☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
روزے کی تاریخ

روزے کی تاریخ

تحریر : جاوید احمد غامدی

04-26-2020

نماز کی طرح روزے کی تاریخ بھی نہایت قدیم ہے۔ سورہ بقرہ کی آیتوں میں قرآن نے بتایا ہے کہ روزہ مسلمانوں پر اْسی طرح فرض کیا گیا، جس طرح وہ پہلی قوموں پرفرض کیا گیا تھا۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ تربیت نفس کی ایک اہم عبادت کے طور پر اِس کا تصور تمام مذاہب میں رہا ہے۔
 

 

نینوا اور بابل کی تہذیب نہایت قدیم ہے۔ ایک زمانے میں یہاں آشور ی قوم آباد تھی۔حضرت یونس علیہ السلام کی بعثت اِنہی کی طرف ہوئی۔ اِن لوگوں نے پہلے اْنھیں جھٹلا دیا، لیکن بعد میں ایمان لے آئے۔ اِس موقع پراْن کی توبہ اوررجوع کا ذکر بائبل کے’’ صحیفہ یونس‘‘ میں اِس طرح ہوا ہے:
’’تب نینوا کے باشندوں نے خدا پر ایمان لا کر روزہ کی منادی کی اور ادنیٰ واعلیٰ، سب نے ٹاٹ اوڑھا۔ اوریہ خبر نینوا کے بادشاہ کو پہنچی اور وہ اپنے تخت پر سے اٹھا اور بادشاہی لباس کو اتار ڈالا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا۔ اور بادشاہ اوراْس کے ارکان دولت کے فرمان سے نینوا میں یہ اعلان کیا گیا اور اِس بات کی منادی ہوئی کہ کوئی انسان یا حیوان ،گلہ یا رمہ کچھ نہ چکھے اورنہ کھائے پیے، لیکن انسان اور حیوان ٹاٹ سے ملبس ہوں اورخدا کے حضور گریہ و زاری کریں، بلکہ ہر شخص اپنی بری روش اور اپنے ہاتھ کے ظلم سے باز آئے۔‘‘
عرب جاہلی میں بھی روزہ کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ اْن کی زبان میں لفظ ’صوم‘ کا وجود بجاے خود اِس بات کوثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ اِس عبادت سے پور ی طرح واقف تھے۔ ’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ‘‘میں جواد علی لکھتے ہیں:
’’روایتوں میں ہے کہ قریش یوم عاشور کا روزہ رکھتے تھے۔ اِس روزوہ جمع ہوتے، عید مناتے اوربیت اللہ کوغلاف پہناتے تھے۔ اِس کی توجیہ مورخین یہ بیان کرتے ہیں کہ قریش جاہلیت میں کوئی ایسا گناہ کربیٹھے تھے جس کا بوجھ اْنھوں نے بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ چنانچہ اِس کا کفارہ ادا کرنا چاہا تو یوم عاشور کا روزہ اپنے لیے مقرر کر لیا۔ وہ اِس دن یہ روزہ اللہ تعالیٰ کاشکر اداکرنے کے لیے رکھتے تھے کہ اْس نے اْنھیں اِس گناہ کے برے نتائج سے محفوظ رکھا۔ روایتوں میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے ۔اِس روزے کی ایک توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ قریش کوایک زمانے میں قحط نے آلیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اْنھیں اِس سے نجات عطا فرمائی تو اْنھوں نے اِس پر اللہ کا شکر اداکرنے کے لیے یہ روزہ رکھنا شروع کردیا۔‘‘
یہود و نصاریٰ کی شریعت میں بھی روزہ ایک عام عبادت ہے۔ بائبل میں اْن کے روزوں کا ذکر جگہ جگہ ہوا ہے اور اِس کے لیے خاص اِس لفظ کے علاوہ بعض مقامات پر ’جان کودکھ دینے ‘اور ’نفس کشی کرنے ‘ کی تعبیرات بھی اختیار کی گئی ہیں۔
خروج میں ہے :
’’ اور خداوند نے موسیٰؑ سے کہا کہ تو یہ باتیں لکھ، کیونکہ اِنہی باتوں کے مفہوم کے مطابق میں تجھ سے اور اسرائیل سے عہد باندھتا ہوں۔ سو وہ چالیس دن اور چالیس رات وہیں خداوند کے پاس رہا اور نہ روٹی کھائی اور نہ پانی پیا اور اْس نے اْن لوحوں پر اِس عہد کی باتوں کو،یعنی دس احکام کو لکھا۔‘‘ 
احبار میں ہے:
’’ اوریہ تمھارے لیے ایک دائمی قانون ہو کہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو تم اپنی اپنی جان کو دکھ دینا اوراْس دن کوئی، خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جو تمھارے بیچ بودوباش رکھتا ہو، کسی طرح کا کام نہ کرے۔ کیونکہ اْس روزتمھارے واسطے تم کو پاک کرنے کے لیے کفارہ دیا جائے گا۔ سو تم اپنے سب گناہوں سے خداوند کے حضور پاک ٹھہروگے۔ یہ تمھارے لیے خاص آرام کا ثابت ہوگا۔ تم اْس دن اپنی اپنی جان کو دکھ دینا۔‘‘
قضا میں ہے:
’’ تب سب بنی اسرائیل اور سب لوگ اٹھے اور بیت میں آئے اور وہا ں خداوند کے حضور بیٹھے روتے رہے اور اْس دن شام تک روزہ رکھا اور سوختنی قربانیاں اورسلامتی کی قربانیاں خداوند کے آگے گزرایں۔‘‘ 
سموئیل دوم میں ہے:
’’ اور وہ سائول اور اْس کے بیٹے یونتن اور خداوند کے لوگوں اوراسرائیل کے گھرانے کے لیے نوحہ کرنے اور رونے لگے اور شام تک روزہ رکھا، اِس لیے کہ وہ تلوار سے مارے گئے تھے۔ ‘‘
’’ اِس لیے دائود نے اْس لڑکے کی خاطر خدا سے منت کی اور دائود نے روزہ رکھااور اندر جاکر ساری رات زمین پر پڑے رہے۔‘‘
نحمیاہ میں ہے:
’’پھر اِسی مہینے کی چوبیسیویں تاریخ کو بنی اسرائیل روزہ رکھ کر اور ٹاٹ اوڑھ کر اور مٹی اپنے سر پرڈال کر اکٹھے ہوئے۔ اور اسرائیل کی نسل کے لوگ سب پردیسیوں سے الگ ہوگئے اور کھڑے ہوکر اپنے گناہوں اور اپنے باپ دادا کی خطائوں کا اقرار کیا۔‘‘
زبور میں ہے:
’’لیکن میں نے تو اْن کی بیماری میں، جب وہ بیمار تھے، ٹاٹ اوڑھا اور روزہ رکھ رکھ کر اپنی جان کو دکھ دیا اور میری دعا میرے ہی سینے میں واپس آئی۔‘‘
یرمیاہ میں ہے:
’’ پر تو جا اورخداوند کا وہ کلام جو تونے میرے منہ سے اِس طومار میں لکھا ہے، خداوند کے گھر میں روزہ کے دن لوگوں کو پڑھ کر سنا۔‘‘
یوایل میں ہے:
’’ خداوند کا روز عظیم نہایت خوف ناک ہے۔ کون اْس کی برداشت کرسکتا ہے؟ لیکن خداوند فرماتا ہے: اب بھی پورے دل سے اور روزہ رکھ کر اور گریہ و زاری کرتے ہوئے میری طرف رجوع لائو۔ اور اپنے کپڑوں کو نہیں، بلکہ دلوں کو چاک کر کے اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو، کیونکہ وہ رحیم ومہربان، قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے اورعذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔‘‘
زکریا میں ہے :
’’پھر رب الافواج کا کلام مجھ پر نازل ہوا کہ رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ چوتھے اور پانچویں اور ساتویں اور دسویں مہینے کا روزہ بنی یہودہ کے لیے خوشی اور خرمی کا دن اورشادمانی کی عید ہوگا۔‘‘
متی میں ہے:
’’اور جب تم روزہ رکھو تو ریاکاروں کی طرح اپنی صورت اداس نہ بنائو، کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اْن کو روزہ دار جانیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پاچکے،بلکہ جب تو روزہ رکھے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور منہ دھو تاکہ آدمی نہیں، بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے، تجھے روزہ دار جانے۔ اِس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتاہے، تجھے بدلہ دے گا۔‘‘
یہ روزے کی تاریخ ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ نماز اور زکوٰۃکی طرح روزہ بھی قرآن کے مخاطبین کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ وہ اِس کی مذہبی حیثیت اور اِس کے حدودو شرائط سے پوری طرح واقف تھے۔ چنانچہ قرآن نے جب اِس کا حکم دیا تو اِن حدودوشرائط میں سے کوئی چیزبھی بیان نہیں کی، بلکہ ہدایت فرمائی کہ خدا کے ایک قدیم حکم اور انبیا علیہم السلام کی ایک قدیم سنت کے طور پر وہ جس طرح اِسے جانتے ہیں، اْسی طرح ایک لازمی عبادت کے طور پر اِس کا اہتمام کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ نے اِسی کے مطابق روزہ رکھا اور مسلمان نسلاً بعد نسلٍ اب اِسی طریقے کی پیروی کر رہے ہیں۔ اِس لحاظ سے روزے کا ماخذ بھی اصلاً مسلمانوں کا اجماع اوراْن کا عملی تواتر ہی ہے۔ قرآن نے اِس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ اِسے فرض قرار دیا، مریضوں اور مسافروں کے لیے اِس سے رخصت کاقانون بیان فرمایا اوربعد میں جب بعض سوالات اِس سے متعلق پیدا ہوئے تو اْن کی وضاحت کردی ہے۔
 

 

مزید پڑھیں

نماز اور زکوٰۃ کے بعد تیسری اہم عبادت روزہ ہے۔ عربی زبان میں اِس کے لیے ’صوم‘ کا لفظ آتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رک جانے اور اْس کو ترک کردینے کے ہیں۔    

مزید پڑھیں

رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے ، اْس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔    

مزید پڑھیں

 حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر رمضان کا مبارک مہینہ آیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تم پر روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمان (یعنی جنت) کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں۔ اس میں اللہ کی طرف سے ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا۔ (احمد، نسائی)  

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں