☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر فیض احمد چشتی ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) تجزیہ(خالد نجیب خان) فیشن(طیبہ بخاری ) شوبز(مروہ انصر چوہدری ) رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کھیل(طیب رضا عابدی ) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
احکام فطرانۂ عید

احکام فطرانۂ عید

تحریر : ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

05-24-2020

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔

عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔


(1) فطرانہ کی مقدار: عید کے دن صدقہِ فطر بھی ادا کریں‘ جو صاحب نصاب پرواجب ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ صدقۂِ فطر روزوں کو لغواور گندی باتوں سے پاک کرنے کیلئے اور مسکینوں کی روزی کیلئے مقرر کیا گیا ہے(ابوداؤد)۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صدقتہ الفطر کو ضروری قرار دیا۔ (فی کس ) ایک صاع کھجوریں یا اس قدر جو دیئے جائیں۔ غلام اور آزاد‘ مذکر اور مونث (یعنی مرد اور عورت ) اور ہر چھوٹے بڑے مسلمان کی طرف سے ‘ اور نماز عید کیلئے لوگوں کو جانے سے پہلے ادا کرنے کا حکم فرمایا۔

(2) کس پر واجب ہے: صدقہ فطر اس شخص پر واجب ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہے یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت اس کی ملکیت میں ہو یا اگر سونا چاندی اور نقد رقم نہ ہو اور ضرورت سے زائد سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی بن سکتی ہو تو اس پر بھی صد قۃ الفطر واجب ہے ۔ زکوٰۃ فرض ہونے کیلئے یہ ضروری ہے کہ مال پر چاند کے حساب سے 1 سال گزرجائے لیکن صدقۃ الفطر واجب ہونے کیلئے یہ شرط نہیں ہے۔ اگر رمضان کی30 تاریخ کو کسی کے پاس مال آگیا جس پر صدقۃ الفطر واجب ہو جاتا ہے ‘ تو عید الفطر کی صبح صادق ہوتے ہی اس پر صدقۂِ فطر واجب ہو جائے گا۔

(3) روزوں کی قبولیت: صدقۃ الفطر ادا کر دینے سے روزوں کی قبولیت کی راہ میں کوئی اٹکانے والی چیز باقی نہیں رہ جاتی ہے۔

(4) ادائیگی فطرانہ: صدقہِ فطر بالغ عورت پر اپنی طرف سے دینا واجب ہے ۔ شوہر کے ذمہ اس کا صدقہ فطر ادا کرنا ضروری نہیں ‘ اور جو نا بالغ اولاد ہے اس کی طرف سے والد پر صدقہ دینا واجب ہے۔ بچوں کی والدہ کے ذمے بچوں کا صدقہ فطر دینا لازم نہیں ہے۔

(5)جو اور گیہوں وغیرہ: حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانے میں جو اور گیہوں وغیرہ ناپ کر فروخت کیا کرتے تھے اور ان چیزوں کو تولنے کی بجائے ناپنے کا رواج تھا۔ اس زمانے میں ناپنے کا جو ایک پیمانہ تھا اسی کے حساب سے حدیث شریف میں صدقہِ فطر کی مقدار بتائی ہے۔ ایک صاع کچھ اوپر ساڑھے تین سیر کا ہوتا تھا۔

(6) وقت ادائیگی: صدقۂِ فطر عید کے دن کی صبح کے طلوع ہونے پر واجب ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اس سے پہلے مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ فطر واجب نہیں ۔ صدقۃ الفطر عید سے پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ اگر پہلے ادا کیا تو عید کی نماز کے لئے جانے سے پہلے ادا کر دیا جائے ۔ اگر کسی نے نماز عید سے پہلے یا بعد نہ دیا تو ساقط نہ ہوگا۔ اس کی ادائیگی برابر ذمہ رہے گی ۔ جو بچہ عیدالفطر کی صبح صادق ہو جانے کے بعد ہوا ہو اس کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب نہیں۔

(7) نابالغ شخص : اگر کسی نا بالغ کی ملکیت میں خود اپنا مال ہو جس پر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے تو اس کا وارث اسی کے مال سے اس کا فطر انہ اداکرے۔ اپنے ما ل سے دینا واجب نہیں۔

(8) رشتہ داروں کو صدقہ فطر: جن رشتہ داروں کو زکوٰۃ اور صدقہ فطر دینا جائز ہے ان کو دینے سے دہرا ثواب ہوتا ہے۔

(9) غریب نوکروں کو ادائیگی: اپنے غریب نوکروں کو بھی زکوٰۃ اور صد قہ فطر دیا جا سکتا ہے مگر ان کی تنخواہ میں لگانا درست نہیں۔

(10) دیگررشتہ داروں کو ادائیگی: اپنی اولاد کو یا ماں باپ اور نانا نانی ‘دادا دادی کو زکوٰۃ اور صدقہ فطر نہیں دے سکتے البتہ دوسرے دشتہ داروں مثلاً بھائی‘ بہن ‘چچا ‘ ماموں‘ خالہ وغیرہ کو دے سکتے ہیں ۔شوہر بیوی کو ‘ بیوی شوہر کوبھی صدقہ فطر ادا نہیں کر سکتی ہے۔

(11) کن کو دینا جائز نہیں: جس پر زکوٰۃ خود واجب ہو یا زکوٰۃ واجب ہونے کے بقدراس اس کے پاس مال ہویا ضرورت سے زائد سامان ہو جس کے وجہ سے صدقہ فطرواجب ہو جاتا ہے۔ توا یسے شخص کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں جس کی حیثیت اس سے کم ہو ،اسے زکوٰۃ اور فطر دے سکتے ہیں۔

(12) ایک ہی محتاج کو دینا: صدقہ فطر ایک محتاج کو دے دینا یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی محتاجوں کو دے دینا دونوں صورتیں جائز ہیں اور یہ بھی جائز ہے کہ چند آدمیوں کا صدقہ ہی ایک محتاج کو دے دیا جائے۔

(13) روزے نہ رکھنے کی صورت میں بھی ادائیگی ہے: اگر کسی بالغ مرد عورت نے کسی وجہ سے روزے نہ رکھے تب بھی صدقہ فطر کا نصاب ہونے پر صدقہ فطر کی ادئیگی واجب ہے۔

(14) متبادل جنس: صدقہ فطر میں جو، گیہوں یاکوئی اور متبادل جنس نقد قیمت بھی دی جاسکتی ہے بلکہ اس کا دینا افضل ہے۔

مزید پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں

  ’’عید‘‘ کا لفظ ’’عود‘‘ سے بنا ہے،جس کامعنی ’’لوٹنا‘‘ اور’’خوشی‘‘کے ہیں، کیونکہ یہ دن مسلمانوں پر باربار لوٹ کر آتاہے اورہرمرتبہ خوشیاں ہی خوشیاں دے جاتاہے، اس لئے اس کو عید کہتے ہیں۔ نیزیہ کہ اللہ تعالیٰ ہرسال اس دن اپنے بندوں پرانواع واقسام اورطرح طرح کے انعامات اوراحسانات لوٹاتاہے اور اس دن خوشی ومسرت کااظہارکرنالوگوں کی عادت ہے۔ یہ دن فرزندانِ اسلام کیلئے نہایت ہی مسرت وشادمانی کادن ہوتاہے۔ یہ دن بچوں، بوڑھوں،جوانوں اورعورتوں سب کیلئے یکساں طورپر خوشیوں کاپیغام لاتاہے اورہر ایک بندہ اپنے غموں، پریشانیوں اور مصائب وآلام کو یکسر بھول کرعیدکی حقیقی خوشیوں اور جشنِ طرب سے لطف اندوز ہوتاہے۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 یہ رات ہمارے رب نے بطور انعام ہمارے لیے مختص کی ہے، جس میں ہماری نجات کا مکمل سامان رکھا ہے ۔حضرت عبداللہ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ؐاللہ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ رمضان میں ہوتی ہے۔ ( ابودائود ) مفسرین لکھتے ہیں کہ جس رات میں قرآن نازل کیا گیا تھا اور جس کو قرآن حکیم میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے، چوں کہ وہ رمضان کی ایک رات تھی اس لیے لازماََ ہر رمضان میں ایک رات لیلۃ القدر ہے۔ لیکن کو ن سی رات ہے اس کا تعین نہیں ہوسکا، بہ جز اس کے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)

مزید پڑھیں

 رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے‘ جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل رات ہے۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے کیونکہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے اور ہزار مہینے کے83 برس4 ماہ بنتے ہیں ،اس لئے ’’خیر من الف شھر‘‘ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کریم جتنا زیادہ اجر عطا فرمانا چاہے گا‘ عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔

مزید پڑھیں

  اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس سے مراد لَیلَۃْ القَدر ہے، یعنی وہ رات جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے۔ ترجمہ: ’’ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے‘‘۔ (سورۃ القدر)

مزید پڑھیں