☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غورطلب(ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() خواتین(نجف زہرا تقوی) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) ستاروں کی چال(مرزا وحید بیگ)
سورج گرہن کے وقت کی عبادات

سورج گرہن کے وقت کی عبادات

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن

06-21-2020

 اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی نشانیوں سے ڈراتے ہیں تاکہ وہ عبرت و نصیحت حاصل
کریں اور اللہ ہی کی طرف رجوع کریں،سورج گرہن بھی ا ن میں سے ایک ہے

 اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے سورج اور چاند دو بڑی نشانیاں ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ایک حساب کے تحت طلوع و غروب کے نظام میں جکڑے ہوئے ہیں اسی مقرر کردہ حساب کی ایک نوع یہ بھی ہے کہ ان کو مختلف اوقات میں گرہن لگتاہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق 21 جون کو سورج کو گرہن لگے گا۔ آئیے اس بارے جانتے ہیں کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کیا ہیں؟ مزید یہ کہ اس موقع پر اسلام توہمات کی کیسے تردید کرتا ہے؟ ان کے دکھلانے کا مقصد اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ ذکر فرماتے ہیں:
وَمَا نُرْسِلُ بِالْآیَاتِ إِلَّا تَخْوِیفًا۔(سورۃ الاسراء، رقم الآیۃ: 59)
ترجمہ:اور ہم ڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا تو حضرت نبی کریمﷺ اٹھے کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے۔(صحیح البخاری، الرقم: 1059) آپﷺ نے مسجد میں آکر بہت ہی لمبا قیام فرمایا، لمبا رکوع اور لمبے سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی۔(حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ )میں نے کبھی آپﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔(صحیح البخاری، الرقم: 1059)۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی نشانیوں سے ڈراتے ہیں تاکہ وہ عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اللہ ہی کی طرف رجوع کریں۔ یہ واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک مرتبہ کوفہ میں زلزلہ آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:لوگو!یہ پکی بات ہے کہ تمہارا پروردگار( تمہارے گناہوں پر)تنبیہ اور سرزنش فرما رہا ہے لہٰذا اسے(نیک اعمال کر کے)راضی کر لو۔
اسی طرح یہ بات بھی نقل کی گئی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ طیبہ میں زلزلے کے کئی جھٹکے آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو تمہاری بدعملیوں کی وجہ سے زلزلہ آیا ہے قسم بخدا!اگر دوبارہ زلزلہ آیا تو میں تمہیں سخت سزا دوں گا۔

سورج گرہن اور نماز:۔ نماز، دعا، ذکراللہ، استغفار اور صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورج گرہن کے وقت جو نماز ادا کی جاتی ہے اسے صلوٰۃ الکسوف کہتے ہیں۔ نماز اہم العبادات ہے، تمام عبادات میں اس کی فضیلت بلند ہے، اللہ کی رحمت کو اپنے اوپر متوجہ کرنے کا ذریعہ ہے، مصیبت میں دل کی تسلی کا باعث ہے، اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اپنی عاجزی اور بے بسی کا اظہار ہے، یہی وجہ ہے کہ عام معمولات کے علاوہ جب کبھی کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آتا مثلاً تیز ہوا، آندھی اور طوفانی بارش وغیرہ تو آپﷺ نماز میں مشغول ہو جاتے۔ سورج گرہن بھی ایک غیر معمولی نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں سورج جیسا عظیم الشان جثہ بے نور ہوجاتا ہے تو اس موقع پر نماز کا حکم دیا گیا ہے۔
دعا ایسا نیک عمل ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمارے حق میں اپنی صفت رحمت کو صفت غضب پر غالب فرما لیتے ہیں اور مصائب سے چھٹکارا نصیب فرماتے ہیں۔ سورج گرہن کا وقت بھی انہی اوقات میں شامل ہے جس میں انسان مصیبت اور پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے اس لیے دعا کا حکم دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا،’’جو مصائب نازل ہوچکے یا ہونے والے ہوں اس میں دعا کام آتی ہے۔اس لیے اللہ کے بندو! دعاؤں کا خوب اہتمام کرو‘‘۔(جامع الترمذی، الرقم: 3548)۔اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے اصل تو یہ ہے کہ انسان کا کوئی لمحہ اللہ کی یاد کے بغیر نہیں گزرنا چاہیے لیکن جب کوئی مصیبت یا پریشانی غیر معمولی واقعہ پیش آجائے تو اس موقع پر زبان اور دل دونوں سے اللہ اللہ کی صدا سنائی دینی چاہیے۔ سورج گرہن سے خوف کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اگر اس خوف میں اللہ کی رحمت کی آمیزش نہ کی جائے تو محض خوف مایوسی پیدا کرتا ہے اور یہ مایوسی اللہ سے دور کرتی ہے اس لیے حکم دیا گیا ہے کہ اس موقع پر اللہ کا ذکر کرنا چاہیے کیونکہ قرآنی فیصلہ ہے کہ ذکر اللہ سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے ۔ اللہ کی طرف سے سورج کو گرہن لگنا بطور تنبیہ کے ہوتا ہے کہ اپنے برے اعمال سے باز آجاؤ اور تائب ہو کرمعافی مانگو ورنہ دیکھو کہ میں سورج جیسی عظیم الشان شے کو یوں بے نور کر سکتا ہوں تو تمہیں سزا دینا میرے لیے کیا مشکل ہے؟ لہٰذا اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔
سورج گرہن اور نماز:۔سورج گرہن کے وقت جو نماز ادا کی جاتی ہے اسے صلوٰۃ الکسوف کہتے ہیں جس کے چند اہم مسائل ہم انشاء اللہ آخر میں ذکر کریں گے۔ ابھی یہاں یہ عرض کرنا ہے کہ سورج گرہن کے وقت نماز کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟تو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ نماز اہم العبادات ہے، تمام عبادات میں اس کی فضیلت نرالی اور بلند ہے، اللہ کی رحمت کو اپنے اوپر متوجہ کرنے کا ذریعہ ہے، مصیبت میں دل کی تسلی کا باعث ہے، اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اپنی عاجزی اور بے بسی کا اظہار ہے، یہی وجہ ہے کہ عام معمولات کے علاوہ جب کبھی کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آتا مثلاً تیز ہوا، آندھی اور طوفانی بارش وغیرہ تو آپ ﷺنماز میں مشغول ہو جاتے۔ سورج گرہن بھی ایک غیر معمولی نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے۔
صلوٰۃ الکسوف کے چند مسائل:۔:1صلوٰۃ الکسوف کا وقت سورج گرہن لگنے کی ابتداء سے لے کر گرہن کے زائل ہونے تک رہتا ہے۔ البتہ اوقات مکروہ( جن میں نماز پڑھنا جائز نہیں) میں نہیں پڑھی جاتی۔ ان اوقات مکروہ میں نماز کے علاوہ دعا، استغفار، ذکر اذکار وغیرہ کرتے رہنا چاہیے۔
:2صلوٰۃ الکسوف کے لیے اذان و اقامت نہیں۔
:3صلوٰۃ الکسوف میں خطبہ نہیں ہوتا۔
:4صلوٰۃ الکسوف کی دو رکعتیں ہیں۔
:5صلوٰۃ الکسوف باجماعت ادا کی جائے اگرچہ انفرادا بھی گنجائش ہے۔
:6صلوٰۃ الکسوف سری نماز ہے لیکن جہر کی گنجائش بھی موجود ہے۔
:7صلوٰۃ الکسوف بھی دو رکعات والی عام نماز وں کی طرح ہے یعنی ہر رکعت میں ایک رکوع ہے۔ ہاں قرات اور رکوع و سجود طویل ہونے چاہییں۔
فائدہ:جن روایات میں ایک رکعت میں ایک سے زائد رکوع کا تذکرہ ملتا ہے وہ آپﷺ کی خصوصیت تھی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر دن اور ہر رات شریعت کے موافق گزارنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔آمین
سورج گرہن اور دعا:۔دعا ایسا نیک عمل ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمارے حق میں اپنی صفت رحمت کو صفت غضب پر غالب فرما لیتے ہیں اور مصائب سے چھٹکارا نصیب فرماتے ہیں۔ سورج گرہن کا وقت بھی انہی اوقات میں شامل ہے جس میں انسان مصیبت اور پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے اس لیے دعا کا حکم دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو مصائب نازل ہوچکے یا ہونے والے ہوں اس میں دعا کام آتی ہے۔اس لیے اللہ کے بندو! دعاؤں کا خوب اہتمام کرو۔(جامع الترمذی، الرقم: 3548)۔اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے اصل تو یہ ہے کہ انسان کا کوئی لمحہ اللہ کی یاد کے بغیر نہیں گزرنا چاہیے لیکن جب کوئی مصیبت یا پریشانی غیر معمولی واقعہ پیش آجائے تو اس موقع پر زبان اور دل دونوں سے اللہ اللہ کی صدا سنائی دینی چاہیے۔ سورج گرہن سے خوف کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اگر اس خوف میں اللہ کی رحمت کی آمیزش نہ کی جائے تو محض خوف مایوسی پیدا کرتا ہے اور یہ مایوسی اللہ سے دور کرتی ہے اس لیے حکم دیا گیا ہے کہ اس موقع پر اللہ کا ذکر کرنا چاہیے کیونکہ قرآنی فیصلہ ہے کہ ذکر اللہ سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے ۔
سورج گرہن اور عذاب قبر سے پناہ:۔سرسری طور پر سورج گرہن اور عذاب قبر میں کوئی مناسبت نظر نہیں آتی لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو ان دونوں میں مناسبت موجود ہے اسی لیے اس موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب قبر سے پناہ حاصل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ابن منیر رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ سورج گرہن کے وقت عذاب قبر سے پناہ حاصل کرنے میں مناسبت یہ ہے کہ جیسے قبر میں اندھیرا ہوتا ہے اسی طرح سورج گرہن کے وقت دن میں بھی اندھیرا ہوجاتا ہے(یہ الگ بات ہے کہ قبر کا اندھیرا سورج گرہن کے اندھیرے سے کہیں زیادہ ہوگا ) اور ضابطہ ہے کہ ایک چیز دوسری چیز کے یاد کرنے کا سبب ہوتی ہے اس لیے انسان سورج گرہن کے وقت خوف زدہ ہوتا ہے جس طرح قبر کے عذاب سے خوف زدہ ہوتا ہے تو وہ آخرت کی ہولناکیوں سے نجات دینے والی چیزوں کو اختیار کر کے عبرت حاصل کرتا ہے۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری)
سورج گرہن اور صدقہ و خیرات: ۔اللہ کے راستے میں اپنے مال کو خرچ کر کے مستحق افراد کی ضروریات کو پورا کرنا صدقہ وخیرات کہلاتا ہے۔صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دور کرتا ہے اور بری موت سے حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چپکے سے صدقہ کرنا رب تعالیٰ کے غضب کو دور کرتا ہے اور اعلانیہ صدقہ کرنا بری موت سے بچاتا ہے۔(شعب الایمان للبیہقی، الرقم: 7704)
سورج گرہن اور اصلاح عقائد: ۔ساری دنیا کو اپنی روشنیوں سے روشن کرنے والے سورج کا بے نور ہونا چونکہ غیر معمولی نوعیت کا واقعہ ہوتا ہے اس لیے اس موقع پرمختلف قسم کی باتیں پھیل جاتی ہیں بعض لوگ تو اسے محض اتفاق ہی سمجھتے ہیں جبکہ بعض اس کو اپنے مخصوص نظریات کی زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اسلام ایسے موقع پر اپنے ماننے والوں کو جہاں نیک اعمال کی تعلیم دیتا ہے اس سے پہلے اُن کے عقائد کی اصلاح کرتا ہے تاکہ اس طرح محیر العقول واقعات کو دیکھ کر توہمات میں مبتلا ہو کر اسے محض اتفاق کا کرشمہ مت سمجھیں اور نہ ہی اس بارے کسی طرح کے غیر حقیقی نظریات اپنائیں۔ حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا… اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں۔(صحیح مسلم، الرقم: 2044)۔ یہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں محض اتفاق کا کرشمہ نہیں جیسا کہ منکرین کا نظریہ ہے۔
سورج گرہن اور نجومیوں کا خیال :۔نجومی یعنی سورج، چاند اور ستاروں کی عبادت کرنے والے اور انہی کو نفع و نقصان کا مالک سمجھنے والے لوگوں کا نظریہ ہے کہ سورج اور چاند گرہن کے موقع پر خوف کھانا اور نماز،دعا استغفا ر وغیرہ کی تعلیم سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سورج اور چاند میں ذاتی طور پرنفع و نقصان دینے کے اختیارات موجود ہیں تبھی تو ان کے گرہن لگنے کے موقع پر ڈرا جاتا ہے۔اسلام اس کی تردید کرتا ہے۔ یہ خود رب اور اللہ نہیں کہ ذاتی طور پر کسی کو نفع یا نقصان دے سکیں بلکہ ان کی حیثیت محض قدرت باری تعالیٰ کی نشانیوں کے طور پر ہے اور بس۔
رسول اللہﷺ کی تعلیم:۔حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریمﷺ نے فرمایا: سورج و چاند کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا، یہ تو قدرت خداوندی کی دو نشانیاں ہیں جب انہیں گرہن ہوتے دیکھو تو نماز پڑھو۔(صحیح البخاری، الرقم: 1041)۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورج گرہن کے موقع پر آپﷺ نے فرمایا کہ یہ(سورج اور چاند گرہن ) نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ظاہر فرماتاہے یہ کسی کی موت وحیات کی وجہ سے نہیں آتیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اس لیے جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو فوراً اللہ تعالی کا ذکر کرو ، اس سے دعا اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔( صحیح البخاری، الرقم: 1059)۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک طویل روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے لوگوں کو سورج گرہن کے بارے وہ سب باتیں تعلیم کے طور پر ارشاد فرمائیں جو اللہ چاہتے تھے اور بعد میں انہیں حکم دیا کہ عذاب قبر سے پناہ مانگیں۔(صحیح البخاری، الرقم: 1050)

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ہرانسان کا کوئی نصب العین ہونا چاہیے اگر کسی کا نصب العین نہ ہو تو پھر نیک آدمی کو کس طرح نیکی پر آمادہ کیا جا سکے گا؟ برے شخص کو برائی سے کس طرح روکا جا سکے گا؟ اس لیے کہ نیک کام کی خواہش اور برے کام سے پرہیز جب ہی ممکن ہے جب کوئی نصب العین ہو۔ اگر بے مقصد زندگی گزاری جائے تو پھر یہ انسان، انسانیت کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے جبکہ ایک بے شعور بچہ بھی ماں کی گود میں بے مقصد نہیں روتا۔ یا اسے بھوک لگتی ہے یا کوئی تکلیف ہوتی ہے تو پھر ایک عقلمند انسان بے مقصد زندگی گزارنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھیں

ہماری زندگی غم و خوشی سے عبارت ہے ۔دنیا میں دکھ اور رنج بھی ہے ،ہمیں خوشیاں منانے کے مواقع ملتے رہتے ہیں،دنیا میں مٹھاس بھی ہے اور تلخی بھی‘ خوشگواری بھی ہے اور ناخوشگواری بھی۔لیکن ہر مومن کا یقین ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور فیصلہ سے ہوتاہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے بندوں کا یہ حال ہونا چاہیے کہ جب کوئی دکھ اور مصیبت پیش آئے تو مایوسی کا شکار ہونے یا غلط طریقے سے اظہار غم کرنے کے بجائے صبر سے کام لیںاور اس یقین کو دل میں تازہ رکھیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی دکھوں سے نجات دینے والا ہے۔

مزید پڑھیں

 ہمدردی، رحم، فیاضی اور فراخ دلی کی ہمیشہ قدر کی گئی ہے۔ خود غرضی، سنگ دلی، بخل اور تنگ نظری کو کبھی عزت کا مقام حاصل نہیں ہوا۔ صبر و تحمل، اخلاق و بُردباری، اولوالعزمی و شجاعت ہمیشہ سے وہ اوصاف رہے ہیں جو داد کے مستحق سمجھے گئے

مزید پڑھیں