☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر فیض احمد چشتی ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) تجزیہ(خالد نجیب خان) فیشن(طیبہ بخاری ) شوبز(مروہ انصر چوہدری ) رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کھیل(طیب رضا عابدی ) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
عیدین کی نماز

عیدین کی نماز

تحریر : جاوید احمد غامدی

05-24-2020

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے:
یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی،
دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی،
قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

نماز کے لیے نہ اذان ہو گی اور نہ تکبیر کہی جائے گی،
نماز کے بعد امام حاضرین کی تذکیر ونصیحت کے لیے دو خطبے دے گا۔ یہ خطبے کھڑے ہو کر دئیے جائیں گے۔ پہلے خطبے کے بعد اور دوسرا خطبہ شروع کرنے سے قبل امام چند لمحوں کے لیے بیٹھے گا۔
اِس نماز کا خطاب اور اِس کی امامت بھی نماز جمعہ کی طرح مسلمانوں کے ارباب حل وعقد ہی کریں گے اور یہ اْنہی مقامات پر ادا کی جائے گی جو اْن کی طرف سے اِس نماز کی جماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے اور جہاں وہ خود یا اْن کا کوئی نمائندہ اِس کی امامت کے لیے موجود ہو گا۔
اِس نماز کے لیے سنت یہی ہے۔
اِس کی تکبیروں کے بارے میں یہ بات، البتہ واضح رہنی چاہیے کہ اْن کی کوئی تعداد مقرر نہیں کی گئی۔ مسلمان اپنی سہولت کے مطابق قراء ت سے پہلے یا اِس کے بعد جتنی تکبیریں چاہیں، کہہ سکتے ہیں اور اْن کے ساتھ رفع یدین بھی کر سکتے ہیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض موقعوں پر پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہی ہیں۔
اِسی طرح یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ عورتیں بھی عیدین کی نمازمیں مردوں ہی کی طرح پورے اہتمام کے ساتھ شریک ہوں گی۔ام عطیہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حائضہ عورتوں کے بارے میں فرمایا : وہ نماز نہ پڑھیں، لیکن مسلمانوں کی جماعت اور اْن کی دعا میں ضرور شامل ہو جائیں۔

مزید پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  ’’عید‘‘ کا لفظ ’’عود‘‘ سے بنا ہے،جس کامعنی ’’لوٹنا‘‘ اور’’خوشی‘‘کے ہیں، کیونکہ یہ دن مسلمانوں پر باربار لوٹ کر آتاہے اورہرمرتبہ خوشیاں ہی خوشیاں دے جاتاہے، اس لئے اس کو عید کہتے ہیں۔ نیزیہ کہ اللہ تعالیٰ ہرسال اس دن اپنے بندوں پرانواع واقسام اورطرح طرح کے انعامات اوراحسانات لوٹاتاہے اور اس دن خوشی ومسرت کااظہارکرنالوگوں کی عادت ہے۔ یہ دن فرزندانِ اسلام کیلئے نہایت ہی مسرت وشادمانی کادن ہوتاہے۔ یہ دن بچوں، بوڑھوں،جوانوں اورعورتوں سب کیلئے یکساں طورپر خوشیوں کاپیغام لاتاہے اورہر ایک بندہ اپنے غموں، پریشانیوں اور مصائب وآلام کو یکسر بھول کرعیدکی حقیقی خوشیوں اور جشنِ طرب سے لطف اندوز ہوتاہے۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 یہ رات ہمارے رب نے بطور انعام ہمارے لیے مختص کی ہے، جس میں ہماری نجات کا مکمل سامان رکھا ہے ۔حضرت عبداللہ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ؐاللہ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ رمضان میں ہوتی ہے۔ ( ابودائود ) مفسرین لکھتے ہیں کہ جس رات میں قرآن نازل کیا گیا تھا اور جس کو قرآن حکیم میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے، چوں کہ وہ رمضان کی ایک رات تھی اس لیے لازماََ ہر رمضان میں ایک رات لیلۃ القدر ہے۔ لیکن کو ن سی رات ہے اس کا تعین نہیں ہوسکا، بہ جز اس کے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)

مزید پڑھیں

 رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے‘ جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل رات ہے۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے کیونکہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے اور ہزار مہینے کے83 برس4 ماہ بنتے ہیں ،اس لئے ’’خیر من الف شھر‘‘ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کریم جتنا زیادہ اجر عطا فرمانا چاہے گا‘ عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔

مزید پڑھیں

  اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس سے مراد لَیلَۃْ القَدر ہے، یعنی وہ رات جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے۔ ترجمہ: ’’ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے‘‘۔ (سورۃ القدر)

مزید پڑھیں