☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
ذخیرہ اندوزی کی لعنت

ذخیرہ اندوزی کی لعنت

تحریر : مولانا حافظ اسعد عبید الازھری

02-02-2020

’’حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ نفع کمانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت ہوتی ہے‘‘ (رواہ ابن ماجہ والدارمی) ہمارے معاشرہ میں ہر سطح پر یہ عجیب وغریب وباپھیل چکی ہے کہ جہاں کوئی موقع ملاتوعام ضرورت کی اشیاء کی قلت پیدا کردی جاتی ہے اور پھر منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ اس میں بنیادی طریقہ ذخیرہ اندوزی ہے۔

 ہر وقت اور ہر قسم کا ذخیرہ کرنا اسلام میں ممنوع نہیں بلکہ اس کے لیے خاص لفظ ’’احتکار‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے یعنی ’’ اشیاء ضرورت کا اس لیے ذخیرہ کرلینا تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرکے منہ مانگے دام وصول کئے جائیں جسے عرف عام میں مہنگائی کہتے ہیں‘‘۔ بالفاظ دیگر مہنگائی کے خیال سے ذخیرہ اندوزی احتکار ہے۔ صاحب ہدایہ کتاب البیوع میں لکھتے ہیں’’احتکار (ذخیرہ اندوزی ) سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص غلہ یا کوئی اور جنس بڑی مقدارمیں اس لیے اکٹھی کرلے یا دوسرے سے خرید کر اس لیے جمع کرلے کہ بازار میں اس کی کمی واقع ہو اور مہنگائی ہوجائے اور تمام خریدار ، ضرورت مند اسی کی طرف رجوع کریں اور خریدارمجبورہوکر ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو اس کی مقررکردہ قیمت ادا کرے۔ ہاں البتہ اگر اس چیز کی بازار میں کمی نہیں اور نہ اس کے جمع کرنے کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا ہو، اوراس کے جمع کرنے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ نہ ہوتا ہوتو یہ ذخیرہ اندوزی نہیں۔‘‘
رسول اللہ ﷺنے واضح طور پر فرمایا کہ’’ذخیر اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔‘‘ لعنت ، رحمت کی ضدہے جب معاشرہ پر اللہ کی رحمت کے بجائے لعنت نازل ہونے لگے تو پھر رحمت کے آثار غائب ہونے لگتے ہیں اور لعنت کے آثار نظر آتے ہیں۔ رحمت کے آثار یہ ہیں کہ اس رزق میں برکت ہو‘ ایسے رزق کمانے والے کو حقیقی سکون نصیب ہو اورپھر اس حلال روزی کمانے والے کے دل میں نیک کاموں کا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا شوق پیدا ہو لیکن جب معاشرہ پر لعنت پڑنے لگے تو اس کے اثرات اس انداز میں نظر آتے ہیں کہ ہزاروں روپے کمائے جارہے ہیں لیکن زبان پر یہ الفاظ سننے میں آتے ہیں’’اتنا کماتے ہیں پتہ نہیں کہاں جاتا ہے۔ ‘‘ اس کی وجہ برکت کا ہاتھ اٹھ جانا ہے‘ پھر حرام مال کمانے کے بعد سکون ختم ہوا‘ عبادات کا شوق ہی نہ رہا‘ نیک کاموں کی طرف دل مائل ہی نہیں ہوتا یہ تمام لعنت کے آثار ہیں۔ ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،ترجمہ:’’جو ذخیرہ اندوزی کرتا ہے وہ گنہگار ہے۔‘‘(رواہ مسلم)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا،ترجمہ:’’جوشخص کھانے پینے کی چیزیں ذخیرہ اندوزی کرکے مسلمانوں پر مہنگائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کوڑھ کے مرض اور محتاجی میں مبتلا کردیتا ہے۔‘‘(رواہ ابن ماجہ)۔ ابن قدامہ المغنی کے باب الاحتکار میں روایت کرتے ہیں کہ ’’حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دکاندار کو ذخیرہ اندوزی سے منع فرمایا اور ساتھ رسول اللہ ﷺ کا اس کام سے روکنا بھی واضح کیا لیکن وہ باز نہ آیا اور کوڑھی بن گیا۔‘‘
علامہ شوکانی نیل الاوطار جلد دوم ص181میں لکھتے ہیں کہ ’’حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ذخیرہ کرنے والے کا غلہ جلا دیا۔‘‘
صاحب ہدایہ کتاب الکراھیہ میں لکھتے ہیں کہ ’’جب ذخیرہ اندوز کا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ ذخیرہ اندوز کو حکم دے کہ وہ اپنے اور اپنے گھروالوں کے کھانے پینے کا خرچہ الگ کرکے جو کچھ بچے اسے بیچ دے اور قاضی اسے ذخیرہ اندوزی سے روک دے، اگر وہ تاجر دوبارہ اسی جرم میں ملوث ہوکر عدالت میں آئے تو قاضی اسے قید کردے تاکہ عام لوگوں کو نقصان پہنچنے کا ذریعہ ختم ہوجائے۔‘‘
حضرت ابواُمامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔’’جو شخص چالیس دن تک غلہ مہنگائی کے خیال سے ذخیرہ کرے پھر(غلطی کا احساس ہونے پر) وہ تمام غلہ صدقہ کردے پھر بھی اس کی غلطی کا کفارہ ادا نہیں ہوتا۔‘‘ (رواہ رزین) ۔ حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا،ترجمہ:’’وہ ذخیرہ اندوز بندہ برا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بھاؤ سستا کردے تو غمگین ہوجاتا ہے اور جب مہنگا کردے تو خوش ہوجاتا ہے۔‘‘(رواہ البیہقی)
ان تمام ارشادات نبویہﷺ اور تعلیمات اسلامی کے پیش نظر یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ذخیرہ اندوزی کتنا گھناؤ نا فعل ہے، اور پھر اتنا گھٹیا اور برا کام ہے۔انسان کو بھوک میں مبتلا کرنا، اسے کھانے پینے کی اشیا سے محروم کرنا قابل گرفت جرم ہے۔ اس کا آخرت میں تو عذاب ملے گا ہی، دنیا میں بھی حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق سزا دے ۔ انسان کو چاہیے کہ اگر کسی چیز کی کمی ہو رہی ہے تو وہ ثواب کمائے ، غریب پروری کرے ، بھوک مٹانے کا سامنا کرے،یتیموں کی مدد کرے، لوگوں کے لیے سہولت پیدا کرے اور اپنے گناہوں کو دھلوائے، اپنی مغفرت کا سامان کرے۔ لیکن یہاں اس کے الٹ ہو رہا ہے۔بعض لوگ عوام کے منہ سے نوالے چھیننے کے لئے آٹے جیسی ضروری چیز کی قلت پیدا کر کے پیسے بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والے ایسے ملعون تاجر ہیں جو مسلمان بھائیوں کا خون چوستے ہیں، وہ مہنگائی کے ذریعے متقی افراد کابھی خون چوستے ہیں۔ایسے تاجروں کو ارشادات نبویہ ﷺیاد رہنے چاہئیں۔ ان کے مالوں میں برکت نہ رہے گی، اللہ تعالیٰ انہیں محتاجی اور کوڑھ میں مبتلا کردیں گے‘ یہ حرام مال کھائیں گے توا رشاد نبوی ﷺکے مطابق ان کی دعائیں بھی قبول نہ ہونگی۔
 

 

مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کے تین مراحل ذکر فرمائے ہیں:’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہاری پیدائش کی ابتداء کمزوری سے کی، پھر کمزوری کے بعد طاقت(جوانی)عطا فرمائی، پھر طاقت کے بعد( دوبارہ ) کمزوری اور بڑھاپا طاری کر دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہی وہ ذات ہے جس کا علم اور قدرت کامل ہیں‘‘۔ ( سورۃ الروم، آیت نمبر 54)    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں