☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل خواتین کچن کی دنیا سفر نامہ دین و دنیا فیشن متفرق کیرئر پلاننگ ادب
آمد رمضان المبارک: رحمتوں ، برکتوں اورنعمتوں کا مہینہ

آمد رمضان المبارک: رحمتوں ، برکتوں اورنعمتوں کا مہینہ

تحریر : لیاقت بلوچ

05-05-2019

رمضان المبارک کامہینہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اس نعمت خداوندی سے ہمیں بارہا استفادہ کا موقع ملا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں اس ماہ مبارکہ میں جن فیوض و برکات کو حاصل کرنا چاہیے تھا وہ ہم اس طرح حاصل نہیں کرسکے جس طرح نبی رحمت ﷺنے ہمیں تلقین کی تھی یا صحابہ کرام ؓ کا طریقہ رہاہے۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے روزہ فرض اور قیام سنت قرار دیا ہے۔

اس ماہ میں اگر کوئی ایک نفل ’’نیکی ‘‘ سرانجام دیتاہے تو اسے ایک فرض ادا کرنے کے برابر ثواب ملتاہے اور ایک فرض ادا کرنے والے کو ستر فرائض کے برابر اجر ملتاہے۔ یہ خیر خواہی اور غم خواری کامہینہ ہے۔ ایک ایسا مہینہ جس میں مومن کارزق بڑھادیاجاتاہے۔ یہ مہینہ جہاں انفرادی اصلاح ، تزکیہ نفس اور عبادات کاتقاضا کرتاہے، وہیں خلق خدا سے محبت، ہمدردی اور خیر خواہی کا بھی متقاضی ہے۔ اور سب سے بڑی خیرخواہی تو یہی ہے کہ انسانیت اپنے خالق کائنات کے بتائے ہوئے طریقۂ زندگی کو نہ صرف خوداختیار کرے بلکہ دوسروں کو بھی بندگی ٔ رب کے راستہ پر لگایا جائے تاکہ وہ اپنے نفس کی بندگی کی بجائے رب کی خواہش و مرضی کے مطابق اپنی پوری زندگی گذار سکیں ۔

اللہ کے فضل و کرم سے ایک مرتبہ پھر یہ ماہ مبارکہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہو رہاہے اورجلد ہی اس کی رحمتوں کی بارش ہماری زندگیوں کو سیراب کرنے کے لیے برس رہی ہو گی۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس کی رحمتیں اور برکتیں ہر اس شخص کے حصہ میں آجائیں جو اس مہینہ کو پالے ۔ جب بارش ہوتی ہے تو مختلف ندی نالے اور تالاب اپنی اپنی وسعت و گہرائی کے مطابق ہی اس کے پانی سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے گڑھے کے حصہ میں اتنا وافر پانی نہیں آتا جتنا ایک بڑے تالاب میںآتا ہے اسی طرح جب پانی کسی چٹان یا بنجرز مین پر گرتاہے تو اس کے اوپر ہی سے بہہ جاتاہے۔

اس کو کوئی نفع نہیں پہنچاتا لیکن اگر زمین زرخیز ہو تو وہ لہلہا اٹھتی ہے۔ یہی حال انسانوں کی فطرت اور ان کے نصیب کا ہے۔ رمضان المبارک کا یہی مقصود ہے کہ رحمت ، مغفرت اور جہنم سے نجات کے اس بابرکت مہینے کا اصل مطلوب ایمان و تقویٰ کا زادِ راہ حاصل ہوجائے اور اس کے ساتھ ساتھ ان لاکھوں لوگوں کو جو روزے کے اصل تصور سے آشنا نہ ہونے کی وجہ سے بے مقصدیت کی زندگی گذار رہے ہیں، کو مقصدِ زندگی سے آشنا کرکے عملی سرگرمیاں وضع کرنے کی پلاننگ کرلی جائے تاکہ اس ماہ کے ایک ایک لمحے کو قیمتی بنایاجاسکے۔

نبی رحمت ﷺکا طریقہ تھاکہ آپ ؐ شعبان کے مہینہ سے ہی رمضان المبارک کی تیاری شروع کردیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔ نیت و ارادہ :نبی کریم ﷺکا فرمان ہے کہ ’’انما الاعمال بالنیات ‘‘یعنی اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ اس لیے پہلی چیز نیت اور مصمم ارادہ ہے۔ کیونکہ نیت شعور اور احساس پیداکرتی ہے۔ شعور بیدار ہو تو ارادہ پیداہوتا ہے اور ارادہ محنت اور کوشش کی صورت میں ظاہر ہوتاہے۔اسی طرح اعمال میں صحیح نیت کی روح ہو تو وہ اثر آفرینی ، نشوونما اور نتیجہ خیزی کی قوت رکھتی ہے۔ نیت نہ صرف صحیح بلکہ خالص بھی ہونی چاہیے ۔ یعنی ہر کام صرف اور صرف اللہ کی رضا کے حصول اور اجر وانعام حاصل کرنے کے لیے ہو ۔ نیت ، ارادہ اور عزم و حوصلہ وہ طاقت ہے جس کے بغیر رمضان المبارک کا سفر اپنی منزل پر نہیں پہنچا سکتا۔ تلاوت قرآن :رمضان المبارک کا مہینہ اپنی مخصوص عبادات یعنی روزے اور قیام اللیل کا مقصد قرآن مجید پر عمل اور اس کی تلاوت پر مرکوز کر دیتا ہے۔ اس مہینے کا حاصل قرآن سننا ،پڑھنا اور قرآن سیکھنا اور اس پر عمل کرنے کی استعداد پیدا کرناہے۔

رمضان اور قرآن کا آپس میں گہرا تعلق ہے اس لیے سب سے زیادہ جس چیز کا اہتمام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے شب و روز قرآن کی صحبت و معیت میں بسر ہوں۔ قرآن کو اس طرح پڑھا جائے کہ نہ صرف ہمارے اندر جذب ہو جائے بلکہ اس کے ساتھ قلب و روح کا تعلق گہرا ہوجائے اور دل و دماغ و جسم سب تلاوت کے کام میں شریک ہوجائیں ۔ہم سب کو چاہیے کہ قرآن کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کیاجائے۔ احتساب و جائزہ : روز ہ صرف پیٹ کا روزہ نہیںہے۔ آنکھ اور کان کا بھی روزہ ہے ۔ زبان اور ہاتھ کا بھی روزہ ہے یعنی وہ روزہ یہ ہے کہ آنکھ وہ نہ دیکھے ، کان وہ نہ سنے ،زبان وہ نہ بولے ،ہاتھ پائوں وہ کام نہ کریں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسندہیں ۔ یہ مہینہ ہمیں احتساب کا موقع بھی فراہم کرتاہے۔

اس پورے معاشرے کے ٹھیک ہونے سے پہلے ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کی اکائی یعنی فرد درست ہو۔ ذاتی احتساب و جائزہ کے ضمن میں رمضان المبارک کی اہمیت بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ غیبت ، چغلی ، لعن طعن ، بد گمانی ، تکبر ، ظلم ، غصہ ،جھوٹ ،وعدہ خلافی ،بد نگاہی، حسد ،بغض وغیرہ … یہ سب اخلاقی برائیاں ہیں اور ماہ رمضان ان سب برائیوں کا علاج کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔اس مہینے میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے ، نماز باجماعت : قرآن مجید میں جگہ جگہ نمازبا جماعت قائم کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور نماز با جماعت قائم کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ نماز کے تمام حقوق ادا کیے جائیں۔ نماز کے حقوق کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ اذان کے بعد سب کام چھوڑ کر مسجد پہنچیں اور تکبیر تحریمہ کے ساتھ پہلی صف میں نماز ادا کرنے کی کوشش کریں ۔

اہل ایمان باقاعدگی کے ساتھ نمازِ تراویح کا اہتمام کریں۔رات کے آخری تہائی حصے میں پڑھی جانے والی نمازتہجد بھی تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، اس کا بھی التزام کرنے کی کوشش کریں۔ سحر سے ذرا قبل اُٹھ کر آپ بآسانی پورا ماہ صلوٰۃ اللیل کا اجر حاصل کرسکتے ہیں۔ عفو و درگذر :اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ وہ معاف کرنے والا اور زبردست درگذر کرنے والا ہے۔ حضرت نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی صبر کرنے والوں میں سب سے افضل اور معاف کرنے والوں میں سب سے بہتر تھی۔ شہر رمضان عفوو در گذر، بخشش و رحمت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے۔ جس طرح ہم خود اللہ سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں اسی طرح لازم ہے کہ ہم بھی معاف کردیں کیونکہ ارشاد ربانی ہے کہ :’’جس نے معاف کیا اور اپنی اصلاح کرلی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ بلاشبہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔

‘‘ سورۃ النساء میں فرمایا گیاہے کہ :’’تم نیکی اعلانیہ کرو یا چھپ کر تم کسی کی زیادتی کو معاف کرو ،بے شک اللہ معاف کرنے والا اور بدلہ لینے پر قادر ہے۔ بلاشبہ زیادتی کرنے والے کے لیے آپ کی معافی آپ کو اللہ کے قریب لے جائے گی اور اس کے بدلے بہترین اجر ملے گا‘‘۔ اپنے دلوں کو صاف کیجیے اور ساتھیوں اور قرابت داروں کی فروگذاشتوں کو معاف کرکے قلبی تعلق پیدا کیجیے۔ کیونکہ بے شک صبر اور معافی عظیم کاموں میں سے ہیں۔ افطار: حضرت نبی اکرم ﷺ نے رمضان المبارک کو ہمدردی و غم خواری کا مہینہ قرار دیا ہے۔ہمدردی کا ایک پہلوکسی روزہ دار کا روزہ افطار کروانا بھی ہے۔ آپ ﷺنے افطار کروانے کی ترغیب دی ہے۔آپ ﷺکا فرمان ہے : ’’جوشخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے تو اس کے لیے گناہوں سے مغفرت اور دوزخ کی آگ سے رہائی ہے۔اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا روزہ دار کو، اور اس سے روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔‘‘

اعتکاف:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ’’ جب رمضان کا آخری عشرہ آتاہے توآپ ﷺ راتوں کو جاگتے،اپنے گھر والوں کو جگاتے،اور اتنی عبادت کرتے جتنی کسی اور عشرے میں نہ کرتے۔‘‘ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف آپ ﷺ کا معمول تھا۔رمضان المبارک مومن کی تیاری کا مہینہ ہے تاکہ بقیہ گیارہ مہینے شیطان سے لڑنے کی قوت فراہم ہو جائے۔ اعتکاف اس تیاری کا اہم جزو ہے۔ لیلۃ القدر:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںکہ’’ شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے‘‘۔ حضرت امام بخاریؒ نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(ترجمہ)’’جس شخص نے شب قدر میں ایمان اور خود احتسابی کی حالت میں قیام کیا تو اللہ رب العالمین اس کے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیں گے۔‘‘

آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں،۲۱،۲۳،۲۵،۲۷ اور ۲۹ کو اعتکاف اور شب بیداری کے لیے مختص کردیں۔حضرت نبی کریمؐ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓکو شب قدر کی یہ دعابتائی۔ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرو: اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ۔ ترجمہ:’’اے اﷲ ! بلاشبہ تو معاف کرنے والا ہے، اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ،پس تو مجھے معاف فرمادے۔ ‘‘ انفاق فی سبیل اللہ و زکوٰۃ و صدقات:انفاق فی سبیل اللہ کواس ماہ مبارکہ سے خاصی نسبت ہے ۔ راہ میں خرچ کرنابڑی بہت اچھ عبادت ہے۔

حضرت نبی کریم ﷺ سارے انسانوں سے بڑھ کر سخی تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ(ترجمہ) :’’آپ ﷺ بارش لانے والی تیز ہوائوں سے بھی زیادہ سخاوت کرتے تھے‘‘۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ’’ سخی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں سے قریب ، جنت سے قریب اورجہنم سے دور جبکہ کنجوس اللہ تعالیٰ سے دور ،لوگوں سے دور ، جنت سے دور اور جہنم سے قریب ہوتاہے۔ اسی طرح جاہل سخی اللہ تعالیٰ کو کنجوس عبادت گزار سے زیادہ محبوب ہوتا ہے‘‘۔ حضرت ابن عباسؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا ہے تاکہ مسکینوں کو کھانے پینے کا سامان میسر آئے۔

مزید پڑھیں

سال ہجری کے بارہ مہینوں میں ماہ رمضان کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: ’’رمضان کا مہینہ وہ ہ ...

مزید پڑھیں

رمضان المبارک بیکراں رحمت کے ظہور، گناہوں کی گرد دُھلنے کا نام، گناہوں کے صحرائے اعظم میں موسلا دھار بارش، گناہوں کی جلتی دھوپ میں مغفرت ...

مزید پڑھیں

زکوٰۃ اہم ارکان اسلام سے ہے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں 32جگہ نمازکے ساتھ اس کا ذکر فرمایا جن میں بندوں کواس فرض اہم کی طرف بلایاگیا۔صا ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

حضرت ابو ہریرہ ؓکہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : 

’’ ہر بچہ اپنی فطرت (یعنی اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے والدین اسے یہود ...

مزید پڑھیں

 {عن عبداللہ بن عمرؓ وقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد افلح من اسلم ورزق کفافا وقنعہ اللہ بما اتاہ}(رواہ مسلم)

...

مزید پڑھیں

بچے کی ولادت سے لے کر آخر وقت تک والدین کو کن باتوں کا دھیان کرنا ہوگاکہ والدین اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عظیم امانت کی خیانت کے جرم کے مرتکب ...

مزید پڑھیں