☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل فیشن صحت دین و دنیا متفرق خواتین کیرئر پلاننگ ادب
اعتکاف:اہمیت اورفضا ئل

اعتکاف:اہمیت اورفضا ئل

تحریر : مولانا محمد الیاس عطار قادری

05-26-2019

رمضان المبارک کی برکتوں کے کیا کہنے ! یوںتواس کی ہرہرگھڑی رَحمت بھری اورہرہرساعت اپنے جلومیںبے پایاں برَکتیںلئے ہوئے ہے مگراس ماہِ محترم میں شب قدر سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے‘ اسے پانے کیلئے ہمارے پیارے آقا،مدینے والے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان پاک کاپورامہینہ بھی اعتکاف فرمایاہے اورآخری دس دن کا بہت ازیادہ اہتمام تھا، یہاں تک کہ ایک بار کسی خاص عذر کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں اعتکاف نہ کرسکے تو شوال المکرم کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا۔‘‘

مسجد میں اللہ عزوجل کی رضا کے لئے بہ نیت اعتکاف ٹھہرنا اعتکاف ہے۔ اس کے لیے مسلمان کا عاقل اور پاک ہونا شرط ہے۔ بلوغ شرط نہیں، نابالغ بھی جو تمیز رکھتا ہے اگر بہ نیت اعتکاف مسجد میں ٹھہرے تو اس کا اعتکاف صحیح ہے۔اس کی یہی دھن ہوتی ہے کہ کسی طرح اس کا پروردگار اس سے راضی ہوجائے۔رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف ’’سنت موکدہ علی الکفایہ‘‘ ہے ۔یعنی پورے شہر میں کسی ایک نے کرلیا تو سب کی طرف سے ادا ہوگیا اور اگر کسی ایک نے بھی نہ کیا تو سبھی مجرم ہوئے ۔ ( بہار شریعت حصہ۵ ص۱۵۲)اعتکاف میں یہ ضروری ہے کہ رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے پہلے مسجد کے اندر بہ نیت اعتکاف موجود ہو اور انتیس کے چاند کے بعد یا تیس کے غروب آفتاب کے بعد مسجد سے باہر نکلے۔ (بہار شریعت حصہ۵ ص۱۵۱)

اگر ۲۰ رمضان المبارک کو غروب آفتاب کے بعد مسجد میں داخل ہوئے تو اعتکاف کی سنّتِ مؤکَّدہ ادانہ ہوئی بلکہ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے مسجد میںتو داخل ہوچکے تھے مگر نیت کرنا بھول گئے تھے یعنی دل میں نیت ہی نہیں تھی(نیت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں) تو اس صورت میں بھی اعتکاف کی سنت مؤکَّدہ ادا نہ ہوئی۔ اگر غروب آفتاب کے بعد نیت کی تو نفلی اعتکاف ہوگیا۔ دل میں نیت کرلینا ہی کافی ہے۔ زبان سے کہنا شرط نہیں۔ البتہ دل میں نیت حاضر ہونا ضروری ہے۔ ساتھ ہی زبان سے بھی اس طرح کہہ لینا زیادہ بہتر ہے۔اعتکاف کی نیت اس طرح کیجئے،’’میں اللہ عزوجل کی رضا کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے سنت اعتکاف کی نیت کرتا ہوں۔‘‘

فنائے مسجد میں جانے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا۔ معتکف بغیر کسی ضرورت کے بھی فنائے مسجد میں جاسکتا ہے۔ فنائے مسجد سے مراد وہ جگہیں ہیں جو احاطہ مسجد (عرفِ عام میں جس کو مسجد کہا جاتا ہے) میں واقع ہوں اور مسجد کی مصالح یعنی ضروریات مسجد کے لیے ہوں‘ جیسے منارہ‘ وضوخانہ‘ استنجاخانہ‘ غسل خانہ‘ مسجد سے متصل مدرسہ‘ مسجد سے ملحق امام و موذن وغیرہ کے حجرے‘ جوتے اتارنے کی جگہ وغیرہ یہ مقامات بعض معاملات میں حکم مسجد میں ہیں اور بعض معاملات میں خارج مسجد۔ مثلاً یہاں پر جنبی (یعنی جس پر غسل فرض ہو) جا سکتا ہے۔ اسی طرح اقتداء اور اعتکاف کے معاملے میں یہ مقامات حکمِ مسجد میں ہیں۔ معتکف بلا ضرورت بھی یہاں جاسکتا ہے۔ گویا وہ مسجد ہی کے کسی ایک حصے میں گیا۔صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، صاحب بہار شریعت حضرت مولانا محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ’’فنائے مسجد ‘ جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضروریاتِ مسجد کیلئے ہے‘ مثلاً جوتا اُتارنے کی جگہ اور غسل خانہ وغیرہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا‘‘۔ مزید آگے فرماتے ہیں ’’فنائے مسجد اس معاملے میں حکم مسجد میں ہے‘‘۔ (فتاویٰ امجدیہ ج۱ ص۳۹۹)

اسی طرح منارہ بھی فنائے مسجد ہے اگر اس کا راستہ مسجد کی چاردیواری (بائونڈری وال) کے اندر ہو تو معتکف بلاتکلف اس پر جاسکتا ہے اور اگر مسجد کے باہر سے راستہ ہو تو صرف اذان دینے کے لیے جاسکتا ہے کہ اذا ن دینا حاجتِ شرعی ہے۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، ’’بلکہ جب وہ مدارس متعلق مسجد حدود مسجد کے اندر ہیں‘ ان میں راستہ فاصل نہیں (جو ان مدارس کو مسجد کی چاردیواری سے جدا کردے) صرف ایک فصیل (یعنی دیوار) سے صحنوں کا امتیاز کردیا ہے تو ان میں جانا مسجد سے باہر جانا ہی نہیں‘ یہاںتک کہ ایسی جگہ معتکف کا جانا جائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایک قطعہ (یعنی حصہ) ہے‘‘۔ ’’رد المختار‘‘ میں ’’بدائع الصنائع‘‘ کے حوالے سے ہے اگر معتکف منارہ پر چڑھا تو بلا اختلاف اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا کیوں کہ منارہ (معتکف کے لیے) مسجد ہی (کے حکم) میں ہے۔ (فتاویٰ رضویہ )۔صحن مسجد کا حصہ ہے لہٰذا معتکف کو صحن مسجد میں آنا جانا بیٹھے رہنا مطلقاً جائز ہے۔ مسجد کی چھت پر بھی آجاسکتا ہے لیکن یہ اس وقت ہے کہ چھت پر جانے کا راستہ مسجد کے اندر سے ہو۔ اگر اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں احاطہ مسجد سے باہر ہوں تو معتکف نہیں جاسکتا۔ اگر جائے گا تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ معتکف، غیر معتکف دونوں کو مسجد کی چھت پر بلاضرورت چڑھنا مکروہ ہے کہ یہ بے ادبی ہے۔

اعتکاف کے دوران دو وجوہات کی بنا پر مسجد سے باہر نکلنے کی اجازت ہے۔ (۱) حاجت شرعی (۲) حاجت طبعی۔حاجت شرعی یعنی جن احکام و امور کی ادائیگی شرعاً ضروری ہو اور معتکف‘ اعتکاف گاہ میں ان کو ادا نہ کرسکے‘ ان کو حاجات شرعی کہتے ہیں مثلاً نماز جمعہ اور اذان وغیرہ۔اگر منارے کا راستہ خارج مسجد(یعنی احاطہ مسجد سے باہر) ہو تو بھی اذان کے لیے معتکف بھی جاسکتا ہے کیونکہ اب یہ مسجد سے نکلنا حاجت شرعی کی وجہ سے ہے۔ اگر ایسی مسجد میں اعتکاف کر رہا ہو جس میں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو معتکف کے لیے اس مسجد سے نکل کر جمعہ کی نماز کیلئے ایسی مسجد میں جانا جائز ہے جس میں جمعہ کی نماز ہوتی ہو اور اپنی اعتکاف گاہ سے اندازاً ایسے وقت میں نکلے کہ خطبہ شروع ہونے سے پہلے وہاں پہنچ کر چار رکعت سنت پڑھ سکے اور نماز جمعہ کے بعد اتنی دیر مزید ٹھہر سکتا ہے کہ چار یا چھ رکعت پڑھ لے اور اگر اس سے زیادہ ٹھہرا بلکہ باقی اعتکاف اگر وہیں پورا کرلیا تب بھی اعتکاف نہیں ٹوٹے گا لیکن نماز جمعہ کے بعد چھ رکعت سے زیادہ ٹھہرنا مکروہ ہے۔ اگر اپنے محلے کی ایسی مسجد میں اعتکاف کیا جس میں جماعت نہ ہوتی ہو تو اب جماعت کے لیے نکلنے کی اجازت نہیں کیونکہ اب افضل یہی ہے کہ بغیر جماعت ہی اس مسجد میں نماز ادا کی جائے۔ اگر مسجد میں وضو خانہ یا حوض وغیرہ نہ ہو تو مسجد سے وضوکے لیے جاسکتے ہیں لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کسی لگن یا ٹب میں اس طرح وضو کرنا ممکن نہ ہو کہ وضو کے پانی کی کوئی چھینٹ (اصل)مسجد میں نہ پڑے۔ (ایضاً)۔طے شدہ ضرتویات کے سواکسی بھی مقصد سے اگر آپ حدود مسجد (یعنی احاطۂ مسجد) سے باہر نکل گئے‘ خواہ یہ نکلنا ایک ہی لمحے کے لیے ہو‘ تو اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

واضح رہے کہ مسجد سے نکلنا اس وقت کہا جائے گا جب پائوں مسجد سے اس طرح باہر نکل جائیں کہ اسے عرفامسجد سے نکلنا کہا جاسکے لہٰذا اگر صرف سرمسجد سے نکال دیا تو اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہو گا۔ بلاضرورتِ شرعی مسجد سے باہر نکلنا خواہ جان بوجھ کر ہو یا بھول کر یا غلطی سے‘ بہر صورت اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے البتہ اگر بھول کر یا غلطی سے باہر نکلیں گے تو اس سے اعتکاف توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا۔ معتکف مسجد ہی میں کھائے‘ پئے۔ ان امور کے لیے مسجد سے باہر جائے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔اگر آپ کے لیے کھانا لانے والا کوئی نہیں تو پھر آپ کھانا لانے کے لیے مسجد سے باہر جاسکتے ہیں لیکن مسجد میں لاکر کھانا کھائیے۔ مرض کے علاج کے لیے مسجد سے نکلے تو اعتکاف فاسد ہوگیا۔ اگر کسی معتکف کو نیند کی حالت میں چلنے کی بیماری ہو اور وہ نیند میں چلتے چلتے مسجد سے نکل گیا تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔ کوئی بدنصیب دوران اعتکاف مرتد ہوگیا (نعوذباللہ) تو اعتکاف باطل ہے اور پھر اگر اللہ عزوجل مرتد کو ایمان کی توفیق عنایت فرمائے تو فاسد شدہ اعتکاف کی قضا نہیں کیونکہ ارتداد (یعنی اسلام سے پھرجانے) سے زمانۂ اسلام کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ حضور تاجدار مدینہﷺ نے ’’صومِ وصال‘‘ یعنی بغیر سحری و افطاری کے مسلسل روزہ رکھنے اور ’’صومِ سکوت‘‘ یعنی چپ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔عوام میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ معتکف کو مسجد میں پردے لگا کر اس کے اندر بالکل چپ چاپ پڑے رہنا چاہئے حالانکہ ایسا نہیں‘ پردے بے شک لگائیے کہ اعتکاف کے لیے خیمہ لگانا سنت ہے۔ پردے سے عبادت میں یکسوئی حاصل ہوتی ہے اور بغیر پردہ لگائے بھی اعتکاف درست ہے۔بدنگاہی‘ بدگمانی‘ بلااجازتِ شرعی کسی کی بے عزتی کرنا‘ جھوٹ‘ غیبت‘ چغلی‘ حسد‘ کسی پر تہمت یا بہتان باندھنا‘ کسی کا مذاق اڑانا‘ دل آزاری کرنا‘ فحش باتیں کرنا‘ گانے باجے سننا‘ گالم گلوچ کرنا‘ ناحق لڑائی جھگڑا کرنا‘ داڑھی منڈانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا یہ سب گناہ ہیں اور مسجد میں! وہ بھی حالت اعتکاف میں!! ظاہر ہے کہ اور بھی سخت گناہ ہے۔ ان گناہوں سے توبہ‘ سچی توبہ‘ ہمیشہ کے لیے توبہ کرنی چاہئے۔ اگرکسی نے حالت اعتکاف میں معاذ اللہ کوئی نشہ آور چیز رات میں استعمال کی تو اس سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔ نشہ کرنا حرام ہے اور اعتکاف میں تو زیادہ گناہ ہے۔ توبہ کرنا چاہئے۔ان تمام صورتوں میں اعتکاف فاسد ہوجائے گا اور اس کی قضا بھی لازم ہوگی لیک

مزید پڑھیں

شبِ قدر کو مندرجہ ذیل ناموں سے پکارا گیا ہے:1۔ لیلۃ القدر2۔ لیلۃ المبارکہ(سورۃ الدخان آیت ۳) قدر کے معنی عظمت و شرف کے ہیں۔ سورۃ قدر میں ار ...

مزید پڑھیں

رمضان المبارک کے بابرکت و مقدس مہینہ میں وہ ’’شبِ قدر‘‘ بھی آگئی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہزار مہینوں سے افضل ا ...

مزید پڑھیں

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے حق میں یہ فرمایا کہ وہ گناہوں ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

حضرت ابو ہریرہ ؓکہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : 

’’ ہر بچہ اپنی فطرت (یعنی اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے والدین اسے یہود ...

مزید پڑھیں

 {عن عبداللہ بن عمرؓ وقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد افلح من اسلم ورزق کفافا وقنعہ اللہ بما اتاہ}(رواہ مسلم)

...

مزید پڑھیں

بچے کی ولادت سے لے کر آخر وقت تک والدین کو کن باتوں کا دھیان کرنا ہوگاکہ والدین اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عظیم امانت کی خیانت کے جرم کے مرتکب ...

مزید پڑھیں