☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل متفرق غور و طلب فیچر فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا خواتین کھیل ادب کیرئر پلاننگ
حصول رزق کی تلاش

حصول رزق کی تلاش

تحریر : علامہ سید محمود احمد رضوی

06-23-2019

آج کل کے بہت سے اچھے خاصے دیندار حلقوں میں بھی معاملات یعنی خریدو فروخت،امانت،قرض،نوکری،اور مزدوری کی اصلاح کا اتنا اہتمام نہیں جتنا کہ ہوناچاہیے۔جس کانتیجہ یہ ہے کہ بہت لوگ جن کی حالت ِ نماز،روزہ وغیرہ عبادات کے لحاظ سے کچھ غنیمت بھی ہے،کاروبار ان کے بھی پاک نہیں ہیں۔حالانکہ کاروبار کی پاکی اور معاملات کی صحت کے شعبہ کی اہمیت کا یہ عالم ہے۔اس کاتعلق بیک وقت اﷲکے حق سے بھی ہے اور بندوں کے حقوق سے بھی،نماز، روزہ،وغیرہ عبادات اگرچہ ارکانِ دین ہیں اور اس حیثیت سے ایمان کے بعد انہی کادرجہ ہے مگرکوئی شخص ان میں کوتاہی کرتا ہے۔تو صرف خدا کا مجرم ہوتا ہے۔پھر اگر سچے دل سے توبہ واستغفار کی جائے تو بارگاہ خداوندی سے ا س جرم کی معافی ہی کی امید ہے۔

روزی کے متعلق سب سے پہلے اسلام نے خوب اچھی طرح یقین دلایاہے کہ دنیا اور اس کی تمام اشیاء کامالک ایک اﷲ ہے۔یہ مال ودولت حقیقت میں میر اتیر اکسی کا نہیں صرف خدا کا ہے۔رزق کی کشائش اور تنگی دونوں کام خدا کے ہیں اور حکمت سے ہیں دولت مند انسان یہ سمجھتا ہے کہ مجھ ہی میں کوئی ایسی بات ہے یا مجھے ایسا ہنر اور طریقہ معلوم ہے جس سے یہ ساری دولت میرے چاروں طرف سمٹی چلی آرہی ہے۔ لیکن مذہبی تعلیم کے علاوہ دنیا کے واقعات پر گہری نظر اس یقین کو مٹانے کے لیے کافی ہے۔ترجمہ’’ اور زمین میں کوئی چلنے والانہیں،مگر یہ کہ اس کی روزی خداکے ذمہّ ہے‘‘۔(سورہ ہود)

ترجمہ’’ اسی کے ہاتھ میں ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں وہ جس کے لیے چاہتاہے رزق پھیلادیتاہے اور جس کے لئے چاہے ناپ دیتا ہے۔وہ ہر چیز کی خبر رکھتا ہے‘‘۔(سورہ شوریٰ آیت۱۱ )

ترجمہ ’’ زمین اور آسمان کے خزانے اسی کے ہیں۔خدا ہی کا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور زمین میں ہے۔آسمان وزمین کی ملکیت یابادشاہی اسی ایک اﷲکی ہے‘‘۔

قرآن مجید نے بار بار بیان کرکے مسلمانوںکے ریشہ ریشہ میں اسی لیے رچایاہے تاکہ ان میں فیاضی ،مال سے ایثار،شکر،قناعت پسندی کے جوہر پیداہوجائیں۔

روزی کمانادراصل انسانی زندگی کی ضروریات سے ہے اور شرعاًوعقلاً ہرمسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ضروریات کی تکمیل اور اصلاح کے لیے حصول رزق کی کوشش کرے،خواہ وہ تجارت وزراعت کی شکل میں ہو یاملازمت و نوکری کی صورت میں قرآن مجید میں اﷲفرماتا ہے کہ ۔ترجمہ’’ زمین کی تمام چیزیں اﷲنے تمہارے لیے پیداکی ہیں ‘‘۔’’زمین میں پھیل جاؤ اور اﷲ کا فضل تلاش کرو‘‘(سورہ جمعہ)

قرآن پاک کے محاورے میں ’’ خداکافضل تلاش کرنے‘‘ سے مقصود تجارت اور روزی کا کمانا ہوتا ہے۔معلوم ہُوا کہ حصول رزق کی تلاش کرنارزاقِ کائنات کا فضل ہے اور یہ زمین اس کے لیے بمنزلہ میدان کے ہے اوراس میدان کی تمام اشیاء انسان کے نفع کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔لہٰذا ضروری ہوا کہ ایسے قواعدضوابط مقرر کردیے جائیںجن کے ماتحت فضل ِ الٰہی کی تلاش کی جائے کیونکہ رزق اور اس کے حصول کے لیے اگر کوئی قاعدہ اور ضابط نہ ہو ااور اسے بے قید چھوڑ دیا جائے تو ظاہر ہے کہ اس طرح عدل اور ظلم،امانت،اور خیانت، پاک اور ناپاک ،جائز اور ناجائز کی تمیز اُٹھ جائے گی اور یہ بات نظام انسانی کی تباہی و بربادی کا باعث ہوگی۔

چنانچہ اسلام سے قبل دنیا کی کچھ ایسی ہی حالت تھی۔جس کے جی میں جو آتا اور جیسے آتا کماتا تھا۔حتیٰ کہ ظلم وجور سے کمائی ہوئی دولت پر فخر کیا جاتا تھا۔اسلام آیاتو اس نے حصول رزق کے حدود مقرر کئے،جائز و ناجائز کی تفرق پیدا کی۔حلال و حرام کا ضابطہ مقرر کیا۔پا ک روزی ڈھونڈنے اورا سی سے ضروریات ِ زندگی کوپوراکرنے کی تاکید فرمائی۔چنانچہ سورۂ بقرہ رکوع 21، آیت نمبر 171 میں رزق حلال کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔گویایہ بتایا گیاہے کہ انسان کا اپنے رب کے ساتھ بندگی اور نیاز مندی کا تعلق ہے ،اور اس تعلق کا اہم تقاضا یہ ہے کہ اﷲکے بندے رزق حلال کی کوشش کریں اور ذرائع آمدنی کی صحت وپاکی کا خیال رکھیں کیونکہ رز ق کے سلسلہ میں پاکی و صحت سے صرف نظر کرلینا اصول بندگی کے بھی خلاف ہے۔

لیکن اگر لین دین میں خیانت واقع ہوجائے اور حصول رزق کے لیے ناجائز ذرائع کو اختیار کیا جائے تو اس طرح اﷲعزوجل کی نافرمانی بھی ہوگی اور کسی نہ کسی بندے کی حق تلفی بھی اور یہ بات دُہرا جرم قرار پائے گی۔رہایہ خیال جیسے اﷲ کے کرم سے معافی کی اُمید ہی ہے قیامت کے دن جس بندے کی حق تلفی ہوئی ہے اس سے بھی معافی حاصل کرلی جائیگی،تو اگرچہ اس کا امکان ضرور ہے مگر کون کہہ سکتا ہے جو بندے ہم جیسے کم حوصلہ ہیں وہ قیامت کے دن ضرورہی معاف کردیںگے۔پھر اگر وہ معاف نہ کریں تو؟

معاملات کو دین کے دوسرے شعبوں کے مقابل یہ خاص امتیاز بھی حاصل ہے۔اس میںاپنی ذاتی منفعت ومصلحت اور اپنی خواہش نفس کی اور اﷲ عزوجل کے احکام کی کش مکش بہ نسبت دوسرے تمام شعبوں سے زیادہ رہتی ہے۔نفس کی خواہش عموماً یہ ہی ہوتی کہ جھوٹ سچ اور جائز ناجائز کا لحاظ کیے بغیر جیسا موقع ہو اور جس طرح بھی نفع کی زیادہ اُمید ہو کر گزراجائے۔

یہ اشیاء خوردنی میںملاوٹ،دھوکہ ،فریب حتیٰ کہ بچوں کے استعمال کی معمولی دوائی تک کی بوتلوں پر جعلی لیبل لگاکر فروخت کرنا یہ سب خواہش نفس ہی کے محرکات ہیں اور اﷲکا دین یہ کہتا ہے نفع کم یا زیادہ ،تجارت میں فائد ہ ہو یا نقصان،جھوٹ،فریب اور دھوکہ کے ذریعہ حصول رزق حرام وممنوع ہے۔ لہٰذا بندے کی بندگی،اور فرمانبرداری کاسب سے زیادہ سخت امتحان معاملات و معاشرت کے احکام میں ہوتاہے۔غرضیکہ دینی و اُخروی فلاح وفوز انہی کا حصہ ہے جو اپنی خواہش نفس پر قابو رکھتے ہیں اور نفس کی بڑی سے بڑی تحریک انہیں حق سے منحرف نہیں کرتی ہے لہٰذا جب تک انسان اپنی حرص وطمع کو روک کر حصول رزق کے جائز طریقے اختیا ر نہیں کرے گا وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ،خواہ یہ کامیا بی دین کی ہو یادنیاکی۔

اسلام نے حصول رزق سے متعلق عدل و انصاف پر مبنی جو اصول مقر ر کیاہے وہ ایک ایسی مرکزی حیثیت کاہے کہ جس کوپیش نظر رکھ کر ہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ حصول رزق کے ذرائع میں سے کونسا ذریعہ حلال اور جائز ہے اور کونسا حرام اور ناجائز ہے۔سورۂ نساء میںفرمایا۔

ترجمہ:’’اے ایمان والوتم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ لیکن یہ کہ لین دین ہو آپس کی خوشی سے ‘‘

یہ آیت لین دین کے متعلق ایک اصولی حیثیت رکھتی ہے اور اس نے لین دین کے ان طریقوں کوجو ایمانداری کے خلاف ہیںاور جن کی کوئی حد نہیں ہے ایک لفظ باطل سے بیان کردیا یعنی کسی کی چیز خواہ وہ دھوکہ و فریب ،ظلم و جور سے لی جائے یاچوری اور غصب ،رشوت اور خیانت اور سُود کے ذریعے حاصل کی جائے غرضیکہ جس ناجائز طریقہ سے بھی دوسرے کامال لیاجائے اس آیت کے عموم و اطلاق کے اندر داخل ہے۔

مزید پڑھیں

سوداگروں کا ایک قافلہ بغداد کی طرف جا رہا تھا۔ ان کے ساتھ ایک نو عمر لڑکا بھی تھا۔ جس کو اس کی ماں نے کچھ ہدایات دے کر اس قافلے کے ساتھ اس ل ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

حضرت ابو ہریرہ ؓکہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : 

’’ ہر بچہ اپنی فطرت (یعنی اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے والدین اسے یہود ...

مزید پڑھیں

 {عن عبداللہ بن عمرؓ وقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد افلح من اسلم ورزق کفافا وقنعہ اللہ بما اتاہ}(رواہ مسلم)

...

مزید پڑھیں

بچے کی ولادت سے لے کر آخر وقت تک والدین کو کن باتوں کا دھیان کرنا ہوگاکہ والدین اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عظیم امانت کی خیانت کے جرم کے مرتکب ...

مزید پڑھیں