☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
استقبالِ رمضان

استقبالِ رمضان

تحریر : مریم صدیقی

04-19-2020

ماہ رمضان کی آمدکے ساتھ ہی عموماََ استقبالِ رمضان کے کلمات سن کر جو ذہن میں ایک خاکہ تیار ہوتا ہے وہ اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ہوتا ہے۔
 

 

خواتین کی بات کریں تو نت نئی ریسیپیز اور مختلف پکوان بنانے کے حوالے سے تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں۔ کیامعاشرے میں رائج استقبال رمضان کا یہ طریقہ درست ہے؟ کیا ماہ رمضان کا استقبال ایسا ہی ہونا چاہیے؟ کیا یہ ماہ رحمت اسی لیے آتا ہے کہ اسے بازاروں میں شاپنگ کرتے اور انواع و اقسام کے کھانے پکاکر گزارا جائے۔ یہ ماہ مبارک سال میں فقط ایک بار آتا ہے اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس ماہ کو پائے اور اللہ تبارک و تعالی کو راضی کرلے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پورے سال اس ماہ کا انتظار فرماتے۔ آپﷺ رجب کے مہینے سے اپنی دعائوں میں اس کا اضافہ فرماتے کہ، "اے اللہ! ہمارے لیے رجب و شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان کے مہینے تک ہمیں پہنچا۔ (مسند احمد:2257) آپﷺ یہ دعا بھی فرماتے تھے، ’’اے اللہ! مجھے رمضان کے لیے اور رمضان کو میرے لیے صحیح سالم رکھیے اور رمضان کو میرے لیے سلامتی کے ساتھ قبولیت کا ذریعہ بنادیجیے۔ (الدعاء الطبرانی، حدیث نمبر:839) 
ماہ صیام کا استقبال نہ صرف نبی اکرم ﷺ خود فرمایا کرتے بلکہ اپنے اہل و عیال اور صحابہ کرام ؓ کو بھی تلقین فرماتے۔ ماہ رمضان اسلامی سن ہجری کانواں مہینہ ہے۔ اس کو ’’سید الشہور‘‘ یعنی تمام مہینوں کا سردار بھی کہا گیا ہے۔ یہ مہینہ بے شمار برکات کا مہینہ ہے۔ یہی وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور اسی ماہ کے روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے۔ جس کا ذکر رب تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں یوں فرمایا، ’’رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں، تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو، تو اتنے روزے اور دنوں میں۔ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور دشواری نہیں چاہتا اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کرواور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو۔‘‘ (پ 2، سورۃ البقرہ، آیت 185 ) رمضان المبارک کا مہینہ وہ تحفہ الہٰی ہے جو اس نے امت محمدیہ کو عطا کرکے ان پر احسان عظیم کیا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہر نیکی اور عبادت کا ثواب بڑھا کر 70 گنا کردیا جاتا ہے۔
ماہ رمضان جس کی ہرساعت میں اللہ کریم نہ جانے کتنے گناہ گاروں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے۔ روزہ اللہ کی پسندیدہ ترین باطنی عبادت ہے کیوں کہ انسان صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے ہی حلال اور طیب اشیاء سے خود کو روکے رکھتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزاء بھی میں ہی دوں گا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا،’’تمہارا رب فرماتا ہے کہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے اور روزہ کی عبادت تو خاص طورپر میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزاء دوں گا یا میں خود اس کا بدلہ ہوں‘‘۔ (ترمذی۔ ابواب الصوم)
لیکن ہم اس سنہر ی موقع کو بھی غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ روزے رکھتے ہیں تو بھی برائے نام، وقت گزاری کے لیے فلموں ڈراموں اور گانے باجوں سے دل بہلاتے ہیں۔ گویا روزے میں فقط کھانے پینے سے رکنا مقصود ہو۔ روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول اور تزکیہ نفس ہے لیکن جب یہ روزہ لہو و لعب میں گزرے گا تو اس کا مقصد کیوں کر حاصل ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا،’’جو بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اس کا بھوکا پیاسا رہنے کی اللہ کو حاجت نہیں۔‘‘ (صحیح بخاری، جلد:2، ص: (279 معلوم ہوا کہ روزہ صرف فاقہ کرنے کا نام نہیں بلکہ تمام اعمال بد سے رکنے کا نام ہے۔ یہ 30 ایا م کے روزے انسان کو پورے سال صبراور تحمل سے رہنے کا درس دیتے ہیں۔ لغو اور بری عادات سے چھٹکار ا دلانے میں معاونت کرتے ہیں۔ حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ’’جو بندہ خدا کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے آگ دور کردیتاہے۔‘‘ (صحیح مسلم و ابن ماجہ) روزہ اس کے تمام آداب کے ساتھ رکھا جائے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ ہمارے گمان سے بھی کہیں زیادہ عطا فرمائے گا۔
زکوٰۃ یوں تو سارا سال ادا کی جاسکتی ہے لیکن چوں کہ رمضان المبارک میں ہر نیکی کا ثواب بڑھادیا جاتا ہے تو عموماََ لوگ اس ماہ میں ہی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ کوشش کریں کہ اپنی زکوٰۃ ماہ رمضان کے پہلے عشرے میں ہی ادا کردیں تاکہ مستحقین اپنے رمضان اور عید کا اہتمام مناسب انداز سے کرسکیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اگلے سال جب ماہ رمضان آئے گا تو ہم اس کی رحمتیں اوربرکتیں اپنے دامن میں سمیٹنے کے لیے موجود ہوں گے بھی کہ نہیں۔ اس لیے ہمیں جو موقع میسر ہے اسے غفلت کی نذر نہ کرتے ہوئے اس ماہ رمضان عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے، غریب اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ حسب توفیق صدقات کرکے رضائے الہٰی حاصل کرنے کی تگ و دو کرنی چاہیے۔
اس ماہ مبارک میں رب تعالیٰ کے حضور خصوصی دعا کیجیے کہ وہ ہمیں اس عالمی وبا ء سے نجات عطا فرمائے۔ یہ وبا ء جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے اپنوں کو نگل رہی ہے اور عالم تو یہ ہے کہ ہم کوئی دلاسہ کوئی تسلی کے دو حروف ان کو نہیں دے سکتے۔ یہ وبا ء ہے جو نہ امیر غریب دیکھ رہی ہے نہ بچہ بوڑھا۔ ہمیں اس کے شر و آفت سے فقط خدائے پروردگار کی رحمت محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اس ماہ مبارک میں اپنے رب کو منالیجیے، گڑگڑا کر، ہاتھ اٹھا کر، سجدے میں گر کر، رو رو کر اس کی رضا طلب کرنی چاہیے تاکہ وہ ہمارے اعمال کے سبب آنے والی اس آزمائش کو ہم سے دور فرمادے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
 

مزید پڑھیں

شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بنی آدم اعضائے یک دیگرند کہ در آفرینش زیک جوہرند چو عضوے بدر آورد روزگار دگر عضوہا را نماند قرار تو کز محنت دیگراں بے غمی نشاید کہ نامت نہند آدمی    

مزید پڑھیں

رمضان المبارک گناہوں کی دلدل میں موسلا دھار بارش‘  بیکراں رحمت کے ظہور‘ گناہوں کی گرد دُھلنے کا نام‘ گناہوں کی جلتی دھوپ میں مغفرتِ الٰہی کا سائبان‘  جلتے ٹیلوں اور تپتے دشت میں موسمِ گل اور مغفرتِ یزداں کے جوش مارتے سمندر کا نام ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں