☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل فیشن دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
معاشرے میں حسن اخلاق کی اہمیت

معاشرے میں حسن اخلاق کی اہمیت

تحریر : حاجی محمد حنیف طیب

04-14-2019

آج معاشرے میںلوگوں کی زندگیاں سکون سے محروم ہیں ۔ اس کیفیت کے بہت سے اسباب ہیںلیکن سامنے کی بات یہ نظر آتی ہے کہ اخلا ق اچھے نہیں رہے ۔بہت ساری پریشانیا ں پید اہی نہ ہوں اگر بعض اخلاقی برائیوں سے بچاجائے اور کچھ اچھے اخلاق اختیا ر کیے جائیں ۔ہما رے دین میں اخلا ق کی جو اہمیت ہے وہ سب پر واضح ہے۔ اچھا مسلمان ہونے کیلئے اچھا اخلا ق ہو نا ضروری ہے ،کوئی بد اخلا ق شخص اچھا مسلمان نہیں ہوسکتا ۔

لہٰذا اچھے اخلاق اختیار کئے جائیں اور برے ترک کیے جائیں ،زندگی مسلسل کوشش کانا م ہے، کوشش اس بات کی کہ ہماراآنے والا کل گزرے ہوئے کل سے بہتر ہو ۔اخلاق کے مقام اور قدروقیمت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں ۔اچھے اخلا ق کے بغیر نجات کی کوئی صورت نہیں ہے،اور برے اخلا ق سے اﷲتعالیٰ کی ناراضی بھی ہمارے حصے میں آتی ہے ،نیز انسانوں کے باہمی تعلقات بھی خراب ہوجاتے ہیں ،اور باہمی تعلقات کا بگاڑ بالآخر آخرت کو خراب کر سکتا ہے۔ایک حدیث شریف میں ہے کہ

آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے پو چھا کہ تم جانتے ہومفلس کون ہے؟

لوگوں نے کہا کہ ’’ہم مفلس اس کو سمجھتے ہیں ،جس کے پاس پیسہ نہ ہو ، دنیا کا مال نہ ہو‘‘۔

آپ ﷺ نے فرمایا

ترجمہ:’’میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز عبادات جمع کرکے لائے گا مگر اس نے کسی کا حق مار اہوگا، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کو قتل کیا ہو گا یا کسی کاخون بہایا ہوگا ۔قیامت کے دن وہ سب لوگ دعویدار بن کر کھڑے ہوجائیں گے جن کا اس نے دنیا میں حق مارا ہو گا،یا مندرجہ بالا جرائم کئے ہوں گے۔ برائی کرنے والے کا سارا سرمایہ یعنی نما ز، روزہ، زکوٰۃ کا ثواب مظلومین کودے دیا جائے گا۔پھر اگر اس کے سارے اعمال ختم ہوجائیں اور دعویدار موجو د ہوں تو دعویداروں کے گناہ لے کر اس کے ذمہ ڈال دیئے جائیں گے ۔یہاں تک کہ وہ جہنم میں ڈال دیاجائیگا‘‘ ۔ گویا بُرے اخلاق کی وجہ سے نیکیاں کسی اور کو دی جا سکتی ہیں۔

ایک اور حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ ترجمہ:’’ قیامت کے دن جو اعمال نامہ اﷲ کے سامنے پیش کیا جائیگا اس کے تین حصے ہونگے ،ایک حصہ وہ ہوگا جو اﷲ تعالیٰ بالکل معاف نہیں کرے گا ۔ایک وہ ہوگا جس کو اہمیت نہیں دی جائے گی ۔ ایک حصہ وہ ہوگا جس کا کوئی حرف نہ چھوڑے گا ۔ اعمال کا وہ حصہ جس کو اﷲتعالیٰ معاف نہیں کرے گا ،وہ شرک ہے ۔ وہ حصہ کچھ رہ گیاجس کو وہ معاف کردے گا۔ وہ گناہ ہے جو اپنے نفس کے بارے میں کئے ہونگے جس کا تعلق اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ہے ،لیکن جس حصے کا ایک حرف بھی نہیں چھوڑے گا وہ معاملا ت ہونگے جو بندے اور بندے کے درمیان ہونگے۔

اس سب کا کسی نہ کسی طرح فیصلہ کیاجائیگا ۔کیونکہ یہ معاملہ اﷲ کی ذات کے متعلق نہیں ،آدمی کا اپنا معاملہ بھی نہیں ،بلکہ کسی مظلوم کا معاملہ ہے ،اور اس چیز کی حرمت کا معاملہ ہے ۔ سود،اور سور کے گوشت سے بڑھ کر جو چیز حرام کی گئی ہیں۔ وہ مسلمان کی جان اسکا مال ،اس کی عزت وآبروہے ،اس میں ہر مسلمان شامل ہے ۔یہ بڑی حرمت ہے اسے بہت مؤثر پیرائے میں حرام کیا گیا ہے اور مسلمانوں کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں زبان سے دوسرے مسلمانوں کی جان مال وعزت محفوظ ہو،برے اخلا ق واعمال کی ایک طویل فہرست بنائی جاسکتی ہے اس میں سے کچھ ایسے ہیں جو جڑ اور بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں ،اگر ہم اپنے آپ کو اس سے پاک کرلیں تو دیگر بہت ساری بری باتوں اور برے اخلا ق کا دروازہ خود بخود بند ہوجائیگا، اس میں کچھ بنیادی اوصاف کا یہاں تذکرہ کیاجارہاہے ۔

کبروتکبر

سب سے پہلی چیز کبر ،کبر کے معنی اپنے آپ کو بڑا سمجھنے ،یا کچھ سمجھنے کے ہیں ۔ کبرکا لفظ ایسا ہے کہ آدمی سمجھتا ہے کہ یہ بیماری میرے اندرنہیں ہوسکتی ۔متکبر ،ہم اسے سمجھتے ہیں جس کے پاس بڑی دولت اور پیسہ ہو،اور بڑااختیار ہو ،اوروہ بڑی ڈینگیں مارتاہو۔کبر کا مرض بڑا عام ہے ۔اس مرض میں درویش بھی مبتلا ہو سکتا ہے ایک فقیربھی ،ایک زاہدبھی ،اور ایک عالم بھی ،بلکہ امام غزالیؒ کے الفاظ ہیں کہ’’ میں نے جتنا کبر علماء میں دیکھا ہے وہ ایک عام آدمی میں نہیں دیکھا ‘‘۔کبردراصل بہت بڑی برائیوں کی جڑہے جب شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے حکم کی نافرمانی کی تو اس کی جڑ بھی کبرتھا ۔اﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ

ترجمہ:’’ اے ابلیس تجھے کیا چیز اس کو سجدہ کرنے میں مانع ہوئی جسے میں نے اپنے دوہاتھوں سے بنایا ہے‘‘؟

اس نے جواب دیا۔’’میں اس سے بہتر ہوں،آپ نے مجھ کو آگ سے اوراسکو مٹی سے پیداکیا ‘‘ گویا اس نے تکبر کیا اور اپنے آپ کو بڑاسمجھا ،اور خاک کے پتلے کوسجدہ کرنا اپنی شان اور مقام ومرتبے کیخلا ف جانا اور اس روش کی بنا ء پر اﷲ کی لعنت کا مستحق ٹھہرا۔ غصہ ،انتقام ،تمسخر،غیبت ،بیشمار امراض ہیں جو کبر کے بطن سے ہی پیداہوتے ہیں کبرکی تعریف ہی یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگے ۔

لوگوں نے نبی اکرمؐ سے پوچھا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے جوتے اچھے ہوں،کپڑے اچھے ہوں،کیا یہ کبرہے ؟

آپ ﷺنے فرمایا

ترجمہ: نہیں یہ کبرنہیں ہے۔کبرتو یہ کہ آدمی حق کو ٹھکرادے اور لوگوں سے حقارت کا برتاؤ کرے ‘‘۔ کسی کو ذلیل اور اپنے سے کم تر سمجھنا حق پرستی کے بھی خلاف ہے ،اس کے پیچھے سب سے بڑا سبب کبرہی ہوتا ہے ۔ایک واقعہ حدیث شریف میں آتا ہے ،کہ نبی کریم ﷺکے پاس ایک صحابی ؓ تشریف لائے ۔حضور پاک ﷺ نے انہیں دیکھ کر فرمایا ترجمہ:اگر کسی نے جنتی کو دیکھنا ہو تو انہیں دیکھ لے ‘‘۔ بظا ہر کوئی خاص وجہ نہیں تھی ،حلیے اور وضع قطع کے لحاظ سے وہ عام آدمی تھے ۔ آپ ﷺنے فرمایا ترجمہ:’’یہ جنتی ہے ‘‘دوسرے دن بھی یہی فرمایا۔

حضرت عبد اﷲ بن عمرؓ ان صاحب سے کہنے لگے کہ’’ بھائی میں یہ دیکھنا چاہتا ہوںکہ آپ کا وہ عمل کیاہے جس کی وجہ سے حضرت نبی کریمﷺنے بشارت دی ہے کہ آپ جنتی ہیں‘‘۔اس پر انہوں نے کہاکہ ’’میراجو کچھ عمل ہے وہ تو تمہاری نگاہوں کے سامنے ہے‘‘۔ جب حضرت عبداﷲبن عمر رضی اﷲتعالیٰ چلنے لگے تو انہوں نے روک لیا اور کہنے لگے ۔۔’’ہاں ایک بات ہے کہ میرے دل میں کسی مسلمان کیلئے دشمنی اور کینہ نہیں ہے۔ میرادل صاف ہے‘‘ ۔یہ سن کر حضرت عبد اﷲ بن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہی وجہ ہے ،یا یہی وہ نیکی ہے جس کی وجہ سے آپ کو جنت کی بشارت دی گئی ہے ۔

گویا دل کا صاف ہونا عبادت ہے۔ اور بلندی درجات کا باعث ہے ۔ کینہ اور حسد تو ایسی چیز ہے کہ تہجد جیسی عظیم عبادت کو بھی ضائع کردیتی ہے ۔لہٰذا یہ بہت بڑی نیکی ہے کہ دل صاف ہو،اگر شکایت پید ا ہوتو ایک رات بھی نہ گذرے اور آدمی اپنا دل صاف کرلے ،لوگ دل میں بھی رکھتے ہیں ،اور دوسرے سے کہتے بھی پھیرتے ہیں ،تین تین مہینے تک بلکہ مدتوں تک دل میں بات رکھتے ہیں ۔بات دل میں رکھنا ،اور پھر اسے پالنا ،پوسنااور اس کو بیان کرتے پھرنا اس سے تعلقات خراب ہوتے ہیں اور بہت ساری خرابیاں جنم لیتی ہیں ۔شکا یت پیدا ہوتی ہے ۔کوئی بات توایسی ہوہی جاتی ہے لیکن آدمی فوراًاپنادل صاف کرلے اور اچھا گمان کرلے اور کسی بات کی کوئی تاویل ممکن ہوتو اچھی تاویل کرلے۔

رحمت وشفقت

حضرت نبی کریم ﷺ سب کیلئے سراپا رحمت وشفقت تھے۔ انسانوں کیلئے بھی اور جانوروں کیلئے بھی۔کوئی جانور بھوکا دکھائی دیتا ،کسی کو کسی کے مالک نے ماراہوتا،اس پر آپ ﷺمنع فرماتے ،نرمی کی ہدایت فرماتے تھے ،یہاں تک فرمایا کہ جانوروں کو اگر ذبح کرنا ہوتو چھری تیز رکھو تاکہ ذبح کر تے وقت اس کو زیادہ تکلیف نہ ہو۔

آپ ﷺنے ایک بشارت دی کہ بنی اسرائیل کی ایک بری عورت نے ایک پیاسے کتے کی پیاس بجھائی تو اﷲ تعالیٰ نے اس پر اُس کو بخش دیا۔ اس کے مقابلے میں ایک عورت نے ایک بلی کو پیاسا باندھے رکھا اور وہ اسی حالت میں بھوکی مرگئی تو اﷲ تعالیٰ نے اس قطع رحمی کی وجہ سے اس کو جہنم میں ڈال دیا۔جس دین میں جانوروں کو ذبح کرنے کیلئے بھی یہ حکم ہوکہ چھری تیز ہو تا کہ انہیں تکلیف نہ ہو، ایسے معاشرے میں انسانوں پر تشدد،اذیت بہت عام ہے ، آخر اس کی کیا گنجائش ہے ؟۔ مسلمانوں کے معاشرے تو دوسرے انسانوں کیلئے سراپا شفقت اور رحمت ہوناچاہیے ۔ان اہل ایما ن پر خداکی خصوصی رحمت ہوتی ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں ،ان پر وہ رحم کرتا ہے کہ جورحمان ہے ،اسی لیے فرمایا کہ تم زمین والوں پررحم کروتم پر وہ رحم کرے گا جو آسمان پر ہے ۔جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیاجائے گا۔دل کی نرمی نگاہوں کی نمی ،

یہ سب بھی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ ایک دفعہ آپ ﷺنے ایک بچے کو پیا رکیا ۔جب ایک عرب نے یہ دیکھا تواس نے کہا کہ میرے تو اتنے بچے ہیں لیکن میں نے کبھی کسی کو پیا ر نہیں کیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ،ترجمہ:’’ تمہارے دل سے رحمت اور شفقت چھین لی گئی ہے ۔اَب کیا کیا جاسکتا ہے ‘‘؟

جو اپنے لئے پسندکرو وہی دوسروں کیلئے پسند کرو

حسد،غصہ اور زبان کی دست درازیاں ،ان سب کا علاج رحمت وشفقت سے ہو سکتا ہے ۔اسی رحمت اور محبت کا ایک معیارحدیث شریف میں دیا گیا ہے کہ کوئی فرد مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ و ہ اپنے مومن بھائی کیلئے وہ بات پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔سماجی بہتری کے لئے یہی تعلیمات بھی کافی تھیں۔ اس سوچ کا نتیجہ یہ ہو تا کہ ’’انسان سوچتا کہ جب میں اپنی بے عزتی نہیں چاہتا تو دوسروں کی بے عزتی کیو ں کروں ؟

مجھے یہ پسند نہیں کہ میری غیر حاضری میں میری غیبت کی جائے، تو میں دوسروں کی غیبت کیوں کروں ،میں نہیں چاہتا کہ میرے عیوب کی پردہ داری ہو،پھر میں دوسروں کے عیوب کی پردہ داری کیوں کروں،میں نہیں چاہتا کہ میرے ساتھ کوئی سختی سے بولے ،گالی دے،لعنت پھٹکا ر کرے ،تو میں پھر دوسروں کیساتھ ایسا برتا ؤ کیسے کروں ؟اگر ہمیں مزید کچھ علم نہ ہوکہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ، کیا اچھا ہے اور کیا برا اور محض یہ حدیث آنکھو ں کے سامنے رہے تو بہت سی اخلاقی برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔

لہٰذا جو آدمی اپنے لئے پسند نہیں کرتا وہ دوسرے کیلئے پسند نہ کرے ،اور دوسرے کیلئے بھی وہ پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔اس کے بغیر کوئی مومن صحیح معنوں میں مومن نہیں ہوسکتا۔ ہما را رویہ ایسا ہونا چاہئے جیسے کہ ہاتھ میں ترازوہو۔ہر بات جو منہ سے نکلے تو اسے تولہ جائے کہ آیا یہ بات مجھے پسند ہے ،کیا میں اسے اپنے لئے پسند کرتاہوں ؟

اگر نہیں تو پھر یہ کسی دوسرے کیلئے کیسے پسندیدہ ہوسکتی ہے ۔ رحمت اور محبت وشفقت دراصل ایک بنیادی صفت ہے ،ہر مسلمان کو اپنے دل کے اندر رحیم بھی ہونا چاہئے اور دقیق قلب بھی ،دل کی سختی ،زبان کی سختی ،برتاؤ کی سختی ، یہ ایمان کیساتھ نہیں سجتی ،ایمان کے ساتھ تو نرمی ہی سجتی ہے وہ نرمی جس کے نبی کریمؐ اور صحابہ کرام رضی اﷲتعالیٰ عنہ مظہر ہیں۔اخلاق نبوی ﷺسے متصف صوفیائے کرام اتباع رسول ﷺکا وہ عظیم پیکر ہیں

جنہوں نے سنت رسول ﷺ کو زندہ کیا ۔ انہوں نے اپنے ابتدائی زمانے میں حضور پاک ﷺکے اقوال پر عمل کیا اور اپنی روحانی زندگی کے درمیان زمانےمیں آپ ﷺکے اعمال کی اقتداء کی ، جس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ ان میں اخلا ق نبویؐ اچھی طرح راسخ ہوگئے ۔حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں کہ

حضو رپاکﷺ نے مجھ سے فرمایا !

ترجمہ:’’اے میرے فرزنداگر تم سے ہوسکے تو تم صبح وشام ایسے زندگی بسر کر وکہ تمہارے دل میں کسی کے خلاف کچھ نہ ہو‘‘۔ اس کے بعد فرمایا ،ترجمہ::’’یہ بھی میری سنت ہے ۔جس نے میری سنت کو زندہ کیا درحقیقت اس نے مجھے زندہ کیا اور وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا‘‘۔حضورپاکؐ کی سیرت مبارکہ مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ آپﷺ کی ذات اخلاق عالیہ کا وہ پیکر اتم تھی جس کی نظیر پورے عالم میں نہیں مل سکتی ۔ حسن خلق کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓسے حدیث روایت ہے کہ حضور پاکﷺسے پوچھا گیا کہ کون سے اعمال کی بدولت اکثر لوگ جنت میں داخل ہونگے تو آپ ﷺنے فرمایا

(ترجمہ)’’تقویٰ اور حسن اخلاق‘‘۔ اس حدیث شریف سے یہ معلوم ہواکہ حسن اخلا ق حصول جنت کاسبب ہے ،

صوفیائے کرام مجاہدات وریاضت کے ذریعے اپنے نفوس کی اس طرح اصلاح کرتے کہ ان کے اخلا ق بہترہوجاتے ۔مگر دور حاضر میںبعض افراداپنے اخلا ق نہیں سنوارتے ۔ ان گزارشات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کچھ اخلا ق ایسے ہیں جو میزان میں بھاری ہوتے ہیں اور بہت سارے برے اخلا ق ایسے ہیں جونیکیوں کاثواب بھی دوسروں کو دلوادیں گے ۔سچائی اور دیانتداری ،عدل وانصاف ، تواضع انکساری ،غصے پر قابوپانا،لوگوں کو معاف کرنا،دل کوکینہ اور بغض سے پاک رکھنا اور زبان کو بری باتوں سے روکنا ضروری ہے۔ ہمارے کردار اوراخلاق میں وہ مقناطیسیت اور شیرینی ہونا چاہیے کہ لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح ہمارے گرد جمع ہوجائیں ۔ ٭٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سوداگروں کا ایک قافلہ بغداد کی طرف جا رہا تھا۔ ان کے ساتھ ایک نو عمر لڑکا بھی تھا۔ جس کو اس کی ماں نے کچھ ہدایات دے کر اس قافلے کے ساتھ اس ل ...

مزید پڑھیں

آج کل کے بہت سے اچھے خاصے دیندار حلقوں میں بھی معاملات یعنی خریدو فروخت،امانت،قرض،نوکری،اور مزدوری کی اصلاح کا اتنا اہتمام نہیں جتنا ک ...

مزید پڑھیں

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’مومن کو علم سے سیری حاصل نہیں ہوتی یہا ...

مزید پڑھیں