☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(خالد نجیب خان) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا خواتین(نجف زہرا تقوی)
27 رجب المرجب۔۔معراج النبی ﷺ

27 رجب المرجب۔۔معراج النبی ﷺ

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن

03-22-2020

یہ 27ویں رجب المرجب نبوت کا گیارہواں سال ہے۔ مکہ سے نجران کی جانب تقریباً 90 کلو میٹر دور طائف کی وادی میں قبیلہ ثقیف کے سرداروں کی باتیں سماعت نبوت کو خراش رہی تھیں۔ قرن الثعالب پر روح الامین(جبرائیل علیہ السلام )کی ملاقات اور عرض داشت آپﷺ کی آنکھوں کے دھندلکے دائروں میں گھوم  رہی تھی۔ مقصود کائنات کے ملائم و گداز وجود پر طائف کے نوکیلے
 

 

 پتھروں کے نقش ابھی باقی تھے کہ ایک شب حضرت ام ہانی کے دولت کدے پر آپﷺ آرام فرما تھے کہ یکایک مکان کی چھت پھٹی ملائکہ کے جھرمٹ میں جبرائیل امین ؑاترے اور آپ ﷺکو لے کر مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے ،وہاں آپﷺ حطیم کعبہ میں آرام فرما ہوئے چند لمحوں بعد آپﷺ کو جبرائیل و میکائیل نے جگایا اور زم زم کے کنویں کے قریب لے آئے۔ یہاں آپﷺ لیٹ گئے۔ آپﷺ کے مبارک سینے کو شق کیا گیا اور قلب اطہر کو نکال کر زم زم کے پانی سے دھویا گیا اور ایک سونے کے طشت کو لایا گیا جو ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ایمان و حکمت کو آپﷺ کے قلب مبارک میں بھر دیا گیا اورقلب اطہر کو دوبارہ اپنے مقام پر رکھ دیا گیا۔اور دونوں کندھوں کے درمیان ختم نبوت کی ایک مہر لگا دی گئی۔ جبرائیل امین کے ہمراہ بہشت سے ایک سفید رنگ کی سواری براق کو بھی لایا گیا جس کا ایک قدم منتہائے بصر تک پہنچتا ہے۔ آپﷺ اس پر سوار ہوئے اور جبرئیل و میکائیل آپﷺ کے ہمرکاب تھے۔
آپﷺ فرماتے ہیں کہ راستے میں میرا گزر ایک ایسی زمین پر ہوا جس میں کجھور کے درخت بکثرت تھے جبرائیل امین نے عرض کی کہ یہاں اتر کر نماز(نفل) پڑھ لیجیے۔پھر اس جگہ کے بارے میں بتایا کہ یہ یثرب مدینہ منورہ ہے جہاں آپﷺ نے ہجرت کر کے آناہے، وہاں سے چلے تو وادی سیناء پہنچے جبرائیل نے عرض کیا: حضور پاکﷺیہاں بھی دو رکعت پڑھ لیجیے،اور بتایا کہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا تھا۔ وہاں سے حضرت شعیب علیہ السلام کی بستی ’’مدین ‘‘پہنچے، جبرائیل امین علیہ السلام نے یہاں بھی عرض کیا:دو رکعت آپﷺ پڑھ لیجیے، وہاں سے چلے تو مقام بیت اللحم پہنچے ہیں، عرض کی : حضور!یہاں بھی دو رکعت پڑھ لیجیے۔ وہاں سے چلے تو بیت المقدس پہنچے ہیں، ’’حضور یہاں بھی دو رکعت پڑھ لیجیے‘‘۔ 
صحیح مسلم ، سنن نسائی ،مسند ابی یعلیٰ اور خصائص الکبریٰ میں ہے کہ اس سفر مبارک میں آپﷺ کا گزر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک پر بھی ہوا چنانچہ آپﷺ فرماتے ہیں کہ جس رات مجھے معراج کرایا گیا، میں سرخ ٹیلے کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کے قریب سے گزرا۔(میں نے دیکھا کہ)حضرت موسیٰ علیہ السلام قبر میں کھڑے ہو کے نماز پڑھ رہے تھے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اس واقعے میں جو چیز بطور معجزہ کے ہے وہ رسول اللہ ﷺ کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قبر میں نماز پڑھنا معجزہ نہیں۔ 
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس رات مجھے معراج کرایا  گیا میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا  جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے۔میں نے جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں( یعنی ان کی غیبت کرتے ہیں) اور ان کی بے آبروئی کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
آپﷺ نے فرمایا کہ میرا گزر ایسے لوگوں پر بھی ہوا جن کے پیٹ اتنے بڑے بڑے تھے جیسے (انسانوں کے رہنے کے) گھر ہوتے ہیں ان میں سانپ تھے جو باہر سے ان کے پیٹوں میں نظر آرہے تھے۔ میں نے کہا کہ اے جبرئیل ! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ سود کھانے والے ہیں۔
آپﷺکا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے، کچل جانے کے بعد پھر ویسے ہی ہوجاتے تھے جیسے پہلے تھے۔ اسی طرح یہ سلسلہ جاری تھا، ختم نہیں ہورہا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ لوگ فرض نماز میں سستی کرنے والے ہیں۔
آپ ﷺ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کی شرمگاہوں پر آگے اور پیچھے چیتھڑے لپٹے ہوئے ہیں اور اونٹ وبیل کی طرح چرتے ہیں اور کانٹے دار و خبیث درخت اور جہنم کے پتھر کھارہے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتے تھے۔
آپ ﷺ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کے سامنے ایک ہانڈی میں پکا ہوا گوشت ہے اور ایک ہانڈی میں کچا اور سڑا ہوا گوشت رکھا ہے، یہ لوگ سڑا ہوا گوشت کھارہے ہیں اور پکا ہوا گوشت نہیں کھارہے ہیں، آپ ﷺ نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس حلال اور طیب عورت موجود ہے مگر وہ زانیہ اور فاحشہ عورت کے ساتھ شب باشی کرتے ہیں اور صبح تک اسی کے ساتھ رہتے ہیں اور وہ عورتیں ہیں جو حلال اور طیب شوہر کو چھوڑکر کسی زانی اور بدکار شخص کے ساتھ رات گزارتی ہیں۔ 
آپ ﷺنے اس سفر میں ایک لکڑی دیکھی جو گزرنے والوں کے کپڑوں کو پھاڑ ڈالتی ہے۔ اس کے بارے میں جبرائیل امین نے بتایا کہ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو راستوں میں چھپ کر بیٹھتے ہیں اور ڈاکہ ڈالتے ہیں۔
ایک ایسے شخص پر بھی آپﷺ کا گزر ہوا جس نے لکڑیوں کا بھاری گٹھہ جمع کر رکھا اور اس میں اٹھانے کی ہمت نہیں پھر بھی لکڑیاں جمع کر کر کے گٹھے کو بڑھا رہا ہے پوچھنے پر جبرائیل امین نے بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جو صحیح طور پر امانت ادا نہیں کرتا۔ 
آپﷺ کا گزر ایسی قوم پر ہوا جن کی زبانیں اور باچھیں لوہے کی قینچیوں سے کاٹی جا رہی تھیں جبرائیل نے بتایا کہ یہ آپﷺ کی امت کے بے عمل عالم ہیں۔ اس طرح آپﷺ کا گزر خوشبو والی جگہ سے ہوا جبرائیل نے بتایا کہ یہ جنت ہے اور بدبو والی جگہ جہنم سے بھی ہوا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے دجال اور داروغہ جہنم(جس کا نام مالک ہے) کو بھی دیکھا ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ اس سفر میں آپﷺ کا گزر ایک بڑھیا پر ہوا اس نے آپﷺ کو آواز دی حضرت جبرائیل نے آپﷺ سے عرض کی کہ آگے چلیے۔ پھر آپﷺ کا گزر ایک بوڑھے شخص پر ہوا اس نے بھی آپﷺ کو آواز دی حضرت جبرائیل نے کہا آگے چلیے۔ اس کے بعد آپﷺ کا گزر ایک جماعت پر ہوا جنہوں نے آپﷺ کو سلام کیا۔ جبرائیل امین نے کہا کہ ان کے سلام کا جواب دیجیے۔ پھر عرض کی کہ بوڑھی عورت دنیا ہے۔ بوڑھا مرد شیطان ہے دونوں کا مقصد آپﷺ کو اپنی طرف مائل کرنا تھا اور جس جماعت نے آپﷺ کو سلام کیا وہ حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ہیں۔
امام احمد نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے کہ شب معراج آپﷺ کو خوشبو آئی تو آپﷺ نے پوچھا کہ یہ خوشبو کیسی ہے ؟ تو جبرائیل امین نے کہا کہ یہ کنگھی کرنے والے (ماشاطہ)اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے۔ پھر اس کا مکمل واقعہ آپﷺ کو سنایا کہ ماشاطہ ؛ فرعون اور اس کی اولاد کو کنگھی کیا کرتی تھی۔ ایک بارجب وہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی اچانک اس کے  ہاتھ سے کنگھی گر گئی تو اس نے کہا :بسم اللہ۔ فرعون کی بیٹی نے کہا کہ میرے باپ کے بارے میں کہہ رہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ جو میرا اور تیرے باپ کا رب ہے یعنی اللہ رب العزت۔ فرعون کی بیٹی نے معاملہ اپنے باپ کے دربار تک پہنچا دیا۔ فرعون نے کہا کہ کیا تو میرے علاوہ کسی کو رب مانتی ہے۔ اس عورت نے بڑی دلیری سے جواب دیا کہ ہاں جو میرا اور تیرا رب ہے۔ چنانچہ فرعون نے طیش میں آ کر ایک تانبے کے  بڑے برتن میں پانی گرم کرایا تو حکم دیا کہ اس ماشاطہ اور اس کی اولاد کو اس کھولتے ہوئے گرم پانی میں پھینک دیا جائے۔ پھر فرعون نے اس سے پوچھا کہ تیری کوئی خواہش ہے تو بتا۔ اس نے کہا کہ ہاں میری اور میری اولاد کی ہڈیاں اکٹھی کر کے ایک جگہ دفنا دینا۔چنانچہ اس کی اولاد کو ایک ایک کر کے ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیا گیا جب اس کے شیر خوار بچے کی باری آئی تو خاتون کی ممتا نے جوش مارا اور وہ ذرا پیچھے ہٹی تو اس شیر خوار بچے نے کہا اماں جان بے خوف و خطر اس میں کود جائو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔چنانچہ وہ ماشاطہ اس کھولتے ہوئے پانی میں کود گئی۔
اسی طرح آپﷺ نے چند اہل جنت کے احوال بھی مشاہدہ فرمائے۔ چنانچہ آپﷺ کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو ایک ہی دن میں بیج بوتے اور فصل کاشت کر رہے تھے ان کے بارے میں جبرائیل نے بتایا کہ یہ آپﷺ کی امت کے مجاہدین ہیں ان کی ایک نیکی سات سو نیکیوں سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور یہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اللہ ان کو اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے۔اسی طرح بعض صحابہ کرامؓ کے محلات بھی آپﷺ نے اس سفر میں دیکھے۔
چنانچہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیت المقدس پہنچے جہاں پہلے سے انبیاء کرام علیہم السلام اور ملائکہ آپﷺ کے انتظار میں تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپﷺ کا ہاتھ پکڑا اور مصلیٰ امامت پر کھڑا کردیا آپﷺ نے ان سب کو دو رکعات نماز پڑھائی اور امام الانبیاء سے شرف مشرف ہوئے۔پھر بعض انبیاء کرام علیہم السلام کی ارواح سے اللہ کی حمد سنی اور آخر میں خود آپﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ امام زرقانی نے اس واقعے کو مفصل ذکر کیا ہے۔ 
اس کے بعد جب آپﷺ مسجد سے باہر تشریف لائے تو آپﷺ کے سامنے پانی شراب اور دودھ کا ایک ایک پیالہ پیش کیا گیا ۔ آپﷺ نے دودھ کا پیالہ لیا جس پر جبرائیل امین نے کہا کہ آپﷺ نے دین فطرت کو لیا ہے۔ اگر آپﷺ شراب کا پیالہ لیتے تو آپﷺ کی امت گمراہ ہو جاتی اور اگر پانی کا پیالہ لیتے تو آپﷺ کی امت غرق ہو جاتی۔ 
پھربیت المقدس سے عرش معلیٰ تک کا سفر شروع ہوا۔چنانچہ بالترتیب پہلے تا ساتویں آسمان پر آپﷺ نے حضرت آدمؑ ، حضرت عیسیٰؑ،حضرت یوسفؑ ،حضرت ادریسؑ ، حضرت ہارونؑ ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت ابراہیمؑ سے ملاقات فرمائی۔ پہلے آسمان پر ملاقات حضرت آدم علیہ السلام سے ہے ان کا حق پہلے بنتا تھا کیونکہ آپﷺ ابو الانبیاء ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ نبی ہیں جنہیں خدا نے زندہ آسمان پر اٹھالیا ہے پھر دوبارہ خدا نے اتارنا ہے،اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات کرائی ہے۔ 
حضور ﷺ اوپر گئے اوپر سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ ’’سدرہ‘‘ بیری کا نام ہے اور منتہیٰ کہتے ہیں اختتام کو ۔یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں نیچے والے اعمال پہنچتے ہیں تو اوپر والے فرشتے یہاں سے اوپر لے جاتے ہیں اور اوپر والے احکام وہاں آتے ہیں تو نیچے والے فرشتے وہاں سے نیچے لاتے ہیں، اس کے بعد آپ ﷺ مزید اوپرصریف الاقلام تک پہنچے ہیں، ’’صریف الاقلام ‘‘ جہاں تقدیر لکھنے والے قلموں کی آواز آ رہی تھی ،اس کے بعد آپﷺ کے لیے ایک اور سواری رفرف آئی وہاں سے اوپر گئے ہیں اب مکان ختم ہوگیا اور لا مکان آگیا ہے، میرے نبی عرش معلیٰ تک پہنچے ہیں۔
الجامع لاحکام القران میں ہے کہ اللہ نے نبی ﷺ سے پوچھا: میرے پیغمبر آپﷺ مہمان بن کر آئے ہیں ہمارے لیے کیا لائے ہیں؟ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے عرض کیا: التَّحِیّاتُ لِلہ ِ وَالصَّلَوَاتْ وَالطیِّبَاتْ•اے اللہ! میری زبانی عبادت آپ کے لیے ہے، میری بدنی عبادت آپ کے لیے ہے، میری مالی عبادت آپ کے لیے ہے۔
اللہ رب العزت نے اس کے بدلے میں تین انعامات عطا فرمائے ہیں، فرمایااے نبی ! اگر آپﷺ کی زبانی عبادت میرے لیے ہے تو پھر: ’’اَلسَّلَامْ عَلیک ایھا النبی ‘‘میرا زبانی سلام بھی آپﷺ کے لیے ہے۔ اگر بدنی عبادت آپﷺ کی میرے لیے ہے تو : وَرَحمَۃْ اللّہِ ،اس کے بدلے میں میری رحمتیں بھی آپﷺ کے لیے ہیں۔اگر آپﷺ کا مال میرے لیے ہے تو وَبَرکاتہْ: اس مال کی برکات میری طرف سے آپﷺ کے لیے ہیں۔چنانچہ اسی موقع پر پانچ نمازوں کی فرضیت کا حکم بھی آیا۔ پہلے پہل تو پچاس نمازوں کا حکم تھا پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خواہش پر بار بار کمی کے بعد پانچ نمازیں باقی بچیں۔ بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ البقرہ کی آخری چند آیات بھی اسی سفر معراج میں بطور تحفہ آپﷺ کو عنایت کی گئیں۔
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ہرانسان کا کوئی نصب العین ہونا چاہیے اگر کسی کا نصب العین نہ ہو تو پھر نیک آدمی کو کس طرح نیکی پر آمادہ کیا جا سکے گا؟ برے شخص کو برائی سے کس طرح روکا جا سکے گا؟ اس لیے کہ نیک کام کی خواہش اور برے کام سے پرہیز جب ہی ممکن ہے جب کوئی نصب العین ہو۔ اگر بے مقصد زندگی گزاری جائے تو پھر یہ انسان، انسانیت کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے جبکہ ایک بے شعور بچہ بھی ماں کی گود میں بے مقصد نہیں روتا۔ یا اسے بھوک لگتی ہے یا کوئی تکلیف ہوتی ہے تو پھر ایک عقلمند انسان بے مقصد زندگی گزارنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھیں

ہماری زندگی غم و خوشی سے عبارت ہے ۔دنیا میں دکھ اور رنج بھی ہے ،ہمیں خوشیاں منانے کے مواقع ملتے رہتے ہیں،دنیا میں مٹھاس بھی ہے اور تلخی بھی‘ خوشگواری بھی ہے اور ناخوشگواری بھی۔لیکن ہر مومن کا یقین ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور فیصلہ سے ہوتاہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے بندوں کا یہ حال ہونا چاہیے کہ جب کوئی دکھ اور مصیبت پیش آئے تو مایوسی کا شکار ہونے یا غلط طریقے سے اظہار غم کرنے کے بجائے صبر سے کام لیںاور اس یقین کو دل میں تازہ رکھیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی دکھوں سے نجات دینے والا ہے۔

مزید پڑھیں

 اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی نشانیوں سے ڈراتے ہیں تاکہ وہ عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اللہ ہی کی طرف رجوع کریں،سورج گرہن بھی ا ن میں سے ایک ہے

مزید پڑھیں