☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل متفرق غور و طلب فیچر فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا خواتین کھیل ادب کیرئر پلاننگ
حضرت عبدالقادر جیلانی ؒکی سچائی

حضرت عبدالقادر جیلانی ؒکی سچائی

تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

06-23-2019

سوداگروں کا ایک قافلہ بغداد کی طرف جا رہا تھا۔ ان کے ساتھ ایک نو عمر لڑکا بھی تھا۔ جس کو اس کی ماں نے کچھ ہدایات دے کر اس قافلے کے ساتھ اس لئے کر دیا تھا کہ حفاظت کے ساتھ یہ اپنی منزل پر پہنچ جائے اور دین کا علم حاصل کر کے اﷲ کے بندوں کو ا ﷲ کی ہدایات اور روشنی دکھائے۔

قافلہ اطمینان سے چلا جا رہا تھا کہ ایک جگہ کچھ ڈاکوئوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ قافلے والوں نے اپنا مال و اسباب بچانے کے لئے بڑی چالیں چلیں کہ کسی طرح ان ڈاکوئوں سے اپنا کچھ مال بچا لیں لیکن ڈاکو نہ ان کی چالوں میں آئے اور نہ ان کی رحم کی اپیلوں سے ان کی دل پسیجے۔ قافلے کے ایک ایک آدمی سے انہوں نے سب کچھ چھین لیا۔

ڈاکو جب اپنا کام کر چکے تو ان میں سے ایک نے اس نو عمر غریب اور پریشان حال بچے سے پوچھا:

ڈاکو:کہو میاں تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟

نو عمر لڑکا:جی ہاں! میرے پاس چالیس دینار ہیں۔

ڈاکو:تمہارے پاس چالیس دینار ہیں۔ (ڈاکو کو یقین نہ آیا کہ اس خستہ حال اور غریب کے پاس بھلا چالیس دینار کہاں سے آئے اور اگر ہوتے بھی تو یہ ہمیں کیوں بتاتا۔ ڈاکو نے سوچا اور اس عجیب و غریب لڑکے کو اپنے سردار کے پاس لے گیا)۔

ڈاکو:سردار! اس لڑکے کو دیکھئے، کہتا ہے کہ میرے پاس چالیس دینار ہیں۔

سردار:میاں صاحبزادے کیا تمہارے پاس واقعی دینار ہیں؟

نو عمر لڑکا:جی ہاں! میرے پاس چالیس دینار ہیں۔

سردار:بھلا تمہارے پاس دینار کہاں رکھے ہیں؟ سردار نے غریب لڑکے کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

نو عمر لڑکا:جی میری کمر سے ایک تھیلی بندھی ہوئی ہے اس میں ہیں۔

سردار نے لڑکے کی کمر سے تھیلی کھولی، دینار گنے۔ واقعی چالیس دینار تھے۔ سردار حیرت سے کچھ دیر اس لڑکے کو دیکھتا رہا پھر بولا صاحبزادے! تم کہاں جا رہے ہو؟ نو عمر لڑکا:میں دین کا علم حاصل کرنے کے لئے بغداد جا رہا ہوں۔ سردار:کیا وہاں تمہارا جاننے والا کوئی ہے؟ نوعمر لڑکا:جی نہیں وہ ایک اجنبی شہر ہے، میری امی نے مجھے یہ چالیس دینار دیئے تھے کہ میں اطمینان کے ساتھ علم دین حاصل کر سکوں اس اجنبی شہر میں میری ضروریات کا کون خیال کرے گا اور کیوں کسی کا احسان اُٹھائوں۔

سردار بڑی دِلچسپی اور حیرت کے ساتھ نو عمر لڑکے کی باتیں سن رہا تھا۔ اس کی سنجیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا، اس نو عمر نے یہ رقم چھپائی کیوں نہیں اگر یہ نہ بتاتا تو میرے کسی ساتھی کو گمان بھی نہ ہوتا کہ اس پریشان حال مفلس لڑکے کے پاس بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ اس لڑکے نے یہ کیوں نہ سوچا کہ میں ایک اجنبی مقام پر جا رہا ہوں، میرے مستقبل اور تعلیم کا دار و مدار اسی رقم پر ہے۔ آخر اس نے یہ رقم چھپائی کیوں نہیں۔

بچے کی سادگی اور سچائی نے اس کے ضمیر کو جھنجھوڑنا شروع کیا، اور اس نے پوچھا: صاحبزادے! تم نے یہ رقم چھپائی کیوں نہیں؟ اگر تم نہ بتاتے اور انکار کر دیتے تو ہمیں شبہ بھی نہ ہوتا کہ تمہارے پاس بھی کوئی رقم ہو سکتی ہے۔

نوعمر لڑکا:جب میں گھر سے نکل رہا تھا تو میری ماں نے مجھے یہ نصیحت کر دی تھی کہ بیٹا کچھ بھی ہو تم جھوٹ ہرگز نہ بولنا۔ بھلا میں ماں کے حکم کو کیسے ٹال دیتا۔

سردار کے اندر کا انسان جاگ گیا۔ وہ سوچنے لگا یہ نوعمر لڑکا اپنی ماں کا ایسا اطاعت گزار ہے کہ وہ اپنا مستقبل تباہ ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے لیکن ماں کا حکم ٹالنے کو تیار نہیں اور میں کتنے عرصے سے برابر اپنے پروردگار کے حکموں کو روند رہا ہوں، اس نے لڑکے کو گلے سے لگایا، اس کے دینار اس کو واپس کئے، قافلے والوں کا سامان واپس کیا اور اﷲ کے حضور سجدے میں گر کر گڑگڑانے لگا۔

سچے دل سے اس نے توبہ کی اور اﷲ کی رحمت نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا، یہ ڈاکو پھر اپنے وقت کا ایک زبردست ولی بنا اور اﷲ کے بندوں کو لوٹنے والا اﷲ کے بندوں کو دین کی دولت تقسیم کرنے والا بن گیا۔ عظیم ماں کی تربیت نے صرف نو عمر لڑکے کو ہی اُونچا نہیں اُٹھایا بلکہ ڈاکوئوں کی بھی تقدیر بدل دی۔ یہ وہی ہونہار لڑکا ہے جس کو ساری اسلامی دُنیا عبدالقادر جیلانیؒکے نام سے جانتی ہے اور جس کا نام آتے ہی دل عقیدت و احترام سے جھک جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

آج کل کے بہت سے اچھے خاصے دیندار حلقوں میں بھی معاملات یعنی خریدو فروخت،امانت،قرض،نوکری،اور مزدوری کی اصلاح کا اتنا اہتمام نہیں جتنا ک ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

صلوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں ایک اہم ترین رکن ہے۔ اس کے نتائج کیا ہیں؟یہ سوال تاریخ سے پوچھئے تو وہ جواب دے گی کہ یہ صلوٰۃ ہی تھی جس نے ...

مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ ہم سب کو موت کی سختی ، نزع کی تکلیف اور سکرات کی تلخی سے محفوظ فرما کر جنت میں داخل فرمائیں۔ یہ ہر مسلمان کے دل کی خواہش اورقلب ...

مزید پڑھیں

آج کل جس چیزکی سب سے زیادہ ضرورت ہے ،وہ ہے صبر،تحمل ،برداشت ۔صبرکے لغوی معنی ہیںروکنا،برداشت کرنا ، ثابت قدم رہنا یاباندھ دینا۔اوراس ک ...

مزید پڑھیں