☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
صبراورہمدردی کا مہینہ آنیوالا ہے

صبراورہمدردی کا مہینہ آنیوالا ہے

تحریر : ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

04-19-2020

رمضان المبارک گناہوں کی دلدل میں موسلا دھار بارش‘  بیکراں رحمت کے ظہور‘ گناہوں کی گرد دُھلنے کا نام‘ گناہوں کی جلتی دھوپ میں مغفرتِ الٰہی کا سائبان‘  جلتے ٹیلوں اور تپتے دشت میں موسمِ گل اور مغفرتِ یزداں کے جوش مارتے سمندر کا نام ہے۔
 

 

رمضان المبارک زندگی کی زرد پیاسی ریت پر اس بارش کا نام ہے جو ٹوٹ کر برستی ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کے آخری عشرے میں قرآن حکیم نازل ہوا۔ شب قدر کا نزول رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔ رمضان المبارک میں تراویح پڑھی جاتی ہیں ۔ اس طرح مکمل قرآن حکیم پڑھنے اور سننے کا موقع ملتا ہے۔شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ روزہ حیوانی جذبات کو مغلوب کرتا ہے۔ صوم کا لغوی معنی ہے ’’کام سے رک جانا‘‘۔کسی جکہ پر ٹھہر جانا-- کھانے پینے ‘ گفتگو کرنے اور چلنے سے رک جانے کو بھی صوم کہتے ہیں۔
 اسلام میں روزے ماہ شعبان ۲  ہجری میں مدینہ منورہ میں فرض ہوئے اور ان کے لئے رمضان کا مہینہ مخصوص کیا گیا۔ غزوہ بدر رمضان المبارک میں ہی سرہوا۔اسلام میں روزہ ان تمام عاقل بالغ مردوں اور عورتوں پر فرض ہے جو جسمانی طور پر اس کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بچوں پر روزے فرض نہیں لیکن اہل اسلام میں بہتر تربیت کے لئے ان بچوں سے روزے رکھوائے جاتے ہیں جو اس کی طاقت رکھتے ہیں۔ حدیث میں رمضان کو ’’شہر الصبر‘‘ (صبر کا مہینہ) اور ’’شہر المؤاسات‘‘ (ہمدردی کا مہینہ) کہا گیا ہے۔ روزہ دراصل ایک روحانی تربیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے کو روحانی ‘ اخلاقی اور جسمانی تربیت کا ذریعہ بنا کر اجتماعی اور معاشرتی اہمیتوں کا حامل قرار دیا ہے۔ سورت بقرہ کی آیت نمبر 23 میں ارشادِ ربانی ہے:  ’’مسلمانو! تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پرفرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ حاصل کرو۔‘‘
جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں نیکی کا بدلہ دس سے بڑھا کر سات سو گنا کر دیا جاتا ہے اگر نیکی میں خشوع کا جذبہ ہو۔  حضرت سلمانؓ فارسی سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کے آخری دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہمیں مخاطب کرتے ہوے فرمایا:
’’ اے لوگو! ایک عظمت والا اور برکت والا مہینہ تم پر سایہ فگن ہے‘ اس مہینے میں ایک رات ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے۔ اللہ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس مہینے میں قیام اللیل نفلی ہے، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غمگساری کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے میں مومن کا رزق زیادہ ہوجاتاہے ۔ جس نے روزے دار کا روزہ افطار کرایا اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اسے جہنم سے نجات مل جاتی ہے ۔ اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے‘ دوسرا عشرہ مغفرت کا اورتیسرا دوزخ کی آگ سے نجات کا۔جس نے اپنے خادم اور نوکر سے اس مہینے میں کام کم لیا‘  اللہ اس کے گناہ معاف کر دے گا  اور اسے دوزخ کی آگ سے بچا لے گا۔‘‘
روزے کی فضیلت کے بارے میں چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ ہوں۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اُسے بد زبانی، کج روی اور جہالت سے باز رہنا چاہئے۔ ہاں اگر کوئی شخص روزے دار کے ساتھ زیادتی کرے تو اسے کہہ دینا چاہئے ۔۔جناب میں تو روزے سے ہوں۔ ایک اور مقام پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جس طرح میدان جنگ میں دفاع کے لئے ڈھال ہوتی ہے۔ روزے تمہارے لئے اسی طرح آگ کے لئے ڈھال ہیں جب تک کہ انسان اس ڈھال (روزہ )کو جھوٹ اور غیبت سے توڑ نہ ڈالے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: 
ترجمہ: کتنے روزے دار ہیں جن کے حصے میں ‘ ان کے روزے سے صرف بھوک آتی ہے اور کتنے شب بیدار ہیں جنہیں بیداری کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: 
ترجمہ :تم پر روزہ رکھنا فرض ہے کہ روزے جیسی عبادت کی کوئی مثال نہیں۔
ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا
 ترجمہ جس نے ماہ رمضان کا ایک روزہ بھی بغیر کسی (شرعی) عذر یا بیماری کے ترک کیا تو وہ قیامت تک بھی لگاتار روزے رکھتا رہے تو اس روزے کی قضا ادا نہیں ہو سکتی۔ 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: روزے دار کے لئے دو خوشی کے مواقع ہیں۔ پہلا موقع تو وہ ہے جب ہر شام وہ روزہ افطارکرتا ہے تو اسے ایک خاص روحانی خوشی ہوتی ہے اور دوسرا موقع وہ ہے کہ جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے بہت خوش ہوگا۔آپؐ کا ارشادِ عالیہ ہے: ’’نمازی کو جنت میں داخل ہونے کے لئے ’’باب الصلوٰۃ‘‘ سے بلایا جائے گا۔ جو مجاہد ہے اسے باب الجہاد سے ندا دی جائے گی۔ جو شخص روزے دار ہے اسے ’’باب الریان‘‘ سے پکارا جائے گا۔ جو صاحب الصدقہ ہے اسے ’’باب الصدقہ ‘‘ سے جنت میں داخلے کی دعوت دی جائے گی۔‘‘ سہلؓ  بن سعد بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزے دار جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کو اس دروازے سے داخل ہونے کی اجازت نہ ہوگی۔ فرشتے پکاریں گے روزے دار کہاں ہیں ؟  روزے دار اس آواز کو سن کر جنت میں داخل ہونے کے لئے اس درواز ے کی طرف بڑھیں گے اور جب روز ے د ار جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اس دروازے کو بند کر دیا جائے گا۔ پھر کو ئی شخص اس دروازے سے داخل نہ ہو سکے گا۔‘‘ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص بوجہ اللہ ایک دن کا روزہ رکھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ایک روزے کی برکت سے اسکے چہرے کو ستر برس کی مدت تک آگ سے دور کر دیتا ہے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ  ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:’’ جس شخص نے ایمان اور ایقان کی دولت سے سرشار ہو کر رمضان کے روزے پورے کر لئے اس کے پچھلے گناہ سب معاف ہو جائیں گے۔‘‘ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا:’’ جس نے رمضان کو ایمان اور احتساب سے پورا کر لیا وہ اپنے گناہوں سے اس طرح بری ہوتا ہے جیسے اس کی ماں نے آج ہی اسے جنا ہے‘‘۔
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روزہ افطار کرتے تو یہ پڑھتے: اَللہُمّ  لََکَ  صُمتُ  وَ عَلٰی رِزقِکَ  اَفطَرتُ  (مشکوٰۃ المصابیح‘ کتاب الصوم)  یعنی اے اللہ میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر روزہ افطار کرتا ہوں۔
رمضان المبارک میں افطاری کی بڑی اہمیت ہے ۔ چند احادیث ملاحظہ ہوں:حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے:
’’جس نے کسی روز ے دار کی افطاری کا انتظام کیا تو یہ افطاری اس کے گناہوں کے لئے بخشش اور اسے دوزخ سے بچانے کا ذریعہ ہوگی اور جس کی افطاری کروائی گئی اور جس نے افطاری کروائی ان کے اجر میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔ صحابہؓ نے گزارش کی‘  اے اللہ کے رسولؐ :  ہم سب کو تو کسی کی افطاری کا اہتمام کرنے کی توفیق نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: خدا یہ ثواب اس شخص کو بھی برابر عطا کرتا ہے جو ایک کھجور‘ پانی کے ایک گھونٹ یا دودھ کی ایک چلی سے کسی کا روزہ افطار کروا  دے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:  جو شخص کسی روزے دار کو جی بھر کر پانی پلا دے(یا پر تکلف افطاری کا اہتمام کرے) تو خدا تعالی اس کو میرے حوض کوثر سے اس طرح سیراب کریں گے کہ جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس محسوس نہ ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’ جب روزہ افطار کرنا چاہو تو کھجور سے افطار کرو کیونکہ یہ باعثِ برکت ہے۔ اگر کھجور میسر نہ آئے تو پانی سے کر لو ، یہ باعث طہارت ہے۔‘‘ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سعدؓ بن معاذ کے پاس روزہ افطار کیا اور فرمایا: ’’تمہارے پاس روزہ  داروںنے روزہ افطار کیا اور تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا اور تم پر فرشتوں نے دعاکی۔‘‘ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ام عمارہؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’ جب کچھ لوگ کسی روزہ دار کے ہاں روزہ افطار کریں تو فرشتے اس روزہ دار پر درود بھیجتے ہیں‘ جب تک افطاری سے فارغ نہ ہو جائیں یا جب تک افطاری والوں کا پیٹ نہ بھر جائے۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: خدا تعالیٰ کو وہ بندہ سب سے زیادہ محبوب ہے جو افطاری میں جلدی کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ (۱)  امامِ عادل  (۲) روزے دار کی، روزہ افطار کرنے کے وقت اور  (۳) مظلوم کی دعا۔ اسے اللہ تعالیٰ روزِ قیامت بادلوں سے بھی اوپر اٹھائے گا اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مجھے اپنی عزت کی قسم! میں ضرور تیری مدد کروں گا، خواہ کچھ عرصہ بعد ہی سہی۔‘‘ (بحوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث 1752)۔ ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ افطاری میں جلدی کریں گے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: یہ دین اس وقت تک دوسرے تمام دینوں پر غالب رہے گا‘  جب تک لوگ افطاری میں جلدی کریں گے۔
سحری کی بے شمار برکات ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم شریف میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’سحری کھائو بے شک سحری کھانا باعثِ برکت ہے۔‘‘ ّ(صحیح بخاری ، حدیث 1923)۔ حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرمایا: ’’سحری بابرکت کھانا ہے، اسے ترک نہ کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لو، بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد)۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ عز و جل فرماتا ہے: مجھے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو سب سے زیادہ جلد افطاری کرنے والا ہے۔‘‘ (مسند احمد) ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:’’ دن کا روزہ رکھنے کے لئے سحری کے کھانے سے مدد لیا کرو‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:’’ سحری تم پر لازم ہے کیونکہ وہ مبارک کھانا ہے‘‘۔
