☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) رپورٹ(طاہر اصغر) کھیل(طیب رضا عابدی ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) فیشن(طیبہ بخاری ) صحت(محمد ندیم بھٹی) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس عطار قادری) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) دین و دنیا(مولانا مجیب الرحمن انقلابی) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(ناصر محمود بیگ) خواتین() کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
شب قدر کی فضیلت

شب قدر کی فضیلت

تحریر : ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

05-26-2019

شبِ قدر کو مندرجہ ذیل ناموں سے پکارا گیا ہے:1۔ لیلۃ القدر2۔ لیلۃ المبارکہ(سورۃ الدخان آیت ۳) قدر کے معنی عظمت و شرف کے ہیں۔ سورۃ قدر میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’بے شک ہم نے اس ’’قرآن‘‘ کو (لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف) شب قدر میں اتارا اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیا ہے۔لیلۃ القدر (کی عبادت اور نیکی) ہزار مہینوں ( متواتر عبادت اور نیکی) سے بہتر ہے۔ (یعنی اس سے بھی زائد ہے)۔ فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے حکم سے ہر ’’امر خیر‘‘ کے لیے اس ’’رات‘‘ میں اترتے ہیں۔ یہ سلامتی اور امن کی رات ہے اور یہ کیفیت امن و خیر صبح کے نکلنے تک رہتی ہے۔‘‘ (ترجمہ: فیوض القرآن، ڈاکٹر سید حامد حسین بلگرامی، صفحات 1486-87)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق رات میں تلاش کرو۔ (بحوالہ: بخاری، مسلم، احمد، ترمذی)۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تازیست رمضان کی آخری دس راتوں میں اعتکاف فرمایا۔

عبداللہ یوسف علی رقمطراز ہیںکہ شب قدر 23 رمضان یا دیگر طاق راتوں میں سے ہے۔

(بحوالہ: The Holy Quran, Text & Translation, 1983 edition, page 1765) ہزار مہینے سے شب قدر کس قدر بہتر ہے، اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ حدیث مبارک ہے: مَنْ حُرِمَھَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّہُ وَلَا یُحْرَمَ خَیْرَھَا اِلَّا کُلِّ مَحْرُوْمٍ ’’جو شخص شب قدر سے محروم ہوگیا، گویا پوری بھلائی سے محروم ہوگیا اور شب قدر سے وہی محروم ہوتا ہے جو کامل محروم ہو۔‘‘ (ابن ماجہ) پہلی امتوں کی عمریں زیادہ ہوتی تھیں، اس امت کی عمر زیادہ سے زیادہ 80,70 سال ہوتی ہے۔ اللہ پاک نے یہ احسان فرمایا کہ ان کو شب قدر عطا فرمادی اور ایک شب قدر کی عبادت کا درجہ ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ کردیا، محنت کم ہوئی، وقت بھی کم لگا اور ثواب میں بڑی بڑی امتوں سے بڑھ گئے۔

حدیث شریف میں آتا ہے: مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ (بحوالہ: بخاری و مسلم) ’’جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے عبادت کے لیے کھڑا رہا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔‘‘

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ مکاشفۃ القلوب کے صفحات 690-91 پر ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:’’ جب لیلۃ القدر آتی ہے تو جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر ذکر اللہ کرنے والے کے لیے دعا کرتے اور اس کو سلام کرتے ہیں‘‘۔

حضرت ابوہریرہؓ کا فرمان ہے:’’ لیلۃ القدر میں زمین پر کنکر سے زیادہ تعداد میں فرشتے نازل ہوتے ہیں، چنانچہ ان کے نازل ہونے کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں‘‘، جیسے کہ مروی ہے کہ کثرت سے انوارات ہوتے ہیں اور عظیم تجلیات ہوتی ہیں اور اس میں فرشتے اور لوگ متفرق طور پر عیاں ہوتے ہیں۔ بعض کو آسمانوں اور زمین کے فرشتے نظر آتے ہیں، تو آسمان کے حجاب کھل جاتے ہیں۔ وہاں فرشتوں کا مکاشفہ ہوتا ہے، بعض کھڑے ہیں، بعض بیٹھے ہیں، بعض رکوع میں ہیں، بعض سجدہ میں ہیں، بعض شکر کررہے ہیں، بعض سبحان اللہ پڑھ رہے ہیں اور بعض لاالہ الا اللہ پڑھ رہے ہیں اور بعض کو جنت کا مکاشفہ ہوتا ہے کہ اس میں محلات، مکانات، حوریں، نہریں، درخت اور پھل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش کا مکاشفہ ہوتا ہے اور اس کی چھت کا کشف ہوتا ہے اور انبیاء، صدیقین، شہداء اور اولیاء کے مراتب کا پتہ چلتا ہے۔ وہ عالم ملکوت کی سیر کرتا ہے۔ دوزخ کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس کی وادیاں دیکھتا ہے۔ اس طرح کفار کے حالات سے آگاہ ہوتا ہے۔ بعض سے اللہ تعالیٰ کے حجابات جمال کھل جاتے ہیں، چنانچہ اسے صرف اسی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔

امام غزالیؒ مکاشفۃ القلوب کے صفحہ نمبر 691 پر فرماتے ہیں: ’’حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ’’ جس نے ماہ رمضان کی ستائیسویں شب صبح تک زندہ کی (یعنی عبادت کی) تو وہ مجھے رمضان کے قیام سے زیادہ عزیز ہے۔‘‘ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ’’ جس نے لیلۃ القدر کو شب بیداری کی اور جس رات میں دو رکعت پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگی، اللہ تعالیٰ اسے معاف کردے گا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہ لگالیا۔ اسے جبریل علیہ السلام اپنا پر لگائیں گے اور جس کو حضرت جبریل ؑپر لگائیں گے وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا کہ یا رسولؐ اللہ! اگر مجھے شب قدر معلوم ہوجائے تو اس میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھو:

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا

’’یعنی اے اللہ! تو معاف فرمانے والا ہے۔ معاف کرنا تجھے پسند ہے تو مجھے معاف فرمادے۔‘‘

مزید پڑھیں

رمضان المبارک کے بابرکت و مقدس مہینہ میں وہ ’’شبِ قدر‘‘ بھی آگئی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہزار مہینوں سے افضل ا ...

مزید پڑھیں

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے حق میں یہ فرمایا کہ وہ گناہوں ...

مزید پڑھیں

رمضان المبارک کی برکتوں کے کیا کہنے ! یوںتواس کی ہرہرگھڑی رَحمت بھری اورہرہرساعت اپنے جلومیںبے پایاں برَکتیںلئے ہوئے ہے مگراس ماہِ محتر ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

درودشریف کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے ۔ درودشریف اﷲتعالیٰ کے دربارمیں یقینا قبول ہوتاہے ،اس میں اﷲتعالیٰ کے سب سے محبوب بندے پردُرودوسلام پیش کیاجاتاہے۔ دُرود شریف کی اہمیت کا اندازہ ہم کچھ احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں ۔حضورپاک ﷺنے فرمایا،    

مزید پڑھیں

{عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما قال قال رسول اللہ ﷺمثل المؤمنین فی توادہم و تراحمہم و تعا طفہم مثل الجسد اذاشتکی منہ عضو تداعی لہ سائر الجسد بالسہر والحمی۔} (متفق علیہ)    

مزید پڑھیں

’’حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ نفع کمانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت ہوتی ہے‘‘ (رواہ ابن ماجہ والدارمی) ہمارے معاشرہ میں ہر سطح پر یہ عجیب وغریب وباپھیل چکی ہے کہ جہاں کوئی موقع ملاتوعام ضرورت کی اشیاء کی قلت پیدا کردی جاتی ہے اور پھر منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ اس میں بنیادی طریقہ ذخیرہ اندوزی ہے۔

مزید پڑھیں