☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
مغفرت کی رات

مغفرت کی رات

تحریر : عبد القادر شیخ

05-17-2020

 یہ رات ہمارے رب نے بطور انعام ہمارے لیے مختص کی ہے، جس میں ہماری نجات کا مکمل سامان رکھا ہے ۔حضرت عبداللہ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ؐاللہ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ رمضان میں ہوتی ہے۔ ( ابودائود ) مفسرین لکھتے ہیں کہ جس رات میں قرآن نازل کیا گیا تھا اور جس کو قرآن حکیم میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے، چوں کہ وہ رمضان کی ایک رات تھی اس لیے لازماََ ہر رمضان میں ایک رات لیلۃ القدر ہے۔

لیکن کو ن سی رات ہے اس کا تعین نہیں ہوسکا، بہ جز اس کے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)

لیلۃ القدر مجموعہ ہے دو لفظوں یعنی لیل بہ معنی شب یعنی رات اور قدر کے معنی رتبہ، مرتبہ قابل احترام اور عظمت کے ہیں۔ قدر کے اور بہت سے معنی مفسرین نے اپنی تشریح میں لکھے ہیں۔ اگر اس سورہ کو بہ غور پڑھا جائے تو قدر کے معنی تقدیر بھی ہوسکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے قدر کو ضیق اور تنگی کے معنوں میں لیا ہے اور کچھ نے قضا و قدر کے معنوں میں بھی لیا ہے۔ علماء نے تنگی ان معنوں میں لیا ہے کہ اللہ نے اس رات کی صحیح تاریخ متعین نہیں کی اور یہ بھی کہ آسمان سے ملائکہ نازل ہوتے ہیں کہ کثرت تعدد ملائکہ کی وجہ سے زمین تنگ پڑجاتی ہے یعنی چھوٹی ہوجاتی ہے۔
قرآن حکیم میں اس رات کو ایک اور نام یعنی لیلۃ مبارکہ سے پکارا ہے، مفہوم: ’’ قسم ہے کتاب واضح کی! بے شک ہم نے اس کو نازل کیا ایک مبارک رات میں کیوں کہ ہمیں بلاشبہ ڈرانا مقصود تھا۔‘‘ (سورہ الدخان) یہاں مبارک رات کے معنی برکت والی رات کے ہیں۔ اس رات کی فضیلت اور برکت کتب احادیث میں متعدد مقامات پر آئی ہیں مگر چوں کہ ا س رات کی فضیلت خود قرآن حکیم میں دو مقامات پر آئی ہیں اور پھر سورہ قدر تو پوری اس مبارک رات کی تعریف میں مستقل سورت کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ آپ بہ ذات خود بھی رمضان کے آخری عشرے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں سخت محنت فرماتے تھے۔ اتنی محنت کسی اور مہینے میں نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ صحابہ کرامؓ نے آنحضور ﷺ سے دریافت فرمایا یہ کیسے معلوم ہو کہ جس رات ہم نے عبادت کی ہے وہی شب قدر ہے۔ چناں چہ آپ نے جواب میں اس رات کی نشانیاں بیان فرمائیں۔
ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے ہمیں اس کی ایک نشانی یہ بتائی کہ اس رات کے بعد جو سورج طلوع ہوگا اس میں شعاع نہیں ہوگی۔ (مسلم) شعاع نہیں ہوگی سے آپ کی مراد یہ تھی کہ شعاع میں تیزی نہیں ہوگی۔ ایک اور نشانی اس رات کے بارے میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ہم آنحضرت کی خدمت میں شب قدر کا ذکر کر رہے تھے آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو وہ وقت یاد رکھے گا جب چاند نکلتے وقت وہ ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوگا۔ (مسلم) ایک اور روایت میں آیا ہے کہ اس رات میں سکون ہوتا ہے۔ نہ زیادہ گرمی اور نہ زیادہ سردی ہوتی ہے، آسمان روشن اور صاف ہوتا ہے اور اس کی صبح کو سورج کی شعاعیں ہلکی ہوتی ہیں۔
محققین نے یہاں تک تحقیق کی ہے کہ اس رات کتے نہیں بھونکتے اور علم الاعداد کے ماہرین نے تو بہت دل چسپ بات کہی ہے کہ سورہ قدر میں لیل کا ذکر 3 مرتبہ آیا ہے جو کہ اعداد کے اعتبار سے 27 بنتے ہیں۔ یعنی شب قدر 27 ویں شب کو ہوتی ہے۔ آئمہ کرام کے بھی اس رات کے تعین میں مختلف اقوال ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ بیان کرتے ہیں یہ رات تمام سال میں دائر رہتی ہے ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ تمام رمضان میں دائر رہتی ہے، صاحبین کا قول ہے کہ تمام رمضان کی کسی ایک رات میں ہے۔ جب کہ شافعیہ کا قول یہ ہے کہ 21 ویں شب میں ہونا اقرب ہے۔
امام احمد بن حنبل ؒ بیان کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے جو کسی سال کسی رات میں اور کسی سال کسی اور رات میں ہوتی ہے۔ لیکن جمہور علماء کی رائے میں ستائیسویں رات میں زیادہ امید ہے۔ ہمیں شب قدر کی تلاش میں رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سعی کرنا چاہیے اس عشرہ کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے خدائے برتر سے لو لگانی چاہیے کہ وہ عفو در گزر کرنے والا ہے اور اس رات آئندہ کے لیے تجدید عہد کیا جائے کہ ہمارا کوئی لمحہ اس کی نافرمانی میں نہیں گزرے گا۔ یہ رات ہمارے رب نے بہ طور انعام ہمارے لیے مختص کی ہے، جس میں ہماری بخشش کا نجات کا مکمل سامان رکھا ہے۔
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ جب لیلتہ القدر ہوتی ہے تو جبرئیل ملائکہ کے جھرمٹ میں اترتے ہیں اور ہر اس بندے کے لیے دعا کرتے ہیں جو اس وقت کھڑا ہوا یا بیٹھا ہوا اللہ کا ذکر کر رہا ہو۔ (بیہقی) ظاہر ہے کہ جب ملائکہ گنا ہ گاروں بندوں کے لیے دعا کر رہے ہوں گے تو یقینا اس کی رحمت کا سمندر موجزن ہوگا جو انشاء اللہ ہماری مغفرت کا باعث ہوگا۔

مزید پڑھیں

 رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے‘ جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل رات ہے۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے کیونکہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے اور ہزار مہینے کے83 برس4 ماہ بنتے ہیں ،اس لئے ’’خیر من الف شھر‘‘ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کریم جتنا زیادہ اجر عطا فرمانا چاہے گا‘ عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔

مزید پڑھیں

  اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس سے مراد لَیلَۃْ القَدر ہے، یعنی وہ رات جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے۔ ترجمہ: ’’ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے‘‘۔ (سورۃ القدر)

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں