☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) سپیشل رپورٹ(طاہر اصغر) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) دین و دنیا(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) کچن کی دنیا فیشن(طیبہ بخاری ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین متفرق(رضوان عطا) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
حضرت خدیجۃؓ الکبریٰ کی فضیلت

حضرت خدیجۃؓ الکبریٰ کی فضیلت

تحریر : ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

05-12-2019

ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریؓ کی فضیلت کے بارے میں رمضان المبارک میں تذکرہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ آپؓ نے 10 رمضان سن 10 نبوت میں وفات پائی۔ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا مکہ کی ایک نہایت معزز اور دولت مند خاتون تھیں۔ آپؓ کا لقب طاہرہ، اُمّ ہند کنیت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پہلی زوجہ محترمہ جو قریش کے ممتاز خاندان اسد بن عبدالعزیٰ سے تھیں۔ (بحوالہ: سیرۃ خیرالانام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، اُردو دائرہ معارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی، صفحہ 579)۔

حضرت خدیجہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدق و دیانت کا تذکرہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ ’’میرا مال تجارت لے کر شام جائیں، میرا غلام میسرہ آپؐ کے ہمراہ ہوگا۔‘‘ اور یہ بھی فرمایا: ’’جو معاوضہ میں آپؐ کے ہم قوموں کو دیتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس کا دگنا دوں گی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہامی بھرلی اور بصریٰ (شام) کی جانب روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر جو سامان ساتھ لے گئے تھے اسے فروخت کیا اور دوسرا سامان خرید لیا۔ نیا سامان جو مکہ آیا تھا اس میں بھی بڑا نفع ہوا۔ حضرت خدیجہؓ نے آمدنی سے خوش ہوکر جو معاوضہ ٹھہرایا تھا اس کا دگنا ادا کیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نیک نامی، حسن اخلاق اور امانت و صداقت کی شہرت کے چرچے ہونے لگے جو ہوتے ہوتے حضرت خدیجہؓ تک بھی پہنچے۔ چنانچہ واپس آنے کے تقریباً تین ماہ بعد حضرت خدیجہ ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس شادی کا پیغام بھیجا اس وقت ان کے والد کا انتقال ہوچکا تھا لیکن ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے۔ تاریخ معین پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، حضرت ابوطالب اور تمام رئوسائے خاندان، جن میں حضرت حمزہؓ بھی تھے، حضرت خدیجہؓ کے مکان پر آئے، حضرت ابوطالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خطبۂ نکاح پڑھا اور پانچ سو درہم طلائی مہر قرار پایا۔ شادی کی تقریب بعثت سے پندرہ سال بیشتر انجام پذیر ہوئی۔ یہ پچیس عام الفیل تھا۔ حضرت خدیجہؓ سے نکاح کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ حضرت خدیجہؓ 24 سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ رہیں۔ (بحوالہ: سیرۃ خیرالانام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، ص 583)۔

آغاز وحی کے وقت سے ام المومنین حضرت خدیجہؓ الکبریٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حمایت و معاونت کا فیصلہ کرلیا تھا اور وہ نبوت ملنے کی ابتدائی گھڑیوں میں ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لے آئی تھیں۔ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائیں۔ قبول اسلام کے وقت حضرت خدیجہؓ کی عمر 55 سال تھی۔ یہ مسلّم ہے کہ حضرت خدیجہؓ کے قبول اسلام سے اسلام کی اشاعت پر بڑا خوشگوار اثر پڑا۔ ان کے خاندان اور اعزہ و اقارب میں سے بہت سے لوگ اسلام لے آئے۔

شعب ابی طالب سے نکلنے کے چند روز بعد نماز فرض ہونے یعنی واقعہ معراج سے قبل 10 رمضان، 10 نبوت کو حضرت خدیجہؓ نے بعمر 65 برس وفات پائی۔ یہ ہجرت سے تین سال پہلے کا واقعہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جحون میں حضرت خدیجہؓ کو دفن کیا۔ خود قبر میں اترے۔ اسی سال آپؐ کے چچا حضرت ابوطالب نے وفات پائی۔ ان دونوں عزیزوں کی وفات سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بے حد صدمہ ہوا۔ اسی نسبت سے اس سال کو عام الحزن کہا جاتا ہے۔ کتب سیرت میں حضرت خدیجہؓ کا مفصل حلیہ مذکور نہیں۔ نکاح کا پیغام لے جانے کے سلسلے میں نفیسہ بنت منیہ (حضرت یعلیؓ کی ہمشیرہ) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا: ’’اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مال، جمال اور اخراجات کی کفالت کی طرف دعوت دی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم منظور کریں گے؟‘‘ یہ جملے حضرت خدیجہؓ کے متعلق تھے۔ (بحوالہ: سیرۃ خیرالانام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، صفحات 588-589)۔

قبول اسلام کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی دولت و ثروت تبلیغ دین و اشاعت اسلام کے لیے وقف ہوگئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تجارتی کاروبار چھوڑ کر عبادتِ الٰہی اور تبلیغِ اسلام کے کاموں میں مصروف ہوگئے تھے۔ حضرت خدیجہؓ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ حضرت ابراہیمؓ کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تمام اولاد انہی سے پید اہوئی۔ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انہیں اکثر یاد کیا کرتے تھے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرکے فرمایا کرتے تھے کہ: ’’خدیجہؓ نے اس وقت میری تصدیق کی اور مجھ پر ایمان لائی جب لوگوں نے میری تکذیب کی۔ خدیجہؓ نے مجھے اپنے مال و منال میں شریک کرلیا۔‘‘ حضرت خدیجہؓ میں اتنی خوبیاں تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زندگی بھر انہیں یاد کرتے رہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا سلام لے کر آتے تھے۔

مولانا صفی الدین مبارک پوریؒ اپنی کتاب ’الرحیق المختوم‘ کے صفحہ 634 پر حضرت خدیجہؓ کے بارے میں رقمطراز ہیں: ’’ہجرت سے قبل مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا گھرانہ آپؐ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زوجہ مبارکہ حضرت خدیجہؓ پر مشتمل تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اولاد میں حضرت ابراہیمؓ کے ماسوا تمام صاحبزادے اور صاحبزادیاں ان ہی حضرت خدیجہؓ کے بطن سے تھیں۔ یعنی حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، حضرت ام کلثومؓ اور حضرت فاطمہؓ۔ حضرت فاطمہؓ کی شادی جنگ بدر اور جنگ اُحد کے درمیانی عرصہ میں حضرت علی ابن ابی طالبؓ سے ہوئی۔

مزید پڑھیں

روزہ روحانی تربیت اور حصولِ رحمت کے لیے ایک خاص اہتمام ہے ۔روزے کی فرضیت ایک خاص مقصد تقویٰ کے حصول کے لیے ایک تربیتی پروگرام ہے،تقویٰ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو اللہ کی نافرمانی سے روک دے اور عملاً اللہ کی عظمت سے آشنائی نصیب ہو یعنی انسان کا ہر عمل اس بات کی گواہی دے کہ اسے اللہ سے تعلق عبدیت حاصل ہے اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق اللہ کی عظمت سے آشنا ہے گویا روزہ وہ نعمت ہے جس کے نتیجے میں مومن کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے ایک ایسا تعلق نصیب ہو جائے جو غلط ہاتھ کو اُٹھنے اور قدم کو چلنے سے تھام لے اور حدود اللہ سے تجاوز نہ کرنے دے ۔

مزید پڑھیں

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ نفع کمانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت ہوتی ہے۔‘‘ (رواہ ابن ماجہ والدارمی)ہمارے معاشرہ میں ہر سطح پر یہ عجیب وغریب وباپھیل چکی ہے کہ جہاں رمضان المبارک قریب آیا وہاں عام ضرورت کی اشیاء کی قلت پیدا کردی جاتی ہے اور پھر منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

حضور نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان المبارک بہت ہی بابرکت اور فضیلت والا مہینہ ہے۔ یہ صبر و شکر اور عبادت کا مہینہ ہے جس میں عبادت کا ثواب ستر درجے بڑھ جاتا ہے۔ روزے کے دوران کسی قسم کی چغل خوری، جھوٹ، گالی گلوچ، غصہ اور بدکلامی سے پرہیز ضروری ہے۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  ہم اسے فلسفے کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ ’’نضرۃ النعیم‘‘، کا کیا مطلب ہے ؟ نعمتوں کی تازگی، رونق۔ قرآنِ حکیم سے آیت آپ کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں، اس سے سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ رب العزت نے سورۃ المطففین آیت 22-24 میں فرمایا: اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ یَنْظُرُوْن تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْم ’’یقینا نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے۔ اونچی مسندوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کر رہے ہوں گے۔ ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے۔‘‘ ’’تَعْرِف‘‘ کی جڑ کیا ہے؟ (ع ر ف) اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ پہچان، معرفت کو کہتے ہیں۔ جنتی لوگوں کی پہچان کس چیز سے ہو گی؟ تَعْرِف ’’آپ پہچانو گے‘‘۔ کوئی بھی جنتی کو پہچانے گا تو کس چیز سے؟ نہ آنکھ سے، نہ ناک سے، نہ ہونٹوں سے، نہ چہرے کی بناوٹ سے، نہ قد بت سے، نہ رنگت سے، کوئی چیز نہیں۔

مزید پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں