☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن کیرئر پلاننگ دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل عالمی امور دین و دنیا کچن کی دنیا روحانی مسائل ادب کھیل رپورٹ خواتین
کمزوروں سے نرمی

کمزوروں سے نرمی

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن

07-14-2019

اللہ تعالیٰ ہم سب کو موت کی سختی ، نزع کی تکلیف اور سکرات کی تلخی سے محفوظ فرما کر جنت میں داخل فرمائیں۔ یہ ہر مسلمان کے دل کی خواہش اورقلبی تمنا ہے اس کے لیے وہ دعائیں بھی کرتا ہے۔ محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس کا مختصر اور آسان طریقہ بتلایا ہے اگر انسان اس پر عمل کرے تو موت کی سختی سے اللہ حفاظت فرماتے ہیں اور جنت عطا فرماتے ہیں۔

سکرات ، نزع ، جان کنی اور سانس اکھڑنے کے وقت رحمت ایزدی اس انسان کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور وہ سختی ، تلخی اور تکالیف و مصائب سے بچ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ مزید یہ کرم فرماتے ہوئے اسے جنت نصیب فرماتے ہیں۔موت وہ اٹل حقیقت ہے کہ جس کا منکر اس دنیا میں آج تک کوئی نہیں ہو سکا۔ منکرین کو بھی اس سے انکار کی گنجائش نہیں۔جب انسان کی موت کا وقت آتا ہے تو بدن سے روح کو نکال لیا جاتا ہے۔

یہاں یہ بات بطور خاص سمجھیں کہ یہ معاملہ امتی کا ہوتا ہے جبکہ حضرت نبی کریم ﷺ کا معاملہ اس سے مختلف ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت روح کو جسم سے نکال کر نہیں آئی بلکہ روح مبارک کو پورے جسم مبارک سے سمیٹ کر دل مبارک میں جمع کر دی اور چند لمحے بعد واپس پھیلا دی گئی اور اس کے بعد مسلسل حیات ہی حیات حاصل ہے۔

جب روح کو بدن سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے اس وقت تکلیف کی شدت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے…اللہ اللہ…اس تصور سے ہی انسان کی جان نکل جاتی ہے۔ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، اور دوسری اس سے بھی اہم وجہ یہ ہے کہ اس وقت شیطان انسان کو ورغلانے کے سارے حربے آزماتا ہے ، اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طریقے سے یہ اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھے ، حالت ایمان پر اسے موت نصیب نہ ہو ،

کیونکہ شیطان انسان کا کھلم کھلا اور خطرناک ترین دشمن ہے اس لیے یہ لعین پوری قوت سے حملہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔انسان زندہ رہتا ہے شیطان اس کو صحیح عقائد سے گمراہ کرنے کی فکر میں رہتا ہے ، مسنون اعمال سے غافل کرنے کی کوشش میں رہتا ہے اور عمدہ اخلاق سے ہٹانے کی تدبیر اختیار کرتا ہے۔ صحیح عقائد کی بجائے گمراہیاں ، مسنون اعمال کے بجائے بدعات و خرافات اور عمدہ اخلاق کی جگہ غیر اسلامی تہذیب میں الجھائے رکھتا ہے۔

سب سے پہلے عقائد کو لے لیجیے ! انسان اپنی نادانی، غفلت یا ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے شیطان کے مکر وفریب کا شکار ہوجاتا ہے۔ دنیا جہاں میں جتنے بھی غیر مسلم ہیں وہ سب پیدائشی طور پر فطرت اسلام پر تھے ، لیکن ابلیس کے شیطانی ماحول اور محنت کی وجہ سے ان کے والدین نے انہیں غیر مسلم بنا دیا۔اس کے بعد اعمال کو دیکھ لیجیے !شیطان کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کی کامیابی اطاعت رسول ﷺمیں رکھی ہے ،

مسنون اعمال کی بدولت اسے دنیاو آخرت کی کامرانیاں نصیب ہوتی ہیں ۔بھلا ہمارا دشمن ہمیں کامیاب وکامران ہوتے ہوئے دیکھ کر کیسے برداشت کر سکتا ہے اس لیے وہ سنت چھڑا کر غیر اسلامی تہذیب میں پھنسا دیتا ہے۔یہی معاملہ اخلاق و کردار کا ہے۔ عمدہ اخلاق تو ہماری اسلامی شناخت ہیں ، اخلاق حسنہ کی بدولت انسان ؛ انسان کہلانے کا مستحق بنتا ہے ، ہمارے اخلاق برباد کرنے کے لیے شیطان اور اس کے چیلے چانٹے ہروقت بہکانے اور ورغلانے میں مسلسل مصروف عمل رہتے ہیں، شیطان کی محنت دیکھیے گناہوں کے زہر پر تسکین قلب کا خوشنما ٹائٹل لگا کر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور ہم غٹاغٹ اسے چڑھا جاتے ہیں۔

الغرض شیطان ہمیں کافرانہ ، مشرکانہ اور مرتدانہ خطوط پر چلانے کی پوری کوششیں کرتا رہتا ہے ، ہمیں مسنون اعمال سے دور کرنے کی بھرپور تگ ودو میں لگا رہتا ہے اور ہماری اسلامی شناخت مٹانے اور غیر اسلامی تہذیب کا دلدادہ بنانے کے لیے اپنے حربے استعمال کرتا ہی رہتا ہے۔ لیکن جب اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں مسلمان کی موت کا وقت اب آپہنچا ہے ، قریب المرگ ہے ،

غرغرہ موت ، سکرات ، نزع اور جان کنی کا عالم ہے تو وہ بدبخت ایمان سے ہٹانے کے لیے اس وقت ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے۔اب ذرا تصور کریں وہ لمحہ جب ایک طرف موت کی سختی اور دوسری طرف ابلیس کی شیطانی تدابیر۔ انسان دہری اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے ، جسم مسلسل مشقت برداشت کر رہا ہوتا ہے جبکہ روح پر شیطانی وار چل رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے موت کی شدت سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

صحیح عقائد ، مسنون اعمال اور عمدہ اخلاق انسان کو دنیا میں فائدہ دیتے ہیں ،اللہ اور اس کا رسولؐ راضی ہوتے ہیں ، دل کا سکون حاصل ہوتا ہے ، رزق حلال میں برکت ہوتی ہے۔یہ امور موت کے وقت بھی اس کو فائدہ دیتے ہیں ۔فرشتے اور ملک الموت موت کے وقت اس کے سرہانے بیٹھ کر پیار سے یہ کہتے رہتے ہیں :

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قریب المرگ انسان کے پاس فرشتے آتے ہیں اگر وہ شخص نیک ہو تو فرشتے کہتے ہیں: اے پاک جسم میں رہنے والی پاکیزہ روح! تو قابل تعریف ہے، تجھے اخروی راحت و آرام، بے حساب رزق اور ایسے رب کی ملاقات کی خوشخبری ہو جو رب تجھ سے ناراض نہیں ہے۔ وہ یہ جملے دہراتے رہتے ہیں کہ ایسے پکے اور نیک مسلمان کی روح جسم سے باہر آ جاتی ہے‘‘۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر آخرت میں بھی ان کے فوائد ملیں گے :اللہ اور اس کے رسول پاک ﷺکی رضا ملے گی۔ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے حوض کوثر کا جام کوثر نصیب ہوگا۔جہنم سے بچالیا جاتا ہے،

جنت اور اس کی تمام نعمتیں اس کا مقدر ٹھہریں گی۔ بلکہ جنت کی سب سے بڑی دولت ذات باری تعالیٰ کا دیدار اس کو نصیب ہوگا۔اس کے برعکس غلط عقائد ، بدعات اور غیر اسلامی تہذیب اپنانے والے کو دنیا میں نقصان ، موت کے وقت بھی نقصان اور آخرت میں تو ہے ہی خسارہ ہی خسارہ۔ بالخصوص موت کے وقت فرشتہ اس کی روح کو سخت خطاب اور اس کی تکلیف کو دگنا کرنے کے لیے کہتا ہے ۔جسے موت کے وقت آسانی نصیب ہوگئی، اللہ کے رحم و کرم پر کامل بھروسہ اور بھرپور یقین و اعتماد ہے کہ اس کے لیے آگے آسانیاں ہی آسانیاں ہوں گی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت سے سختی سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کے لیے جو نسخہ تجویز فرمایا ہے وہ تین اوصاف کا مرکب ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ’’ جس شخص میں تین خوبیاں موجود ہوں گی اللہ تعالیٰ اس کی موت کو آسان فرما دے گا اور اسے جنت میں داخل فرما دے گا۔ کمزور پر نرمی ، والدین سے شفقت اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا‘‘۔

رفق بالضعیف :کمزورشخص کے ساتھ نرمی کا برتاؤکرنا۔ انسانی معاشرے میں ظالموں کا ظلم ، جابروں کا جبراور ستم گروں کے ستم کا نشانہ ہمیشہ کمزور انسان اور کمزور قوم رہی ہے۔ خواہ وہ خاندانی ، مالی یا جسمانی طور پر کمزور ہو۔ اصدق الصادقین پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزور شخص سے نرمی کا برتاؤ کرنے والے کے لیے موت کی سختی سے حفاظت اور جنت میں داخلے کی بشارت ذکر فرمائی ہے۔ اے کاش !ہم اس بات کو دل سے سمجھ سکیں کہ کمزور پر نرمی کرنے والا اللہ تعالیٰ کو کتنا محبوب ہے۔

شفقۃ علی الوالدین:والدین سے حسن سلوک کرنا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ والدین وہ ہستیاں ہیں جن کی محبت میں کھوٹ نہیں ، انسان کی تربیت میں بنیادی کردار والدین کا ہوتا ہے ، زمانے کی سرد وگرم ، مصائب و آلام اور پریشانیوں کی سخت تمازت سے بچنے کے لیے والدین کے سر کا سایہ ہوتا ہے،ان کو راضی کرنے سے اللہ راضی ہوجاتا ہے اور ان کو ناراض کرنے سے اللہ بھی ناراض ہو جاتا ہے۔ ان سے بدتمیزی، بداخلاقی، دھکے دینا ، مارنا پیٹنا تو کجا ان کے سامنے اف تک کہنے کی اجازت نہیں بلکہ ان کے سامنے بچھ جانے کا حکم ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت تو والد کی فرمانبرداری کو اس کا دروازہ قرار دیا گیا ہے۔

احسان علی المملوک:غلاموں ، نوکروں اور ملازموں پر احسان کرنا۔ان کے حقوق ادا کرنا ، بروقت اجرت دینا ، معاملات میں نرمی اختیار کرنا اور اگر ان سے غلطی و کوتاہی ہو جائے تو حتی الامکان معاف کرنا ورنہ حکمت عملی اختیار کرکے مناسب انداز میں ان کی اصلاح کرنا۔ بات بے بات گالم گلوچ ، مارنا پیٹنا ، طاقت سے زیادہ مشقت سے کام لینا ، حق تلفی کرنا اور ظلم کرنا تو شریعت میں جانوروں کے ساتھ بھی جائز نہیں چہ جائیکہ کے اشرف المخلوقات انسان کے ساتھ ایسا رویہ روا رکھا جائے۔

مزید پڑھیں

صلوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں ایک اہم ترین رکن ہے۔ اس کے نتائج کیا ہیں؟یہ سوال تاریخ سے پوچھئے تو وہ جواب دے گی کہ یہ صلوٰۃ ہی تھی جس نے ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دعاعبادت کاجوہر ہے اور عبادت کا مستحق تنہا خدا ہے ۔اس لئے دعا صرف خدا سے مانگئے ، اس کے سوا کبھی کسی کو حاجت روائی کے لیے نہ پکاریئے، قرآ ...

مزید پڑھیں

بسا اوقات انسان پر اللہ کی نعمتوں کی برسات ہو رہی ہوتی ہے تو انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ تو میری محنت اور زور بازو کا کمال ہے بس اس غلط فہ ...

مزید پڑھیں

یہ ہجرت کا چھٹا سال تھا، مکہ سے نکلے ہوئے حضور نبی اکرمﷺ کوپانچ سال گزر چکے تھے۔ ابتلاو آزمائش کے پانچ سال، غزوہ بدر سے غزوہ خندق تک اور ...

مزید پڑھیں