صوم کے مقاصد بے شمار ہیں مثلاً  (۱) تقویٰ؛(۲)  خدا کی تکبیر و تعظیم کا جذبہ پیدا کرنا اور (۳)  خدا کا شکر ادا کرنا۔ (۴)  نفس کی پاکیزگی۔ انسائیکلو پیڈیا کا مضمون نگار مضمون بعنوان ’روزہ‘ (فاسٹنگ) لکھتا ہے: ’’روزہ کے اصول اور طریقے گو آب و ہوا‘ قومیت‘ تہذیب اور گردوپیش کے حالات کے اختلاف سے بہت کچھ مختلف ہیں‘  لیکن بہ مشکل کسی ایسے مذہب کا نام ہم لے سکتے ہیں جس کے مذہبی نظام میں روزہ مطلقاً تسلیم نہ کیا گیا ہو‘‘۔انسان کی دماغی اور روحانی یکسوئی اور صفائی کے لئے مناسب فاقہ بہترین علاج ہے۔روزہ بہت سے گناہوں سے انسانوں کو محفوظ رکھتا ہے اس لئے یہ بہت سے گناہوں کا کفارہ بھی ہے۔روزہ کی بھوک اور فاقہ ہمارے گرم و مشتعل قویٰ کو ‘ تھوڑی دیر کے لئے سرد کر دیتا ہے۔روزہ صرف ظاہری بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے‘ بلکہ یہ در حقیقت دل اور روح کی بھوک اور پیاس کا نام ہے۔بعض حدیثوں میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا :  ’’روزہ اس وقت تک ڈھال ہے جب تک اس میں سوراخ نہ کردو‘‘ ۔  چنانچہ بعض علماء کی رائے میں جس طرح کھانے اور پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح گناہ سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ روزہ بھی صبر کی ایک قسم ہے یہ کہنا چاہیے کہ صبر اور تحمل و برداشت کی مشق اور ورزش کی ایک بہترین اور آسان ترین صورت ہے ۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : اردو دائرہ معارف اسلامیہ ‘  مقالہ صوم)۔ در اصل روزہ اسلام کی اس معاشی کفالت کا ایک حصہ ہے جو عدل اجتماعی اور فلاح عامہ کے سلسلے میں ضرورت مندوں کی امداد اور تحفظ کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ ہے کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔ اگر تمہارے ہاں مطلع ابر آلود ہو تو تیس دن پورے کر لو۔  (بحوالہ: البخاری)  جو شخص روزے کی حالت میں بھولے سے کھا پی لے اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت مؤکدہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے:(روزہ رکھنے کے بعد) جو شخص جھوٹ اور غلط کاموں کو ترک نہیں کرتا تو خدا کو اس کی بھوک اور پیاس کی کوئی ضرورت نہیں۔حدیث قدسی ہے: ’’الصوم لی و انا اجزی بہ‘‘ ۔ ’’روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر عطا کروں گا۔‘‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: ’’روزہ بدن کی زکوٰۃ ہے۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے فرما یا: ’’الصوم جنۃ‘‘ ۔ ’’روزہ ڈھال ہے۔‘‘
اس مرتبہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی دل کھول کر مدد کریں۔نیکیوں کے اس موسم بہار میں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے ہمیں کبھی غافل نہیں ہونا چاہیے لیکن اس مرتبہ رمضان المبارک ایک ایسے مہینے میں آیا ہے جب پوری قوم ایک امتحان سے گز رہی ہے،ایک کڑے امتحان سے، یہ دوسروں کی مدد کرنے کا امتحان بھی ہے اور خود کووباء یعنی وائرس سے محفوظ رکھنے کا امتحان بھی ہے۔اللہ کریم اس امتحان میں پورا اترنے کے لئے ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے اور ان کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے،ہمیں دعامانگنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو بخش دے اور اس آفت کو ہم سب سے دور کر دے ،اور ہمیں اس وباء سے نجات دے عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک میں روزے رکھنے اور اس کی فیوض و برکات سے مستفید ہونے کی توفیق دے۔  آمین!
 

مزید پڑھیں

ماہ رمضان کی آمدکے ساتھ ہی عموماََ استقبالِ رمضان کے کلمات سن کر جو ذہن میں ایک خاکہ تیار ہوتا ہے وہ اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ہوتا ہے۔    

مزید پڑھیں

شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بنی آدم اعضائے یک دیگرند کہ در آفرینش زیک جوہرند چو عضوے بدر آورد روزگار دگر عضوہا را نماند قرار تو کز محنت دیگراں بے غمی نشاید کہ نامت نہند آدمی    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں