☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) خصوصی رپورٹ(افتخار شوکت ایڈوکیٹ) متفرق( انیلہ افضال) عالمی امور(الطاف احمد) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن رپورٹ(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) انٹرویو(مرزا افتخاربیگ) کھیل(رحمی فیصل) خواتین(نجف زہرا تقوی)
Dunya Magazine

منتخب شاعری

2019-10-06

شیطانی راز

اللہ کے ایک مقبول بندے نے شیطان کو دیکھا ۔ اس نے پوچھا کہ اے شیطان ! کیا کبھی تو نے مجھ پر بھی اپنا دائو چلایا؟ شیطان نے کہا کہ ہاں ایک مرتبہ آپ نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھانے کی وجہ سے آپ پرنیند کا کچھ ایسا غلبہ ہوا کہ رات کا وظیفہ پڑھے بغیر سو گئے تھے۔ بزرگ فرمانے لگے،خدا کی قسم آئندہ میںکبھی سیر شکم ہو کر کھانا نہ کھائوں گا۔ شیطان بولا! افسوس میں نے اپنا راز بتا دیا۔

آنسوئوں کی بوچھاڑ کیوں ؟

آنکھوں میں’’ TearGlands ‘‘نامی خاص قسم کے غدود ہوتے ہیں ،جنہیں ’’آنسو کے مسام‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا کام آنسوئوں کو پیدا کرنا اور اس کے بعد انہیں آنکھوں سے باہر لے جانا ہے۔ آپ کو تو معلوم ہے کہ ہماری تمام تکالیف کا تعلق اعصابی نظام سے ہے۔ کوئی بھی تکلیف ایک پیغام کی شکل میں ہماری نسوں کے ذریعے سے دماغ تک پہنچتی ہے،وہاں سے آنکھوں میں واقع Tear Ductsکو سگنلز ملتے ہیں۔ ان سگنلز کے ملتے ہی آنسو نکل پڑتے ہیں۔مضبوط اعصاب کامالک اسی لئے کم جبکہ کمزوراعصاب کا مالک بات بات پرآنسو بہاتا ہے۔

چار سالہ بچے کی ذہانت

اصمعی کا قول ہے کہ میں نے ایک بچے سے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارے پاس ایک لاکھ درہم ہوں اور تم کم عقل ہو۔ وہ کہنے لگا نہیں۔ میں نے تجسس سے پوچھا: وہ کیوں؟ وہ کہنے لگا۔ مجھے خدشہ ہے کہ میں بوجہ حماقت سارا مال ضائع کر بیٹھوں گا لیکن بیوقوفی پھر بھی میرے ساتھ رہے گی۔ ایک بچہ کسی دانشمند شخص سے ملا۔ اس نے اس سے پوچھا کدھر جا رہے ہو؟ اس آدمی نے کہا قید خانے کی طرف۔ بچہ کہنے لگا پھر تیز تیز قدم اٹھائو۔ ہارون الرشید کے پاس ایک چار سالہ بچہ لایا گیا۔ ہارون الرشید نے اس سے پوچھا بتائو تمہیں کیا تحفہ دوں؟ ’’اپنی دوراندیشی‘‘ اس بچے نے جواب دیا۔

فتح بن خاقان

حکمران معتصم ایک دفعہ خاقان کی عیادت کے لیے گیا، اس کا بیٹا جو خود بھی بعدازاں وزیر بنا، اس وقت ابھی کم سن تھا۔ معتصم نے اس سے سوال کیا بیٹا یہ بتائو کون سا گھر اچھا ہے امیرالمومنین کا یا آپ کے والد گرامی کا؟ ’’اگر امیرالمومنین میرے والدکے گھر تشریف فرما ہوں تو میرے والد کا گھر اچھا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ پھر معتصم نے اپنے ہاتھ کی انگوٹھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اے فتح! یہ بتائو اس انگوٹھی سے اچھی چیز تم نے دیکھی ہے۔ اس نے کہا ’’ہاں وہ ہاتھ جس میں یہ موجود ہے۔‘‘

خدا سے محبت

ہمیں خدا سے ایسی محبّت ہونی چاہیے جیسے بہن اور بھائی کی محبّت ہوتی ہے یا ماں اور بچے کی محبّت ہوتی ہے۔ ایسی محبّت نہیں ہونی چاہیے، جو عاشق و معشوق یا میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے۔پہلی قسم کی لوگ اپنی محبّت کا اظہار برملا کرسکتے ہیں ، جلوت میں، خلوت میں، گھر میں، سراہے میں ، محفل میں، تنہائی میں، لیکن دوسری قسم کی محبّت کرنے والے صرف خلوت میں اور تنہائی میں اپنی محبّت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ ہمیں ان لوگوں کی پیروی نہیں کرنی چاہے ،جو کہتے ہیں ہم خدا سے محبّت کا اظہار صرف مسجد یا مراقبے میں یا درگاہ کی اندر کرسکتے ہیں۔ ہمیں تو اپنی محبّت کا اظہار ہر جگہ کرنا ہے اور ہر مقام پہ کرنا ہے۔۔۔ہر شخص سے کرنا ہے اور ہر موسم میں کرنا ہے اس میں چھپنا یا چھپانا نہیں ہے۔(اشفاق احمد )

ممتا

عورت جب اپنے بیٹے کے ساتھ سفر کرتی ہے تو گاڑی کی بریکیں لگنے پر ’’بسم اللہ‘‘ کہتی ہے، گاڑی سنبھالنے کا اشارہ کرتی ہے اور بار بار رفتار کم کرنے کا اشارہ کرتی ہے ۔یہی بیٹا جب جوان ہوتا ہے،یا 50سال کا بھی ہو جاتا ہے تو وہ ماں ایسا ہی کرتی ہے۔ اسے کہتے ہیں خیال رکھنا۔اور یہی عورت جب اپنے شوہر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتی ہے تو بریک ،لگنے موڑ آنے اور جمپ کے دوران شادی کو ایک ہفتہ ہو یا 50سال،وہ آرام سے بیٹھی رہتی ہے۔اسے معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی ڈرائیوکرنے والا اس کا خاوند ہے جو اس کی جان اور عزت کا رکھوالا ہے۔ وہ ایسا کام نہیں کرے گا جو اس کی جان یا صحت کے خلاف ہو۔ اسے کہتے ہیں اعتماد کرنا۔

عورت نامہ

عورت بھی کتنی عجیب ہے،شک کرنے پہ آئے تو کچا چبا جائے،اور محبت کرنے پر آئے تو روتے روتے ہنس دیتی ہے(عصمت چغتائی)

عورت کی ذات بھی عجیب گورکھ دھندا ہے۔ مل جائے تو نظر نہیں آتی اور نہ ملے تو اس کے سوا کچھ سجھائی نہیں دیتا۔(جیلانی بانو)

جب کوئی عورت کہے اس دنیا کے سبھی مرد بے وفا ہیں اس کا یہ مطلب نہیں اس نے سبھی مردوں کو آزما لیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کو اس نے آزمایا وہی اس کی دنیا تھا۔

کیسی ہے یہ دنیا!

یہ عجیب دنیا ہے ۔شادی شدہ طلاق کے چکر میں ہیں اور غیر شادی شدہ شادی کے خیالات میں گم ۔

مشہور افراد چھپنے کے لیے ٹھکانے کی تلاش میں ہیں اور عام لوگ مشہور بننے کے خیال میں گم ہیں۔

بچوں کو بڑے ہونے کی جلدی ہے اور بڑوں کو بچپن لوٹنے کی آرزو ۔

نوکریاں کرنے والے اپنے کام کی سختیوں سے نالاں ہیں اور بے کاروں کے لبوں پر کام ملنے کی دعائیں ہیں۔

غریبوں کو امیروں کی زندگی کی حسرت ہے اور امیروں کو آرام کے ایک لمحے کی تمنا۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ خوشی اور خوشحالی کا ایک ہی طریقہ ہے۔ جو نعمتیں ملی ہیں ان کا شکر ادا کرو۔

نئی سوچ

دل اور چارجر کسی کو نہ دیں۔لوگ ’’جلا‘‘ کر واپس کر دیتے ہیں۔

عجیب بات ہے، لوگ کالے جادو سے تو بہت ڈرتے ہیں مگر کالے کرتوں سے نہیں ڈرتے!۔

عقل مند سے باتیں کرنا مہینہ بھر کتابیں پڑھنے سے بہتر ہے۔ اسی لئے کہتا ہوں ۔۔’’لو کر لو باتیں ،آج میں فری ہوں‘‘۔

دو چیزیں ہمیشہ الجھ جاتی ہیں، لمبی زبان اور لمبا دھاگہ۔ ان دونوں کو سمیٹ کر رکھنا ہی اچھا ہوتا ہے ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

کڑوا سچ

اس زمانے میںعزت صرف پیسے کی ہے ،انسان کی نہیں۔

غریب کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔

لوگ اچھی سیرت کو نہیں ، صورت کو ترجیح دیتے ہیں۔

ماں کے سوا کوئی وفادار نہیں ہوتا۔

جس شخص کے لیے دل سے مخلص ہو، وہی دھوکہ دیتا ہے۔

کچھ لوگ ہمارا یقین ہار جاتے ہیں ۔کچھ پیار ،کچھ ہمارا اعتماد اور کچھ ہماری خوشیوں کو ہی مار دیتے ہیں۔

دل کے لئے خطرناک!

اوٹاہ یونیورسٹی (امریکہ)کی ایک تحقیق کے مطابق جو افراد اپنی بیوی پر بھروسہ نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی شریک حیات انہیں سہارا دینے سے قاصر ہے ،ان میں امراض قلب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بیوی کے ساتھ جھگڑے کرنا دل کے امراض کے ساتھ ساتھ کئی سنگین امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ تکرار دل کے لئے بھی نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کو اپنے دل سے پیار ہے تو لڑائی جھگڑوں کو بھول کر دل کی بیماری کو دور بھگائیں۔

مختصر پر اثر

ایک وقت آتا ہے کوئی اچھا لگتا ہے نہ برا، صحیح نہ غلط۔ کیونکہ وہ دل سے اتر چکا ہوتا ہے تو اس سے نفرت رہتی ہے نہ محبت ،کیونکہ دل تو ہر جذبات سے خالی ہو چکا ہوتا ہے۔

انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا دماغ ہے، پکڑ پکڑ کرلاتا ہے ان لمحوں کو جو اسے اذیت دیتے ہیں۔

انسان کے غرور کی اوقات بس اتنی ہے کہ وہ پہلی بار نہ خود نہا سکتا ہے اور نہ آخری بار۔

زندگی ہمیشہ کچھ نیا دکھائے گی، کبھی ہنسائے گی، کبھی رلائے گی ،اس پر بھروسہ مت کرنا ۔ یہ زندگی ہے نا جانے کس موڑ پر چھوڑ جائے گی۔

محبت

سٹاف نرس نے بتایا کہ 80سالہ شخص اپنے انگوٹھے کا ٹانکا کھلوانے کے لیے آیا ۔وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ براہ کرم جلدی کریں ۔ ڈاکٹر نے جلدی جلدی معائنے کے بعد اجازت دے دی۔ ٹانکے کھلنے لگے لیکن اس دوران وہ گھڑی دیکھتا رہا۔ میں نے پوچھا آپ کو کہیں جلدی پہنچنا ہے؟ ۔ اس نے کہا 9بجے نرسنگ ہوم پہنچنا ہے ،اپنی بیوی کو ناشتہ کروانے کے لیے ۔

میں نے پوچھا کیا وہ بیمار ہے؟

اس نے کہا ہاں وہ الزائمر کی مریضہ ہے ۔

میں نے پوچھا کیا وہ آپ کا انتظار کرتی ہے؟۔

اس نے کہا نہیں، وہ تو مجھے پہچانتی بھی نہیں ۔

میں نے کہا پھر آپ پریشان کیوں ہیں،سٹاف کا کوئی ممبر اسے ناشتہ کروا دے گا۔

اس بوڑھے شخص نے کہا کہ وہ تو مجھے 5سال سے نہیں پہنچاتی لیکن میں تو پہچانتا ہوں کہ وہ میری کون ہے!

راز کی حفاظت

حکایت شیخ سعدیؒ

کسی ملک کے ایک بادشاہ نے اپنے شہر میں منادی کروا دی کہ جو شخص بادشاہ کی خدمت میں کوئی ایسی چیز پیش کرے جو بادشاہ کو حیرا ن کر دے تو بادشاہ اسے انعام و اکرام سے نوازیں گے۔بہت سے لوگ اپنے اپنے شاہکار لے کر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن بادشاہ مطمئن نہ ہوا۔چند دن بعد ایک شخص بادشاہ کی خدمت میں تین بت لے کر حاضرہوا اور کہا کہ بادشاہ سلامت یہ بت آپ کو حیرت و استعجاب میں ڈالیں گے۔ بادشاہ نے تینوں بتوں کو دیکھا اور کہا یہ تینوں بت ایک جیسے ہیں ان میں کوئی فرق نہیں۔ بادشاہ نے اپنے امراء اور وزراء کو بلایا ان کی رائے لی گئی لیکن وہ بادشاہ کی بات سے متفق تھے کہ ان میں شکلاً جسماً کوئی فرق نہیں۔ اور نہ ہی کوئی حیرت و استعجاب کی بات ہے۔ بادشاہ نے کہا تم ثابت کرو کہ یہ بت آپس میں کس طرح مختلف ہیں۔ اس شخص نے ایک سلاخ لی اور پہلے بت کے کان میں ڈالی۔ وہ سلاخ ایک کان سے داخل ہوکر دوسرے کان سے نکل آئی۔ اس آدمی نے کہا یہ ایسے شخص کی نمائندگی کرتا ہے جو ایک کان سے سنتا ہے اور دوسرے کان سے نکال دیتا ہے۔ پھر اس نے دوسرے بت کے کان میں سلاخ ڈالی تو وہ منہ کے راستے باہر نکل آئی۔ اس شخص نے بادشاہ سے کہا یہ ایسے شخص کی نمائندگی کرتا ہے جو کوئی بات سنبھال کر نہیں رکھتا، جو سنتا ہے فوراً کسی دوسرے سے کہہ ڈالتا ہے۔ پیٹ کا ہلکا ہے۔ پھر اس نے وہ سلاخ تیسرے بت کے کان میں ڈالی تو وہ اندر رک گئی۔ اس نے کہا کہ یہ ایسے شخص کی نمائندگی کرتا ہے جو دوسرے کے رازوں کی حفاظت کرتا ہے۔ سب کی سنتا ہے لیکن کہتا کسی سے نہیں۔ سب نے کہا یہی سب سے افضل ہے۔

’’آثار قدیمہ‘‘

ایک صاحب سیرو تفریح کرتے ہوئے لاہور سے کراچی جا پہنچے۔سیدھے اپنی دادی اماں سے ملنے پہنچ گئے ۔وہ خاصی عمر رسیدہ تھیں۔ خاطر تواضع کے بعد دادی جان نے پوچھا ،’’بیٹا کیسے آنا ہوا‘‘۔

صاحب نے اطمینان سے جواب دیا :بس دادی جان میں آثار قدیمہ دیکھنے سندھ آیا تھا ،سوچا پہلے آپ سے ملتا چلوں۔

دوائی !

ایک دفعہ مُلّا صاحب گدھے پر سوار کہیں جارہے تھے کہ گدھا راستے میں َاڑ گیا۔مُلّا صاحب نے بڑی خوشامد کی، چمکارا پچکارا، مارا پیٹا مگر گدھا ٹَس سے مَس نہ ہوا۔ سامنے ایک حکیم کی دکان تھی۔ مُلّا صاحب دوڑ کر حکیم کو بلالائے۔ اُس نے گدھے کو کوئی ایسی دوا دی کہ وہ رسی تڑا کر بھاگ کھڑا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔

مُلّا صاحب نے حکیم سے کہا۔ ’’ اب مجھے بھی کوئی ایسی دوا دیجیے کہ میںدوڑ کر گدھے کو پکڑ سکوں۔‘‘

روشنی سے محروم

ایک دن اکبر نے درباریوں سے پوچھا:’’وہ کون سی چیز ہے جس پرچاند اور سورج کی روشنی نہیں پڑتی؟‘‘

کسی بھی درباری کے پاس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ شہنشاہ اکبر نے یہی سوال بیر بل کے ہاں بھی پیش کیا۔ بیر بل نے تھوڑی دیر سوچا اور بعد ازاں اس نے کہا :’’مہاراج! صرف ایک چیز ہے جس پر چاند اور سورج کی روشنی نہیں پڑتی۔‘‘ … شہنشاہ نے حیرت سے دریافت کیا :’’وہ کونسی ہے؟‘‘… بیر بل نے کہا :’’اندھیرا۔یہی ایک چیز ہے جس کو نہ چاند اور نہ سورج کی روشنی ملتی ہے۔‘‘

ہر ایک نے بیربل کے دانا جواب کی بہت تعریف کی۔

نصیر احمد ناصرؔ

ظلم و نفرت کے جال میں گم ہے

شہر اپنے زوال میں گم ہے

کیسی کیسی عجیب شکلیں ہیں

آئینہ کس وبال میں گم ہے

ناچتا ہے فقیر میلے میں

بھیڑ اس کی دھمال میں گم ہے

اس سے ملنے کا ایک دن ناصرؔ

گردشِ ماہ و سال میں گم ہے

منظر مفتی

کتنی دلچسپ یہ پہیلی ہے

زندگی موت کی سہیلی ہے

ہائے مشّاطگی زمانے کی

زیست اب تک نئی نویلی ہے

حاصل غم حیات کو سمجھے

ہر مصیبت خوشی سے جھیلی ہے

زندگی ہے، چراغِ گور سہی

چاند تاروں کے ساتھ کھیلی ہے

اک تری آنکھ کے اشارے پر

دشمنی دوستوں سے لے لی ہے

آپ بھی اب اُداس رہتے ہیں

آپ کی شام بھی اکیلی ہے

دل حسینوں کو کون دے منظرؔ

اپنا بچپن کا یار بیلی ہے

خوشی محمد ناظر

مست و بے خود تیرے میخانے کا بام و در بنے

ساقیا! گر تیری چشمِ مست کا ساغر بنے

حرص کے صحرا میں جو جھونکا چلے صرصر بنے

عشق کے دریا میں جو قطرہ گرے گوہر بنے بُت بنے،

کعبہ بنا، مسجد بنی، مندر بنے

عشق کی دنیا میں کیا کیا دلربا منظر بنے

درسِ عبرت دورِ دوراں میں ہے بزمِ میکدہ

میکشوں کی خاک سے کیا کیا خم و ساغر بنے

کیا عجب اس خاک داں کے ہوں کبھی چشم و چراغ

جا کے اوجِ آسماں پر جو مہ و اختر بنے

بے گدازِ عشق رنگِ حسن بھی کھلتا نہیں

عشق کے سانچے میں ڈھل کر نور کا پیکر بنے

دل کے ویرانے میں کیا کیا حسرتیں آباد ہیں

راہ میں سیلِ فنا کی کیسے کیسے گھر بنے

بندۂ ناظرؔ بھی حاضر تیرے میخواروں میں ہو

اے شہِ لولاک! جب تو ساقیِ کوثر بنے

حمایت علی شاعر

جب بھی اُسے دیکھوں، وہ نیا ہی نظر آئے

ہر شخص سے وہ شخص جدا ہی نظر آئے

ہاں ایک نظر تم بھی اُسے دیکھو تو شاید

تم کو مری ناکردہ گناہی نظر آئے

مرمر سے بدن پر وہ قبا آبِ رواں سی

وہ حسن کہ آپ اپنی گواہی نظر آئے

جلوت میں گزرتی رہی جس دل پہ قیامت

خلوت میں اُسے کیوں نہ تباہی نظر آئے

معلوم ہوا جب سے کہ یہ شہر ہے اُس کا

یہ شہر مجھے شہرِ سبا ہی نظر آئے

بت خانے میں کر لے جو کوئی اس کا تصور

کافر کو تو اک بار، خدا ہی نظر آئے

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

14جولائی 1926کو ارونگ آباد میں جنم لینے والے حمایت علی شاعر نے اردو شاعری میں بہت نام کمایا۔انہوںنے فلموں کیلئے گیت بھی لکھے اور خود بھی ریڈیو پر ڈراموں میں کردار اداکئے ۔ قیام پاکستان کے بعد سندھ میں ہجرت کی اور جام شورو کو اپنا مسکن بنایا اور اردو یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔1956میں منظر عام پر آنے والے شاعری کے پہلے مجموعے ’’آگ میں پھول‘‘نے مقبولیت حاصل کی اور اسی مجموعے پر 1958میں صدارتی ایوارڈ مل بھی گیا۔ ان کا گیت ۔۔۔’’جاگ اٹھا ہے سارا وطن ‘‘1965کی جنگ کی طرح آج بھی روح کو گرماتا ہے۔فلمی گیت ’’نہ چھڑ اسکو گے دامن ‘‘نے بھی مقبولیت کے ریکارڈ توڑے۔ گزشتہ برس 16جولائی کو ہم سے جدا ہونے والے حمایت علی شاعر کے کریڈٹ میں ’’مٹی کا قرض‘‘ ، تشنگی کا سفر اور ’’ہارون کی آواز‘‘ بھی شامل ہیں۔ ذیل میں نمونہ کلام شائع کیا جا رہا ہے۔ حضور آپؐ کی امت کا ایک فرد ہوں میں حضور آپﷺ کی امت کا ایک فرد ہوں میں مگر خود اپنی نگاہوں میں آج گرد ہوں میں میں کس زباں سے کروں ذکر اسوہ حسنہﷺ کہ اہل درک و بصیرت ،نہ اہل درد ہوں میں بزعم خود تو بہت منزل آشنا ہوں میں مگر جو راستے میں ہی اڑتی پھر ے وہ گرد ہوں میں عجیب ذوق سفر ہے کہ صورت پرکار جو اپنے گرد ہی گھومے وہ رہ نورد ہوں میں میں اپنی ذات میں ہوں اپنی قوم کی تصویر کہ بے عمل ہی نہیں ،جہل میں بھی فرد ہوں میں ٭٭٭ جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے اترا ہوا چہرہ مری دھرتی کا نکھر جائے ہم بھی ہیں کسی کہف کے اصحاب کی مانند ایسا نہ ہو جب آنکھ کھلے وقت گزر جائے کشتی ہے مگر ہم میں کوئی نوحؑ نہیں ہے آیا ہوا طوفان خدا جانے کدھر جائے ایک شہر خدا سینے میں آباد ہے لیکن اے دوست جہاں تک بھی تری راہ گزر جائے میں کچھ نہ کہوں گا اور یہ چاہوں گا کہ مری بات خوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جائے ٭٭٭ جب بھی اُسے دیکھوں، وہ نیا ہی نظر آئے ہر شخص سے وہ شخص جدا ہی نظر آئے ہاں ایک نظر تم بھی اُسے دیکھو تو شاید تم کو مری ناکردہ گناہی نظر آئے مرمر سے بدن پر وہ قبا آبِ رواں سی وہ حسن کہ آپ اپنی گواہی نظر آئے جلوت میں گزرتی رہی جس دل پہ قیامت خلوت میں اُسے کیوں نہ تباہی نظر آئے  

مزید پڑھیں

ورکر باس سے ، ’’میں دو منٹ میں آیا‘‘،’’بس آخری بار معاف کر دیں‘‘،’’آئندہ غلطی نہیں ہو گی ‘‘،’’آج ٹریفک بہت تھی‘‘۔ لڑکا منگیتر سے ،’’مجھے تمہاری بہت فکر ہے‘‘، ’’تم میری زندگی کی پہلی اور آخری پسند ہو‘‘،’’ہماری شادی ضرور ہوگی‘‘ ،’’ہر مشکل وقت میں مجھے اپنے ساتھ پائو گی،تم نہ ملیں تو کنوارہ رہ جائوں گا‘‘۔ شوہر بیگم سے ’’ میرا فون سائلنٹ پر تھا ،امی کی کال آئی ہوئی تھی‘‘ ۔’’نیا باس آیا ہوا ہے بہت سخت ہے‘‘۔  

مزید پڑھیں

لڑکیاں بڑی عجیب ہوتی ہیں،یہ مکمل اعتبار کرتی ہیں،آدھا اعتبار نہیں کرتی، یہ مکمل محبت کرتی ہیں ادھوری نہیں، ان کے ہاں دوسری محبت کا تصور نہیں ہوتا، مرد پہلی محبت میں بھی دوسری محبت کر لیتے ہیں مگر یہ لڑکیاں نازک مزا ج ہوتی ہیں ان کا احساس بہت کومل ہوتا ہے ان کی ادائوں کے ہزاروں رنگ ہیں جیسے جب شدید غصے میں ہوتی ہیں تو آنکھوں سے آنسو چمکنے لگتے ہیں۔یہ محبت کا خراج نہیں مانگتیں بلکہ اس کو کامل رکھتی ہیں۔  

مزید پڑھیں