☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
شب قدر ۔۔۔۔ہزار مہینوں سے افضل رات

شب قدر ۔۔۔۔ہزار مہینوں سے افضل رات

تحریر : علامہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

05-17-2020

 رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے‘ جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل رات ہے۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے کیونکہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے اور ہزار مہینے کے83 برس4 ماہ بنتے ہیں ،اس لئے ’’خیر من الف شھر‘‘ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کریم جتنا زیادہ اجر عطا فرمانا چاہے گا‘ عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔

شب قدر کا معنی و مفہوم:۔امام زہریؒ بیان کرتے ہیں کہ قدر کے معنی مرتبہ کے ہیں ‘چونکہ یہ رات باقی راتوں کے مقابلے میں شرف و مرتبہ کے لحاظ سے بلند ہے‘ اس لئے اسے ’’لیلۃ القدر‘‘ کہا جاتا ہے۔(تفسیر القرطبی‘ 20: 130)حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو تمام فیصلے فرما لیتا ہے اور چونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سال کی تقدیر و فیصلے کا قلمدان فرشتوں کو سونپا جاتا ہے ‘اس وجہ سے یہ ’’لیلۃ القدر‘‘ کہلاتی ہے۔(تفسیر القرطبی‘ 20: 130 ) اس رات کو قدر کے نام سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے:اس رات میں اللہ تعالی نے اپنی قابل قدر کتاب‘ قابل قدر امت کیلئے صاحبِ قدر رسولؐ کی معرفت نازل فرمائی‘ یہی وجہ ہے کہ اس سورۃ میں لفظ قدر 3 دفعہ آیا ہے۔(تفسیر کبیر‘ 32:28)قدر کے معنی تنگی کے بھی ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے اس رات آسمان سے فرش زمین پر اتنی کثرت کے ساتھ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ زمین تنگ ہو جاتی ہے۔ (تفسیر الخازن‘ 4:395)۔
یہ رات کیوں عطا ہوئی؟:۔اس کے حصول کا سب سے اہم سبب نبی اکرمﷺ کی اس امت پر شفقت اور آپﷺ کی غم خواری ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ:جب رسول پاکﷺکو سابقہ امتوں میں لوگوں کی طویل عمروں بارے آگاہ فرمایا گیا تو آپﷺنے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمر کو کم دیکھتے ہوئے یہ خیال فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی کم عمر میں سابقہ امتوں کے برابر عمل کیسے کر سکیں گے؟(پس) آپؐ نے بارگاہ اقدس میں اپنی امت کیلئے آرزو کرتے ہوئے جب یہ دعا فرمائی کہ اے میرے رب میری امت کے لوگوں کی عمریں کم ہونے کی وجہ سے نیک اعمال بھی کم رہ جائیں گے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے شب قدر عنایت فرمائی۔(تفسیر الخازن‘ ۴:۳۹۷)۔ رسول خداﷺ کا ارشاد پاک ہے:یہ مقدس رات اللہ تعالیٰ نے فقط میری امت کو عطا فرمائی ہے سابقہ امتوں میں سے یہ شرف کسی کو بھی نہیں ملا۔(الدر المنثور‘ 6:371)
فضیلتِ شب قدر:احادیث کی روشنی میں:۔حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:جس شخص نے شب قدر میں اجر و ثواب کی امید سے عبادت کی‘ اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔(صحیح البخاری‘ 1:270‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 1910)اس ارشاد نبویؐ میں جہاں لیلۃ القدر کی ساعتوں میں ذکر و فکر‘ عبادت و طاعت کی تلقین کی گئی ہے‘ وہاں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہو‘ ریاکاری یا بدنیتی نہ ہو اور آئندہ عہد کرے کہ میں برائی کا ارتکاب نہیں کروں گا‘ چنانچہ اس شان کے ساتھ عبادت کرنے والے بندے کیلئے یہ رات مژدئہ مغفرت بن کر آتی ہے۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر ایک مرتبہ رسول پاکﷺنے فرمایا:’’یہ جو ماہ تم پر آیا ہے‘ اس میں ایک ایسی رات ہے‘ جو ہزار ماہ سے افضل ہے‘ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا‘ گویا وہ خیر سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ِخیر وبرکت ہو‘‘۔(سنن ابن ماجہ ، کتاب الصیام)ایسے شخص کی محرومی میں واقعتا کیا شک ہو سکتاہے‘ جو اتنی بڑی نعمت کو غفلت کی وجہ سے گنوا دے۔ جب انسان معمولی معمولی باتوں کیلئے کتنی راتیں جاگ کر بسر کر لیتا ہے تو اسی سال کی عبادت سے افضل عبادت کے لئے دس راتیں کیوں نہیں جاگ سکتا۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’شب قدر کو جبرائیل امینؑ فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں اور ہر شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے‘ بیٹھے کسی بھی حال میں اللہ کو یاد کر رہا ہو‘‘۔(شعب الایمان)۔
دیگر اہم مخفی امور مثلاً اسمِ اعظم‘ جمعہ کے روز قبولیت دعا کی گھڑی کی طرح اس رات کو بھی مخفی رکھا گیا۔اگر اسے مخفی نہ رکھا جاتا تو عمل کی راہ مسدود ہو جاتی۔اللہ تعالیٰ کو چونکہ اپنے بندوں کا رات کے اوقات میں جاگنا اور بیدار رہنا محبوب ہے‘ اس لئے رات متعین نہ فرمائی ‘تاکہ اس کی تلاش میں متعدد راتیں عبادت میں گزریں۔علاوہ ازیں ایک نہایت اہم وجہ اس کے مخفی کر دینے کی جھگڑا بھی ہے ‘ حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی حدیث میں موجود ہے :ایک مرتبہ رسالت مآبﷺ شب قدر کے تعین کے بارے میں آگاہ کرنے کیلئے گھر سے باہر تشریف لائے‘ لیکن راستے میں 2 آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے بارے میں اطلاع دینے آیا تھا‘ مگر فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے اس کاتعین اٹھا لیا گیا۔(صحیح البخاری‘ 1:271‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 1919)۔
شب قدر کے تعین کے بارے میں تقریباً 50 اقوال ہیں‘ ان میں سے دو اقوال نہایت ہی قابل توجہ ہیں۔رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ رسالت مآبﷺنے فرمایا:لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔(صحیح البخاری‘ 1:270‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 1913)چونکہ اعتکاف کا مقصد بھی تلاشِ لیلتہ القدر ہے‘ اس لئے ان آخری ایام کا اعتکاف سنت قرار دیا گیا۔ نبی اکرمﷺکو جب تک اللہ تعالیٰ نے اس شب قدر کی تعین سے آگاہ نہیں فرمایا تھا‘ آپﷺ اس کی تلاش کیلئے پورا رمضان اعتکاف کرتے تھے‘ لیکن جب آگاہ فرما دیا گیا تو وصال تک صرف آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے رہے۔
رمضان المبارک کی 27ویں شب شبِ قدر ہے۔ جمہور علماء اسلام کی یہی رائے ہے۔ امام قرطبیؒ بیان کرتے ہیں:علماء کا شب قدر کی تعین کے بارے میں اختلاف ہے‘ لیکن اکثریت کی رائے یہی ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں شب ہے۔( تفسیرالقرطبی‘ 20:134) علامہ آلوسیؒ لکھتے ہیں:علماء کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ طاق راتوں میں سے 27ویںہے۔(روح المعانی‘ 30:220)ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور قاری قرآن حضرت ابی بن کعبؓ کی بھی یہی رائے ہے کہ رسالت مآبﷺ نے جو اس کی علامت بیان فرمائی ہے ‘وہ اسی رات میں پائی جاتی ہے۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ 27ویں کو شب قدر قرار دیتے ہوئے تین دلیلیں بیان کیا کرتے تھے۔ جس کو امام رازیؒ نے اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے۔لفظ لیلۃ القدر کے 9حروف ہیں اور اس کا تذکرہ 3 دفعہ ہوا ہے اور مجموعہ27 ہو گا۔(تفسیر کبیر‘ 23:30)
سورۃ القدر کے کل 30 الفاظ ہیں‘ جن کے ذریعے شب قدر کے بارے میں بیان کیا گیا ہے لیکن اس سورۃمیں جس لفظ کے ساتھ اس رات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ’’ ھی‘‘ ضمیر ہے اور یہ لفظ اس سورۃ کا 27واں لفظ ہے۔سورۃ کے کل کلمات 30 ہیں (اور ان میں) ھی ستائیسواں کلمہ ہے۔حضرت فاروق اعظمؓ نے حضرت ابن عباسؓ سے شب قدر کے تعین کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کو طاق عدد پسند ہے اور طاق عددوں میں سے بھی7 کے عدد کو ترجیح حاصل ہے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کائنات کی تخلیق میں 7 کے عدد کو نمایاں کیا ہے مثلاً7 آسمان‘ 7 زمین‘ ہفتہ کے دن 7‘ طواف کے چکر 7 وغیرہ۔(تفسیر کبیر)
شب قدر کا وظیفہ:۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسالت مآبﷺ سے عرض کیا کہ شب قدر کا کیا وظیفہ ہونا چاہئے تو آپﷺنے ان الفاظ کی تلقین فرمائی:اے اللہ تو معاف کر دینے والا اور معافی کو پسند فرمانے والا ہے پس مجھے بھی معاف کر دے۔(مسند احمد بن حنبل‘6:171‘ 182)

مزید پڑھیں

 یہ رات ہمارے رب نے بطور انعام ہمارے لیے مختص کی ہے، جس میں ہماری نجات کا مکمل سامان رکھا ہے ۔حضرت عبداللہ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ؐاللہ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ رمضان میں ہوتی ہے۔ ( ابودائود ) مفسرین لکھتے ہیں کہ جس رات میں قرآن نازل کیا گیا تھا اور جس کو قرآن حکیم میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے، چوں کہ وہ رمضان کی ایک رات تھی اس لیے لازماََ ہر رمضان میں ایک رات لیلۃ القدر ہے۔ لیکن کو ن سی رات ہے اس کا تعین نہیں ہوسکا، بہ جز اس کے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)

مزید پڑھیں

  اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس سے مراد لَیلَۃْ القَدر ہے، یعنی وہ رات جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے۔ ترجمہ: ’’ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے‘‘۔ (سورۃ القدر)

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں