☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر فیض احمد چشتی ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) تجزیہ(خالد نجیب خان) فیشن(طیبہ بخاری ) شوبز(مروہ انصر چوہدری ) رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کھیل(طیب رضا عابدی ) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
ایثار و ہمدردی کی ضرورت

ایثار و ہمدردی کی ضرورت

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم مبارکپوری

05-24-2020

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

 

جہاں اسلام نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو ایک خاص رنگ میں ڈھالا ہے وہیں اس نے تہواروں کو بھی ایک نئی شکل دی ہے اسلامی تہوار دنیا کے دیگر مذاہب کے تہواروں سے مختلف ہیں۔ اسلامی تہواروں میں تہوار کی سماجی اہمیت اور اسے منانے کے طریقے، اور اس کی اخلاقی روح نمایاں رہتی ہے۔ عید ا لفطر اور عید الاضحی جملہ انسانیت کیلئے مشترکہ جذبات و روایات کے مظہر ہیں۔ اس لیے اسلام ان دونوں عیدوں میں اللہ کی عبادت اور اس کے بندوں کے ساتھ خیرخواہی اور ایثار و ہمدردی کو خوب اہمیت دیتا ہے۔
عیدالفطر موجودہ اعلیٰ اور ارفع ماہِ عبادت (یعنی رمضان ) کے اختتام پر منائی جاتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جو لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے، وہ مختلف اقوام و ملل کے افراد تھے۔ان لوگوں کی مختلف تہواروں سے وابستگی تھی کسی کا تہوار صرف کھیل کود تھا، تو کسی کا لطف و تفریح، کہیں مہذب تفریحات تھیں تو کہیں سنجیدہ مراسم اور مشترک جذبات کا اظہار تھا۔ غرضیکہ ان کے تہواروں کے الگ الگ طریقے اور الگ الگ انداز تھے۔ہر قوم و ملت میں عیدکا کسی نہ کسی طرح وجود ہے اور قریب تمام اقوام میں اجتماعی خوشی و مسرت کے اظہار کا کوئی نہ کوئی طریقہ رہا ہے۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام جو احسن الادیان اور تاقیامت باقی رہنے والا دین ہے جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیاء اور امت مسلمہ خیر امت ہے، ان کے یہاں عید کا کوئی تصور نہ ہو، ایسا ممکن نہیں۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فداہ ابی و امی محسنِ انسانیت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’‘‘ہر قوم کی ایک عید ہے، اور یہ ہماری عید ہے۔‘‘ (بخاری: 949، 952، 987، مسلم 6/183-184)دوسری روایت میں ہے : ’’یہ عیدالفطر ہم اہل اسلام کی عید ہے۔‘‘(بخاری 2/474)
قوموں کی تاریخ میں بعض اوقات مذہبی، سیاسی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی یا اور کسی پہلو سے بعض ایسے ہمہ گیر اور انقلاب آفریں واقعات پیش آجاتے ہیں جو اپنی نوعیت اور اپنی اثر آفرینی کے لحاظ سے اس قوم کی اجتماعی زندگی کا اٹوٹ حصہ، اور اس کے قومی مزاج و کردار کا ایک اہم عنصر بن جاتے ہیں۔ قوم ایسے واقعات کی یاد میں خوشی مناتی ہے، اور جشن کا اہتمام کرتی ہے۔ یہی جشنِ مسرت جس کا بار بار اہتمام کیا جاتا ہے عربی زبان میں ’’ عید‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس اعتبار سے عید ہر وہ قومی اور ملی دن ہے جس میں کسی صاحب فضل یا کسی بڑے واقعہ کی یادگار منائی جائے۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں

  ’’عید‘‘ کا لفظ ’’عود‘‘ سے بنا ہے،جس کامعنی ’’لوٹنا‘‘ اور’’خوشی‘‘کے ہیں، کیونکہ یہ دن مسلمانوں پر باربار لوٹ کر آتاہے اورہرمرتبہ خوشیاں ہی خوشیاں دے جاتاہے، اس لئے اس کو عید کہتے ہیں۔ نیزیہ کہ اللہ تعالیٰ ہرسال اس دن اپنے بندوں پرانواع واقسام اورطرح طرح کے انعامات اوراحسانات لوٹاتاہے اور اس دن خوشی ومسرت کااظہارکرنالوگوں کی عادت ہے۔ یہ دن فرزندانِ اسلام کیلئے نہایت ہی مسرت وشادمانی کادن ہوتاہے۔ یہ دن بچوں، بوڑھوں،جوانوں اورعورتوں سب کیلئے یکساں طورپر خوشیوں کاپیغام لاتاہے اورہر ایک بندہ اپنے غموں، پریشانیوں اور مصائب وآلام کو یکسر بھول کرعیدکی حقیقی خوشیوں اور جشنِ طرب سے لطف اندوز ہوتاہے۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 یہ رات ہمارے رب نے بطور انعام ہمارے لیے مختص کی ہے، جس میں ہماری نجات کا مکمل سامان رکھا ہے ۔حضرت عبداللہ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ؐاللہ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ رمضان میں ہوتی ہے۔ ( ابودائود ) مفسرین لکھتے ہیں کہ جس رات میں قرآن نازل کیا گیا تھا اور جس کو قرآن حکیم میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے، چوں کہ وہ رمضان کی ایک رات تھی اس لیے لازماََ ہر رمضان میں ایک رات لیلۃ القدر ہے۔ لیکن کو ن سی رات ہے اس کا تعین نہیں ہوسکا، بہ جز اس کے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)

مزید پڑھیں

 رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے‘ جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل رات ہے۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے کیونکہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے اور ہزار مہینے کے83 برس4 ماہ بنتے ہیں ،اس لئے ’’خیر من الف شھر‘‘ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کریم جتنا زیادہ اجر عطا فرمانا چاہے گا‘ عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔

مزید پڑھیں

  اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس سے مراد لَیلَۃْ القَدر ہے، یعنی وہ رات جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے۔ ترجمہ: ’’ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے‘‘۔ (سورۃ القدر)

مزید پڑھیں