☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(عبدالمجید چٹھہ) عالمی امور(صہیب مرغوب) فیشن(طیبہ بخاری ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خواتین(نجف زہرا تقوی) رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) فیچر(ایم آر ملک)
اسلام میں خوشی اور غمی کے آداب

اسلام میں خوشی اور غمی کے آداب

تحریر : عبدالمجید چٹھہ

06-28-2020

ہماری زندگی غم و خوشی سے عبارت ہے ۔دنیا میں دکھ اور رنج بھی ہے ،ہمیں خوشیاں منانے کے مواقع ملتے رہتے ہیں،دنیا میں مٹھاس بھی ہے اور تلخی بھی‘ خوشگواری بھی ہے اور ناخوشگواری بھی۔لیکن ہر مومن کا یقین ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور فیصلہ سے ہوتاہے۔

اس لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے بندوں کا یہ حال ہونا چاہیے کہ جب کوئی دکھ اور مصیبت پیش آئے تو مایوسی کا شکار ہونے یا غلط طریقے سے اظہار غم کرنے کے بجائے صبر سے کام لیںاور اس یقین کو دل میں تازہ رکھیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی دکھوں سے نجات دینے والا ہے۔

نفس انسان کے اندر ایک ایسی قوت کا نام ہے جس سے انسان اپنے لیے خیر یا شر چاہتا ہے۔ کبھی انسان اس کو ذات سے تعبیر کر لیتا ہے کبھی اپنے دل سے تعبیر کر لیتا ہے۔ جیسے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں کام کروں اور میرا دل یہ نہیں چاہتا، دراصل یہ انسان کا نفس ہے جس سے انسان کسی چیز کی خواہش کرتا ہے چاہے وہ خواہش اچھی ہو یا بری۔ جس طرح بندوں میں سے مختلف افراد کے حقوق مختلف ہوتے ہیں اسی طرح نفس کی حالت کے اعتبار سے اس کے حقوق مختلف ہوتے ہیں۔
قرآن پاک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں معاشرے میں جینے کے تمام آداب سکھائے ہیں، زندگی کے ہرمرحلے کے لیے احکام سکھائے ہیں ۔ یہاں تک کہ انسان اکثر خوشی اور غم کے موقع پر اللہ کی مقرر کردہ حدود کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔ خوشی کے مرحلے میں سب کچھ کر بیٹھتا ہے اور کہتا ہے خوشی کا موقع ہے اب سب جائز ہے غم کا وقت آجائے تو نہ معلوم کیا کچھ کرتا ہے اور کہتا ہے بس جی غم کا موقع ہے کیا کریں۔حالانکہ اللہ نے غم اور خوشی کے موقع پر حدود مقرر فرمائی ہیں حتیٰ کہ نماز، روزہ اور دیگر عبادات کی حدود بھی بتائی ہیں تاکہ انسان وہاں بھی حد سے آگے نہ بڑھے۔
خوشی منانا ہر انسان کا حق ہے،یہ انسان کی شخصیت کا خاصابھی ہے۔لیکن دین فطرت نے اس کی کچھ حدود و قیود طے کی ہیں۔آج کل ہوائی فائرنگ عام بات ہے،ہمارے کئی علاقوں کی یہ پہچان بن چکی ہے،ان علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے بغیر خوشی کا تصوربھی خام ہے شادی بیاہ کے مواقعوں پر اسلحہ کی نمائش پر بھی کوئی روک ٹوک نہیں،اس موقع پر کئی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔کئی مرتبہ ان اندھی گولیوں سے مرنے والوں کے قاتلوں کا بھی پتہ نہیں چلتا ۔یہ خون ناحق تفتیشی اداروں پر بھی بوجھ بن جاتا ہے۔ اسلام میں کسی کو تکلیف دینے والے طریقے سے خوشی منانے کی اجازت نہیں ہے اور جس میں جان جانے کا اندیشہ ہو، اس کی تو شدید ممانعت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس سے منع فرماتا ہے، ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کیا گیا ہے۔آپ ﷺ کی تعلیم ہے کہ ،
’’جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘اسلام نے ہر مسلمان کی جان دوسرے مسلمان کے لیے قابل احترام قرار دی دوسرے کی زندگی کو نقصان پہنچانا حرام قرار دیا ہے۔ فرمایا:
{کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ}
’’ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حرام ہے اس کا خون اس کا مال اور اس کی عزت۔‘‘اسلام نے جہاں حکومت کے ذمہ شہریوں کی جان کی حفاظت کرنا لازم کیا وہاں خود شہریوں پر بھی ایک دوسرے کی جان کی حفاظت کا فرض عائد کیا۔ جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اسلام نے زندگی کے تحفظ کے لیے جو قوانین مقرر فرمائے اور خود حکومت جان کے تحفظ کے لیے جو اصول و ضوابط مقرر کرتی ہے ان پر بلا امتیاز عمل کیا جائے خصوصاً اسلامی حدود اور سزائوں میں سفارش کا خاتمہ کر دیا جائے اور سختی سے مقررہ سزائوں پر عمل درآمد ہو تو پھر ولکم فی القصاص حیاۃ یا اولی الالباب قرآنی فلسفہ بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ اے اہل عقل قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے۔ہمارے قانون میں بھی ہوائی فائرنگ کی ا جازت نہیں ہے ۔ ہمیں کسی بھی موقع پر ہوائی فائرنگ یا اسلحے کی نمائش سے گریز کرنا چاہیے۔
یہاں میں شادی بیاہ کا دوبارہ ذکر کرنا چاہوں گا۔اولاد کی خوشی سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی خوشی نہیں ہوتی لیکن اس کو مناتے وقت بھی حد میں رہنا چاہے اگر ہم یہ بات مان لیں اور اس پر عمل بھی کریں تو ہمارے قرضے اور مصائب آدھے سے بھی کم رہ جائیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اپنی مالی مشکلات میں کمی کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ اسلامی آداب زندگی کے طے شدہ اصولوں سے بڑھ کر منائی جانے والی خوشی ہمیں ناقابل حل مسائل میں جکڑ دیتی ہے۔ چند روزپرانی بات ہے ۔میں نے کراچی میں تین ماہ کے شادی شدہ جوڑے کی خودکشی کی خبر سنی ۔ اصل واقعہ کیا ہے ،ابھی سامنے نہیں آیا لیکن کہا جاتا ہے کہ جوڑے نے شادی کے لئے تین لاکھ روپے کا قرض لے لیا تھا،جو ادا نہ کرنے پر تنگ آ کر خودکشی کرنا پڑی ۔اسلام ایسی تقریبات کی ا جازت ہرگز نہیں دیتا،یہ لوگ اگر اپنی حیثیت کے مطابق خوشی مناتے تو آج ہمارے درمیان میں ہوتے ۔ دین فطرت نے بے جا اصراف سے منع فرمایا ہے خوشی سادگی اوراحترام کے ساتھ منانے کا حکم دیا گیا ہے۔ دین ہر گز پسند نہیں کرتا کہ کوئی خوشی مناتے وقت اپنی بساط سے بڑھ کر اخراجات کرے،مسرت کے اظہار میں انسان یہ نہ بھول جائے کہ حد سے زیادہ اصراف خوشی کی بجائے تکبر میں بدل جاتا ہے۔خوشی کو خوشی ہی رہنے دیجئے۔یہ حقیقت ہے کہ شادی کم خرچ اورسستی ہو تو برائی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ شادی زیادہ خرچ والی اور مہنگی بنانے والی برائی بھی پھیل رہی ہے۔ مزاج شریعت یہ ہے کہ شادی کو آسان،مختصر اور سادہ کرو۔ زندگی میں دین کو مقدم کرو اور دنیا کو مؤخر، تو زندگی دین بن جائے گی۔ اوراگر دنیا کو مقدم کیا اور دین کو مؤخر کیا، تو زندگی دنیا بن جائے گی۔ خوشی پیسے سے نہیں بلکہ دل سے حاصل کرنے کی کوشش کیجئے ،دکھاوے سے گریز کیجئے، اسی میں زندگی ہے۔دکھاوے سے منع فرمایا گیا ہے۔
ایک موقع پر حضرت کعب بن مالک ؓ نے فرمایا کہ
’’جب اللہ تعالیٰ نے میری توبہ قبول فرمائی اور مجھے خوش خبری ملی تو میں آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا،میں نے سلام کیا،اس وقت آپﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا۔آپ ﷺ جب بھی خوشی کی خبر سنتے تو چہرہ مبارک چاند کی طرح جگمگا تا تھا۔آپ ﷺ دوسروں کی خوشی میں شریک ہوتے تھے‘‘۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسولِ خداﷺنے فرمایا: ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا دینی بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کو دشمن کے حوالے کرتا ہے (بلکہ دشمن کے مقابلہ پر اس کی مدد کرتا ہے) اور (یاد رکھو)جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کی سعی وکوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے۔ نیز جو شخص کسی مسلمان بھائی کے غم اور تکلیف کو دور کرتا ہے (خواہ وہ غم اور تکلیف زیادہ ہو یا کم)تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے غموں میں سے ایک بڑے غم سے نجات دے گا۔اور جو شخص کسی مسلمان بھائی کے عیب کو چھپاتاہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔‘‘ (بخاری،مسلم)مسلمان کے لئے دوسروں کی مدد میں بھی راحت ہی راحت ہے
جہاں عبادات اور تقویٰ کے بارے میں رہنمائی ملتی ہے وہیں قرآن پاک اور احادیث نبوی ﷺمیں غمی اور خوشی کے بارے میں بھی آداب سکھائے گئے ہیں۔اپنی خوشیاں کیسے منائی جائیں،غم میں کیا کیا جائے ؟یہ سب ہمیں ہمارا دین باریکی سے سکھاتا ہے کیونکہ عین ممکن کہ ہماری خوشی کسی دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث بن جائے،یا ہم غم کو اپنے اوپر اتنا سوار کر لیں کہ اللہ کی رحمتوں کو ہی فراموش کر بیٹھیں۔اسلام نے اس بارے میں آداب سکھائے ہیں،یہ آداب دوسروں کو بھی ہمارے دلوں کے قریب کر سکتے ہیں اور ان میں دوسروں کے غم میں شریک ہونے کا سبق بھی پنہاں ہے ۔
جب مومن خوشی و شادمانی کے دور سے گزر رہا ہو تو اس کو اپنا کمال اور اپنی قوتِ بازو کا نتیجہ نہ سمجھیں بلکہ یہ ذہن میں رکھیں کہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے وہ کسی بھی وقت نعمت چھین بھی سکتا ہے اس لیے نعمت ملنے پر شکر ادا کیجیے۔ان اسلامی ہدایات کا منطقی نتیجہ ایک طرف تو یہ نکلتا ہے کہ خوشی کی حالت میں بھی بندہ خدا سے وابستہ رہتا ہے اور دوسری طرف مصیبتوں اور ناکامیوں سے شکست نہیں کھاتا، مایوسی اور دل شکستگی سے اس کی عملی قوتوں پر بُرا اثر نہیں پڑتا۔مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ غم ملنے پر صبر کرے۔ زبان پر شکوہ نہ لائے۔ فطرت انسانی میں جذبۂ رحم کی بنا پر آنسو نکل آئیں‘ یہ صبر کے منافی نہیں۔ لیکن غم کی حالت میں اظہار غم کے ایسے طریقے جو مومن کو شرعی حدود سے باہر لے جائیں کسی بھی طرح جائز نہیں اللہ تعالیٰ ہمیں صدمہ اور مصیبت سے، غم اور رنج سے محفوظ فرمائے۔ اس کی مشیت سے یہ غم و رنج پہنچ بھی جائیں تو ہمیں صبر پر ثابت قدم رہ کر شرعی حدود میں ہی رہنا چاہیے۔
حضرت صہیب ؓسے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺنے فرمایا،
ترجمہ : مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے ،ہر معاملہ اور ہر حال میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے اگر اسے خوشی اور راحت پہنچے تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہے اور اگر اسے کوئی دکھ اور رنج پہنچتا ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے اور یہ صبر بھی اس کے لیے خیر ہی ہے۔‘‘
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے ابن آدم! اگر تو نے ابتدا ہی سے غم برداشت کیا، میری رضا اور مجھ سے ثواب کی نیت کی تو میں راضی نہیں ہوں گا کہ جنت سے کم کوئی ثواب دیا جائے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو بندہ کسی جانی یا مالی مصیبت میں مبتلا ہو اور وہ کسی سے اس کا اظہار نہ کرے اور نہ لوگوں سے شکایت کرے تو اللہ کا ذمہ ہے کہ وہ اسے بخش دیں گے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم نزع کے وقت آپﷺ کی گود میں تھے۔ رسول اللہﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا اے ابن عوف! یہ رحمت کے آنسو ہیں اس کے بعد پھر آنسو جاری ہو گئے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آنکھیں آنسو بہاتی ہیں‘ دل غمگین ہے اور ہم زبان سے کوئی بات نہیں کہتے مگر جس سے ہمارا رب راضی ہو‘‘
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ،ترجمہ :’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو رخساروں کو پیٹے، گریبان پھاڑے اور زمانہ جاہلیت کی طرح پکار پکار کر روئے۔‘‘
{مَنْ سَرَّہ‘ ان یُحِبَّ اللّٰہَ وَرَسُولَہ‘ اَوْیُحِبُّہ‘ اللّٰہُ وَرَسُولُہ‘ فلْیَصْدَقْ حَدِیثَہ‘ اِذَا حَدَّثَ وَلْیُؤَدِّ اَمَا نَتَہ‘ اَذائْتُمِنَ ولْیُحسِنْ جَوَرَمن جَاوَرَہ‘}
ترجمہ : جس شخص کی یہ خوشی ہو اور وہ یہ چاہے کہ اُسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے حقیقی محبت ہو اور اللہ اور اس کے رسول بھی اُس سے محبت کریں تو اسے چاہیے کہ وہ بات کرے تو ہمیشہ سچ بولے اور جب کوئی امانت اُس کے سپرد کی جائے تو اسے ادا کر دے اور جس شخص کے ہمسائے میں رہے اس کے ساتھ بہتر سلوک کرے۔
خوشی کے لئے ضروری ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے اور اس کی نعمتوں پر راضی ہو۔قرآن مجید میں نفس کی ایک حالت نفس مطمئنہ، دوسری حالت نفس امارہ اور تیسری حالت نفس لوامہ بیان کی گئی ہے۔ اگر نفس خیر کی طرف مائل ہو، اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرمانبرداری میں انسان کو خوشی حاصل ہو‘ دین اسلام کے احکام پر عمل کر کے سکون و اطمینان محسوس ہو تو یہ نفس مطمئنہ ہے۔ اس حالت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر کی ستائیسویں آیت میں فرمایا ہے:
{یایتہا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی}
’’اے مطمئن نفس !اپنے رب کی طرف چل اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ پس میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔‘‘ حضرت رسول اکرم ﷺنے دوسروں کے غم پر خوشی منانے سے منع فرمایا ہے ،کسی سے بغض ہو پھر اس کو کوئی نقصان یا مصیبت پہنچے تو انسان کو بالکل خوش نہیں ہونا چاہیے آپ ﷺ نے فرمایا:
{لاتظہر الشماتۃ لاخیک فیرحمہ اللہ ویبتلیک}
ترجمہ : ’’ تم اپنے کسی بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کرو اگر ایسا کرو گے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ اس کو مصیبت سے نجات دے دے اور تمہیں اس میں مبتلا کر دے۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ہرانسان کا کوئی نصب العین ہونا چاہیے اگر کسی کا نصب العین نہ ہو تو پھر نیک آدمی کو کس طرح نیکی پر آمادہ کیا جا سکے گا؟ برے شخص کو برائی سے کس طرح روکا جا سکے گا؟ اس لیے کہ نیک کام کی خواہش اور برے کام سے پرہیز جب ہی ممکن ہے جب کوئی نصب العین ہو۔ اگر بے مقصد زندگی گزاری جائے تو پھر یہ انسان، انسانیت کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے جبکہ ایک بے شعور بچہ بھی ماں کی گود میں بے مقصد نہیں روتا۔ یا اسے بھوک لگتی ہے یا کوئی تکلیف ہوتی ہے تو پھر ایک عقلمند انسان بے مقصد زندگی گزارنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھیں

 اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی نشانیوں سے ڈراتے ہیں تاکہ وہ عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اللہ ہی کی طرف رجوع کریں،سورج گرہن بھی ا ن میں سے ایک ہے

مزید پڑھیں

 ہمدردی، رحم، فیاضی اور فراخ دلی کی ہمیشہ قدر کی گئی ہے۔ خود غرضی، سنگ دلی، بخل اور تنگ نظری کو کبھی عزت کا مقام حاصل نہیں ہوا۔ صبر و تحمل، اخلاق و بُردباری، اولوالعزمی و شجاعت ہمیشہ سے وہ اوصاف رہے ہیں جو داد کے مستحق سمجھے گئے

مزید پڑھیں