☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سپیشل رپورٹ(طاہر محمود) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) ثقافت(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() دلچسپ و عجیب(انجنیئررحمیٰ فیصل) صحت(سید عبداللہ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک) دنیا کی رائے(راحیلہ سلطان)
دلچسپ و عجیب دنیا

دلچسپ و عجیب دنیا

تحریر : انجنیئررحمیٰ فیصل

01-19-2020

سیلفی سے پرستار کوایڈریس مل گیا!

ہوشیاری کی بھی حد ہوتی ہے ، کسی آدمی کو اتنا بھی تیز نہیں ہونا چاہے کہ پھرتیاںاسے جیل ہی بھجوادیں ۔کچھ عرصہ پہلے پاپ گلوکارہ اینا متسوک (Ena Matsuok)کا ہیبی کی ساتو(Hibiki Sato) نامی پرستار سیلفی کی مدد سے اس کے گھر تک پہنچ گیا۔پرستار نے گلوکارہ کی آنکھوں میں جھانک کر گرد و پیش کے منظر کو اچھی طرح دیکھا، گھر کی قریبی عمارات کا جائزہ لیا، پا پ سٹا ر کے ’’سچے‘‘ پرستار نے یہ اندازہ لگا لیا کہ گلوکارہ کہاںسے ٹرین میں سوار ہوتی ہے ، پھر اسے ڈھونڈتا ہواگھر تک پہنچ گیا۔جاپانی پولیس نے پرستار کو ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

’’جاپانی گڑیا‘‘کے نام سے سوشل میڈیا پر ہٹ ہونے والی جاپانی پاپ سٹار لاکھوں پرستاروں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی ہے، وڈیو انٹر نیٹ پر آنے کی دیر ہوتی ہے کہ منٹوں میں لاکھوں لائیکس لے جاتی ہے۔ 26 سالہ جاپانی ہیبیکی ساتوبھی اس کے لاکھوںستاروں میںشامل ہے۔ گلوکارہ سے ملنے کے خواہش مندنوجوان کو کہیں سے بھی سٹار کی کا ایڈریس نہیں مل رہا تھا ۔ ایک روز اس نے ’’جاپانی گڑیا ‘‘کی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی تصاویر کو دوربین کی مدد سے بڑا کیا ،غور سے دیکھا،پس منظر نے اسے بتا دیا کہ وہ گھر جانے کے لئے روزانہ کس سٹیشن سے ٹرین پکڑتی ہے۔ بس پھر کیا تھا ،اس نے پاپ سٹار کا پیچھا کرنا شروع کر دیا ۔ ہیبی نے ایک روز اسے نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی۔ خوفزدہ پاپ سٹارنے پولیس کو اطلاع کی جس پر اسے جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ 

ٹوکیو شیبون پولیس سٹیشن نے سیلفی کی شوقین تمام خواتین کو خبردار کیا ہے کہ سیلفیاں ہوشیاری سے بنائیں، بیک گرائونڈ کو غائب کر دیں،ورنہ غلط قسم کے لوگ سیلفی کی مدد سے ان کے گھریا آفس تک پہنچ سکتے ہیں۔ ذاتی طور پر بھی نقصان پہنچا سکتے ہیںاور دستاویزات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔پولیس نے خبردار کیا ہے کہ سیلفی میں وکٹری کا سائن بنانا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔فنگر پرنٹس چوری کر کے جائیداد کی دستاویزات اور اکائونٹس میں ہیراپھیری کا خدشہ رہتا ہے ۔پولیس کے مطابق یہ محض قیاس آرائی نہیں ہے بلکہ سائبر مجرم گروہ سیلفیوں کی مدد سے انٹرنیٹ اکائونٹس ہیک کر رہے ہیں، ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔ 

گلہری کے 200اخروٹ ’’چوری‘‘ 

ہماری طرح جانوروں کو بھی اپنے مستقبل کی فکر رہتی ہے ۔بدلتے موسم کی تیاریوں میں وہ بھی سارا سال مصروف رہتے ہیں ۔ مگرہمیں اندازہ نہ تھاکہ گلہریوں کو اخروٹ بہت پسند ہیں ، وہ سرد موسم میں اخروٹوں کا مزہ لینے کے لئے گرمیوں میں ان کوذخیرہ کرلیتی ہیں۔

 امریکی ریاست پنسلوینیا میں مقیم ہولی پرسک (Holly Persic)کے شوہرکرس پرسک ایک لائبریری سے منسلک ہیں۔ گزشتہ دنوںوہ معمول کے مطابق لائبریری کی جانب جارہے تھے کہ انہیں اچانک اپنی اہلیہ ہولی پرسک کا فون آیا۔کہنے لگیں ،’’کارمیں سے بو آ رہی ہے، جیسے اندر ہی اندر کو چیز جل رہی ہو،چلنے میں بھی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے ،میںکیا کروں؟‘‘

’’فوراَََ روک لو‘‘۔ شوہر کرس پرسک نے مشورہ دیا۔ وہ خود بھی موقع پر پہنچے اور متعلقہ ادارے سے بھی مدد مانگ لی۔ جونہی بونٹ اٹھا کر دیکھا تو خدا جھوٹ نہ بلوائے اندر اخروٹ ہی اخروٹ نظرآئے۔ 200 اخروٹ تو ہوں گے ۔گلہری نے اخروٹ کی حفاظت کے لئے چاروں طرف گھاس رکھ دی تھی ۔ گلہری کے کارنامے کی تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوتے ہی وائرل ہو گئی ۔لاکھوں افراد نے لائیک کیا او ری ٹوئٹ کیا۔یوں گلہری کی کارستانی سے پوری دنیا ہی آگاہ ہو گئی۔مگرگلہری یقیناََ اپنے اخروٹ ڈھونڈتی ہو گی۔اسے بہت غصہ آیاہو گا کہ کسی نے اس کی کئی ہفتوں کی محنت چوری کر لی!

ہرن کی ’’انسانیت‘‘ 

جانور انسانوں سے پیار کرتے ہیںمگر یہ انسان ہی ہے جسے جانوروں سے کم ہی پیار ہوتا ہے ،شکار کے شوقین حضرات تو ایک ایک دن میں کئی پرندوں اور دوسرے جانوروں کا بھیجا اڑا دیتے ہیں لیکن پھر بھی نام زندہ ہے انسانیت کا ، جانور کو توحیوان ہی سمجھا جاتا ہے ۔ ’’انسانیت ‘‘تو حیوانوں میں بھی ہوتی ہے ایسی انسانیت دکھا کر ایک ہرن نے منیسوٹا کے جان ڈولان(John Dolan) خاندان کو حیران پریشان کر دیا۔ حیوان کی انسان دوستی کی وڈیو ایک دن میں کئی لاکھ ویوز لے گئی۔

ڈولان خاندن نے ہرن کی وڈیو دوہفتے قبل ہی پوسٹ کی تھی،وڈیو کے مطابق ڈولان خاندان ڈاک لینے گھر سے نکلا ،ان کا بیٹا ابھی کار میںسے نکلاہی تھاکہ اچانک کہیں سے ا یک ہرن ادھر آ گیا،اور ڈولان کے بیٹے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا، پہلے تو وہ سمجھا کہ شائد بھوکا ہو گا،تم بھوکے ہو؟ماں نے پوچھا۔ہرن کیا جواب دیتا۔۔’’اس کے لئے کچھ کھانے کو لائو‘‘۔ماں نے بیٹے سے کہا۔ انہوںنے اسے کھلانے کے کوشش کی لیکن جانوروں کا پیار صرف روٹی کے لئے نہیں تھا،ان کے پیار میں ملاوٹ نہیں ہوتی،وہ بھوکا نہ تھا۔کافی دیر تک وہ پالتو کتے کی طرح ڈولان خاندان کے افراد کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور جب وہ کار کی جانب بڑھے تو ہرن بھی کار کے دروازے کے قریب ایسے کھڑا ہو گیا جیسے اندر سواری کرنا چاہتا ہو۔

ڈولان لکھتی ہیں کہ ’’بہت ہی پیارا سا ہرن کی محبت دیکھ کر ہمارا دل بھر آیا، ہم نے بھی اسے خوب چمکارا،اور ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ہم نے سن رکھا تھا کہ جنگلی جانور بھی انسانوں سے کبھی کبھی پیار کرنے لگتے ہیں۔ یہی کچھ ہرن کے دل میں بھی تھا،وہ ہم سے کہہ رہا تھا کہ مجھے بھی ا پنے ساتھ لے چلو،جیسے کوئی پالتو جانور ہو۔ اپنے نئے دوستوں کے ساتھ وہ جتنا پیار دکھا سکتا تھا، دکھایا۔جب اسے کار میں سوار کیاگیا تو نیچے گری ہوئی کوئی چیز کھانے لگا، شائد ہمیں اپنی محبت جتانے کے لئے ،ورنہ اسے بھوک نہ تھی‘‘۔سوشل میڈیا پر لوگوںنے ہرن سے ہمدردی دکھائی ۔کسی نے لکھا کہ’’ شائد وہ پالتو ہو گا اور راستہ بھٹک گیا ہوگا ،ان سے کہہ رہا ہو گا، مجھے بھی اپنی کار میں میرے گھر پہنچا دو‘‘!

وڈیو وائرل کرنے پر27.5کروڑ ڈالر جرمانہ 

ایک بڑے عالمی نشریاتی ادارے کو’’ کوونگٹن کیتھلک (Covington Catholic)سکول کے طالب علم نک سینڈ مین کی وڈیو وائرل کرنا مہنگی پڑ گئی۔ نک سینڈمین کوونگٹن کیتھلک جونئیر سکول کا طالب علم تھا ۔ ایک روز وہ اسکول کے دوسرے طلبا کے ساتھ لنکزمیموریل کے قریب ہی قائم نتھان فلپس (Nathan Phillips) کے مجسمے کے ساتھ کھڑا تھا، اس روزنک سنیڈ مین نے امریکی صدر ٹرمپ کے سٹائل کی کیپ پہن رکھی تھی جس پر لکھا تھا کہ ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ ۔ اس واقعے کی کوریج ایسے کی گئی جیسے تمام لڑکے نتھان فلپس کے گرد جمع ہو کر ان کا مذاق اڑا رہے ہوں،اور ان میں نک سینڈ مین بھی شامل ہو، حالانکہ وہ ان میں ہرگز شامل نہ تھا۔وہ تو انہیں روکنے کے لئے گیا تھا۔یہ کلپ طوفان کی طرح وائرل ہو گیاجس کے بعد ایک سلسلہ ہی شروع ہو گیا، وڈیو دیکھ کر سکول کی انتظامیہ نے بھی طلباء کی مذمت کی لیکن یہ سب کچھ غلط کوریج کی وجہ سے ہوا تھا۔نک سنیڈ مین نے کوریج کو متعصبانہ اور غلط قرار دے کر ان اداروں سے ہرجانہ طلب کیا تھا۔اس نے عدالت سے رجوع کیااورہتک عزت کی درخواست میں تین امریکی اداروں سے کروڑوں ڈالر مانگ لئے۔ یہی خبر شائع کرنے پر اس نے واشنگٹن پوسٹ اور این بی سی کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی۔ان دونوں کیسوں میں تاریخ سماعت مقرر نہیں ہوئی لیکن ایک امریکی نشریاتی ادارے نے 2.5کروڑ ڈالر دینے پر آمادگی ظاہر کردی۔7جنوری 2020کو امریکی نشریاتی ادارے کے ساتھ 27.5کروڑ ڈالر جرمانہ کے عوض راضی نامہ ہو گیاجس کے بعد نک سینڈ مین نے قانونی کارروائی واپس لے لی۔ان سطورکے منظر عام پر آنے تک شائد اسے ڈالر مل بھی چکے ہوں۔اگرچہ نشریاتی ادارے نے تصفیے کے بارے میں کچھ نہیں لکھا لیکن سنیڈ مین کی پوسٹ ہزاروں افراد کی نظر سے گزری جس میں اس نے لکھا۔۔۔’’ہاں، ہمارا سی این این سے معاہدہ ہو گیا ہے‘‘۔اب بلا اجازت کسی کی وڈیو وائر ل کرنے سے پہلے ایک سو مرتبہ سوچنا پڑے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ عدالت میں چلا جائے جہاں لینے کے دینے پڑ جائیں۔

امریکی پولیس افسر پربالٹی الٹ دی ! 

ہم خود کو ہر وقت برا کہنے میں لگے رہتے ہیں، لیکن دوسرے ممالک میں ہم سے کہیں زیادہ خراب لوگ بھی رہتے ہیں،جو متعدد بار جیل کی ہوا کھانے کے باوجود سیدھے نہیں ہوتے ۔امریکہ میں بھی ا یسے بدمعاشوں کی کمی نہیں ہے جو براہ راست اور سر عام پولیس کی توہین کرنے سے نہیں گھبراتے ۔بلکہ پولیس سے ٹکراتے رہنا ہی ان کی زندگی ہے۔ایک روزامریکی ریاست نیویارک میں دوپولیس والے سکیورٹی ڈیوٹی پر تھے کہ تھامپسن نے انہیں دیکھ لیا۔بس پھر کیا تھا کہیں ایک پانی کی ایک بالٹی بھر لایا،اور پیچھے سے پوری بالٹی دونوں پولیس والوںپر انڈیل دی۔ پانی انڈیلنے کی وڈیو اسی روز وائرل ہو گئی جس سے پولیس کی بھی ساکھ متاثر ہوئی۔ اس پرسرکاری کام میںمداخلت ،مجرمانہ شرارت،مجرمانہ چھڑ چھاڑ،غیر قانونی رویہ اور ہراساں کرنے کے الزامات میںمقدمہ چلایا گیا۔ ڈھٹائی دیکھیے،کسی ایک الزام سے بھی انکاری نہ ہوا، جو پولیس نے کہا مانتا چلا گیا۔’’ہاں میں نے کیا، ہاں میںنے کیا‘‘۔ کی گردان کرتا رہا لیکن جیسے ہی ا سے دس دن کی سزا ہوئی تو وہیں ڈھیر ہو گیا اور پولیس سے مفاہمت پر اتر آیا۔اسے ان الزامات میںدس دن کی سزا ہوئی ، جس پردونوں پولیس افسران بھی حیران رہ گئے، اتنی کم سزا؟انہوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’ صرف دس کی دن کی کمیونٹی سروس سے تو بدمعاشوںکو یہ تاثر جاتا ہے کہ کسی کو بھی نقصان پہنچا لیں چند دنوں میںباہر آ جائیں گے۔انہیں یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ وہ اتنی جلدی باہر آ جائے گا۔صرف دس دن کی کمیونٹی سروس سے دوسروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ایک پولیس اہل کار نے ٹوئٹ کیا ’’اس طرح تو حکام سب کو یہی بتا رہے ہیں کہ آپ پولیس افسروں کی جتنی چاہیں ہتک کرلیں ، گھبرانے کی ضرورت نہیں ،کوئی خاص سزا نہیں ملے گی ۔یہ ہے وہ قانون سے عاری معاشرہ جس میں ہم رہ رہے ہیں‘‘۔ یاد رہے امریکہ میں پولیس افسروں پر پانی پھینکنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن اب وڈیوز بھی وائرل ہونے لگی ہیں ،یہ نئی بات ہے!

کتے نے ہیلمٹ پہنا

8جنوری 2019ء کو وائرل ہونے والی ایک وڈیو کا تعلق کتے کی قانون شناسی سے ہے۔موٹر سائیکل کی پچھلی نشست پر سوار ایک کاسیاہ رنگ کے کتے نے بھی ہیلمٹ پہن رکھا تھا۔کتے کی جانب سے قانون کی عمل داری پر ایک کسی نے وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پراپ لوڈ کر دی جوجنگل کی آگ کی طرح وائرل ہو گئی۔کتے کو ہیلمٹ سے کوئی پریشانی نہ تھی وہ کسی یار دوست کی طرح موٹر سائیکل پر بہت ہی ایزی بیٹھا تھا۔ اس نے بھی خوب توازن قائم کر رکھا تھا،اور مزے سے آگے کی جانب دیکھ رہا تھا۔شائد اسے ہیلمٹ کی اہمیت کا اندازہ تھا ، یا پھر وہ ہندو پولیس کی حرکتوں سے واقف تھا کیا پتہ کہ اسے بھی انسان سمجھ کر اندر ہی دے دے۔ یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ محض مذاقاََکیا گیا تھا یا واقعی نوجوان نے اپنے پالتو جانور کی حفاظت کے لئے اسے ہیلمٹ پہنا رکھا تھا ۔ ایک آدمی نے یہ بھی لکھا کہ جانور کو انسانوں کی طرح موٹر سائیکل پر بٹھانا دونوںمسافروں کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے،ایسی حرکت دوبارہ نہ کی جائے۔