☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سپیشل رپورٹ(صہیب مرغوب) رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) عالمی امور(نصیر احمد ورک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین( محمدشاہنوازخان) خواتین(نجف زہرا تقوی) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) شوبز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) دنیا کی رائے(شکیلہ ناز) دنیا کی رائے(تحریم نیازی) دنیا کی رائے(مریم صدیقی)
بیروزگاری ختم کرنے کے بہترین طریقے

بیروزگاری ختم کرنے کے بہترین طریقے

تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

03-08-2020

{عن عبداللہ قال قال رسول اللہ  ﷺطَلَبُ کسب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ} (رواہ البیہقی)
’’حلال کمائی تلاش کرنا دیگر فرائض کے بعد ایک فرض ہے۔‘‘
 

 

شریعت اسلامیہ نے حلال روزی کمانے کے جو طریقے جائز قرار دیئے ہیں ان میں سے ایک مضاربت بھی ہے۔ شریعت اسلامی میں مضاربت کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص کا مال ہو اور دوسرا شخص محنت کرے اور منافع دونوں کے درمیان تقسیم ہو جائے لفظ مضاربت اصل میں لفظ ضرب سے بنا ہے جس کا معنی ہے سفر کرنا۔ چونکہ تجارتی معاملات میں عموماً سفر کرنا پڑتا ہے اس لیے اس کا نام مضاربت رکھ دیا گیا۔مضاربت کا معاملہ عہد جاہلیت میں بھی جانا پہچانا تھا۔ اسلام نے اسے جاری رکھا کیونکہ اس طریقہ سے معاملات کو اچھے طریقے سے طے کیا جا سکتا ہے۔ اسلام ہمیشہ ہر کام میں اصلاح سے کام لیتا رہا ہے اگر کسی معاملہ میں برائی ہے تو اسلام نے اس سے منع کیا اور اگر تجارت کا کوئی طریقہ زمانہ اسلام سے پہلے جاری تھا تو اسلام نے صرف اس لیے اس معاملہ سے منع نہیں کیا کہ یہ زمانہ جاہلیت کا طریقہ تھا بلکہ اسلام نے ایسے معاملات کو اس طرح پرکھا کہ کیا لوگ اس سے برائی میں مبتلا تو نہیں ہو جائیں گے کیا اس طریقہ سے لوگوں کے درمیان معاملات کی خرابیاں تو پیدا نہیں ہوں گی۔ کیا یہ طریقہ احکام اسلام کے خلاف تو نہیں اگر اس قسم کی برائیاں اس معاملہ میں موجود نہ ہوں تو اسلام نے کھلے دل سے اس کی اجازت دی۔
آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی اگرچہ بے وز گاری کے خاتمے کے طریقے اور معیشت کے وسائل مختلف ہیں لیکن زراعت ، تجارت صنعت وحرفت کو آج بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے اور ان میں سب سے مقدم زراعت ہے‘ زمین سے روزی اور فائدہ حاصل کرنے کا حق ہر انسان کو دیا گیا ہے لیکن زمین سے فائدہ حاصل کرنے کی اسلام نے چند شرائط اور چند آداب مقرر کئے ہیں ان میں سے بنیادی شرط زمین کا مالک ہونا ہے یہ بات طے شدہ ہے کہ تمام کائنات کا خالق، مالک حقیقی صرف خدائے تعالیٰ کی ذات ہے لیکن یہاں ملکیت سے عارضی ملکیت مراد ہے کہ جس ملکیت کے ذریعے انسان اس زمین سے فائدہ اٹھاسکے اور دوسرے کے حقوق میں دخل اندازی نہ کرسکے‘ اگر زمین کو ملکیت اجتماعی قرار دیاجائے تو پھر کوئی انسان بھی صحیح طریقے سے اپنے حق سے فائدہ نہ اٹھاسکے گا‘ پھر ایک انسان سے دوسرے انسان کی ملکیت میں جانے سے پہلے زمین کے ہمسائے سے پوچھنا بھی ضروری قرار دیا تاکہ کوئی دوسرا انسان اس ہمسائے کو تکلیف یا نقصان نہ پہنچا سکے اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر انسان کو حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ساتھ والی زمین یا مکان کا مالک کسی ایسے شخص کو نہ بننے دے جس سے اس کو نقصان پہنچ سکتا ہو اس حق کو شرعی اصطلاح میں حق شفعہ کہتے ہیں۔
اسلام کے معاشرتی نظام میں ایک انسان کودوسرے انسان سے اس طرح مربوط رکھا گیا ہے کہ ہر انسان دوسرے کی زندگی میں معاون ہو ایک دوسرے کا حق غصب نہ کرسکے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو شخص ایک بالشت بھرزمین ظلم سے حاصل کرے گا اس زمین کے ٹکڑے کے ساتوں طبقے قیامت کے دن اس کی گردن میں طوق کے طور پر پہنائے جائیں گے۔‘‘ اب یہاں ایک بالشت بھر زمین حاصل کرنے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ایک بالشت بھر زمین کھود کر کہیں لے گیا بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ بالشت بھر زمین جس پر کسی دوسرے شخص کے لیے نفع حاصل کرنے کا حق تھا اس زمین سے دوسرا شخص ناجائز طور پر نفع حاصل کررہا ہے یا اصل حقدار کو نفع حاصل کرنے سے روک رہا ہے تو اس کے لیے یہ سخت ترین سزاء بیان کی گئی ہے۔
معاملہ مضاربت یعنی ایک کا مال دوسرے کی محنت اور منافع دونوں میں تقسیم ہو جائے اس معاملہ کا ثبوت اجماع سے ملتا ہے درحقیقت مضاربت کے جائز ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اور کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ پہلی مثال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دو صاحبزادوں عبداللہ اور عبید اللہ کا واقعہ ہے۔ علامہ عبدالرحمن الجزیر ی نے کتاب الفقہ جلد دوم میں ایک واقعہ نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عبداللہ اور ان کے بھائی عراقی فوج کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ان دنوں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بصرہ کے گورنر تھے۔ یہ دونوں بھائی ان کے پاس ٹھہرے ابو موسیٰ اشعریؓ نے ان سے کہا میں کچھ مال امیرالمؤمنین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں تم یہ مال لے لو اور عراق سے مال تجارت خرید کر مدینہ میں جا کر فروخت کر دینا اور منافع تقسیم کر لینا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کر لیا۔
اگر آج بھی ہمارے معاشرہ میں مضاربت عام ہو جائے تو پھر چھپا ہوا سرمایہ بھی گردش کرنے لگے گا اور بے روز گاری پر قابو پا یا جا سکے گا۔ اور وہ اس طرح کہ ہم اپنے معاشرے میں بہت سے لوگ دیکھ سکتے ہیں جن کے پاس تعلیم کا زیور ہے یا تجارتی تجربہ خوب ہے لیکن سرمائے کے نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری میں مبتلا ہیں اب ایسے لوگ سامنے آئیں جن کے پاس پیسہ تو ہے لیکن ان کے پاس کام کرنے کا وقت نہیں یا انہیں تجربہ نہیں۔ تو پھر ایسے لوگ اپنا پیسہ باہر نکالیں اور کام کے لئے استعمال کریں اور اس طرح منافع بھی ملے گا اور دوسرے مسلمان بھائی کی بے روزگاری بھی دور ہو جائے گی۔لیکن اس معاملۂ مضاربت کے بھی چند آداب اسلام نے مقرر کیے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک آدمی صرف مال دے گا اور دوسرا آدمی صرف محنت کرے گا۔ اور دونوں آپس میں منافع طے کریں کہ کل منافع کا کتنا مالکِ مال کو ملے گا اور کتنا محنت کرنے والے کو۔ اب اگر کاروبار میں نقصان ہوا تو نقصان صرف مال کے مالک کا ہو گا۔ محنت کرنے والا نقصان کا ذمہ دار نہ ہو گا۔ اس لیے مضاربت کرنے کے لیے محنت کرنے والا بااعتماد اور دیانت دار ہونا چاہیے۔ اور منافع بھی اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ پہلے اصل مال کو الگ کر کے باقی جو بچے گا وہ منافع ہو گا۔ منافع کی تقسیم میں شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ چاہے دونوں شخص آدھا آدھا منافع کر لیں اور چاہے مالک مال کم منافع اپنے لیے طے کرے اور زیادہ ،محنت کرنے والے کے لیے یا کم طے کرے۔ یہ تو دونوں کی آپس میں رضا مندی سے پہلے ہی سے طے کرنا ہو گا۔
اب جو بات بتا رہا ہوں اسے غور سے سنئے گا۔ معاملہ مضاربت کے لیے بہت بڑی رقم یا بہت بڑے سرمایہ کی ضرورت نہیں اور نہ اس کے لیے کسی پگڑی یا بہت بڑے تجارتی ادارے کی ضرورت ہے آپ اپنی تنخواہ میں سے ہر ماہ کچھ بچا لیا کریں۔ جب ہزار دو ہزار جمع ہو جائیں تو دیکھئے آپ کے محلہ میں کوئی غریب بیوہ عورت رہتی ہے تو اسے یہ رقم دے دیجئے اور اس سے کہیں کہ وہ ایک سلائی مشین خریدلے اور کپڑے سینا شروع کر دے اور جتنا منافع ہو اس میں سے آدھا تمہارا آدھا میرا یا زیادہ منافع بیوہ کو دینا طے کر لیں اور کم اپنے لیے اسی طرح آپ نے کچھ رقم بچت کر کے جمع کر لی آپ اپنے احباب میں اپنے محلہ میں نگاہ ڈالیں اگر کوئی بے روزگار ہے یا عیالدار ہے گھریلو حالت بیچارے کی بہت گئی گزری ہے آپ اپنی رقم اسے دے دیں اور اسے کہیں کہ چھوٹی سی دکان ڈال لے اور جو منافع ہو گا۔ وہ آپس میں طے کر لیں آپ کی اصل رقم بھی محفوظ رہے گی اور منافع بھی ملتا رہے گا لیکن اب یہ کام آپ کا ہے کہ آپ کسی بااعتماد شخص کو تلاش کریں اور خوب چھان بین کر کے اسے رقم دیں۔ اور باقاعدہ قانونی طور پر رسید لیں کیونکہ ان تمام احتیاطی تدابیر کے اختیار کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کے انتالیسویں رکوع میں دیا اور فرمایا کہ ایسے معاملات کو باقاعدہ لکھ لینا چاہیے اور دو گواہ بھی اس معاملہ پر لینے چاہئیں۔ اگر واقعی ہم اپنے معاملات کو اتنے عمدہ طریقوں سے انجام دیں خصوصاً اپنے معاشرے میں مضاربت کو رائج کریں تو ایک طرف سرمایہ بے کار پڑا نہیں رہے گا۔ دوسری طرف ہمیں بچت کی عادت پڑے گی اور سب سے بڑا کارنامہ یہ ہو گا کہ مضاربت کے ذریعہ بے روزگاری پر قابو پایا جا سکے گا۔آج کل لوگ بے روزگاری سے بچنے کی خاطر ناجائز تجاویزات قائم کر لیتے ہیں۔ایک حدیث میں حضور نبی پاک ﷺ نے فرمایا،
{عن سعید بن زیدٍ رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من اخذ شبراً من الارض ظلماً فانہ یطو قہ یوم القیامۃ عن سبع ارَضین} (متفق علیہ)
اللہ رب العزت نے انسانوں کو جہاں اور بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں وہاں ایک نعمت زمین بھی عطا فرمائی‘ اس زمین کا تعلق انسان کے ساتھ مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے جب پیدائش کا مسئلہ آیا تو بتایا کہ انسان کی پیدائش زمین کی مٹی سے ہوئی‘ جب روزی کا مرحلہ آیا تو زمین ہی کے ذریعے روزی حاصل کرنے کا ذکر کیا‘ جب موت کا ذکر آیا توبتایاکہ یہ انسان مرکر قبر میں جاکر زمین میں دفن ہوکر مٹی میں مل جائے گا اور جب خالق کائنات نے اپنے بارے میں غور وفکر کی دعوت دی تو جب بھی زمین اور اس کے فوائد اور حالات میں غوروفکر کرکے اپنی ذات پر ایمان لانے کے دلائل پیش کیے۔
آج ہمارے معاشرے میں چاہے وہ دیہات ہو یا شہر، گھرہوں یادکانیں ہر طرف اور ہر جگہ زمین پر ناجائز قبضہ اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے فسادات سامنے آتے ہیں‘ دیہات میں جہاں جابر اور طاقتور زمیندار ہے وہاں کمزور زمیندار کی زمین پر ناجائز قبضہ کے مقدمات کی بھرمار ہے۔ شہروں میں آج کل یہ وباء بہت ہی زیادہ پھیل چکی ہے کوئی صاحب مکان تعمیر کررہے ہیں تو بڑے مہذب طریقے سے زمین پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں ناجائز قبضہ کرنے کی انتہائی جدید ترین صورتیں بنالی گئی ہیں، مکان بنایا دوسرے کی زمین کی جانب دروازہ کھول لیا‘ روشن دان رکھ لیا‘ کھڑکیاں اس طرف بنالیں۔ اب دوسرا شخص جب مکان بنائے گا تو مجبوراً کچھ جگہ چھوڑ کر تعمیر کریگا ورنہ ہمسائے سے ساری زندگی فساد رہے گا۔ پھر ایسا بھی کیا جاتا ہے کہ مکان کی بنیادیں بالکل صحیح پیمائش کے ساتھ اپنی زمین پر اٹھالیں لیکن جب چھت ڈالنے کا موقع آیا تو ڈیڑھ فٹ کا چھجا(شیڈ) دوسرے کی زمین کی طرف بڑھا دیا‘ اب دوسری منزل کا کمرہ بڑا ہوگیا اور دوسرا جب مکان بنائے گا لازماً جگہ چھوڑے گا۔ ایسے ایسے عجیب وغریب طریقے ناجائز قبضہ کے بنالیے گئے ہیں یہی حال دوکانداروں کا ہے حکومت نے سڑک کے کنارے پیدل چلنے کا راستہ(فٹ پاتھ) بنایا‘ دوکاندار تھوڑا سا شو کیس آگے بڑھا لیتا ہے اور کچھ سامان فٹ پاتھ پر رکھ دیتا ہے اب اس زمین کے حصہ پر پیدل چلنے والوں کا حق تھا لیکن اس دوکاندار نے اس کا حق ماردیا۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ حکومت وقت شہریوں کے آرام وراحت کے لیے جو قوانین بناتی ہے اگر شریعت کے احکام کے خلاف نہ ہوں تو اسلام ان قوانین کے ماننے اور اس پر عمل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔یہ انسان تھوڑی سی زمین پر ناجائز قبضہ کرتے وقت قرآن کریم کے وہ کلمات ذہن میں لے آئے تو اس کی ذہنی اصلاح ہوجائے اور یہ کلمات مردہ کو دفنا نے کے بعد دونوں ہاتھوں سے تین مرتبہ مٹی ڈالتے ہوئے بھی کہے جاتے ہیں۔
{منھا خلقنکم وفیھا نعید کم ومنھا نخرجکم تارۃً اخری}
’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا پھر اسی مٹی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے، اور پھر دوبارہ اسی مٹی سے اٹھایا جائے گا۔‘‘
جب انسان اس ارشاد باری کو سمجھ لے تو پھر ایک انچ زمین پر ناجائز قبضہ کرنا بھی مشکل نظرآئے گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی بخاری شریف میں ہے کہ’’ جو شخص زمین سے ناحق کچھ لے اسے قیامت کے دن زمین کے ساتویں طبقے تک دھنسایاجائے گا ‘‘اور مسند احمد کی روایت یعلی ابن مرۃ مروی سے ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’جو شخص بالشت بھر زمین بھی ظلم کرکے لے گا اللہ تعالیٰ اسے حکم دے گا کہ اس زمین کے ساتویں طبقے تک اسے کھودو پھر وہ زمین طوق بناکراسکے گلے میں ڈالی جائے گی اور وہ قیامت تک اس حال پر رہے گا یہاں تک کہ قیامت کے دن تمام لوگوں کے معاملات کا فیصلہ ہو۔‘‘ اللہ رب العزت ہمیں زمین پر ناجائز قبضہ سے محفوظ فرمائے ۔
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

یہ 27ویں رجب المرجب نبوت کا گیارہواں سال ہے۔ مکہ سے نجران کی جانب تقریباً 90 کلو میٹر دور طائف کی وادی میں قبیلہ ثقیف کے سرداروں کی باتیں سماعت نبوت کو خراش رہی تھیں۔ قرن الثعالب پر روح الامین(جبرائیل علیہ السلام )کی ملاقات اور عرض داشت آپﷺ کی آنکھوں کے دھندلکے دائروں میں گھوم  رہی تھی۔ مقصود کائنات کے ملائم و گداز وجود پر طائف کے نوکیلے    

مزید پڑھیں

اسلام میں امن وسلامتی کا مفہوم دولحاظ سے شامل ہے ۔(۱)لازم (۲)متعدی ، لفظ اسلام اپنے معنی لازم کے اعتبار سے امن وعافیت کو پالینے اور ہر قسم کے خوف وخطرے سے محفوظ ہوجانے سے عبارت ہے ،لہٰذا مسلم وہ شخص ہے جو اسلام کے باعث دنیا او رآخرت میں امن وعافیت پالے ’’لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون ‘‘کا مصداق بن کر ہر خوف وغم سے محفوظ ہوجائے،کیونکہ اسلام اپنے پیروکاروں کے مصائب ومشکلا ت سے حفاظت کی ذمہ داری قبول کرتاہے ۔    

مزید پڑھیں

 ’’پس سیدھا کرو اپنا رخ سب طرف سے یکسو ہو کر دین حق کی طرف اللہ کی بنائی فطرت جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی نہیں، یہ دین ہے سیدھا پکا۔‘‘  

مزید پڑھیں