کے روز خدا کے سائے میں سب سے پہلے جگہ پانے والے لوگ کون ہوں گے ؟ وہ جن کا حال یہ رہا کہ جب بھی حق ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے مان لیا اور جب بھی حق ان سے مانگا گیا تو انہوں نے کھلے دل سے دیا اور دوسروں کے معاملہ میں انہوں نے وہی فیصلہ کیا جو وہ خود اپنے معاملے میں چاہتے تھے ۔ 

٭۔تم چھ باتوں کی مجھے ضمانت دو میں جنت کی تمہیں ضمانت دیتاہوں ۔ بولو تو سچ بولو ۔ وعدہ کرو تو وفا کرو ۔ امانت میں پورے اترو ۔ بدکاری سے پرہیز کرو ۔ بدنظری سے بچو اورظلم سے ہاتھ روکو۔

٭۔دھوکہ باز اور بخیل اور احسان جتانے والا آدمی جنت میں نہیں جا سکتا ۔ 

٭ ۔ جنت میں وہ گوشت نہیں جا سکتا جو حرام کے لقموں سے بنا ہو ۔ حرام خوری سے پلے ہوئے جسم کے لیے آگ ہی زیادہ موزوں ہے ۔

٭۔جس شخص نے عیب دار چیز بیچی اور خریدار کو عیب سے آگاہ نہ کیا اس پر خدا کا غصہ بھڑکتا رہتاہے اور فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔

 

مزید پڑھیں

حضرت واثلتہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ’’ اللہ تعالیٰ نے اولاد اسمعیلؑ میں سے کنانہ ...

مزید پڑھیں

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ، انا افصح العرب ولا فخر۔ جس زمانے میں آپ ﷺکی بعثت ہوئی، عرب میں بڑے بڑے جلیل القدر شعراء اور خطیب موجود تھے۔ اس ...

مزید پڑھیں

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک عدیم المثال فلاحی ریاست قائم فرمائی۔ ہمارے سیاسی اکابرین نے اس ماڈل ریاست ...

مزید پڑھیں

اعلان حق، اظہار صداقت اور تبلیغ خیر و ہدایت پر منصب نبوتؐ اور فریضہ رسالتؐ کی بنیاد ہے، حضرت محمدﷺ رسول اللہ بھی اسی کام پر مامور کئے گئے ...

مزید پڑھیں

آج سے ہزاروں سال قبل کسی زمانہ میں قبیلہ بنو جرہم کے کچھ لوگ عرب کے مشہور شہر ’’مکہ مکرمہ‘‘ میں آباد ہوگئے تھے، جن کی اولاد س ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

اسلام امن پسند مذہب ہے لیکن اسے دنیا بھر میں دہشت گردی اور تشدد کا سامنا ہے ،بھارت سے لے فلسطین اور عرق سے لیبیا تک ہر جگہ غیر ملکی مداخلت ...

مزید پڑھیں

روزی کے متعلق سب سے پہلے اسلام نے خوب اچھی طرح یقین دلایاہے کہ دنیا اور اس کی تمام اشیاء کامالک ایک اﷲ ہے۔یہ مال ودولت حقیقت میں میر اتیر ...

مزید پڑھیں

عائلۃ عربی زبان میں بیوی اور گھر کے دیگر افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عائلی زندگی سے اسلام نے قرآن حکیم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ...

مزید پڑھیں