☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
صوم

صوم

تحریر : جاوید احمد غامدی

04-26-2020

نماز اور زکوٰۃ کے بعد تیسری اہم عبادت روزہ ہے۔ عربی زبان میں اِس کے لیے ’صوم‘ کا لفظ آتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رک جانے اور اْس کو ترک کردینے کے ہیں۔
 

 

شریعت کی اصطلاح میں یہ لفظ خاص حدود وقیود کے ساتھ کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے رک جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اردو زبان میں اِسی کو روزہ کہتے ہیں۔ انسان چونکہ اِس دنیا میں اپنا ایک عملی وجود بھی رکھتا ہے، اِس لیے اللہ تعالیٰ کے لیے اْس کا جذب عبادت جب اْس کے عملی وجود سے متعلق ہوتا ہے تو پرستش کے ساتھ اطاعت کو بھی شامل ہوجاتا ہے۔ روزہ اِسی اطاعت کا علامتی اظہارہے۔ اِس میں بندہ اپنے پروردگار کے حکم پراور اْس کی رضا اور خوشنودی کی طلب میں بعض مباحات کو اپنے لیے حرام قرار دے کر مجسم اطاعت بن جاتا او راِس طرح گویا زبان حال سے اِس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اْس کے حکم سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ اگر قانون فطرت کی رو سے جائز کسی شے کو بھی اْس کے لیے ممنوع ٹھہرا دیتا ہے تو بندے کی حیثیت سے زیبا یہی ہے کہ وہ بے چون وچرا اِس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔
اللہ کی عظمت و جلالت اور اْس کی بزرگی اور کبریائی کے احساس واعتراف کی یہ حالت، اگر غور کیجیے تو اْس کی شکر گزاری کا حقیقی اظہار بھی ہے۔ چنانچہ قرآن نے اِسی بنا پر روزے کو خدا کی تکبیر اور شکر گزاری قرار دیا اور فرمایاہے کہ اِس مقصد کے لیے رمضان کا مہینہ اِس لیے خاص کیا گیا ہے کہ قرآن کی صورت میں اللہ نے جو ہدایت اِس مہینے میں تمھیں عطا فرمائی ہے اور جس میں عقل کی رہنمائی اورحق وباطل میں فرق و امتیاز کے لیے واضح اورقطعی حجتیں ہیں، اْس پراللہ کی بڑائی کرو اور اْس کے شکرگزار بنو۔
اِس کا منتہاے کمال یہ ہے کہ آدمی روزے کی حالت میں اپنے اوپر مزید کچھ پابندیاں عائد کر کے اوردوسروں سے الگ تھلگ ہو کر چند دنوں کے لیے مسجد میں بیٹھ جائے اور زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کرے۔ اصطلاح میں اِسے اعتکاف کہا جاتا ہے۔ یہ اگرچہ رمضان کے روزوں کی طرح لازم تو نہیں کیا گیا، لیکن تزکیہ نفس کے نقطء نظر سے اِس کی بڑی اہمیت ہے۔ روزہ ونماز اور تلاوت قرآن کے امتزاج سے جو خاص کیفیت اِس سے پیدا ہوتی ہے، اْس سے روزے کااصلی مقصود درج کمال پرحاصل ہوتا ہے۔
نماز کی طرح روزے کی تاریخ بھی نہایت قدیم ہے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ روزہ مسلمانوں پر اْسی طرح فرض کیا گیا، جس طرح وہ پہلی قوموں پرفرض کیا گیا تھا۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ تربیت نفس کی ایک اہم عبادت کے طور پر اِس کا تصور تمام مذاہب میں رہا ہے۔
اِس کا مقصد قرآن نے یہ بیان کیاہے کہ لوگ خدا کا تقویٰ اختیار کر لیں۔ قرآن کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے شب وروزکو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود کے اندر رکھ کر زندگی بسر کرے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اِس بات سے ڈرتا رہے کہ اْس نے اگر کبھی اِن حدود کو توڑا تو اِس کی پاداش سے اللہ کے سوا کوئی اْس کو بچانے والا نہیں ہو سکتا۔
روزے کی نیت سے اور محض اللہ کی خوشنودی کے لیے کھانے پینے اور بیویوں کے ساتھ تعلق سے اجتناب  کے علاوہ ہر برے کام سے باز رہنا روزہ ہے ۔روزوں کے لیے رمضان کا مہینہ خاص کیا گیا ہے، اِس لیے جو شخص اِس مہینے میں موجود ہو، اْس پر فرض ہے کہ اِس پورے مہینے کے روزے رکھے۔
بیماری یا سفر کی وجہ سے یا کسی اور مجبوری کے باعث آدمی اگر رمضان کے روزے پورے نہ کر سکے تو لازم ہے کہ دوسرے دنوں میں رکھ کر اْس کی تلافی کرے اور یہ تعداد پوری کر دے۔حیض و نفاس کی حالت میں روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ تاہم اِس طرح چھوڑے ہوئے روزے بھی بعدمیں لازماً پورے کیے جائیں گے۔روزے کا منتہاے کمال اعتکاف ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر کسی شخص کو اِس کی توفیق دے تو اْسے چاہیے کہ روزوں کے مہینے میں جتنے دنوں کے لیے ممکن ہو، دنیا سے الگ ہو کر اللہ کی عبادت کے لیے مسجد میں گوشہ نشین ہو جائے اور بغیر کسی ناگزیر انسانی ضرورت کے مسجد سے باہر نہ نکلے۔
 

 

مزید پڑھیں

نماز کی طرح روزے کی تاریخ بھی نہایت قدیم ہے۔ سورہ بقرہ کی آیتوں میں قرآن نے بتایا ہے کہ روزہ مسلمانوں پر اْسی طرح فرض کیا گیا، جس طرح وہ پہلی قوموں پرفرض کیا گیا تھا۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ تربیت نفس کی ایک اہم عبادت کے طور پر اِس کا تصور تمام مذاہب میں رہا ہے۔    

مزید پڑھیں

رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے ، اْس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔    

مزید پڑھیں

 حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر رمضان کا مبارک مہینہ آیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تم پر روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمان (یعنی جنت) کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں۔ اس میں اللہ کی طرف سے ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا۔ (احمد، نسائی)  

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں