☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل عالمی امور صحت کیرئر پلاننگ خواتین کچن کی دنیا دین و دنیا فیشن انٹرویوز ادب
راہ ِحق میں نصرت الٰہی کیسے نصیب ہوتی ہے؟

راہ ِحق میں نصرت الٰہی کیسے نصیب ہوتی ہے؟

تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

03-24-2019

حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا،ترجمہ ’’بے شک اللہ کی مدد صبر کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘ اللہ رب العزت نے سورۂ محمد کی ساتویں آیت میں ارشاد فرمایا: ترجمہ :’’اے ایمان والو اگر تم اللہ ( کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا کرے گا۔‘‘

 حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا،ترجمہ ’’بے شک اللہ کی مدد صبر کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘ اللہ رب العزت نے سورۂ محمد کی ساتویں آیت میں ارشاد فرمایا: ترجمہ :’’اے ایمان والو اگر تم اللہ ( کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا کرے گا۔‘‘

حق و باطل کے دونوں راستے ہر دور میں انسان کے سامنے رہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کی نجات اور تباہی کا معیار اسی بات کو بنایا۔ ہر انسان کو اللہ نے صحیح فطرت پر پیدا فرمایا اور پھر حق و باطل میں سے جو راستہ بھی یہ انسان اختیار کرنا چاہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا اختیار دے دیا۔ جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر اختیار کرے لیکن ایمان والوں کے لیے نجات اور ظلم اور کفر اختیار کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ مقرر فرما دی۔اب سلیم الفطرت انسان حق کی تلاش میں رہتا ہے‘

جب حق کا راستہ مل جاتا ہے تو پھر اسے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اللہ کی نصرت اور مدد اس کے ساتھ ہے یہاں تک کہ وہ راہ حق میں جان بھی قربان کر دیتا ہے لیکن کسی انسان کو باطل میں کشش نظر آتی ہے اسے باطل میں اپنا ذاتی مفاد نظر آتا ہے باطل کو اختیار کرنے سے اس کی انا کو تسکین ہوتی ہے یقینا باطل میں بھی بظاہر بہت سے فوائد نظر آتے ہیں جب ہی تو بسا اوقات باطل کے راستے میں انسان بہت زیادہ پختہ ہو جاتا ہے اور اس سے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ دوسری طرف راہ حق اختیار کرنے والا انسان جان و مال قربان کرنے کے جذبہ سے حق پر قائم رہتا ہے اور اللہ کی نصرت اور اس کی مدد پر بھروسہ کرتا ہے لیکن وہ وقت بڑی کڑی آزمائش کا وقت ہوتا ہے

جب حق پر قائم رہنے والے کو بظاہر نصرت خداوندی کے آثار نظر نہیں آتے اور یہ اللہ کی مدد کے آثار اس لیے دکھائی نہیں دیتے کہ حق پر ہونے کے باوجود اس بندے سے کچھ ایسے اعمال سرزد ہو جاتے ہیں جو اللہ کی طرف سے آتی ہوئی مدد کو روک دیتے ہیںجیسے غزوہ ٔ احد میں ہوا، رسول اللہ ﷺ نے ایک دستے کو ایک خاص درہ پر متعین فرمایا جہاں سے دشمن کے حملہ کا خطرہ تھا اور اس دستہ کو تاکید فرما دی کہ اس جگہ کو خالی نہ چھوڑیں چاہے فتح ہو یا شکست۔ جب پہلے ہی حملہ میں کفار کے پائوں اکھڑ گئے اور بھاگنا شروع ہو گئے،

مسلمانوں کو اپنی فتح کا یقین ہو گیا تو مال غنیمت اکٹھا کرنے لگے اوردرہ پر متعین دستہ بھی پہاڑ سے اتر کر مال غنیمت کی طرف متوجہ ہو گیا۔ دشمن نے درہ خالی دیکھ کر پیچھے سے حملہ کر دیا جس سے مسلمانوں کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ آل عمران میں غزوہ احد کے موقع پر فتح و نصرت نہ ملنے کی وجوہات اور تفصیلات کے بارے میں ساٹھ آیات نازل فرمائیں۔ آیت نمبر ۱۵۲ میں فرمایا جب تم اللہ کے حکم سے کافروں کو قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم کمزور پڑنے لگے اور آپس میں جھگڑنے لگے اور تم نے حکم عدولی کی جب کہ اللہ نے تمہاری پسندیدہ چیز یعنی فتح و نصرت دکھا دی تھی پھر اللہ نے وہی فتح شکست میں بدل دی تاکہ تمہارا امتحان لے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری اس کوتاہی پر تمہیں معاف بھی کر دیا اب قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے اصول بتا دیا کہ رسول خداﷺ کی اطاعت نہ کرنے پر اللہ کی نصرت اور مدد ساتھ نہیں دیتی۔

اس طرح جب مسلمان کمزور ہو جائیں اور آپس میں جھگڑنے لگیں تو پھر بھی راہ حق پر ہوتے ہوئے بھی اللہ کی مدد نصیب نہیں ہوتی۔ اور امت کو یہ سبق ملتا ہے کہ اگر اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے دین کے بجائے دنیا کے مال و دولت کی طرف انسان متوجہ ہو جائے تو پھر بھی نصرت خداوندی ساتھ نہیں دیتی۔ راہ حق میں نصرت خداوندی انسان کے ساتھ کب شامل حال رہتی ہے اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ آل عمران کی ۱۴۶ آیت میں فرمایا، ترجمہ :’’اور بہت سے پیغمبروں کے ساتھ مل کر خدا پرستوں نے کافروں سے جہاد و قتال کیا لیکن ان تکلیفوں کی وجہ سے جو ان کو خدا کی راہ میں پہنچیں نہ تو سست ہوئے اور نہ کمزور ہوئے نہ دشمنوں سے دبے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

اس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ اللہ کے مقرب بندوں کو راہ حق میں طرح طرح کی تکلیفیں اور قسم قسم کی مصیبتیں پہنچیں لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری نہ دشمنوں سے دبے نہایت صبر و استقلال کے ساتھ اللہ کے دشمنوں کے سامنے ثابت قدم رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی شجاعت اور اپنی افرادی قوت، اور اپنے سازو سامان پر نظر نہیں رکھی بلکہ رب ذوالجلال پر رکھی اور ساتھ ساتھ اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے رہے اور ثابت قدم رہنے کی دعا کرتے رہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کا انعام اور آخرت کا بہترین انعام عطا فرمایا۔ حضرت امام حسین ؓ بھی آخری رات اپنے خیمہ میں جو اشعار پڑھ رہے تھے ان میں سے ایک شعر یہ بھی تھا۔ وانما الامر الی الجلیل وکل حی سالک السبیل بے شک سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے اور ہر زندہ موت کے راستے پر چلا جا رہا ہے۔

وہ پوری رات آپ ؓنے اور آپؓ کے ساتھیوں نے استغفار اور دعائوں میں گزاری اس رات خیمہ میں موجود ساتھی حضرت حسین ؓ کو سورہ آل عمران کی یہ آیات بلند آواز میں پڑھتے ہوئے سن رہے تھے۔یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس حالت میں چھوڑنے والا نہیں جس پر تم ہو یہاں تک کہ وہ پاک کوناپاک سے الگ کرے گا ان کیفیات کو دیکھ کر خیمہ میں موجود ہر شخص کو آنے والی آزمائش کا اندازہ ہونے لگا لیکن حضرت زینب ؓ سے ضبط نہ ہو سکا۔ حضرت حسین ؓ نے فرمایا، ترجمہ :’’اے میری بہن اللہ سے ڈرو۔ موت تو یقینا ایک آنے والی چیز ہے۔‘‘ پھر فرمایا:’’یعنی میرے لیے اور ہر مسلمان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی اور ان کے اعمال بہترین نمونہ ہیں۔‘‘ یہاں تک کہ راہ حق میں مسلمان شہید ہو جائے تو بھی کامیاب۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے

: ترجمہ :’’جو لوگ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیے گئے اللہ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا،ان کو راہ ہدایت دکھائے گا ان کے حال کو سنوارے گا اور جنت میں داخل کرے گا۔‘‘ اللہ رب العزت ہمیں راہ حق اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر دنیا کے مال و دولت کی محبت کی جگہ ہمیں آپس میں اتفاق و محبت نصیب فرمائے، سستی اور کمزوری سے محفوظ فرمائے،ہمارے دلوں میں دین کی محبت پیدا فرمائے،زندگی کے ہر مرحلے میں اپنی اور اپنے حبیب ﷺ کی اطاعت نصیب فرمائے اس لیے کہ راہ حق میں اللہ کی نصرت اور اس کی مدد کے حق دار یہی لوگ ہیں۔ آمین !

مزید پڑھیں

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک دن آپؐ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے نصیحتیں فرمائیں۔

...

مزید پڑھیں

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے : ترجمہ:’’ اے نبی ! اپن ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

اسلام امن پسند مذہب ہے لیکن اسے دنیا بھر میں دہشت گردی اور تشدد کا سامنا ہے ،بھارت سے لے فلسطین اور عرق سے لیبیا تک ہر جگہ غیر ملکی مداخلت ...

مزید پڑھیں

روزی کے متعلق سب سے پہلے اسلام نے خوب اچھی طرح یقین دلایاہے کہ دنیا اور اس کی تمام اشیاء کامالک ایک اﷲ ہے۔یہ مال ودولت حقیقت میں میر اتیر ...

مزید پڑھیں

عائلۃ عربی زبان میں بیوی اور گھر کے دیگر افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عائلی زندگی سے اسلام نے قرآن حکیم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ...

مزید پڑھیں