☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل عالمی امور صحت کیرئر پلاننگ خواتین کچن کی دنیا دین و دنیا فیشن انٹرویوز ادب

منتخب شاعری

2019-03-24

شہنشاہ اکبر کی حماقت

شہنشاہ اکبر کی سلطنت میں ایک سنار ہیروں کو کاٹنے اور پالش کرنے میں بڑا ماہر تھا۔مگر اپنے بڑھاپے کی وجہ سے وہ زیادہ کام نہ کر سکتا تھا۔ایک دن وہ بیربل کے پاس آیا اور اس سے مدد طلب کی۔ بیربل نے اطمینان سے اس کی بات سنی اور اس کو چینی شیشہ دیا اورکہا :’’اس چینی شیشے کو اس طرح کاٹیں کہ یہ اصلی ہیرا دکھائی دے۔ اگر تم نے ماہرانہ طور پر ایسا کر لیاتو مجھے معلوم ہے کہ تم بہت انعام حاصل کرو گے۔‘‘

 چند دنوںکے بعد سنار بیربل کے پاس آیا اور اس کو اس نے چینی ہیرا دکھایا۔ چینی شیشہ بڑی عمدگی سے کا ٹ کر پالش کیا گیا تھا ۔ وہ اصلی ہیرے کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ بیربل نے سنار کی صنعت کاری کی وجہ سے خوش ہو کر اس سے کہا:’’تم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔آئو میرے ساتھ شہنشاہ کے دربار میں۔‘‘

 بیربل شہنشاہ کے پاس گیا اور اس کو چینی ہیرا دکھایا اور کہا :’’یہ آدمی اپنا شاندار ہیرا لایا ہے۔ کون ہے جو آپ کے سوا اس کی صنعت کاری کی تعریف کرے اور اس کی قدروقیمت کا تعین کرے۔‘‘

 چونکہ بادشاہ کسی دوسرے کام کے سلسلے میں مصروف تھا۔ اس کو اس نے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ کچھ دیر بعد شہنشاہ غسل خانہ میں غسل کے لیے گیا۔ نہانے کے دوران وہ بالکل ہیرے کو بھول گیا اور چینی کا ہیرا بہرحال پانی میں حل ہو گیا۔بعد میں شہنشاہ کو اچانک ہیرا یاد آیا۔ مگر اب اس کو کہاں سے حاصل کیا جاسکتا تھا۔ ا س نے اپنے محافظوں کو حکم دیا ۔

 کہ ’’محل کی ہر جگہ اس ہیرے کو تلاش کرو۔‘‘مگر تلاشی کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔جب سنار دربار میں آیا تو شہنشاہ نے ہیرے کے ٹکڑے کے بارے میں دریافت فرمایا۔ تب صنعت کار نے کہا :

 ’’عالی جاہ! بیربل نے مجھے کہا تھا آپ کو دینے کے لیے۔ میں اس ہیرے پر گزشتہ پانچ سال سے کام کر رہا تھا۔ میرے فن کی قدر کے بدلے بیس ہزار سونے کے سکے ملنا چاہیے تھے ۔‘‘

 شہنشاہ نے کہا :’’نہیں نہیں ۔بیس ہزار دینار بہت زیادہ ہیں۔‘‘

 صنعت کار نے کہا:’’جناب ! اگر آپ قیمت ادا کرنا نہیں چاہتے توآپ براہ کرم ہیرا مجھے واپس کر دیں۔ میں اس کو کسی دوسرے بادشاہ کے ہاں فروخت کردوں گا۔‘‘ اب شہنشاہ کچھ کہنے کے قابل نہ رہا۔ اس ہیرے کو وہ کہاں سے لاسکتا تھا۔ آخرکارشہنشاہ نے خزاچی کو بیس ہزار سونے کے سکے ادا کرنے کاحکم دے دیا۔

