☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
قرآن پر عمل کرنے کا انعام

قرآن پر عمل کرنے کا انعام

تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

03-10-2019

حضرت عمر ؓبیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ترجمہ:’’ اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن کریم ) کے ذریعے بہت سی قوتوں کو اونچا اُٹھاتے ہیں، اور دوسری قوموں کو اس ( پر عمل نہ کرنے ) کی وجہ سے نیچے گراتے ہیں۔‘‘ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمان قرآن پاک کی پاکیز ہ تعلیمات اور ارشادات نبوی ﷺپر زندگی کے تمام شعبوں میں عمل کرتے رہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسی ترقی اور ایسا عروج عطا فرمایا جس کی نظیر پیش کرنے سے تمام اقوام عالم عاجز ہیں ، اور آج مسلمان کتاب و سنت کو چھوڑ کر ذلیل وخوار ہورہے ہیں ۔ حضرت علی ؓسے مروی ہے ، کہ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سناہے،

مفتی محمد یونس پالن پوری ’’ اے لوگو! آگاہ ہوجائو، عنقریب ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے‘‘۔ حضرت علی ؓبیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا:’’یارسول اللہ ﷺ! اس فتنہ سے چھٹکارے کی راہ کیا ہے ؟‘‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ اس سے حفاظت کا ذریعہ قرآن کریم ہے ، اس کے اند ر تم سے پہلے لوگوں کے حالات کا ذکر ہے اور تمہارے بعد قیامت تک آنے والے اُمور اور حالات کی خبر ہے ، اور تمہارے باہمی معاملات کے فیصلہ کا حکم اس میں موجود ہے اورقرآن کریم حق وباطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی کتاب ہے ، اس میں کوئی بات مذاق کی نہیں ہے جو شخص غرور اور فخر کی وجہ سے قرآن کو ترک کردیتا ہے، اللہ اس کو ہلاک اور برباد کرتاہے، اور جو شخص قرآن کے علاوہ کسی اور چیز میں ہدایت ڈھونڈتا ہے اللہ اس کو گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی مضبوط ترین رسی ہے اور وہ حق تعالیٰ کو یاد دلانے والی کتاب ہے ، حکمت ودانائی عطا کرنے والی ہے اور وہی سیدھا راستہ ہے اور وہ ایسی کتاب ہے کہ اس کے اتباع کے ساتھ خواہشات نفسانی حق سے ہٹا کر دوسری طرف مائل نہیں کرسکتیں۔ اس کی زبان ایسی ہے کہ اس کے ساتھ دوسری زبانیں مشابہ نہیں ہو سکتیں اور اس کے علوم سے علماء کی تشنگی نہیں بجھتی ، وہ کثرت استعمال اور بار بار تکرار سے پرانا نہیں ہوتا اور اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے ۔ قرآن ایسا کلا م ہے کہ جب جناتوں نے اس کوسنا تو بلا توقف کہا کہ ہم نے ایک عجیب وغریب قرآن سنا ہے جو ہدایت کا راستہ دکھلاتاہے ، لہٰذا ہم اس پر ایمان لے آئے جو قرآن کے مطابق بات کرے اس کی تصدیق کی جاتی ہے اور جو قرآن پر عمل کرے اس کو عظیم ترین ثواب دیاجاتاہے اور جس نے قرآن کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا ، اور جو قرآن کریم کی طرف لوگوں کو بلاتاہے اس کو سیدھے راستہ کی توفیق بخشی گئی ہے۔‘‘ فِیْہِ نَـبَاُ مَا قَبْلَـــــــکُمْ: قرآن کریم کے اندر پچھلی قوموں اور پچھلی اُمتوں کے اچھے برے واقعات اور احوال کا ذکر ہے ، چنانچہ اس میں حضرت آدم ؑاور ان کے بیٹے قابیل وہابیل کا واقعہ ، حضرت ادریس ؑکے احوال، حضرت نوحؑ اور ان کی قوم کے واقعات اور حضرت ابراہیم ؑاور نمرود کا واقعہ ، حضرت لوط ؑاورقوم کا واقعہ ، حضرت ہود ؑاور قوم عادؑ کے واقعات ،حضرت صالحؑ اور قوم ثمود کے واقعات ، حضرت یونس ؑکا واقعہ ، حضرت ایوب ؑکا واقعہ ، حضرت اسمٰعیل ؑکا واقعہ ، حضرت اسحقؑ کا واقعہ ، حضرت یعقوبؑ کا واقعہ ، حضرت یوسف ؑاور ان کے بھائیوں کا واقعہ ، حضرت یوسف ؑاور عزیز مصر کا واقعہ ، حضرت موسیٰ ؑاور فرعون کا واقعہ ، حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان ؑکے احوال، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ، اصحابِ کہف اور ذوالقرنین کے واقعات ، حضرت مریم ؑاور حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعات، قارون وہامان وشداد اور ظالم بادشاہوں کے واقعات ، غرضیکہ ہر قوم کے ہر قسم کے اچھے برے بے شمار واقعات قرآن مجید میں موجود ہیں ، جن کو پڑھ کر لوگ عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ کہیں مسلمانوں اور کفار کے واقعات اوراپنی قدرت کا ملہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ترجمہ:’’ بے شک اس میں بصیرت والوں کے لیے بڑی عبرت کی بات ہے ۔‘‘ اور کہیں حضرت یوسف ؑاور ان کے بھائیوں کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ترجمہ:’’ یقینا ان کے واقعات اور قصوں میں عقل مند لوگوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔‘‘(سورئہ یوسف : ۱۱۱) اور کہیں موسیٰ ؑاور فرعون کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا، ترجمہ :’’ یقینا اس میں ڈرنے والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔‘‘ (سورۃ الناز عات: آیت ۲۶) وَحُکْمَ مَابَیْنَـــــکُمْ: قرآن کریم کے اندر تمہارے بعد پیش آنے والے واقعات قیامت کی علامات اور قیامت کے احوال کا ذکر ہے ، حساب و کتاب، جنت وجہنم کے احوال کا ذکر ہے۔ ان سے عبرت حاصل کرکے اپنے اعمال درست کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کے اند رتمہارے آپس کے معاملات کے طے کرنے اور فیصلہ کرنے کا حکم موجود ہے۔ قرآن کریم میں ۶۶۶۶آیتیں ہیں ، ان میں ۵۰۰ آیتیں احکام اور فیصلوں سے متعلق ہیں۔ بعض علماء نے ان پانچ سو آیتوں کی الگ سے بھی تفسیر لکھی ہے ۔قرآن کریم حق وباطل کے درمیان فیصلہ اور امتیاز پیدا کرنے والی کتاب ہے ، اسی کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ طارق میں {اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ} (سورئہ الطارق: آیت ۱۳)سے ارشاد فرمایا کہ قرآن کریم حق وباطل اور صدق وکذب کے درمیان دو ٹوک فیصلہ ہے ۔ وَمَنِ ابْتَغَی الْھُدٰی فِیْ غَیْرِہٖ اَضَلَّہُ اللّٰہُ: اور جو شخص قرآن کو چھوڑ کر دوسری چیز سے ہدایت طلب کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ گمراہی میں مبتلا کردیتاہے وہ ہدایت پر قائم نہیں رہ سکتا اس کی ایک زندہ مثالیں دنیا کے سامنے ہیں۔ وَھُوَ جَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ: قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی ایک مضبوط ترین رسی ہے اللہ اور بندوں کے درمیان ایک مضبوط ترین تعلق اور جوڑ پیدا کرنے کی چیز ہے اور قرآن کے ذریعے سے ہی انسان اللہ تعالیٰ کی مرضی حاصل کرسکتاہے ، اسی کو اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں ان الفاظ سے ارشاد فرمایا ہے: {وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَاتَفَرَّ قُوْا } (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) ترجمہ:’’ اللہ کی رسی کو تم سب مل کر ایک ساتھ مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو۔‘‘ وَھُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیْمُ: وہی حق تعالیٰ کو یاد کرنے کا ذریعہ ہے جو حکمت ودانائی کا اہل بناتاہے ، اس میں اچھی نصیحتیں ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں قرآن کریم میںذکر فرمایا ہے : ترجمہ :’’ آپ مومنین کو اچھی نصیحتوں سے اللہ کی یاددہانی کراتے رہا کریں ، اس سے مومنین کو دینی فائدہ پہنچتا رہے گا۔ ‘‘ (سورۃ الذاریات: آیت ۵۵) وَھُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیْمُ: قرآن کریم انسان کو سیدھے راستہ اور اعتدال پر قائم رکھتاہے اور افراط وتفریط سے محفوظ رکھتا ہے، او ر صراط ِ مستقیم کی حضرت رسول اللہﷺ نے ایک مثال پیش فرمائی کہ ایک لمبا خط کھینچا ، اس کے دائیں اور بائیں طرف سارے خطوط کھینچے اور فرمایا یہ سب کے سب گمراہی اور شیطان کے راستے ہیں جو ان میں پڑے گا گمراہی میں مبتلا ہو جائے گا، اور جوان سے بچے گا وہ سیدھے راستہ پر قائم رہے گا اور جولمبا خط کھینچا ہے اس کے بارے میں فرمایا یہ صراط مستقیم ہے اسی پر تمہیں قائم رہنا ہے اور بعض روایات میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ صراط مستقیم وہی ہے جو قرآن وحدیث کے مطابق ہے اسی پر حضرات صحابہؓ کرام ، خلفائے راشدینؓ ، ائمہ کرامؒ مجتہد ین ثابت قدمی سے چلے آرہے ہیں اور اسی کی بقاء اور اسی کی تبلیغ کے لیے مدارس اسلامیہ کا قیام ہوا ہے او را ن مدارس کے اندر قرآن وحدیث اور فقہ کی جو تعلیم دی جاتی ہے وہ صراطِ مستقیم کے مطابق ہے ۔ وَھُوَ الَّذِیْ لَا یُزِیْغُ بِہِ الْاَ ھْوَائُ: جو شخص قرآن کی تعلیمات پر قائم رہے گا تو چاہے کتنی ہی خواہشات اسے ستائیں اور کتنی ہی گمراہی کی باتیں اسے راستہ سے ہٹا کر ٹیڑھا کرنے کی کوشش کریں ، شیطان اور گمراہ لوگ اسے اپنے راستے پر لے جانے کی کوشش کریں تو قرآن اسے ادھر جانے اور ٹیڑھا ہونے نہیں دے گا۔ جب بھی وہ ٹیڑھا چلنا چاہے گا اور لائن سے ہٹنا چاہے گا، قرآن اسے سیدھا کردے گا اور لائن سے نیچے اترنے نہیں دے گا۔ ہر طرف سے دائیں بائیں کے سارے راستے جام کر دیتا ہے ، مجبوراً سیدھے راستہ پر قائم رہے گا۔ وَلَا تَلْتَبِسُ بِہِ الْاَلْسِنَۃُ: دنیا کی کوئی زبان قرآن کی زبان کے مشابہ نہیں ہے ۔ اہل عرب اگرچہ عربی بولتے ہیں مگر قرآن کے لہجے اور قرآن کے محاورے اور قرآن کی فصاحت وبلاغت اور قرآن کے طرز وسلامت میں سے ان کی زبان کسی بھی چیز کے مشابہ نہیں ہے ۔ وہ اپنی گفتگو میں قرآن کی ایک آیت کے مشابہ بھی کوئی جملہ نہیں نکال سکتے ۔ جب قرآن نازل ہورہاتھا تو وہ عرب کے بڑے بڑے شعراء اور خطباء اور ادبا ء کا دور تھا انہوں نے بڑی کوشش کی کہ قرآن کی چھوٹی سے چھوٹی ایک آیت کے مشابہ کوئی جملہ بنا کر پیش کردیں ، مگر سب نے اس سے عاجز آکر گھٹنے ٹیک دیئے اور سمجھ لیا کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہوسکتا اس لیے کوئی بھی زبان قرآن کے مشابہ نہیں ہوسکتی ۔ وَلَا تَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَآئُ: قرآن کریم کا علم کہیں ختم نہیں ہوتا۔قرآن کریم میںجتنا غور کرتے جائو ،اس کے اسرار ورموز بڑھتے جاتے ہیں تو ان کی تشنگی بھی بڑھتی جاتی ہے ، وہ کبھی آسودہ نہیں ہوتے ۔ آج پندرہ سوسال سے علماء قرآن کریم کے اسرار ورموز پر اور اس کے مطالب کی گہرائی پر غور کرتے رہے اور ہزاروں اور لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں کتابیں لکھی جاچکی ہیں مگر قرآن کے علوم اور اس کے اسرار ورموز کے ہزارویں حصہ تک بھی رسائی نہ کرسکے اور نہ ہی رسائی ہوسکتی ہے۔ وَلَایَخْلُقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّ دِّ: قرآن کریم بار بار دہرانے کی وجہ سے پرانا نہیں ہوتا، بلکہ تازگی بڑھتی جاتی ہے۔ دنیا کی ہر چیز کثرت ِ استعمال سے پرانی ہوجاتی ہے مگر قرآن کریم بجائے پرانا ہونے کے اس میں تازگی آتی رہتی ہے اور ہر مرتبہ اس میں نئی چیز نظر آتی ہے ۔ وَلَا تَنْقَضِیْ عَجَآپبُــہٗ: اور قرآن کریم کے عجائبات اور اس کے اسرار ورموز کسی طرح ختم نہیں ہوسکتے اور کوئی انسان قرآن کریم کے اسرار و حکم کی انتہاء تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورئہ لقمان میں ان الفاظ کے ساتھ ارشاد فرمایا: { وَلَوْ اَنَّ مَافِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَا مٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْم بَِعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ۱ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ}(سورئہ لقمان : آیت ۲۷) ترجمہ:’’ اور اگر روئے زمین میںجتنے درخت ہیں ان سب کو قلم بنادیا جائے اور سمندر کو روشنائی بنادیاجائے اس کے بعد مزید سات سمندر کو روشنائی بنادیاجائے تب بھی اللہ تعالیٰ کے کمالات مکمل اور تمام نہیں ہوسکتے بے شک اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے ۔‘‘ بخاری، مسلم اور ترمذی میں ایک لمبی حدیث ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس عبارت کے ذریعے ایک پورے واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ زمانہ اسلام سے پہلے شیاطین آسمانوں میںجاکر وہاں کی باتیں لا کر کاہنوں کو پیش کیا کرتے تھے، پھر کاہن لوگ اس میںکچھ بڑھا چڑھا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے اور کاہن لوگ جو پیشین گوئیاں کیا کرتے تھے ، اس لیے کاہنوں کودرجہ دے رکھا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو مبعوث فرمایا اور قرآن کریم کے نزول کا سلسلہ شروع ہوگیا تو شیاطین پر آسمان میںجانے پر پابندی لگادی گئی ۔ جب شیاطین آسمانوں کے قریب پہنچتے تو وہاں کے حفاظتی فرشتے نیچے گرادیتے ۔ شیاطین اور جنات آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ دنیا میں کوئی نئی بات پیش آئی ہوگی جس کی وجہ سے آسمانوں میںجانے پر پابندی شروع ہوگئی ہے ۔ چنانچہ جنات نے یہ فیصلہ کیا کہ پوری روئے زمین میں گشت لگایا جائے تاکہ ہم کو معلوم ہو جائے وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے رکاوٹ پیش آگئی ہے ۔ چنانچہ ہر ملک میں جنات کی ایک ٹولی نے گشت لگانا شروع کردیا اور ادھر حجازِ مقدس میں مکۃ المکرمہ سے شمالی جانب مدینے کی طرف ایک مقام ہے جس کا نام عکاظ ہے ۔ جاہلیت کے زمانہ میں خاص خاص ایام میں وہاں بازار لگاکرتاتھا اور ہر طرف سے عرب قبائل اس بازار میںخرید و فروخت کے لیے جمع ہوتے تھے ۔ تو حضور اکرم ﷺ چند صحابہ کو لے کر دعوت اسلام پیش کرنے کی غرض سے عکاظ کے بازار کے لیے روانہ ہوگئے اور اس بازار میںپہنچنے سے کچھ پہلے ایک نخلستان میں آپ ﷺ نے قیام فرمایا اور وہاں رات گزاری پھر صبح کو فجر کی نماز میں جہری قرأت شروع فرمادی توجنات کی ایک ٹولی کا وہاں سے گزر ہوا۔وہ قرأت سن کر رک گئی ۔ اسی وقت جنات کی اس ٹولی نے ایمان قبول کرلیا اور اپنی قوم کو جاکر کہا { اِنَّ سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا یَّھْدِیْ اِلَی الرُّشْدِفَاٰ مَنَّا بِہٖ وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا}کہ بے شک ہم نے قرآن پاک سنا ہے جو ہدایت کا راستہ بتلاتا ہے ۔ لہٰذا ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ۔ مَنْ قَالَ بِہٖ صُدِّقَ: جو شخص قرآن کے مطابق بات کرے گا اس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا بلکہ اس کی تصدیق کی جائے گی ۔ وَمَنْ عَمِلَ بِہٖٓ اُجِرَ: اور جو شخص قرآن پر عمل کرے گا اس کو عظیم ترین اجر وثواب سے مالا مال کیاجائے گا۔ وَمَنْ حَکَمَ بِہٖ عَدَلَ: اور جو شخص قرآن کریم کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا وہ کبھی بے انصافی نہیں کرسکتا بلکہ حق کے مطابق عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ وَمَنْ دَعَآ اِلَیْہِ ھُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ: اور جو شخص لوگوں کو قرآن پر ایمان اور اس کے احکام پر عمل کی دعوت دیتاہے تو خود اسے صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق ہوتی ہے اور جن کو وہ دعوت دیتاہے وہ بھی صراطِ مستقیم پر چلنے لگتے ہیں۔ ٭٭٭٭ شکایت مت کر اپنی قسمت کی اور زمانہ کی۔اپنے ذاتی مکان کی تنگی کی۔اولاد کے سامنے اپنے بڑوں کی۔کبھی بھول کر بھی ماں ، باپ اور استاد کی۔غیر کے سامنے اپنے دوست کی۔بیوی کے سامنے اس کے میکے والوں کی۔ رخصت کرنے کے بعد اپنے مہمان کی۔ منتظر رہے زیادہ کھانے والا بیماری کا۔اوباش یاروں والا بربادی کا۔چغل خوری کرنے والا ذلت و خواری کا۔ خسرو ساس سے برابر بتا ؤ کرنے والا اپنے داماد کا۔ماں باپ کا نا فرمان اپنی اولاد کی نا فرمانی اور مفلسی کا۔ ظلم کرنے والا اپنی ہلاکت کا۔ پڑوسی کو تکلیف پہنچانے والا خدا کے قہر و عذاب کا۔ بہتر ہے بد کار اور برے آدمی کی صحبت سے سانپ کی صحبت۔ جھگڑا مول لینے سے غم کھانا۔ بے غیرتی کی زندگی سے عزت کی موت۔بے موقع بولنے کی عادت سے گونگا ہو جانا۔ چھچھورے آدمی کی مدد اور ہدیہ سے فاقہ۔ حرام مال کی مالداری سے مفلسی۔ خوف و ذلت کے حلوے سے آزادی کی خشک رو ٹی۔

مزید پڑھیں

حدیث نبوی ﷺ ہے ،

ترجمہ :’’حضرت زبیرؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہﷺنے فرمایا ’’گزشتہ امتوں کی بیماری تمہاری طرف چلی آرہی ہے اور وہ ہے حسد اور بغض یہ مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ یہ بالوں کو مونڈنے والی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔‘‘(رواہ الترمذی)

سورۂ حشر کی آیت نمبر ۱۰ میں اللہ رب العزت نے ان فلاح پانے والوں کا تذکرہ فرمایا کہ (ترجمہ)’’جو اپنے سے پہلے ایمان لانے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور یہ دعامانگتے ہیں اے اللہ ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے بارے میں بغض اور کینہ نہ آنے دے، بیشک تو بڑا شفیق، مہربان ہے‘‘۔

مزید پڑھیں

’’رجب ‘‘میں رحمتوں کا نزول تیز

ہوجاتا ہے اور عبادت کرنے والوں

پر قبولیت کے انوار کا فیضان ہوتا ہے

مزید پڑھیں