☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) غور و طلب(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() متفرق(عبدالماجد قریشی) رپورٹ(محمد شاہنواز خان) کھیل(طیب رضا عابدی ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین() خواتین() خواتین() خواتین() دنیا کی رائے(محمد ارسلان رحمانی) دنیا کی رائے(عارف رمضان جتوئی) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک)
قرآن مجید : اقوام عالم کی رہنمائی کا بہترین ذریعہ

قرآن مجید : اقوام عالم کی رہنمائی کا بہترین ذریعہ

تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع

12-08-2019

اسلام امن پسند مذہب ہے لیکن اسے دنیا بھر میں دہشت گردی اور تشدد کا سامنا ہے ،بھارت سے لے فلسطین اور عرق سے لیبیا تک ہر جگہ غیر ملکی مداخلت کے باعث مسلمانوں پر زندگی تنگ ہو چکی ہے،اسلام کی امن پسندی کے بارے میں ارشاد نبوی ﷺ ہے،

ترجمہ: ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حرام ہے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو۔‘‘

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ اور علاقہ میں تشریف لائے ان میں ہر انسان کی یہی تین چیزیں غیر محفوظ تھیں نہ کسی کی جان محفوظ تھی‘ نہ کسی کا مال محفوظ تھا اور نہ کسی کی عزت کی قدر تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کی ان تینوں چیزوں کے لیے حفاظت کرنے کا حکم فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ نے خود اپنی ذات کے ذریعہ ان اصولوں کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم فرمادیں۔جنگ بدر میں فوج کی صف بندی ہورہی تھی ایک صحابی صف کے برابر نہ تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پتلی سی چھڑی کے ذریعہ انہیں ٹوک دیا‘ صحابی نے کہا یا رسول اللہ مجھے تو اس سے تکلیف ہوئی ہے، آپ ﷺ فرمایا میں موجود ہوں ۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بار غلام سے کہہ دیا۔’’ او حبشن ‘‘۔ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،کسی سفید کھال والے کو کسی کالی چمڑی والے کے بچے پر کوئی فضیلت نہیں فضیلت تو عمل سے ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام ؓ کی تربیت بھی اس انداز سے فرمائی کہ جب انہی صحابہ کرام ؓ میں سے جب کوئی مسلمانوں کاک سربراہ بنا تو انہوںنے دوسروں کی جان ومال اور عزت کا خوب خیال رکھا۔اب دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہمارے اوپر کیا بیت رہی ہے۔ 

قرآن کریم خدائے لم یزل ولایزال وایزد متعال کا وہ ازلی ، ابدی ، مقدس کلام ، معجز نظام ہے جو بذریعہ وحی افضل کائنات ، فخر موجودات ، سید الانبیاء و المرسلین ، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل تیئس (23 ) سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوکر ہم تک ناقابل شک تواتر کے ساتھ اس طرح پہنچا ہے کہ اس میں ایک لفظ کیا ایک زبر ، زیر اور پیش بلکہ ایک نقطہ تک کا بھی تغیر و تبدل نہیں ہے۔یہی وہ کتاب ہے جس کی فصاحت و بلاغت کو دیکھ کر دُنیا محو حیرت ہوگئی۔اِس کے سامنے بڑے بڑے فصحاء و بلغاء اور پڑھے لکھے دانش ور لوگوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ اِس کے الفاظ و کلمات کی سحر انگیزی کے سامنے پتھر دل لوگ بھی موم ہوگئے۔ اِس کے معانی و مطالب کے بحر ناپیدا کنار میںراسخین فی العلم ہمیشہ غوطہ زَن رہے۔ اِس کے فوائد و ثمرات سے تمام عالم انسانیت متمتع ر ہا۔ اِس کے انوارات و برکات سے مسلمان کیا غیر مسلم بھی مستفیض ہوتے رہے۔اِس کا قیامت تک آنے والے دُنیابھر کے تمام انسان و جنات کو یہ چیلنج ہے کہ باہم ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن کر اِس جیسا ایک کلام پیش کریں، لیکن عرب و عجم، مشرق و مغرب کے بلند پایہ فصحاء و بلغاء، نثر نگار و شعراء،دانش وَر و ادباء اور ماہرین لغات اِس جیسی ایک آیت پیش کرنے سے قاصر ہیں اور قیامت تک عاجز رہیں گے اور یہ کلام بلاغت نظام اِنشاء اللہ! قیامت کی صبح تک اسی آب و تاب کے ساتھ چمکتا دمکتا رہے گا۔

سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ چیلنج دیا کہ اے پیغمبر! آپ کہہ دو کہ اگر تمام انسان اور جنات اِس کام پر اِکٹھے بھی ہوجائیں کہ اِس قرآن جیسا کلام بناکر لے آئیں ، تب بھی وہ اِس جیسا نہیں لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کی کتنی مدد کرلیں۔‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل:۱۷/۸۸) جب دُنیا قرآنِ کریم جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز ہوگئی اور اُلٹا یہ کہنے لگ گئی کہ یہ قرآن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے گھڑا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے دوسرا چیلنج یہ دیا کہ’’ اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کہ پھر تو تم بھی اِس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں بنا لاؤ، اور (اِس کام میں مدد کے لئے)اللہ کے سوا جس کسی کو بلا سکو ، بلا لو، اگر تم سچے ہو!‘‘ (سورۂ ہود: ۱۱/۱۳) جب قرآنِ مجید کی دس سورتیں پیش کرنے سے بھی دُنیا عاجز ہوگئی تو پھر اللہ تعالیٰ نے تیسرا چیلنج یہ دیا کہ اگر تم اِس قرآن کے بارے میں ذرا بھی شک میں ہو تو جو ہم نے اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر اُتارا ہے تو اِس جیسی ایک سورت ہی بنالاؤ! اور اگر سچے ہو تو اللہ کے سوا اپنے تمام مدد گاروں کو بلا لو!‘‘ (سورۂ بقرۃ: ۲/۲۳) اسی طرح سورۂ یونس میں چیلنج دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’کیا پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے؟ کہوکہ پھر تو تم بھی اِس جیسی ایک سورت (گھڑ کر) لے آؤ! اور (اِس کام میں مدد لینے کے لئے) اللہ کے سوا جس کسی کو بلاسکو بلالو، اگر سچے ہو!‘‘ (سورۂ یونس:۱۰/۳۸) جب دُنیا قرآنِ مجید کی ایک سورت کی طرح کوئی ایک سورت بھی پیش نہ کرسکی اور اُلٹا یہ کہنے لگی کہ پیغمبر نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے؟ تو پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھا چیلنج یہ دیا کہ کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اِن صاحب نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے؟ اگر یہ واقعی سچے ہیں تو اِس جیسا کوئی کلام (گھڑ کر) لے آئیں!( یعنی کم از کم قرآن مجید کی آیت کی طرح ایک آیت ہی پیش کردیں! ) (سورۂ طور: ۵۲/ ۳۳، ۳۴) بلکہ آخر میں تو پانچواں اور آخری چیلنج یہ بھی دے دیا کہ: ’’ یہ کام یقیناً وہ کبھی نہیں کرسکں گے!‘‘ (سورۂ بقرۃ: ۲/۲۳) لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آج تقریباً ساڑھے چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اور اِنشاء اللہ! قیامت کی صبح تک کوئی مائی کا لعل ایسا پیدا نہیں ہوگا جو اِس کے چیلنج کو قبول کرسکے اور قرآنِ حکیم کی فصاحت و بلاغت،جاہ و جلالت اور اِس کے جمال و خوب صورتی کے سامنے ایک سورت کیا ایک کلام بلکہ ایک کلمہ تک بنا ڈالے۔

اِس بلاغت نظام پاک کلام کا حق تو یہ تھا کہ دُنیا ئے کفر اِس کی صداقت و حقانیت کو تہ دل سے تسلیم کرتی، اِس پر ایمان و یقین لاتی اور اِس کے احکامات پر عمل پیرا ہوتی، کفر و شرک ، ظلمت و جہالت اور قہر و جبر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اِس کی نورانی کرنوں کو مشعل راہ کے طور پر استعمال کرکے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ معلوم کرتی اور اُس کا قرب حاصل کرتی، لیکن افسوس کہ اُنہوں نے اِس پاک کلام کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کی، بلکہ انتہائی بری طرح اُس کی توہین و تنقیص کی،اُس کی بے حرمتی و پامالی کی، اُس کی ردائے تقدیس کو پارہ پارہ کیا اور اُس کی حرمت و عظمت کا جنازہ نکالا، چنانچہ کسی نے اسے نذرِ آتش کیا تو کسی نے اُس کو گٹر میں پھینکا، کسی نے اُس کو جوتوں تلے روندا تو کسی نے اُس کو پارہ پارہ کرکے کچرہ دان میں ڈالا، کسی نے اُس کے اندر فحاشی و عریانی کی برہنہ تصاویر چھاپیں تو کسی نے اُس پٹاخوں میں استعمال کرکے اسے جلا کر راکھ بنادیا۔

 ایک افسوس ناک واقعہ 21 نومبر 2019ء کوناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں اُس وقت پیش آیا جب اسلام مخالف تنظیم ’’سیان‘‘کے کارکنوں نے ایک ریلی نکالی جس میں تنظیم کے لیڈر لارس تھوسن نے قرآن مجید کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے نذرِ آتش کیا ہی تھا کہ وہاں موجود ایک تئیس سالہ شامی مسلم نوجوان عمرالیاس تمام رکاوٹیں اورپولیس کاحصار توڑتا ہوا آگے بڑھا اور لارس تھورسن پر ٹوٹ پڑا، عمر الیاس نے پہلے فضاء میں جمپ لگاکر ملعون لارس کو ہوا میں گھمایا اور پھر دوسرے وار میں ایک زور دار لات اُس کے سینے پر مار کر اسے زمین پر پٹخا دیا ۔مسلمانوں کے ہیروعمرالیاس کی مومنانہ جرأت کودیکھ کر مزیدمسلم نوجوانوں کو ہمت ملی اور وہ بھی ملعون تھورسن پرحملہ آور ہوئے جس پر پولیس اہلکار وں کی رگ شیطانیت پھڑک اٹھی اورانہوں نے عمرالیاس اوردیگرکئی مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جبکہ لارس تھورسن کو بھی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔

 اپریل 2018ء میں ترکی کی بحریہ کے کسی ساحل پرایک پرائیویٹ بحری جہاز پر رقص و سرود کی ایک محفل منعقد کی گئی ، جس میں شرکا کی تعداد تقریباً تین ہزار سے بھی زاید تھی، ناچ گانا کرنے والیوں کی تعداد بھی خاصی تھی۔ 30 سے زائدعسکری قیادت کے جرنیل شریک تھے۔ ایک افسر نے کپتان سے قران کریم کا ایک نسخہ منگوایا، اور اسے پڑھنے کو کہا۔ اس نے جب پڑھا تو جنرل نے اس کی تفسیر پوچھی ،اُس نے لا علمی کا اظہار کیا تو اس جنرل نے وہ نسخہ شہید کر دیا ۔اس نے کہا کہ ِاس قران کو نازل کرنے والا کہاں ہے،کون اس کی حفاظت اور اس کا دفاع کرے گا؟اس کی یہ آواز سن کر اس کو لانے والے کیپٹن پر انتہائی خوف و لرزہ طاری ہو گیا،اور وہ تیزی سے اُس بھرے اڈے سے باہرآگیا۔ اس کے باہر آتے ہی ایک خوفناک روشنی نظر آئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اس پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سمندر پھٹ گیا اور اس میں سے آگ کے شعلے بھڑکنے لگے۔لوگوں کے پھٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پورے بحری اڈے کو اٹھا کر سمندر سے اٹھنے والی خوف ناک لہروں کے درمیان پھینک دیا،،اور اردگرد کے علاقے بھی زلزلے کی لپیٹ میں ا ٓگئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ دوسرے علاقوں سے آنے والوں کی لاشیں بھی نہ مل سکیں۔ قران کریم کی بے حرمتی کر کے ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے انصاف کر دیا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غیر مسلم مسلمان ہوا تو اس نے سورۂ بقرہ اور سورۂ آلِ عمران پڑھی اور رسول اکرم ﷺکے لئے (وحی کی) کتابت کرنے لگا، لیکن بعد میں مرتد ہو گیا اورکہنے لگا کہ محمد (ﷺ) کو تو (معاذ اللہ!) کسی بات کا پتا ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اس کو موت دی تو اسے قبر میں دفن کر دیاگیا ،صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے اسے باہر نکال پھینکا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ آپ ﷺکے صحابہ کرامؓ سے تھا کیونکہ وہ ان کے دین سے بھاگ کر آیا ہے۔لہٰذا انہوں نے اُس کے لئے دوسری قبر کھودی اور پہلے کی بہ نسبت بہت گہری قبربنائی اور اس کو دفن کر دیا ۔جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے اسے باہر نکال پھینکا ہے۔ انہوںنے پھر الزام لگایا کہ یہ آپﷺ کے صحابہ کرامؓ نے کیا ہے ۔ لہٰذالوگوں نے تیسری مرتبہ قبراتنی گہری کھودی جتنی گہری وہ بنا سکتے تھے۔ صبح جب ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے پھر سے باہر نکال پھینکا ہے۔ تب انہیں یقین ہوا کہ یہ کام مسلمانوں کانہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس کی لاش ایسے ہی چھوڑ دی۔‘‘ (صحیح بخاری)

 2005ء میں افغانستان میں امریکا مخالف مظاہروں کا سلسلہ 10 مئی کو اس وقت شروع ہوا جب امریکی جریدے ’’نیوز ویک‘‘ نے لکھا کہ گوانتا ناموبے جیل میں امریکی فوج کے تفتیشی افسروں نے مسلمان قیدیوں پر نفسیاتی دبائو ڈالنے کے لیے قرآن کریم کے نسخوں کی بے حرمتی کی ہے۔عالم اسلام کے احتجاج کے بعد سابق امریکی وزیرِ خارجہ کونڈو لیزا رائس سمیت بعض دیگر حکام نے وعدہ کیاکہ اگر ان واقعات میں صداقت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔ اسلام کی مخالفت اور اسلامی مقدسات کی توہین ایسی پالیسی ہے جس پر گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد سے بعض غیر ملکی ذرائع ابلاغ عمل پیرا ہیں۔ 

مارچ 2011ء میں فلوریڈا کے قصبے گینس ویل میں ملعون پادری ٹیری جونز نے قرآن پاک کی شان میں گستاخی کے لئے ایک نام نہاد عدالت لگائی، اس کے ساتھی ملعون ساتھی وائن ساپ نے قرآن پاک کے ایک نسخے کو شہید کرنے کی کوشش کی ۔ قرآن پاک کے خلاف ’’مقدمہ‘‘ چلایا گیا۔ اس کے بعد ’’جیوری‘‘ نے آٹھ منٹ تک غور وخوض کیا اور پھر ’’سزا‘‘ سنائی۔وہاں 30کے قریب لوگ موجود تھے جن میں ایک خاتون سمیت اسلام سے مرتد ہونے والے 3بدبخت بھی شامل تھے۔ قرآن پاک کو شہید کرنے کے موقع پر گینس ویل شہر میں زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ ملعون ٹیری جونز نے دعوت نامے تقسیم کئے تھے، تاہم مقامی انتظامیہ نے اس کاکوئی نوٹس نہیں لیا۔ مسلمانوں کا شدید رد عمل سامنے آیا اور سابق امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر اس نے اپنے منصوبے پر عمل کیا تو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑجائیں گی۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما نے بھی اس وقت ٹیری جونز کی مذمت کی، جس پر ملعون پادری نے منصوبہ ترک کرنے کا اعلان کیا، تاہم اسے روکنے کے لئے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے، جب کہ اس کے بعد امریکی کانگریس کی کمیٹی نے ایک متعصبانہ سماعت بھی کی، جس میں مسلمانوں میں دہشت گردی کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ سماعت اس قدر تعصب پر مبنی تھی کہ امریکی کانگریس کے واحد مسلم رکن آبدیدہ ہوگئے۔اس سماعت کے بعد اسلام مخالف انتہاء پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

اللہ تعالیٰ کی محبت، معرفت، خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لیے دوسروں کی ضروریات کو اپنی ذاتی ضروریات و حاجات پر ترجیح دینا ’’ایثار&ls ...

مزید پڑھیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ خبردار! جس شخص نے ظلم کیا اس پر جس سے معاہدہ ہو چکا یا اس کے حق کو نقصان پہنچایا یا اس کو تکل ...

مزید پڑھیں

{عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ المرء علی دین خلیلہ فلینظر احد کم من یخالل}(رواہ احمد والترمذی) مزید پڑھیں