چند نصیحتیں

جو آدمی زیادہ ہنستا ہے اس کا رعب کم ہو جاتا ہے

 مذاق زیادہ کرنے والے کو لوگ ہلکا اور بے حیثیت سمجھتے ہیں،جو باتیں زیادہ کرتا ہے اس کی لغزشیں زیادہ ہو جاتی ہیں،جس کی لغزشیں زیادہ ہو جاتی ہیں اس کی حیاء کم ہو جاتی ہے،

 جس کی حیا کم ہو جاتی ہے اس کی پرہیز گاری کم ہو جاتی ہے اور جس کی پرہیز گاری کم ہو اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے۔اس سے کیا فرق پڑتا ہے ہمارے پاس کتنا کچھ ہے کھانا توبس دو روٹیاں ہیں۔ جینی تو بس یہی ایک زندگی ہے۔ فرق تو اس سے پڑتا ہے ہم نے کتنے پل خوشی سے بیتائے اور ہماری وجہ سے کتنے لوگو ں نے کتنے پل خوشیوں میں گزارے۔

حاضر جوابی

ایک دولتمند کا لڑکا باپ کی قبر پر بیٹھا ہوا کسی غریب کے بیٹے سے جھگڑتا تھا، کہ دیکھو میرے باپ کی قبر کا تعویذ کیسا پختہ اور کتبہ کیسا رنگین ہے۔ سنگ مر مر کا فرش اور اس پر کاشیگری کا کام۔ تمہارے باپ کی قبر کی طرح نہیں کہ دو چار اینٹیں اکٹھی کر دیں اور ان پر دو مٹھی بھر مٹی ڈال دی۔ غریب کے بیٹے نے کہا:- جب تک تمہارا باپ ان بھاری بھر کم پتھروں کے نیچے سے نکلنے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا رہے گا، میرا باپ بہشت میں پہنچ جائے گا۔

فرش ابھی گیلا ہے!

 حولدار نے تھانیدارکو ٹیلی فون کیا ، جناب عالی !ادھر ہمارے علاقے میں قتل ہوا ہے ۔ایک عورت نے اپنے خاوند کوسر میں بیلن مارکر ہلاک کردیاہے۔ تھانیدار :کیوں ،کیاوجہ تھی؟ حوالدار:جناب عالیٰ !مجرمہ نے فرش کو تازہ تازہ صاف کیا تھا کہ خاوند جوتوں سمیت کچن میںچلا گیا ۔ جس سے فرش گندا ہو گیا۔ تھانیدار : مجرمہ کو گرفتارکرلیاہے؟ حوالدار :نہیں جناب، وہ ابھی کچن میں ہے۔ تھانیدار : کیوں گرفتارنہیں کیا ؟ حوالدار : جناب ہم انتظارکررہے ہیں کہ پہلے فرش خشک ہوجائے۔

 بیوی کی طاقت

 ایک خاتون خریداری کرنے شاپنگ مال میں تھی ۔شاپنگ کرتے وقت دکاندار نے پرس میں ٹی وی کا ریموٹ دیکھ کر پوچھا ہی لیاکہ یہ ریموٹ کس لیے ساتھ لے آئی ہیں؟ عورت بولی: میرے شوہر نے میرے ساتھ خریداری کے لیے آنے سے انکار کیاتو میں سرکاری چینل لگا کے ریموٹ ساتھ لے آئی ہوں۔ دکاندار (ہنستے ہوئے )تمام سامان واپس کر دیں کیونکہ آپ کے شوہر نے کریڈٹ کارڈ بلاک کر دیا ہے۔ خاتون ذرا مسکرائی۔ پرس سے اپنے شوہر کا کریڈٹ کارڈ نکالا جسے وہ بھی استعمال کرسکتی تھی ۔جس سے تمام بل کی ادائیگی کر دی ۔ عورت کی طاقت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔

 جغرافیہ دانوں کی پریشانی

 ایک سردار بھینس کو نہلا رہا تھا۔پاس سے گزرتے ہوئے ایک آدمی نے ٹائم پوچھا۔ سردار نے بھینس کی ٹانگ اٹھائی اور بولا سوا چھ۔ وہ آدمی بڑا حیران ہوا ۔ واقعی سوا چھ ہوئے تھے۔ اس نے دوسرے دن پھر بولا ٹائم پوچھا ۔ سردار نے بھینس کی ٹانگ اٹھائی اور بولا سوا چار بجے ہیں۔وہ آدمی بہت حیران ہوا۔ پریشانی میںنیشنل جیو گرافک والوں کو بلا لایا ۔انہوں نے بھی ٹائم پوچھا تو آدمی نے بھینس کی ٹانگ اٹھائی اور بولا دو بجے ہیں۔انہوں نے سردار جی سے پوچھا :تم ایسا کیسے کرتے ہو؟وہ آدمی بولا: میرے پاس بیٹھو ۔وہ سب نیچے بیٹھے ،آدمی نے بھینس کی ٹانگ اٹھائی توسامنے دیوار پر گھڑی لگی تھی ۔

جدائی کی اذیت

ایک وقت تھا جب مجھے رونقیں پسند تھیں، سب سے باتیں کرنا اچھا لگتا تھا، ہنستے رہنا پسند تھا،

 بے وجہ تنگ کرنا پسند تھا، اب مجھے وحشت سی ہوتی ہے انسانوں سے، ان کے رویو ں سے ان کی باتوں سے ، اب مجھے ہنسنے کی جگہ لفظوں کے جنازے اٹھنا پسند ہیں ۔ اب مجھے تحریروں کی آڑ میں ماتم لکھنا پسند ہے ۔مجھے خود کو اذیت میں رکھنا پسند ہے ۔معلوم ہے جو لوگ زندگی کے سب سے قریب ہوتے ہیں ۔ سب سے زیادہ اذیت یہی لوگ بچھڑ کر دیتے ہیں، ان کے الفاظ ان کی تو ہمتیں جدائی کی اذیت سے زیادہ درد ناک ہوتی ہیں۔

جان چھوٹ جائے !

ایک مرید نے اپنے مرشد سے عرض کی، ’’قبلہ صاحب،میں کیا کروں،

لوگوں نے قافیہ تنگ کر رکھا ہے۔ اتنے لوگ مجھے ملنے کے لیے آتے ہیں کہ ان کے آنے جانے سے میرے اوقات گڑ بڑ ہو جاتے ہیں،عبادت کا وقت کم ہو جاتا ہے۔ مرشد نے جواب دیا: آنے والوں میں جو لوگ مفلس ہوں انہیں تو کچھ نہ کچھ قرض دے دو ۔اور جو دولت مند ہوں، اُن سے کچھ قرض مانگ لو ۔ پھر یہ دونوںتمہارے پاس نہیں پھٹکیں گے۔

موت نے ٹھکرا دیا!

وہ دین سے دور تھا، ہر برائی اس میں سرایت کر جاتی تھی ،

 جب سکون کا ایک لمحہ میسر نہ آتا تو وہ نشے میں ڈوب جاتا۔ دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی ، وقت کی فضول بربادی اس کا معمول تھی۔وہ دلدل ہی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ پھر اس پر وہ وقت آیا کہ وہ موت کو مانگنے لگا،موت نے بھی ٹھکرا دیا۔مر مر کر جیتا تھا مگر پھر بھی مرتانہ تھا۔ (عائشہ مسعود)

غم دوستی!

کسی نے مجھ سے پوچھا: تمہارا اپنا کون ہے؟

ایک دو پل میں سوچتا رہا اور پھر کہنے لگا جو کسی اور کے لیے مجھے چھوڑ نہ دے ، کیونکہ جو لوگ زندگی کے سب سے قریب ہوتے ہیں ،سب سے زیادہ اذیت یہی لوگ بچھڑ کر دیتے ہیں، ان کے الفاظ ان کی تو ہمتیں جدائی کی اذیت سے زیادہ درد ناک ہوتی ہیں۔

ایک احسان

اندھا دنیا کو دیکھنے کی، بہرہ سننے کی اور گونگا بولنے کی تمنا کرتا ہے اور تم دیکھنے ، دیکھتے ،

 سنتے ، چلتے اور بولتے ہو۔ تو کون سی چیز تم کو اپنے رب کی شکر بجا لانے سے روکتی ہے؟۔ اللہ کے ایک بڑے احسانوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں ایک مکمل انسان بنایا۔

چٹپٹی باتیں

کچھ لوگوں کے لیے آپ جان بھی دے دیں تو پھر بھی کہیں گے یہ ٹھیک سے نہیں مرا! ضمیر سڑکوں پر لگے ہوئے معلوماتی سائن بورڈ کی طرح ہوتاہے، یہ ہمیشہ درست راستہ بتاتا ہے مگر اس پر چلنے کے لیے مجبور نہیں کرتا۔

عقل کے دو نقطے بے کار ، عشق کے پانچ نقطے بے معنی، حسن کا ایک نقطہ سب سے بھاری، مگر دل بغیر نقطے کے سب پہ بھاری۔ آجکل کا کھانا پیٹ میں جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر پہنچ جاتا ہے۔ کچھ رشتہ دار ان لکڑیوں کی مانند ہو چکے ہیں جو دور ہو ں تو دھواں دیتے ہیں،اور اگر اکٹھے ہو جائیں تو آگ لگا دیتے ہیں۔ جس خاتون نے یہ جملہ دریافت کیا کہ’’ سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ‘‘،دراصل اس کا خاوند چین میں کہیں گم ہو گیا تھا۔

کبھی سوچاہے؟

پردہ کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے مگر نظر کا پردہ کچھ مشکل ہے۔

جب نگاہ پاس نہیں رہتی تو عبادتوں سے نظر جاتی رہتی ہے۔ جب نگاہ پاک نہیں رہتی تو سوچ بھی پاک نہیں رہتی۔ اور جب سوچ پاک نہیں رہتی تو نیت خراب ہو جاتی ہے، اور اعمال کا دارو مدار توہے ہی نیتوں پر۔ تمہیں پتہ ہے انسان جو دیکھتا ہے جو سنتا ہے، سوچتا ہے، وہ اس کے دل پر اثر رکھتا ہے۔ ہم کیا دیکھتے ہیں،کیا سنتے ہیں ،کبھی سوچاہے؟۔

جاں بلب !

محبت انسان پر جھوٹ کی طرح دھیرے دھیرے اترتی ہے ۔

جون، جولائی میں ،کسی صحرا کی دھوپ کی طرح۔ پہلے پہر کی دھوپ کی طرح، جس کا انسان کو پتہ نہیں چلتا ،لیکن جیسے جیسے دوپہر قریب آتی ہے ،تو بے چینی اور چبھن بڑھ جاتی ہے۔ پیاس سے حلق میں کانٹے اگ آتے ہیں ،دم لبوں پر آکر لٹک جاتا ہے نہ جان جسم کے اندر رہتی ہے نہ باہر نکلتی ہے۔ (ہاشم ندیم)

زہر

مولانا رومی ؒسے کسی نے پوچھا

زہر کیا ہے ؟ جواب ملا ہر وہ چیز جو ضرورت سے زیادہ ہو زہرہے۔ آدمی: مولانا،مثال دیجئے۔ مولانارومی ؒبولے : جیسے طاقت، دولت ، لالچ،نفرت اور حتیٰ کہ محبت۔

مختصر، پراثر

کہتے ہیں زندگی ایک بار ملتی ہے۔ یہ بات سرا سر غلط ہے، زندگی تو ہر روز ملتی ہے۔ دراصل موت ایک بار ملتی ہے۔

دل دکھانے پر جو شخص شکایت نہ کرے یقین کیجئے اس شخص سے زیاد ہ محبت کوئی آپ سے کر ہی نہیں سکتا۔ بری نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو انسان کے دل میں اتر جاتی ہے۔ کام سے غلطی ، غلطی سے تجربہ ، تجربہ سے عقل اور خیال سے نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں۔

رشتوں کو مضبوط رکھنے کے لیے دو راز جاننا بہت ضروری ہیں۔ سب سے پہلا راز کہ جب آپ غلطی پر ہوں تو فوراََاپنی غلطی تسلیم کریں۔ دوسری بات یہ کہ جب دوسرا غلطی پر ہو تو اسے شرمندہ کرنے کی بجائے صرف خاموشی اختیار کریں، رشتے کبھی نہیں ٹوٹیں گے۔

ٹاپ کے چند جھوٹ
مجھے تمہاری بہت فکر ہے۔

تم میری زندگی کی پہلی اور آخری پسند ہو۔

بیگم ۔۔میرا فون سائلنٹ پر تھا ۔

امی کی کال آئی ہوئی تھی اس لئے نمبرمصروف تھا۔

ہماری شادی ضرور ہوگی ۔

ہر مشکل وقت میں مجھے اپنے ساتھ پائو گی۔

میں اب تمہارے سوا کسی سے بات نہیں کرتا ۔

تم اگر نہ ملی تو کنوارہ رہ جائوں گا۔

محمد ابراہیم ذوق

لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے

پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

کم ہوں گے اس بساط پہ ہم جیسے بدقمار

جو چال ہم چلے، سو نہایت بری چلے

ہو عمرِ خضرؑ بھی تو کہیںگے بوقتِ مرگ

ہم کیا رہے یہاں، ابھی آئے، ابھی چلے

نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہو

وہ ہی ہو دانش تری نہ کچھ مری دانشوری چلے

دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ

تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے

جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوقؔ

اپنی بلا سے بادِ صبا اب کبھی چلے

چراغ حسن حسرت

یارب غمِ ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا

جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دستِ دُعا ہوتا

اک عشق کا غم آفت، اور اس پہ یہ دل آفت

یا غم نہ دیاہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

ناکامِ تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے

یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا

تو کیا ہوتا اُمید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی

وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے

کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

مومن خان مومن

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو

اس غیرتِ ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا چمک جائے ہے آواز تو دیکھو

دیں پاکیِ دامن کی گواہی مرے آنسو

اس یوسفِ بے درد کا اعجاز تو دیکھو

اربابِ ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے

کم طاقتیِ عاشقِ جانباز تو دیکھو

جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے

جورِ اجلِ تفرقہ پرواز تو دیکھو

حبیب جالب

کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائے

تجھے بے وفا کہوں میں وہ مقام آ نہ جائے

ذرا زُلف کو سنبھالو مرا دل دھڑک رہا ہے

کوئی اور طائرِ دل تہہِ دام آ نہ جائے

جسے سن کے ٹوٹ جائے مرا آزو بھرا دل

تری انجمن سے مجھ کو وہ پیام آ نہ جائے

وہ جو منزلوں پہ لا کر کسی ہم سفر کو لوٹیں

انھیں رہزنوں میں تیرا کہیں نام آ نہ جائے

اسی فکر میں ہیں غلطاں یہ نظامِ زر کے بندے

جو تمام زندگی ہے وہ نظام آ نہ جائے

یہ مہ و نجوم ہنس لیں مرے آنسوئوں پہ جالبؔ

مرا ماہتاب جب تک لبِ بام آ نہ جائے

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کسی انسان کا پہلا پیار بننا کوئی بڑی بات نہیں بننا ہے تو کسی کا آخری پیار بنو اس لیے تم یہ مت سوچو کہ جو تم سے پہلے کسی اور سے پیار کرتا تھ ...

مزید پڑھیں

مایوسیوں کے قافلے اُترے سحر کے ساتھ

دل بجھ گیا چراغِ سرِ رہگذر کے ساتھ

انجامِ کار خاک سہی پر یہ کم نہیں

گلشن میں جان آ گئی رق ...

مزید پڑھیں

کیا تماشا ہو کامیاب کہیں تو کہیں

جلوہ ہے، حجاب کہیں

نسبتِ نور پھر بھی قائم ہے

کہیں ذرّہ ہے آفتاب کہیں

دل تسلی سے خوش تو ہ ...

مزید پڑھیں