☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
دینی و اصلاحی تقاریر

دینی و اصلاحی تقاریر

تحریر : تبصرہ

05-10-2020

مولانا فضل الرحمن بن محمد الازہری معروف مصنف ، نامور خطیب اور مفسر قرآن ہیں۔ ایم اے عربی گولڈ میڈلسٹ ، ایم اے اسلامیات و شریعہ کورس الازھرالقاہرہ ہیں ۔’’دینی و اصلاحی تقاریر‘‘مولانا فضل الرحمن الازہری کی نشریاتی تقاریر کا مجموعہ ہے جو سالہا سال تک مولانا ریڈیو پاکستان پر کرتے رہے ۔

اس کتاب کا ’’حرفے چند ‘‘ حافظ صلاح الدین یوسف نے لکھا ہے ۔

تقاریر کا یہ مجموعہ دین و دنیا کی جامعیت کا ایک نہایت خوبصورت گلدستہ ہے اس میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی بیان ہے ، اخلاق وآداب سے لے کر اقتصادیات و معاشیات اور معاشرت و تجارت تک حتیٰ کہ سیرت طیبہ کے تابناک نقوش تک کا دل آویز تذکرہ ہے ، نیز یہ معاشرے کے ہر طبقے کیلئے نہایت مفید ہے ۔ یہ علماء و خطباء کیلئے بھی ایک ارمغانِ علمی ہے کہ ہر اہم موضوع پر اس میں ان کیلئے مواد موجود ہے اور عام لوگوں کیلئے بھی یہ خاصے کی چیز ہے کہ زندگی کے اہم معاملات میں ان کو ان تقاریر سے رہنمائی مل سکتی ہے ۔
مولانا فضل الرحمن بن محمد الازہری کی اس سے قبل بھی کئی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں ایک نہایت نمایاں نام ان کی تفسیر ’’ تفسیر فضل القران‘‘ہے جسکی 8جلدیں منصہ شہود پر آ چکی ہیں۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ہونیوالی’’ دینی و اصلاحی تقاریر‘‘علماء و خطباء کیلئے علمی تحفہ ہے ، یہ کتاب 816صفحات پر مشتمل ہے اور اسے جامع مسجد محمدی سنت نگر لاہور ، مکتبہ رحمانیہ غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور ، نعمانی کتب خانہ اردو بازار لاہور ، مکتبہ قدسیہ غزنی سٹریٹ لاہور اور راسخ اکیڈیمی فیصل آباد سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ’’ دینی و اصلاحی تقاریر‘‘115سے زائد موضوعات پر مشتمل ہے اور ہر موضوع اپنے اندر علم کا خزانہ لئے ہوئے ہے مثال کے طور پر’’قرآن مجھ سے یعنی صنعتکار سے کیا چاہتا ہے ؟‘‘، ’’افزائش دولت کے حلال ذرائع ‘‘، ’’ہمارے مسائل کا قرآنی حل (تجارتی زندگی میں )‘‘، ’’قرآنی تعلیم معاشرت کی ابدیت ‘‘ ، ’’توبہ کا حقیقی معنی ‘‘ ، ’’مؤاخات کی برکتیں ‘‘، ’’زکوٰۃاجتماعی کفالت کا اسلامی نظام ‘‘ ، ’’بحرانوں پر قابو پانے کی صلاحیت ‘‘ ، ، ’’عدل و احسان کا اسلام میں تصور ‘‘ ،’’قرآن پاک امت مسلمہ کا ذریعہ نجات ہے ‘‘ ، ’’قرآن تم سے کیا چاہتا ہے : تفرقہ بازی سے پرہیز ‘‘ ، ’’اجتماعی بھلائی میں تعاون ‘‘ ، ’’خدا خوفی مزاجِ مسلمان ‘‘ ، ’’شرک ظلم عظیم ، شرک کے نتائج آخرت میں ‘‘ ، ’’تجارت میں حسن معاملہ ‘‘ ، ’’سفارش کرنے کے بعد تحفہ قبول کرنے کی ممانعت ‘‘ ،’’ کاروبار دیانت کے ثمرات ‘‘ ، ’’قرآن مسلم کی حریت کا داعی ہے ‘‘ اور ’’انسانی حقوق کا اسلامی منشور ، جان و مال اور عزت کی حرمت ‘‘ جیسے اہم عنوانات پر تقاریر شامل ہیں ۔ اس کتاب میں مولانا فضل الرحمن بن محمد الازہری کی 3نظمیں ’’انسان کی اصل ‘‘، ’’اُمت کی بدحالی اور اس کا علاج ‘‘ اور ’’کلہ حق‘‘ بھی شامل ہیں ۔ ’’کلمہ حق‘‘ ملاحظہ کیجیے
انتہا ظالم کے ظلم کی کبھی ہوتی نہیں
دعا مظلوم کی بھی رد کبھی ہوتی نہیں
قبول ہونے میں دیر اگرچہ ہو جاتی ہے
ظالم کو مگر اس کے انجام تک پہنچاتی ہے
ظلم انسان کو اندھا ایسے کر دیتا ہے
اندھیرا رات کا جیسے ہر شے پر چھا جاتا ہے
ہر رات کے بعد اجالے نے تو آنا ہوتا ہے
تاریکی کے ہر نشان کو اُس نے مٹانا ہوتا ہے
مظلوم مظاہرہ صبر کا جب کرتا ہے
رب العزت سہارا اس کا بن جاتا ہے
مسلماں رب اپنے سے مایوس کبھی ہوتا نہیں
وہ بھی مایوس اس کو کبھی کرتا نہیں
اپنے بندوں کی مدد ہمیشہ وہ کرتا آیا ہے
وعدہ ہے یہ جسے وہ نبھاتا آیا ہے
ضرورت اپنے ایمانوں کو مضبوط کرنے کی ہے
ظالم کے ظلم کو مٹانے میں کوشاںرہنے کی ہے
کلمہ حق کہتے رہنا بھی افضل الجہاد ہے
غلبہ حق کی یہی اصل بنیاد ہے

کتاب میں شامل ’’رزق حلال حقیقی سکون کا ذریعہ ہے ‘‘ میں مولانا فضل الرحمن بن محمد الازہری بیان کرتے ہیں کہ ’’ آدمی کے پاس لاکھوں کروڑ و اور اربوں روپیہ موجود ہو۔ اس کی خدمت کیلئے ہزاروں انسان مامور ہوں۔ بڑے بڑے عظیم الشان محلوں میں وہ رہتا ہو ۔ دن رات پر تکلف کھانوں سے اس کی میز بھری رہتی ہو ۔ بہترین لباس پہننے والا ہو ۔ دنیا کی ہر نعمت اسے میسر ہو ۔ لیکن سکون کی دولت سے اگر وہ محروم ہے اور چین کی نیند وہ سو نہیں سکتا تو دنیا کی ہر نعمت اس کیلئے ہیچ ہو جاتی ہے ۔ انسان کیلئے حقیقی نعمت سکھ چین اور سکون ہی ہے جو بنیادی طور پر رزق حلال سے نصیب ہوتا ہے ۔ کیونکہ رزق حرام انسان کو حرام میں غرق کر دیتا ہے اور حرام کے ذریعے انسان کبھی بھی اللہ کے قریب نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے کہ جو اللہ سے دور ہو گا اسے ذکر الہٰی کا احساس کیسے ہو سکتا ہے ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے : ترجمہ ’’ آگاہ ہو جائو کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے ۔‘‘ ( سورہ الرعد 28) رزق حلال کا یہ خاصہ ہے کہ انسان کو برائی سے بچا کر اچھائی کی طرف لگاتا ہے اور رزق حلال کے حصول کیلئے انسان کو عموماً معمول سے زیادہ محنت و مشقت کرنی پڑتی ہے ۔ جس کی وجہ سے اصراف اور فضول خرچی کا تصور اس کے ذہن میں جم نہیں پاتا ۔ اس کے برعکس حرام میں ملوث رہنے والوں کے پاس مال آسانی سے آتا ہے اور اس کے حصول کیلئے خاص جدوجہد کا مظاہرہ بھی ان کو نہیں کرنا پڑتا ۔ لہٰذا اس کا مصرف بھی اسی طرح سے ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بڑے مزے کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔ عموماً ایسے لوگوں کا کردار اچھا نہیں ہوتا ، انکی اولادیں سرکش اور نافرمان ہوتی ہیں ۔ بیماری ، الجھنیں اور پریشانیاں ان کے گھروں میں مستقل ڈیرے ڈالے رہتی ہیں ۔ ‘‘
ایسے اور بہت سے معاملات ہیں جن میں مولانا فضل الرحمن بن محمد الازہری نے اپنی ’’ تقاریر ‘‘ اور علم و خطابت کے ذریعے قوم کی رہنمائی کی ہے ۔ یقینا ً ’’دینی و اصلاحی تقاریر ‘‘ کو مولانا فضل الرحمن بن محمد الازہری کی عظیم کاوش قرار دیا جا سکتا ہے ۔

مزید پڑھیں

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ ابن آدم کا ہر عمل اس کیلئے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی 10 گنا تک اور د گنی سے 700گنا تک بڑھائی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا۔روزہ دار اپنے کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑتا ہے،

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں