☰  
× صفحۂ اول (current) عالمی امور(محمد ندیم بھٹی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا خواتین(نجف زہرا تقوی) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(طاہر اصغر) متفرق(مولانا خورشید احمد گنگوہی) دین و دنیا ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب)
بچوں سے محبت اور شفقت

بچوں سے محبت اور شفقت

تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

06-09-2019

گھر میں بچے اب تو لائق التفات سمجھے جاتے ہیں (خصوصاً زمانہ جاہلیت میں) تو بالکل ہی ان کو قابل توجہ اور لائق التفات نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن رسول کریمؐ بچوں کو بھی اپنی خاص الخاص رحمتوں سے نوازا اور اس سلسلہ میں اپنے قول و عمل سے ایسا اسوہ اور نمونہ پیش فرمایا جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔آپ ﷺنے بچوں کے متعلق فرمایا کہ ’’یہ اﷲ کی خاص الخاص نعمت ہیں۔

ان کی تعلیم و تربیت اور ان کو حسن ادب کے ساتھ متصف کرناماں باپ کی ذمہ داری ہے‘‘، بچوں کا یہ بھی حق ہے کہ والدین اور گھر کے دوسرے بڑے ان کے ساتھ شفقت اور محبت کا معاملہ کریں۔ بچوں میں اگر لڑکیاں ہیں تو ان کے ساتھ حسن سلوک اور برتائو میں کسی قسم کی تفریق نہ برتیں۔ خود آپ ﷺکا عمل بھی اپنے گھر کے بچوں کے ساتھ اور بچیوں کے بارے میں ایسا ہی تھا۔ آپ کی اپنی بیٹیوں سے غیر معمولی محبت تھی اور ان کے ساتھ صرف شفقت ہی نہیں اکرام کا معاملہ بھی فرماتے تھے۔ آپ کے لخت جگر حضرت فاطمہ زہراؓ کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ جب وہ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھیں تو آپﷺپیش قدمی فرما کر ان کا استقبال کرتے اور ان کو اپنی جگہ پر بٹھاتے۔

ان کے فضائل کے بارے میں رسول اﷲ ﷺسے بہت سے اقوال نقل کئے گئے ہیں۔ دوسری صاحبزادیوں کے ساتھ بھی آپ کا معاملہ اسی طرح کا تھا اور ان کے متعلق بھی آپﷺکے اکرام و شفقت کا ذکر حدیث کی کتابوں میں ملتا ہے۔گھر کے چھوٹے بچوں کے ساتھ آپﷺکا معاملہ نہایت پیار و محبت اور شفقت کا تھا (اور یہی معیارِ کمال ہے)۔ آپ کے دونوں نواسے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ آپ ہی کی گود میں پلے، نبوتؐ کی ساری ذمہ داریوں کے باوجود آپ ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ فرماتے تھے۔ ان کو گود میں لیتے، اپنے کندھوں پر سوار کرتے ، ان کو پیار کرتے، ان کو سونگھتے اور مستقبل میں ان کو حاصل ہونے والے کمالات کا ذکر بھی کرتے اور نیز ان کو دُعائیں دیتے، اپنے ساتھ سواری پر سوار کرتے۔ کبھی فرماتے تم دونوں میرے گلدستے ہو۔ ایک صحابی حضرت اقرع بن حابس ؓ نے ایک مرتبہ آپ ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺاپنے نواسے حضرت حسن ؓ کا بوسہ لے رہے ہیں انہوں نے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! میرے دس بیٹے ہیں، میں نے کبھی بھی ان کا بوسہ نہیں لیا۔ آپ ﷺنے فرمایا: ’’جو رحم نہیں کرتا اس پر منجانب اﷲ رحم نہیں کیا جاتا‘‘۔

یعنی بچوں کو پیار کرنا بھی رحمت خداوندی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ حضرات حسنینؓ کے علاوہ آپ کا معاملہ درجہ بدرجہ خاندان کے دیگر بچوں کے ساتھ محبت و شفقت کا ہی رہا ہے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺخطبہ دے رہے تھے کہ حضرات حسنینؓ گھر سے نکل آئے، نیا نیا چلنا شروع کیا تھا، قدم لڑکھڑا رہے تھے، فرطِ محبت میں آپ ﷺسے رُکا نہ جا سکا، آپ درمیانِ خطبہ ممبر سے اُترے اور بڑھ کر ان کو گود میں اُٹھا لیا۔ پھر فرمایا:’’ اﷲ نے سچ کہا ہے: اولاد انسان کی کمزوری ہے۔ میں نے دیکھا، یہ دونوں اپنے کپڑوں میں اُلجھ کر لڑکھڑا رہے ہیں، مجھ سے صبر نہ ہوا اور میں نے درمیانِ خطبہ ہی اُتر کر ان کو گود لے لیا‘‘۔کبھی ایسا بھی ہوا کہ درمیانِ نماز نواسی یا نواسہ آکر کندھے یا پیٹھ پر سوار ہوگیا، آپ نے نماز جاری رکھی، جب رکوع یا سجدہ کیا تو اُتار دیا اور پھر اُٹھا لیا۔ اولاد سے آپ ﷺکو بڑی محبت تھی۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ ﷺسے زیادہ اولاد کے ساتھ رحم دل و شفیق شخص نہیں دیکھا۔ اور اگر ان کو تکلیف پہنچتی تو آپﷺبیتاب ہو جاتے، ایک مرتبہ برسرِ عام کہا،

’’فاطمہؓ! میری ہے، میں فاطمہؓ کا ہوں، فاطمہؓ کی تکلیف میری تکلیف ہے‘‘۔ غزوئہ بدر میں آپ ﷺکے داماد حضرت زبیر ؓ کے شوہر ابوالعاص قیدی بنے، ان کے پاس فدیہ کی رقم نہیں تھی، انہوں نے حضرت زینب ؓ کو کہلا بھیجا کہ فدیہ کی رقم بھیج دیں۔ حضرت زینبؓ کے پاس حضرت خدیجہؓ کا دیا ہوا ایک قیمتی ہار تھا، جو ان کو شادی میں ملا تھا۔ جب نقد رقم پوری نہ ہوئی تو انہوں نے اپنے گلے کا ہار بھی اُتار کر بھیج دیا۔ آنحضرت ﷺکے سامنے جب وہ ہار آیا تو نہ جانے کیا کیا یادیں نظر کے سامنے گھوم گئیں۔ آپ ﷺبے تاب ہوگئے۔ شدید رقت طاری ہوگئی۔ صحابہ ؓ نے فرمایا: اگر تمہاری مرضی ہو تو بیٹی کو ماں کی یادگار واپس کر دوں۔ صحابہؓ نے رضامندی ظاہر کی اور وہ ہار واپس کر دیا۔

آپ ﷺکے صاحبزادہ ابراہیم ؓ مدینہ سے کچھ دُور عوالی میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتے تھے۔ آپ ﷺصحابہ ؓ کے ساتھ وہاں جاتے اور بچہ کو دیکھ کر آتے۔ اﷲ کی تقدیر کہ ان کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا، جب کہ آپؐ کبرسنی کو پہنچ چکے تھے، اور ابراہیم ؓ اکیلے نرینہ اولاد تھے۔ آپ ﷺانتقال کے وقت پہنچ گئے، بچے نے اس حال میں دم توڑا کہ اس کا سر آپ ﷺکی گودمبارک میں تھا اور آپ ﷺکی آنکھیں شدتِ غم سے جاری تھیں۔ مگر اس وقت بھی آپﷺ ﷺبشر کے ساتھ نبیؐ بھی تھے، اس حال میں آپؐ کو اﷲ کی رضا کا خیال تھا، پورے صبر کے ساتھ زبان سے یہ ایمان افروز کلمات نکلے:

’’اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ یَحْزَنَ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَایَرْضٰی بِہٖ رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَآ اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ‘‘

ترجمہ :’’آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمگین ہے، مگر سوائے اس بات کے جو اﷲ کو پسند ہو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بخدا! ابراہیم! تمہاری جدائی سے ہم بہت غمگین ہیں۔‘‘

مزید پڑھیں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ جہاں کہیں اللہ کے بندے اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو لازمی طور پر فرشتے ہر طرف سے ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور ان کو گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینہ کی کیفیت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے معتبر ملائکہ میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔‘‘

مزید پڑھیں

حضور نبی کریم ﷺکے سامنے ایک صاحب نے اپنے زمانۂ جاہلیت کی آپ بیتی سنائی اور اس کا حسرت ناک نقشہ کچھ اس طرح کھینچا کہ نبی پاک ﷺبے قرار ہوگئے۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  ہم اسے فلسفے کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ ’’نضرۃ النعیم‘‘، کا کیا مطلب ہے ؟ نعمتوں کی تازگی، رونق۔ قرآنِ حکیم سے آیت آپ کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں، اس سے سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ رب العزت نے سورۃ المطففین آیت 22-24 میں فرمایا: اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ یَنْظُرُوْن تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْم ’’یقینا نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے۔ اونچی مسندوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کر رہے ہوں گے۔ ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے۔‘‘ ’’تَعْرِف‘‘ کی جڑ کیا ہے؟ (ع ر ف) اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ پہچان، معرفت کو کہتے ہیں۔ جنتی لوگوں کی پہچان کس چیز سے ہو گی؟ تَعْرِف ’’آپ پہچانو گے‘‘۔ کوئی بھی جنتی کو پہچانے گا تو کس چیز سے؟ نہ آنکھ سے، نہ ناک سے، نہ ہونٹوں سے، نہ چہرے کی بناوٹ سے، نہ قد بت سے، نہ رنگت سے، کوئی چیز نہیں۔

مزید پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں