☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
لیلۃ المبارکہ کی تلاش

لیلۃ المبارکہ کی تلاش

تحریر : مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ

05-17-2020

  اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس سے مراد لَیلَۃْ القَدر ہے، یعنی وہ رات جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے۔ ترجمہ: ’’ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے‘‘۔ (سورۃ القدر)

حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید کا نزول انسانیت کے لیے عظیم الشان خیر کی حیثیت رکھتا ہے اور انسان کیلئے اس سے بڑی کوئی خیر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ وہ رات جس میں یہ قرآن مجید نازل ہوا ہے ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ دوسرے لفظوں میں پوری انسانی تاریخ میں کبھی ہزار مہینوں میں بھی انسانیت کی بھلائی کے لیے وہ کام نہیں ہوا ہے، جو اس ایک رات میں ہوا ہے۔ ہزار مہینوں کے لفظ کو گنے ہوئے ہزار نہ سمجھنا چاہیے بلکہ اس سے بہت بڑی کثرت مراد ہے۔ چنانچہ اس رات میں، جو اپنی بھلائی کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے، جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس سے لو لگائی، اس نے بہت بڑی بھلائی حاصل کرلی۔ کیونکہ اس رات میں بندے کا اللہ کی طرف رجوع کرنا یہی معنی تو رکھتا ہے کہ اسے اس رات کی اہمیت کا پورا پورا احساس ہے، اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان پر یہ کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ اپنا کلام نازل فرمایا۔ اس لیے جس آدمی نے اس رات میں عبادت کا اہتمام کیا، گویا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اس کے دل میں قرآن مجید کی صحیح قدر وقیمت کا احساس موجود ہے۔

لیلۃ القدر کی تلاش میں حکمت
اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ لیلۃ القدر کے متعلق یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ وہ کون سی رات ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے جو کچھ بتایا ہے وہ بس یہ ہے کہ وہ رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں آتی ہے۔ یعنی وہ رات اکیسویں ہوسکتی ہے بائیسویں نہیں، تئیسویں ہوسکتی ہے، چوبیسویں نہیں، وعلیٰ ہذا القیاس، وہ آخری عشرے کی طاق رات ہے۔ یہ فرمانے کے بعد اس بات کو بغیر تعین کے چھوڑ دیا گیا کہ وہ کون سی رات ہے۔ عام طور پر لوگ ستائیسویں رمضان کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ وہ لیلۃ القدر ہے لیکن یہ بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ رمضان کی ستائیسویں شب ہی لیلۃ القدر ہے۔ البتہ جو بات تعین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے وہ فقط یہ ہے کہ وہ آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہے۔
لیلۃ القدر کا قطعی طور پر تعین نہ کرنے میں یہ حکمت کار فرما نظر آتی ہے کہ آدمی ہر طاق رات میں اس امید پر اللہ کے حضور کھڑا ہوکر عبادت کرے کہ شاید یہی لیلۃ القدر ہو۔ لیلۃ القدر اگر اس نے پالی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ جس چیز کا طالب تھا وہ اسے مل گئی۔ اس کے بعد اس نے جو چند مزید راتیں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاریں تو وہ اس کی نیکی میں مزید اضافے کی موجب بنیں گی۔اس مقام پر ایک اور بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ چونکہ ساری دنیا میں رمضان کی تاریخیں ایک نہیں ہوتیں اور ان میں رد وبدل ہوتا رہتا ہے، اس لیے یہ بات یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کس آدمی کو واقعی وہ اصل رات میسر آگئی ہے۔ اس کیلئے ایک طالبِ صادق کو ہر رمضان میں اسے تلاش کرنا چاہیے ۔ رمضان المبارک کا جو آخری عشرہ اعتکاف کے لیے مقرر کیا گیا ہے، اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اعتکاف کا ثواب آدمی کو الگ ملے، اور چونکہ اعتکاف کی حالت میں اس کی تمام طاق راتیں عبادت میں گزریں گی، اس لیے اس بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ اسے ان میں کبھی نہ کبھی وہ رات بھی لازماً مل جائے گی۔
بعض لوگ اپنی جگہ لیلۃ القدر کی تلاش کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ رات کو باہر نکل کر یہ دیکھا جائے کہ فضا ء میں کوئی ایسی علامت پائی جاتی ہے جس سے یہ ظاہر ہوکہ یہ قدر کی رات ہے۔ فضا ء میں کوئی ایسا نور برس رہا ہے جس سے اس کا لیلۃ القدر ہونا ثابت ہوجائے۔ لیکن دراصل یہ طرزِ فکر مطابق حقیقت نہیں ہے۔ بے شک یہ نور برستا ہے، لیکن یہ نور تو پورے رمضان میں اور رمضان کی ہر رات میں برستا ہے، البتہ اس کے لیے وہ آنکھیں چاہییں جو اس کو دیکھ سکیں۔ یہ نور درحقیقت آپ کی عبادت کے اندر برستا ہے۔ یہ نور خدا کی رضا طلبی کے اندر آپ کے انہماک میں، بھلائیوں کیلئے آپکے ذوق وشوق میں اور عبادات کیلئے آپ کے خلوص واہتمام میں اور فی الجملہ آپ کے ایک ایک فعل میں برستا ہے۔

بڑی محرومی
نبی کریمﷺ نے فرمایا۔ ترجمہ: ’’جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا۔‘‘ (احمد،نسائی) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص اس رات میں اللہ کی عبادت کیلئے کھڑا نہیں ہوتا تو گویا اسے قرآنِ مجید کی اس نعمت عظمیٰ کا احساس ہی نہیں ہے جو اس رات میں اللہ تعالیٰ نے اتاری تھی۔ اگر اسے اس بات کا احساس ہوتا تو وہ ضرور رات کے وقت عبادت کیلئے کھڑا ہوتا اور شکر ادا کرتا کہ اے اللہ! یہ تیرا احسانِ عظیم ہے کہ تو نے مجھے قرآن جیسی نعمت عطا فرمائی ہے۔ بے شک یہ بھی تیرا احسان ہے کہ تو نے مجھے کھانے کیلئے روٹی اور پہننے کیلئے لباس عنایت فرمایا۔ لیکن تیرا اصل احسانِ عظیم مجھ پر یہ ہے کہ تو نے مجھے ہدایت دی اور دین حق کی روشنی دکھائی۔ مجھے تاریکیوں میں بھٹکنے سے بچایا اور علمِ حقیقت کی وہ روشن شمع عطا کی جس کی وجہ سے میں دنیا میں سیدھے راستے پر چل کر اس قابل ہوا کہ تیری خوشنودی حاصل کرسکوں۔ پس جس شخص کو اس نعمت کی قدر وقیمت کا احساس ہوگا وہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کیلئے کھڑا ہوگا اور اس کی بھلائی لوٹ لے جائے گا۔ لیکن جو شخص اس رات میں ادائے شکر کیلئے خدا کے حضور کھڑا نہیں ہوا وہ اس کی بھلائی سے محروم رہ گیا اور درحقیقت ایک بہت بڑی بھلائی سے محروم رہ گیا۔

 

فیصلوں والی رات
اللہ تعالیٰ نے نظام زندگی کو شام و سحر، روز و شب اور ماہ و سال کے اعتبارسے تشکیل دیا ہے۔ یہ نظام اس کی عظیم حکمت کا آئینہ دار ہے۔ جہاں اس نے انسانوں کو ان اعتبارات کے لحاظ سے زندگی بسر کرنے کا شعور دیاہے ، وہاں اپنی قدرت ، اپنی رحمت اور اپنی برکت کو اس دنیا سے متعلق کرنے کیلئے بھی انہی کو ملحوظ رکھا ہے۔ چنانچہ اس نے لازمی عبادات کے خاص اوقات اورخاص ایام مقرر کیے ہیں اور بعض موقعوں کو اپنی عنایتوں کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا ہے۔ انہی میں سے ایک موقع ماہ رمضان اور اس کے اندر لیلۃ القدر ہے۔ لیلۃ القدر کو قرآن مجید نے مبارک رات سے تعبیر کیا ہے۔ اس رات کی برکت و فضیلت کے حوالے سے جو باتیں قرآن و حدیث سے معلوم ہوتی ہیں، ان کا خلاصہ ہم یہاں بیان کر دیتے ہیں۔
قرآن مجید کا نزول:قرآن مجید لیلۃ القدر میں نازل ہوا ،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا۔‘‘(القدر97:1)پھر فرمایا’’ہم نے اس (قرآن) کو ایک نہایت مبارک رات میں اتارا ہے۔‘‘ (الدخان 44: 3)قرآن کے نزول سے اس رات کی نسبت معمولی بات نہیں ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ عالم کے پروردگار نے انسانوں کو ابدی رہنمائی سے فیض یاب کرنے کیلئے اس رات کا انتخاب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا کلام نہایت محفوظ طریقے سے انسانوں تک پہنچے چنانچہ اللہ نے ہر لحاظ سے اس کی حفاظت کا بندوبست فرمایا آسمان سے زمین تک وہ تمام راستے مسدود کر دئیے جن سے شیاطین دراندازی کر سکتے تھے۔ بہرحال قرآن مجید کی حفاظت کے اس عظیم انتظام کی بنا ء پر انسانوں کو قرآن جیسی عظیم نعمت ملنے کیساتھ ساتھ یہ موقع بھی میسر آیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو شیاطین کی تاخت سے بچتے ہوئے اپنے پروردگار کے بے پایاں التفات سے فیض یاب ہو ں اور جنت میں اپنے مقام کومحفوظ کرلیں۔
امور دنیا کی تقدیر و تقسیم:قرآن مجید نے اس رات کو لیلۃ القدرسے تعبیر کیا ہے۔ اس سے مراد فیصلوں والی رات ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس موقع پر امور دنیا کے بارے میں اپنے فیصلوں کو متعین فرماتے اوران کی روشنی میں کارکنان قضاء و قدر کو ذمہ داریاں تفویض کرتے ہیں۔ سورہ دخان میں ارشاد فرمایا :ترجمہ ’’اس رات میں تمام پر حکمت امور کی تقسیم ہوتی ہے، خاص ہمارے حکم سے۔‘‘( 44: 4)
مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:’’اس کی یہ عظمت و برکت اس وجہ سے ہے کہ اس میں کائنات سے متعلق بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں۔ جب اس دنیا کی چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے وہ دن بڑی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں جن میں وہ اپنے سال بھر کے منصوبے طے کرتی ہیں تو اس رات کی اہمیت کا اندازہ کون کر سکتا ہے جس میں پوری کائنات کے لیے خدائی پروگرام طے ہوتا اور سارے جہان کا فیصلہ ہوتا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن 9/ 467)فرشتوں اور جبریل امینؑ کا نزول بھی اسی پہلو سے ہے۔ فرمایا:’’اس میں فرشتے اور روح الامین اترتے ہیں، ہر معاملے میں، اپنے پروردگار کی اجازت سے۔‘‘(القدر 97: 4)مراد یہ ہے کہ ملائکہ اللہ کی طرف سے مقررکیے گئے امور کو دنیا میں نافذ کرنے کیلئے اترتے ہیں۔ اس موقع پراللہ کے نہایت مقرب فرشتے حضرت جبریل امینؑ بھی زمین پر اترتے ہیں۔
برکت اور سلامتی کی عظیم رات:سورہ قدر میں اس رات کی عظمت وبرکت کو 2 پہلوئوں سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک پہلو سے یہ بات بیان ہوئی ہے کہ’’یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلوب اس کی برکتوں اور فیض رسانیوں کی کثرت کو بیان کرنے کیلئے اختیار کیا گیا ہے۔ اس سے مقصود انسانوں پر یہ واضح کرنا ہے کہ یہ کوئی عام رات نہیں ہے کہ اسے سو کر گزار دیا جائے، بلکہ اگر پروردگار کے التفات اور نظرکرم کے حوالے سے دیکھا جائے تو ہزار مہینوں کی راتیں بھی اس کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔
جاوید احمد غامدی: اس آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:’’ہزار مہینوں ‘‘ کی تعبیر بیان کثرت کیلئے ہے اور اس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امور مہمہ کی تنفیذ کے ساتھ خاص ہونے کی وجہ سے جو رحمتیں ، برکتیں اور خدا سے قرب کے جو مواقع اس ایک رات میں حاصل ہوتے ہیں، وہ ہزاروں راتوں میں بھی نہیں ہو سکتے۔‘‘(البیان 215) دوسرے پہلو سے یہ فرمایا کہ :’’یہ رات سراسر سلامتی ہے، طلوع فجر تک۔‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے دوران میں اللہ تعالیٰ آفات کو روک دیتے، شیطانوں کی کارروائیوں پر پابندی لگا دیتے اور انسانوں کیلئے اپنے قرب اور اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ انہی برکات کے پیش نظر قرآن مجید نے اسے لیلہ مبارکہ سے بھی تعبیر کیا ہے۔
لیلۃ القدر کا تعین:قرآن مجید اور احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لیلۃ القدر ماہ رمضان ہی کی رات ہے، مگر یہ کون سی رات ہے، اس کی تصریح قرآن میں نہیں ہے۔ احادیث سے البتہ یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ بعض روایتوں میں آخری 7 دنوں کی صراحت بھی ہے۔ بعض میں صحابہ کرامؓ کے حوالے سے اکیسویں، تیئسویں اور ستائیسویں رات کے بارے میں قیاسات نقل ہوئے ہیں، بعض میں اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات کا ذکر آیا ہے۔ تاہم اس موضوع کی تمام روایتوں پر نظر ڈالنے سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ یہ رمضان کی آخری 10 راتوں میں سے کوئی طاق رات ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اس روایت سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔وہ بیان کرتے ہیںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’ لیلۃ القدر کو تلاش کرو رمضان کی آخری10 تاریخوں میں۔ ‘‘یعنی اکیس یا انتیس کو، تئیس یا ستائیس کو یا پچیس کو۔‘‘(بخاری)لیلۃ القدر کی متعین تاریخ نہ بتانے کی حکمت بظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ لوگوں کے اندر اس رات کو پانے کی جستجو پیدا ہو۔ اس جستجو میں وہ کئی راتیں عبادت میں گزاریں اور اپنے لیے اجر کا سامان پیدا کریں۔

مزید پڑھیں

 یہ رات ہمارے رب نے بطور انعام ہمارے لیے مختص کی ہے، جس میں ہماری نجات کا مکمل سامان رکھا ہے ۔حضرت عبداللہ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ؐاللہ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ رمضان میں ہوتی ہے۔ ( ابودائود ) مفسرین لکھتے ہیں کہ جس رات میں قرآن نازل کیا گیا تھا اور جس کو قرآن حکیم میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے، چوں کہ وہ رمضان کی ایک رات تھی اس لیے لازماََ ہر رمضان میں ایک رات لیلۃ القدر ہے۔ لیکن کو ن سی رات ہے اس کا تعین نہیں ہوسکا، بہ جز اس کے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)

مزید پڑھیں

 رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے‘ جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل رات ہے۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے کیونکہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے اور ہزار مہینے کے83 برس4 ماہ بنتے ہیں ،اس لئے ’’خیر من الف شھر‘‘ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کریم جتنا زیادہ اجر عطا فرمانا چاہے گا‘ عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں