☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
روزے کی فضیلت

روزے کی فضیلت

تحریر : مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ

05-10-2020

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ ابن آدم کا ہر عمل اس کیلئے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی 10 گنا تک اور د گنی سے 700گنا تک بڑھائی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا۔روزہ دار اپنے کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑتا ہے،

روزہ دار کیلئے دو فرحتیں ہیں۔ ایک فرحت افطار کے وقت کی اور دوسری فرحت اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی۔ اور روزہ دار کے منہ کی بساند اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے اور روزے ڈھال ہیں، پس جب کوئی شخص تم میں سے روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ نہ ا س میں بدکلامی کرے اور نہ دنگا فساد کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑے تو وہ اس سے کہہ دے کہ بھائی میں روزے سے ہوں‘‘۔ (متفق علیہ)
یہ جو فرمایا کہ دوسری نیکیاں تو 10 گنا سے لے کر700گنا تک بڑھائی جاتی ہیں لیکن روزے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسری نیکیاں اللہ کیلئے نہیں ہیں اور اللہ ان کی جزا نہیں دے گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق روزہ اس کے لئے خاص ہے اور وہ اس کی جتنی چاہے گا جزا دے گا۔ جب یہ فرمایا کہ دوسری نیکیاں700گناتک بڑھائی جاتی ہیں اور اس کے مقابلے میں استثناء کے ساتھ روزے کے متعلق فرمایا کہ میں ہی اس کی جزا دوں گا تو اس سے مراد یہ ہے کہ روزے کے اجر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے گا روزہ دار کو اس کا اجر دے گا۔
 

روزے کی یہ غیر معمولی فضیلت کیوں؟

بات دراصل یہ ہے کہ دوسری تمام نیکیاں آدمی کسی نہ کسی ظاہری فعل سے انجام دیتا ہے، مثلاً نماز ایک ظاہر فعل ہے نماز پڑھنے والا نماز میں اٹھتا بیٹھتا ہے، رکوع اور سجدہ کرتا ہے اور اس طرح یہ ایک نظر آنے والی عبادت ہے۔اسی طرح حج اور زکوٰۃ کا معاملہ ہے لیکن اس کے برعکس روزہ کسی ظاہری فعل سے ادا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا مخفی فعل ہے جو فقط آدمی اور اس کے خدا کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ روزہ دراصل اللہ کے حکم کی تعمیل کی ایک منفی شکل ہے۔ مثلاً نہ کھانا اور نہ پینا اور اسی طرح جن دوسری چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ ان سے باز رہنا، اس منفی فعل کو یا تو آدمی خود جان سکتا ہے یا اس کا رب، کسی تیسرے کو معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ یہ منفی فعل اس نے کیا ہے یا نہیں۔ مثلاً اگر ایک آدمی چھپ کر کھاپی لے تو کسی کو اس کا علم نہیں ہو سکتا، چنانچہ وہ روزہ نہ رکھتے ہوئے بھی کہہ سکتا ہے کہ میں روزے سے ہوں اور کوئی شخص یقین کے ساتھ یہ نہیں جان سکتا کہ آیا وہ روزے سے ہے یا نہیں۔ اگر وہ روزے سے ہے تو اس بات کو صرف وہ جانتا ہے کہ اور اگر روزے سے نہیں تو اس کو بھی اس کے سوال کوئی نہیں جان سکتا۔ اسی وجہ سے روزے کا معاملہ صرف خدا اور اس کے بندے کے درمیان ہوتا ہے اور اسی بناء پر اس میں ریا کا امکان نہیں ہوتا۔
ایک آدمی دنیا کو دکھانے کے لئے بے شک یہ کہتا پھرے کہ میں روزے سے ہوں لیکن حقیقت صوم کے اندر اس ریا کاری کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ وہ خدا کو د ھوکہ نہیں دے سکتا اسی لئے فرمایا کہ روزہ خاص میرے ہی لئے ہے ،میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ روزے کی بے حد و حساب جزا دے گا۔ جتنے گہرے جذبے اور اخلاص کے ساتھ آپ روزہ رکھیں گے اللہ تعالیٰ کا جتنا تقویٰ اختیار کریں گے روزے سے جتنے کچھ روحانی و دینی فوائد حاصل کریں گے اور پھر بعد کے دنوں میں بھی ان فوائد کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی جزا بڑھتی چلی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزے کی اس غیر معمولی فضیلت اور مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ روزہ دار کھانے پینے کو صرف اللہ ہی کی خاطر چھوڑتا ہے اس لئے وہ بھی اسے آخرت میں بے حد و حساب اجر سے نوازے گا۔

روزہ دار کے لئے 2 فرحتیں


فرمایا کہ روزہ رکھنے والے کیلئے دو فرحتیں ہیں، ایک فرحت افطار کے وقت کی اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی۔
مراد یہ ہے کہ جو فرحت ایک روزہ دار کو افطار کے وقت ملتی ہے۔ وہ افطار پر ہی ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس سے زیادہ فرحت اسے اس وقت حاصل ہو گی جب وہ اپنے رب سے ملے گا اور وہاں اس کو معلوم ہو گا کہ جو عمل وہ دنیا میں کر کے آیا ہے اس کی یہاں کتنی بڑی جزا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے کس قدر قرب سے نوازا ہے اور اس کی کتنی خوشنودی اسے حاصل ہوئی ہے۔
فرمایا: روز دار کے منہ کی بساند اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔ کوئی شخص اپنے منہ کو چاہے کتنا ہی صاف رکھنے والا اور دانتوں کی صفائی کرنے والا ہو لیکن کئی کئی گھنٹوں تک کھانے پینے سے رکے رہنے کی وجہ سے اس کے منہ میں ایک خاص قسم کی بساند محسوس ہو تو اس سے نفرت نہ کرنی چاہیے کیونکہ یہ بساند اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند ہے۔

روزہ برائیوں کے مقابلے میں آدمی کی ڈھال


فرمایا کہ روزے ڈھال ہیں پس جب کوئی شخص تم میں سے روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس میں نہ بدکلامی کرے، نہ دنگا فساد۔ روزہ کے ڈھال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کار زار حیات میں انسان کو برائیوں سے بچانے والی ڈھال ہے جس طرح دشمن کا وارڈھال پر روکا جاتا ہے اسی طرح برائی کا کوئی موقع پیدا ہونے پر اگر ایک شخص یہ خیال کر کے کہ وہ روزے سے ہے اس برائی سے بچ جاتا ہے تو اس کا روزہ اس کے لئے برائی کے مقابلے میں ڈھال کے بمنزلہ ہے۔
اس ڈھال کی مدد کرنے اور اس کو مضبوط بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی خود بدکلامی نہ کرے خود کسی کو برا نہ کہے اور خود کسی سے نہ لڑے، یہ ڈھال کی پہلی مدد ہے۔ اس کی دوسری مدد یہ ہے کہ کوئی دوسرا شخص لڑنے کو آئے تو اس سے کہے کہ بابا میں تو روزے سے ہوں اگر تم گالی دو گے تو میں نہیں دوں گا اس کے بعد یہ ڈھال اس قدر مضبوط ہو جاتی ہے کہ آدمی کو ہر برائی سے بچا سکتی ہے۔
اگر ایک آدمی نے لوگوں سے خود جھگڑا کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اپنی اس ڈھال میں خود شگاف پیدا کر لیا جو اس کو برائی سے بچانے والی تھی اگر کوئی دوسرا شخص اس سے لڑنے کو آیا اور یہ بھی آستین چڑھا کر کھڑا ہو گیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے وہ ڈھال خود توڑ تاڑ کر پھینک دی اب ایک وار وہ کرے گا اور دوسرا وار یہ کرے گا لیکن اگر ایک آدمی اپنے روزے کی اسی ڈھال سے کام لے تو یہ ڈھال یقینا اسے برائیوں سے بچائے گا۔

جہنم سے آزادی حاصل کرنے کا مہینہ


حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور وہ جن جو برائی پھیلانے پر کمربستہ رہتے ہیں باندھ دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور پھر ان میں سے کوئی درواز ہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پھر ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے بھلائی کے طالب آگے بڑھ اور اے برائی کے طالب رک جا، اور اللہ کی طرف سے بہت سے لوگ ہیں جو آگ سے بچنے والے ہیں‘‘۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
چونکہ اسلامی تقویم کا انحصار قمری مہینوں پر ہے اور قمری مہینے ہلال سے شروع ہوتے ہیں اس لئے اسلام میں ہر مہینے کا آغاز رات سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ماہ رمضان ہلال دیکھنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اسی بناء پر یہاں رمضان کی پہلی رات کے متعلق فرمایا گیا کہ ان میں شیاطین اور برائی اور فساد پھیلانے والے جن باندھ دیئے جاتے ہیں۔ رمضان کی اس خصوصیات کے بارے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس کا ظہور ساری دنیا میں نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف مومنین صالحین کی بستیوں کے اندر ہوتا ہے۔

شیطان کیونکر جکڑا جاتا ہے؟


رمضان کی آمد پر شیاطین کا باندھا جانا دراصل اس بات کا نتیجہ ہوتا ہے کہ مومن صالح رمضان کا آغاز ہوتے ہی اپنی خواہشات نفس پر وہ پابندیاں قبول کرتا ہے جو عام زمانے میں اس پر نہیں ہوتیں مثلاً عام زمانے میں تو پانی اس کے لئے حلال ہے لیکن رمضان کے زمانے میں بارہ سے چودہ پندرہ گھنٹے تک وہ اس پر حرام ہو جاتا ہے۔ عام دنوں میں اس کے لئے کھانا کھانا اور خواہش نفس کو پورا کرنا، بشرطیکہ جائز طریقہ سے ہو، حلال ہے لیکن رمضان کے زمانے میں یہ چیزیں کئی کئی گھنٹے کے لئے اس پر حرام ہو جاتی ہیں معلوم ہوا کہ ایک مومن پر رمضان کے مہینے میں اس کے نفس، اس کی خواہشات اور آزادی عمل پر ایسی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں جو دوسرے دنوں میں نہیں ہوتیں۔ جب مومن ان پابندیوں کو قبول کر لیتا ہے اور اپنے آپ کو ان میں جکڑ لیتا ہے تو اس کا شیطان بھی جکڑا جاتا ہے اگر مومن بھی اپنے آپ کو خواہش نفس کا غلام بنائے رکھے اور شریعت کی پابندیاں قبول نہ کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا شیطان جکڑا نہیں گیا بلکہ بدستور کھلا پھر رہا ہے۔ اور اپنا کام کئے جا رہا ہے۔ پس خوب سمجھ لیجئے کہ جس شخص نے اپنے نفس پر شریعت کی پابندیاں عائد کر لیں تو جس لمحے اس نے ایسا کیا اسی لمحے اس کا شیطان بھی زنجیروں میں جکڑا گیا۔ اسی طرح ادھر اس نے اپنے اوپر شریعت کی پابندیاں عائد کیں اور ادھر جنت کے سارے دروازے اس کیلئے کھل گئے اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے گئے۔ یہ ہے مفہوم شیطانوں کے جکڑے جانے کا، دوزخ کے دروازے بند ہونے کا اور جنت کے دروازے کھلنے کا اور یہ چیزیں وہیں ظہور پذیر ہوں گی جہاں مومنین صالحین بستے ہوں۔ اس سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ ساری دنیا کے شیطان باندھ دیئے جاتے ہیں اور آج کل تو شیاطین خود مسلمانوں کی بستیوں کے اندر بھی اس زمانے میں کھلے پھرتے ہیں جو لوگ مسلمان ہوتے ہوئے رمضان کے احکام کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں ظاہر بات ہے کہ ان کا شیطان تو نہ صرف یہ کہ کھلا پھر رہا ہے بلکہ ان پوری طرح سے تسلط جمائے ہوئے ہے۔ مقید تو صرف اس شخص کا شیطان ہو گا جس سنے اپنی خواہشات نفس پر پابندیاں عائد کیں اور اللہ کے احکام کو خود پر نافذ کیا۔

رمضان کی پکار


پھر فرمایا کہ پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے بھلائی کے طالب آگے بڑھ اور اے برائی کے طالب رک جا!پکارنے والے سے مراد یہ نہیں کہ کوئی شخص کھڑا ہو کر یہ صدا لگاتا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کی پابندی کرنے والوں کو رمضان کی آمد ہی سے اس بات کی اطلاع مل جاتی ہے کہ نیکیاں کرنے اور برائیوں سے بچنے کا زمانہ آ گیا ہے جس وقت اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ رمضان کا چاند دیکھ لیا گیا ہے تو یہ اعلان اپنے اندر اس بات کو متضمن رکھتا ہے کہ اے بھلائی کے طالب، آگے بڑھ، یہ وقت ہے بھلائیاں لوٹ لے جانے کا، وہ زمانہ شروع ہو گیا ہے جس میں تو بھلائیوں سے اپنی جھولی بھر سکتا ہے اور اے برائی کے طالب رک جا، یہ وقت ہے تیرے رک جانے کا کیونکہ وہ زمانہ شروع ہو گیا ہے جس میں تیری ایک معمولی سی برائی بہت بڑی برائی قرار پائے گی اور اس کے برعکس تیری ایک معمولی سی بھلائی بھی بے انتہا نشوونما پائے گی اس لئے اب تو تجھے برائیوں سے رک ہی جانا چاہیے۔

آگ سے چھٹکارا پانے والے


پھر فرمایا کہ رمضان کے زمانے میں اللہ کے بہت سے بندے، ایسے ہیں جو آگ سے آزادی حاصل کرتے ہیں۔ عتیق کے معنی ہیں آزاد آدمی کے۔ اس ارشاد سے مراد یہ ہے کہ بہت سے بندے ایسے ہیں جو اس زمانے میں اپنے نیک اعمال کی بدولت جہنم کی آگ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ہر انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنا شمار ان بندوں میں کرانے کا سامان کہاں تک کر رہا ہے۔

اور یہ ہر رات کو ہوتا ہے


اس سے مراد یہ ہے کہ رمضان المبارک کی جو برکتیں اور خصوصیات اس کی پہلی رات کو ظہور میں آتی ہیں ان سب کا ظہور رمضان کی ہر رات میں بدستور جاری رہتا ہے۔
(’’کتاب الصوم ‘‘سے اقتباس)

مزید پڑھیں

مولانا فضل الرحمن بن محمد الازہری معروف مصنف ، نامور خطیب اور مفسر قرآن ہیں۔ ایم اے عربی گولڈ میڈلسٹ ، ایم اے اسلامیات و شریعہ کورس الازھرالقاہرہ ہیں ۔’’دینی و اصلاحی تقاریر‘‘مولانا فضل الرحمن الازہری کی نشریاتی تقاریر کا مجموعہ ہے جو سالہا سال تک مولانا ریڈیو پاکستان پر کرتے رہے ۔ اس کتاب کا ’’حرفے چند ‘‘ حافظ صلاح الدین یوسف نے لکھا ہے ۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں