☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل فیشن صحت دین و دنیا متفرق خواتین کیرئر پلاننگ ادب
شبِ قدر بخشش کی رات

شبِ قدر بخشش کی رات

تحریر : مولانا مجیب الرحمن انقلابی

05-26-2019

رمضان المبارک کے بابرکت و مقدس مہینہ میں وہ ’’شبِ قدر‘‘ بھی آگئی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہزار مہینوں سے افضل اور بہترقرار دیا ہے اور ہزار مہینے تراسی برس چار ماہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے یعنی جس قدر اخلاص و محنت اور للہیت کے ساتھ اس ’’شبِ قدر‘‘ میں عبادت و ریاضت اور دعا وغیرہ کی جائے اس قدر اس کے اجر و انعام میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

آپ ﷺ نے اس شب قدر سے محروم رہنے والے شخص کو خیر سے محروم اور حقیقی محروم قرار دیا ہے۔درحقیقت یہ اللہ رب العزت کی طرف سے آپ ﷺکی امت کی بخشش و مغفرت کیلئے بہانے ہیں کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو اس رات کی عبادت نصیب ہو جائے اور آسمانوں پر اس کی بخشش و مغفرت کے فیصلے کر دیئے جائیں، اور کتنے بد نصیب ہیں وہ لوگ جنھوں نے رمضان المبارک جیسا مغفرت کا مہینہ نافرمانی اور غفلت میں گزارنے کے بعد اب شب قدر سے بھی محروم رہے اس سے بڑھ کر اس رات کی فضیلت کیا ہو سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’’سورۃ القدر‘‘ کے نام سے ایک سورت اس کی عظمت میں نازل فرمائی جس میں شب قدر کی خصوصیات ذکر کی گئی ہیں۔اس رات میں قرآن مجید نازل ہوا، اس رات میںفرشتے آسمانوں سے اترتے ہیں ، یہ رات ہزار مہینوں سے افضل و بہتر ہے، اس رات میں صبح صادق تک خیر و برکت اور امن و سلامتی کی بارش ہوتی ہے۔

ایک روایت میں ہے شب قدر میں ملائکہ (فرشتوں) کی پیدائش ہوئی ،اسی رات میں جنت میں درخت لگائے گئے اور اس رات میں عبادت کا ثواب دوسرے اوقات کی عبادت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اور یہی وہ مقدس رات ہے جس میں بندہ کی زبان و قلب سے نکلی ہوئی دعا اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قبولیت سے نوازی جاتی ہے ۔اس مقدس رات میں اللہ رب العزت کی رحمتِ خاص کی تجلی آسمانِ دنیا پر غروب آفتاب کے وقت سے صبح صادق تک ہوتی ہے، بعض روایات کے مطابق اسی رات (شب قدر) کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور اسی رات میں بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوئی۔

مفسرین نے قرآن مجید میں اس رات کا نام ’’لیلۃ القدر‘‘ رکھنے کی مختلف وجوہات ذکر کی ہیں،

ایک وجہ یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں جو لفظ ’’قدر‘‘ ہے اس کا معنیٰ ’’تقدیر و حکم‘‘ کے ہیں، چونکہ اس رات میں تمام مخلوقات کیلئے جو کچھ تقدیر ازلی میں لکھا ہے اس کا جو حصہ اس سال رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے وہ ان فرشتوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو کائنات کا تدبیر اور تنفیذِ امور کیلئے مامور ہیں اس لیے اس کا نام لیلۃ القدر رکھا گیا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ’’قدر‘‘ کے معنیٰ عظمت و شرافت کے بھی آتے ہیں چونکہ یہ رات بھی عظمت و شرافت والی رات ہے اس لیے اس کا نام بھی ’’لیلۃ القدر‘‘ رکھا گیاہے۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ ایک تو اس میں بڑی عظیم مرتبہ و شان والی کتاب (قرآن مجید) نازل ہوئی ہے دوسرا یہ کہ ذی مرتبہ فرشتہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوئی ہے، تیسرا یہ کہ ذی مرتبہ فرشتہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوئی ہے، مزید یہ کہ ذی مرتبہ امت پر نازل ہوئی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ القدر میں لفظ ’’قدر‘‘ تین مرتبہ ذکر کیا ہے۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ ’’قدر‘‘ کے ایک معنیٰ ’’ضِیْق’‘‘‘ یعنی تنگی کے بھی آتے ہیں چونکہ اس رات میں زمین پر فرشتے اس قدر زیادہ اور کثیر تعداد میں اترتے ہیں کہ زمین باوجود اپنی وسعت و کشادگی کے تنگ پڑ جاتی ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’جو شخص ’’شبِ قدر‘‘ میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کیلئے) کھڑا ہوا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ‘‘(بخاری و مسلم)۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے (۱) لوگوں کی عبادت پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا مندی ظاہر کرنے کو (۲) گناہوں پر اپنے غضب اور غصہ کو ظاہر کرنے کو (۳) وسطیٰ نماز کو دوسری نمازوں سے (۴) اپنے دوستوں کو عام لوگوں کی نظروں سے (۵) اور رمضان کے مہینہ میں شبِ قدر کو (غنیۃ الطالبین)‘‘۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ’’شبِ قدر‘‘ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو عطا فرمائی ہے پہلی امتوں کو نہیں ملی‘‘۔

اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں کہ اس امت پر اس انعام و اکرام کا سبب کیا ہے؟ بعض احادیث شریف میں ہے کہ آپ ﷺ نے پہلی امتوں کی عمروں کو دیکھا کہ بہت لمبی لمبی عمریں ہوئی ہیں اور آپ ﷺ کی ’’امت‘‘ کی عمریں بہت تھوڑی اور کم ہیں اگر وہ نیک اعمال میں ان کی برابری بھی کرنا چاہیں تو ناممکن ہیں اس پر آپ ﷺ کو بہت رنج و افسوس ہوا، اس کی تلافی کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ رات (شبِ قدر) مرحمت فرمائی۔بعض روایت میں ہے کہ حضورپاک ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ وہ ایک ہزار مہینے تک اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرتا رہا، صحابہ کرامؓ کو اس پر ’’رشک‘‘ آیا تو اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر کا نزول فرمایا۔

حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ شب قدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے، 29'27'25'23'21 یا رمضان المبارک کی آخر رات میں ہے‘‘۔ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ سے نقل فرماتی ہیں’’ لیلۃ القدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘ ۔ حضرت ابی ابن کعبؓ سے روایت ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ’’ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے‘‘۔حضرت ابن عباسؓ، حضرت ابن عمرؓ اور سیدنا حضرت امیر معاویہؓ بھی آپ ﷺ سے یہی نقل کرتے ہیں کہ ’’وہ (لیلۃ القدر) رمضان المبارک کی ستائیسویں شب ہے‘‘ ۔

حضورپاک ﷺ نے فرمایا کہ اس رات (شب قدر) کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ وہ چمکدار اور کھلی ہوئی ہوتی ہے، صاف و شفاف، نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی، بلکہ معتدل گویا کہ اس میں (انوار و برکات کی کثرت کی وجہ سے) چاند کھلا ہوا ہے، اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے، نیز اس کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو آفتاب بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے،… بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح ہوتا ہے جس طرح چودھویں رات کا چاند، اللہ تعالیٰ اس دن کے افتاب کے طلوع کے وقت شیطان کو اس کے ساتھ نکلنے سے روک دیتے ہیں۔

حضرت عبدہ‘ بن ابی لبابہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو سمندر کا پانی چکھا تو بالکل میٹھا تھا۔حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اس لیے باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں شب قدر کی اطلاع فرما دیں مگر د ومسلمانوں میں جھگڑا ہو رہا تھا، آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ میں اس لیے آیا تھا کہ تمہیں شب قدر کی خبر دوں مگر فلاں فلاں شخص میں جھگڑا ہو رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی تعیین اٹھا لی گئی کیا بعید ہے کہ یہ اٹھا لینا اللہ تعالیٰ کے علم میں بہتر ہو، لہٰذا اب اس رات کو29ویں،27ویں اور 25ویں شب میں تلاش کرو‘‘۔ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق ’’شب قدر‘‘ کی تعیین اٹھا لینے میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے کوئی بہتری ہے اگر شب قدر کا علم باقی رکھا جاتا اور بتا دیا جاتا تو پورا رمضان المبارک سستی و غفلت میں گزرتا اور صرف شب قدر میں عبادت کی جاتی یا جس کی شبِ قدر بغیر عبادت کے گزر جاتی تو باقی رمضان المبارک کے ایام دکھ اور افسوس میں گزر جاتے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت نے گوارا نہ کیا کہ اس عظمت والی رات کے معلوم ہونے کے بعد کوئی گناہ پر جرأت کرے کیونکہ اگر اس شب کے پانے پر ہزار مہینوں کی عبادت کا ثواب ملتا ہے اسی طرح اس شب میں گناہ کرنے پر ایک ہزار مہینوں کا گناہ بھی ہوتا۔ اب انسان شب قدر کی تلاش میں ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتا ہے اور اسی شب قدر کی تلاش میں اعتکاف کرتا ہے اور زیادہ سے زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں گزارتا ہے لیکن شب قدر کا زیادہ احتمال ستائیسویں شب میں ہے۔

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ ’’یارسولؐ اللہ اگر مجھے شب قدر کا پتہ چل جائے تو کیا دعا مانگوں‘‘؟ آپ ﷺ نے یہ دعا بتائی! اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوّ’‘ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنْیِّ (ترمذی، مشکوٰۃ) ترجمہ! ’’اے اللہ بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس تو میری خطائیں بھی معاف فرما دے‘‘ احادیث شریف میں دعا مانگنے کی بڑی فضیلت و عظمت بیان کی گئی ہے، اس لیے ’’شب قدر‘‘ میں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے۔دعا کیلئے وہ الفاظ زیادہ قیمتی اور مؤثر ثابت ہوتے ہیں جو دل سے نکلتے ہیں اور زبان کی پوری تاثیروں کو ساتھ لیے بارگاہ ایز دی میں پہنچتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو شبِ قدر کا حق ادا کرنے اور اللہ کی رحمت و بخشش و مغفرت کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مزید پڑھیں

شبِ قدر کو مندرجہ ذیل ناموں سے پکارا گیا ہے:1۔ لیلۃ القدر2۔ لیلۃ المبارکہ(سورۃ الدخان آیت ۳) قدر کے معنی عظمت و شرف کے ہیں۔ سورۃ قدر میں ار ...

مزید پڑھیں

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے حق میں یہ فرمایا کہ وہ گناہوں ...

مزید پڑھیں

رمضان المبارک کی برکتوں کے کیا کہنے ! یوںتواس کی ہرہرگھڑی رَحمت بھری اورہرہرساعت اپنے جلومیںبے پایاں برَکتیںلئے ہوئے ہے مگراس ماہِ محتر ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

اسلام امن پسند مذہب ہے لیکن اسے دنیا بھر میں دہشت گردی اور تشدد کا سامنا ہے ،بھارت سے لے فلسطین اور عرق سے لیبیا تک ہر جگہ غیر ملکی مداخلت ...

مزید پڑھیں

روزی کے متعلق سب سے پہلے اسلام نے خوب اچھی طرح یقین دلایاہے کہ دنیا اور اس کی تمام اشیاء کامالک ایک اﷲ ہے۔یہ مال ودولت حقیقت میں میر اتیر ...

مزید پڑھیں

عائلۃ عربی زبان میں بیوی اور گھر کے دیگر افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عائلی زندگی سے اسلام نے قرآن حکیم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ...

مزید پڑھیں