☰  
× صفحۂ اول (current) عالمی امور(محمد ندیم بھٹی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا خواتین(نجف زہرا تقوی) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(طاہر اصغر) متفرق(مولانا خورشید احمد گنگوہی) دین و دنیا ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب)
سکون اور چین کیسے نصیب ہوتا ہے؟

سکون اور چین کیسے نصیب ہوتا ہے؟

تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

06-09-2019

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ جہاں کہیں اللہ کے بندے اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو لازمی طور پر فرشتے ہر طرف سے ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور ان کو گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینہ کی کیفیت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے معتبر ملائکہ میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔‘‘

دل کا سکون کون نہیں چاہتا ہر دور میں ہر انسان کی یہ چاہت رہی ہے کہ مجھے دل کا چین اور اطمینان مل جائے۔اس اطمینان کو انسان نے جگہ جگہ تلاش کیا۔ کسی نے مختلف رسالوں اور کتابوں کے پڑھنے میں سکون پایا، کسی نے سیرو تفریح کے مقامات میں جا کر اطمینان پایا، کسی نے باغات میں جا کر درختوں اور پودوں کے درمیان گھوم پھر کر اور پھولوں کے رنگ و بو میں سکون تلاش کیا، کسی نے کھیل کود اور جدید تفریحی آلات کے ذریعہ سکون و اطمینان پانے کی کوشش کی۔لیکن انسان نے خود سے جتنے راستے سکون حاصل کرنے کے لیے تلاش کیے ان میں کسی طریقے میں وقت برباد ہوا، کہیں پیسہ ضائع ہوا، کہیں ایمان و اخلاق کی خرابی آگئی اور کبھی صحت کو بھی کھو دیا۔ یہ درست ہے کہ ان چیزوں میں بھی وقتی طور پر سکون ملتا ہے۔ لیکن خالق کائنات جس نے ہمارے جسم کی مشین کو بنایا اس ذات حکیم و خبیر نے ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کے ذریعہ سکون حاصل کرنے کی بہترین تعلیم عطا فرمائی:سورۂ رعد کی ۲۸ ویں آیت میں فرمایا، ترجمہ :’’آگا ہ رہو، اللہ کی یاد سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔‘‘

اطمینان قلب ایک بہت بڑی نعمت ہے اسے دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔ مادیت پرستی کی دوڑ میں انسان سکون کے لیے بے قرار ہے۔ اس نعمت کو حاصل کرنے کا آسان طریقہ اللہ سے تعلق قائم کرنا اور اس کی یاد دل میں بسا لینا ہے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی پریشانی آتی تو آپ ﷺنماز میں مشغول ہو جاتے۔ تیز آندھی آتی تو آپ ﷺنماز کی طرف متوجہ ہو جاتے۔

بارش نہ آتی، خشک سالی ہو جاتی تو صلوٰۃ الاستسقاء (بارش کے وقت کی نماز) ادا فرماتے سورج گرہن یا چاند گرہن لگتا تو نماز کسوف اور نماز خسوف ادا فرماتے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قسم کی تنگی اور پریشانی میں نماز ادا کرنے کاحکم فرمایا کرتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے ،ترجمہ:’’یعنی آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرتے رہیے اور اس کی پابندی فرماتے رہیے ہم آپ سے رزق کا مطالبہ کرنا نہیں چاہتے‘‘۔ رزق دینے والا اللہ ہے اور اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیرت طیبہ کے ذریعہ یہ تعلیم دی کہ انسان اللہ سے غافل ہو کر دنیا کی دولت میں کبھی اطمینان و سکون نہیں پا سکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ’’ اگر آدمی کے پاس دو وادیاں مال کی بھری ہوئی ہوں تو وہ چاہے گا کہ میرے پاس تیسری وادی بھی مال سے بھری ہوئی ہو اور ابن آدم کا پیٹ تو صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے‘‘۔ اور پھر فرمایا کہ’’ جو لوگ اپنا رخ اللہ کی طرف کر لیں تو ان پر اللہ کی خاص عنایت ہوتی ہے اور ان کو اللہ اس دنیا میں اطمینان قلب عطا فرما دیتا ہے پھر اس دنیا میں ان کی زندگی بڑے مزے کی اور بڑے سکون سے گزرتی ہے‘‘۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی سیرت مبارکہ سے یہ سمجھایا کہ دل کا چین اور اطمینان قناعت سے حاصل ہوتا ہے۔ حرص اور لالچ سے کبھی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر مرحلہ میں یہ تعلیم دی کہ دنیا کے سازوسامان اور اس کی دولت میں سکون تلاش کرنا بے فائدہ ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں ، ترجمہ :’’جس کی نیت اور اس کا مقصد اپنی تمام تر کوشش سے طلب آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دل کی بے نیازی یعنی مخلوق کا محتاج نہ ہونا اور دل کا اطمینان نصیب فرما دیتے ہیں۔‘‘

جن چیزوں سے دل کا سکون رخصت ہو جاتا ہے ان میں ایک اہم چیز حسد ہے۔ یعنی دوسرے کے پاس نعمت دیکھ کر دل میں جلن محسوس کرنا دوسرے کی خوش حالی دیکھ کر دل میں کڑھنا اور یہ چاہنا کہ دوسرے انسان کو یہ چیز کیوں ملی۔ معاشرہ میں رہتے ہوئے آپس میں حسد کرنے سے ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیرت پاک کے ذریعہ امت کو تعلیم دی کہ اگر دل کا سکون اور اطمینان چاہیے تو مثبت خیالات اور پاکیزہ سوچ کو اپنائیں۔ آپ نے ایسا معاشرہ ترتیب دیا جس میں خود کھا کر اتنا اطمینان نہیں ملتا جتنا دوسرے کو کھلاکر سکون نصیب ہوتا ہے۔ اپنی مرضی اپنی چاہت پوری کرنے کے بجائے ایثار کی تعلیم دی اور یہ سکھایا کہ نفسانفسی کے عالم میں سکون نصیب نہیں ہوتا بلکہ احسان کر کے، خدمت کر کے، آپس کی ہمدردی اور غمخواری کے ذریعہ دل کا سکون نصیب ہوتا ہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیرت طیبہ کے ذریعہ اس بات کی بھی تعلیم دی کہ دوسروں کے حقوق کو پورا کر کے سکون ملتا ہے۔ اپنے فرائض کو اچھے طریقے سے ادا کر کے اپنے ضمیر کو مطمئن رکھا جائے تو یہی سکون کا ذریعہ ہے۔

مزید پڑھیں

گھر میں بچے اب تو لائق التفات سمجھے جاتے ہیں (خصوصاً زمانہ جاہلیت میں) تو بالکل ہی ان کو قابل توجہ اور لائق التفات نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن رسول کریمؐ بچوں کو بھی اپنی خاص الخاص رحمتوں سے نوازا اور اس سلسلہ میں اپنے قول و عمل سے ایسا اسوہ اور نمونہ پیش فرمایا جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔آپ ﷺنے بچوں کے متعلق فرمایا کہ ’’یہ اﷲ کی خاص الخاص نعمت ہیں۔

مزید پڑھیں

حضور نبی کریم ﷺکے سامنے ایک صاحب نے اپنے زمانۂ جاہلیت کی آپ بیتی سنائی اور اس کا حسرت ناک نقشہ کچھ اس طرح کھینچا کہ نبی پاک ﷺبے قرار ہوگئے۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  ہم اسے فلسفے کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ ’’نضرۃ النعیم‘‘، کا کیا مطلب ہے ؟ نعمتوں کی تازگی، رونق۔ قرآنِ حکیم سے آیت آپ کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں، اس سے سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ رب العزت نے سورۃ المطففین آیت 22-24 میں فرمایا: اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ یَنْظُرُوْن تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْم ’’یقینا نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے۔ اونچی مسندوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کر رہے ہوں گے۔ ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے۔‘‘ ’’تَعْرِف‘‘ کی جڑ کیا ہے؟ (ع ر ف) اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ پہچان، معرفت کو کہتے ہیں۔ جنتی لوگوں کی پہچان کس چیز سے ہو گی؟ تَعْرِف ’’آپ پہچانو گے‘‘۔ کوئی بھی جنتی کو پہچانے گا تو کس چیز سے؟ نہ آنکھ سے، نہ ناک سے، نہ ہونٹوں سے، نہ چہرے کی بناوٹ سے، نہ قد بت سے، نہ رنگت سے، کوئی چیز نہیں۔

مزید پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں