☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل

منتخب شاعری

2019-11-03

16 آنے کی رشوت

قدرت اللہ شہاب

 

میں نے دفتر کے باہر بورڈ آویزاں کر رکھا تھا، جس پر تحریر تھا: ’’ملاقاتی ہر سوموار اور جمعرات کو صبح 9 بجے سے 12 تک بلا روک ٹوک تشریف لا سکتے ہیں‘‘۔

ایک روز ایک مفلوک الحال بڑھیا آئی، رو رو کر بولی کہ میری چند بیگھے زمین کی منتقلی کے لئے پٹواری رشوت کے بغیر کام کرنے سے انکاری ہے۔ تین چار برسوں سے دھکے کھا رہی ہوں، لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔اس کی دردناک بپتا سن کر میں نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور جھنگ شہر سے 60-70 میل دور اس گاؤں کے پٹواری کو جا پکڑا۔ڈپٹی کمشنر کو اپنے گاؤں میں دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی، یہ بڑھیا بڑی شر انگیز ہے اور جھوٹی شکایتیں کرنے کی عادی ہے۔ تصدیق کے لیے پٹواری نے مقدس کتاب کی قسم کھائی ۔ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا :’’جناب ذرا یہ بستہ کھول کر بھی دیکھ لیں‘‘۔ہم نے بستہ کھولا تو اس میں پٹوار خانے کے رجسٹر بندھے ہوئے تھے،میرے حکم پر پٹواری بھاگ کر ایک اور رجسٹر اٹھا لایا اور سر جھکا کر بڑھیا کی اراضی کا انتقال کر دیا۔میں نے بڑھیا سے کہا:’’لو بی بی تمہارا کام ہو گیا، اب خوش رہو‘‘۔

بڑھیا کو میری بات کا یقین نہ آیا اور پاس کھڑے نمبردار سے کہا:’’سچ مچ میرا کام ہوگیا ہے؟‘‘۔

نمبردار نے تصدیق کی تو بڑھیا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے، اس کے دوپٹے کے ایک کونے میں کچھ ریزگاری بندھی ہوئی تھی اس نے اسے کھول کر سولہ آنے گن کر اپنی مٹھی میں لیے اور اپنی دانست میں نظر بچا کر چپکے سے میری جیب میں ڈال دیئے۔اس ادائے معصومانہ اور محبوبانہ پر مجھے بے اختیار رونا آ گیا۔ کئی دوسرے لوگ بھی آب دیدہ ہو گئے، یہ ’’سولہ آنے واحد رشوت‘‘ ہے، جو میں نے اپنی ساری ملازمت کے دوران قبول کی۔ اگر مجھے سونے کا پہاڑ بھی مل جاتا تو میری نظروں میں ان سولہ آنوں کے سامنے اس کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوتی۔ میں نے ان آنوں کو آج تک خرچ نہیں کیا کیوں کہ میرا گمان ہے کہ یہ ایک متبرک تحفہ ہے جس نے مجھے ہمیشہ کے لئے مالا مال کر دیا۔(’’شہاب نامہ‘‘ )

مچھروں کا مقدمہ

حکایت مولانا رومیؒ

مچھروں نے باغ میں جمع ہو کر مشورہ کیا کہ ہوا کا کچھ بندوبست کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہمیں کہیں ٹکنے نہیں دیتی۔ہم پیوند زمین ہونے سے رہے۔ فضا میں جب کبھی ہم جا کر پر کھولتے ہیں اور پانچ دس ایک جگہ جمع ہو کر رقص و سرود کی محفل گرم کرتے ہیں تو یہ بے رحم ہوا جھٹ آکر ہمیں پراگندہ کر دیتی ہے۔ ہمارا باہم مل بیٹھنا اسے ایک گھڑ ی نہیں بھاتا۔ آخر بڑی قیل و قال کے بعد یہ تجویز پاس ہوئی کہ حضرت سلیمانؑ کے پاس مقدمہ لے جائیں۔ الغرض مچھر حاضر دربار ہوئے اور عرض کیا کہ یا حضرت ہم پر ظالم کا ظلم حد سے بڑھ گیا ہے۔ ہم کمزور بے کس ہیں۔ ہمارا دشمن قوی ہے۔ ہمارے بازو مضبوط کر دیجئے۔ ہماری دستگیری فرمایئے۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا۔ اس ظالم کا کیا نام ہے؟ کس کی جرأت ہے کہ میرے عہد میں کسی پر جوروتعدی کر سکے؟ مچھر بولے حضرت اس کا نام ہواہے جسے خدا نے آپ کا تابع فرمان کیا ہے۔ سلیمان علیہ السلام نے یک لخت غور کرکے فرمایا۔ میرا یہ دستور ہے کہ جب تک فریقین یعنی مدعی اور مدعا علیہ کے سوال و جواب نہ سن لوں میں کچھ فیصلہ نہیں کیا کرتا۔ ’’تنہا پیش قاضی روی راضی آئی‘‘ مشہور ضرب المثل ہے۔ میں دوسرے فریق کی بات سنے بغیر کیا حکم لگائوں۔ ہوا کے خلاف اگر میں نے ڈگری دے دی تو وہ آ کر نہ کہے گی کہ حضرت! کیا آپؑ کو ’’باطل است آنچہ مدعی گوید‘‘ کے قول کی بھی خبر نہ تھی کہ میرا عذر سنے بغیر فیصلہ کر دیا؟ حضرت سلیمانؑ نے حکم دیا کہ ہواآ اور مدعی کے دعویٰ کا ردپیش کر۔ ہوا حکم سنتے ہی چلنے لگی۔ مچھروں نے راہ گریز اختیار کر لی۔ حضرتؑ بولے مچھرو! کدھر جاتے ہو ٹھہرو تاکہ میں تم دونوں کا بیان لے کر فیصلہ کروں۔ مچھر بولے یا حضرتؑ ادھر ہوا آئی اور ادھر ہم ہوا ہوئے۔ ہمارے پائوں اس کے سامنے نہیں جم سکتے۔ اس کی ہستی ہماری نیستی ہے۔ یہ حکایت بیان کر کے مولانا فرماتے ہیں:

ہم چنیں جویائے درگاہ خدا

چوں خدا آید شود جوئیندہ لا

گرچہ آں و صلت بقا اندر بقا است

لیک از اول بقا اندر فنا است

سایہ ہائے کہ بود جویائے نور

نیست گردوچوں کند نورش ظہور

 

خلیل جبران کی باتیں

چوڑی ٹوٹ جائے تو رو رو کر گھر سر پر اٹھا لیتی ہیں، دل ٹوٹ جائے تو سامنے بیٹھی ماں کو بھی پتہ چلنے نہیں دیتیں ۔ذرا سا ہاتھ کٹ جائے تو سارا گھر خدمت کو کھڑا کر لیتی ہیں۔ روح دکھوں سے بھر جائے تو اف تک نہیں کرتیں۔ اپنی پسند کا سوٹ نہ ملے تو عید نہیں منا تیں۔ مگر نا پسندیدہ شخص کے ساتھ ساری زندگی گزار دیتی ہیں۔نہ جانے جب محبتیں فنا ہوجاتی ہیں بچھڑ جاتی ہیںتو پیچھے وہ خوش فہمیاں کیوں چھوڑ جاتی ہیں ، دل ہر آن ایک ہی دھن میں لگا رہتا ہے کہ وہ کہیں مل جائے گا دکھائی دے گا ، ہمیں تلاش کرنا ہوگا اور آخر ایک دن پا لے گا۔حالانکہ جدائیوں کے رشتے تو بہت طویل اور لمبے ہوتے ہیں جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ جو اس نے ملنا ہوتا تو بچھڑتا ہی کیوں۔ اور اگر تم تنہا ہو اور وقت کے دل شکن لمحات تمہارے محسوسات کو پامال کر رہے ہیں تو کیا ہوا۔ تم اس دنیا میں اکیلے آئے تھے اکیلے ہی جائو گے۔ جب قدرت نے تمہیں اکیلا ہی تخلیق کیا تو پھر تنہائی سے گھبرانا کیسا۔

طارق عزیز کی درویشی

1947ء میں ساہیوال سرسبز و شاداب لہلہاتے درختوں کا شہر تھا ،اس شہر میں کربلا روڈ پر میاں عبداللطیف کو ایک چھوٹا سا مکان الاٹ ہوا تھا۔ یہیں پر بے وقعت زندگی کے معنی طارق عزیز کے ناپختہ ذہن پر ختم ہوئے ۔میونسپل کمیٹی کے کوڑا کرکٹ ڈھونڈنے والے ریڑھے جب لاشوں کو لے کر گزرتے تو ننھا طارق عزیز ان کے پیچھے دوڑتا۔ جب کسی لاش کا کوئی ہاتھ یا پائوںنیچے گرتا تو یہ اپنے ننھے ہاتھوں سے اسے ریڑھے پر رکھ دیتا ۔جب کوئی لاش نیچے گر جاتی تو یہ بھاگتے بھاگتے ریڑھے والے کو کہتا۔۔ بھائی، ایک آدمی نیچے گر گیا ہے ۔ریڑھے والا رک جاتا اور لاش اٹھا کر ریڑھے پر رکھ دیتا۔ اور کسی ویران جگہ پر ایک گڑھا کھود کر ساری لاشیں دفنا دیتا ۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے طارق عزیز نے درویشی اور فقیری کا سبق سیکھا ۔ اسے زندگی کے انجام کا پتہ ہے۔ خوشی سے وہ آپے سے باہر ہوتا ہے اورنہ بڑے سے غم ملنے پردیواروں سے سر ٹکراتا ہے۔ (احمد عقیل روبی )

دنیا

انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں۔ یہ قدرت کی عطا ہے۔کسی مخصوص علاقے میں پیدا ہونا ہمارا انتخاب نہیں ،یہ قدرت کی عنایت ہے۔ امارت یا غربت یہ ہمارا انتخاب نہیں ،قدر ت کی عطا ہے۔ لیکن ہر معاملے میں اپنے اندر کی انسانیت کو قائم رکھنا ،یہ تو ہمارا انتخاب ہے۔ مگریہ دنیا بھی بڑی عجیب جگہ ہے ۔جب چلنا نہیں سیکھا تھا تو کوئی گرنے نہیں دیتا تھااور جب چلنا سیکھا ہے تو سبھی گرانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں !جو دوسروں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا ،وہ اس کی خوبیوں سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

شرم آتی ہے!

ایک بزرگ آدمی کی آنکھوں کا آپریشن ہوا۔ ڈاکٹر نے سجدہ کرنے سے روکا اوربطور پرہیزچند روز تک اشارے سے نماز ادا کرنے کو کہا۔ بزرگ نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ایک دو دن تک گھر والوں نے سمجھا شاید روٹی چباتے وقت آنکھوں کو تکلیف ہوتی ہوگی۔کچھ دنوںبعد گھر والوں نے پوچھ ہی لیا کہ ڈاکٹر نے تو سجدہ کرنے سے منع کیا ہے نہ کہ کھانا کھانے سے۔ بزرگ نے بہت خوبصورت جواب دیا کہ جس کو سجدہ نہ کر سکوں، اُس کا رزق کھاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے۔

قائداعظم ؒ کی شگفتہ مزاجی

لندن میں حضرت قائداعظم ؒکو جہاز سے اترتا دیکھ کر اخباری نمائندے تیزی سے آپ کی طرف لپکے تاکہ بیان لے سکیں۔وہ مسلسل قائداعظم ؒسے کچھ کہلوانا چاہتے تھے لیکن آپ کچھ کہنے کے بجائے صرف ہاتھ ہلا رہے تھے،قائداعظمؒ نے کار کے نزدیک پہنچ کر دروازے کا ہینڈل پکڑا اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔اخباری نمائندے سمجھے کہ آپ کچھ بیان دینے لگے ہیں۔لیکن قائداعظمؒ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔’’اچھا ساتھیو! مجھے جو بیان آج آپ کو دینا ہے۔وہ یہی ہے کہ میں کوئی بیان نہیں دوں گا۔‘‘

سبقت

اگر تم اپنے سے کسی بڑے کو دیکھو تو اس کی تعظیم کرو کہ اس نے ایمان لانے اور اعمال صالح میں تم سے سبقت لی ۔ اگر تم اپنے سے کسی چھوٹے کو دیکھو تو اس کی عزت و تکریم کرو کہ اس نے گناہ نہ کرنے میں تم سے سبقت لی یعنی عمر کم ہونے کی وجہ سے اس سے تم سے کم گنا سرزد ہوئے، اگر لوگ تمہاری عزت کریں تو جان لوکہ یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے اور اگر اہانت کریں تو جان لو کہ یہ تمہارے گناہوں کا نتیجہ ہے۔

مختصر،پراثر

تنکے کو بھی حقیر نہ سمجھو، ہوسکتا ہے وہ تمہاری آنکھ میں پڑ جائے۔

عقلمند وہ ہے جو دوسروں سے عبرت حاصل کرے نہ کہ دوسروں کیلئے باعث عبرت ہو۔

اپنی زندگی کا کوئی مقصد بنالو پھر اپنی ساری طاقت اس کے حصول کیلئے لگادو، تم ضرور کامیاب ہو جائو گے۔

جس کو اس بات کی خواہش ہو کہ اللہ اس کی دعا سختیوں اور بے چینیوں میں قبول کرے اسے چاہیے کہ خوشحالی کے وقت کثرت سے دعا کرے۔

اس شخص سے بچو جو لوگوں میں اپنی برائیاں بڑے فخر سے بیان کرتا ہے۔

رہائی

آدھی رات کو اچانک بیوی کی آنکھ کھلی ۔ دیکھا شوہر غائب ہے۔ تفتیش کی نظروں سے اٹھی ۔ شوہر کچن میں کافی کا منہ کپ کو لگائے گہری سوچ میں مبتلا ہے ۔ بیوی نے شوہر کے آنسوئوں کی وجہ پوچھی ۔

شوہر :تمہیں یاد ہے کہ 20سال پہلے تم 18سال کی تھیں اور ہم چوری چوری ملے تھے؟

شوہر ( آہ بھرتے ہوئے ) اور تمہیں یاد ہے تمہارے باپ نے مجھے پکڑ لیا تھا۔

بیوی (ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے ):ہاں مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔

’’شوہر: تمہارے باپ نے مجھ پر شارٹ گن تانتے ہوئے کہا کہ یا تو تم میری بیٹی سے شادی کر لو یا پھر میں تمہیں 20سال کے لیے جیل بھیجوا دیتا ہوں‘‘۔

ہاں ڈئیر :یہ بھی اچھی طرح یاد ہے۔

شوہر (آنسو پوچھتے ہوئے ): اگر اس وقت میں جیل میں ہوتا تو آج رہا ہو گیا ہوتا!۔

ماں

ہماری مائیں جب بوڑھی ہوجاتی ہیں تو ان کے جوڑ کیوں درد کرتے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ دوران حمل جب ماں کو خوراک پوری نہ ملے تو بچہ ماں کی ہڈیوں اور جوڑوں سے نمکیات حاصل کر کے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور ماں کے یہ جوڑ کمزور پڑ جاتے ہیں اور بڑھاپے میں یہ تکلیف کا باعث بنتا ہے اور یہی اولاد کہتی پھرتی ہے کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے۔

بادشاہ اور درویش

کسی پرہیزگار نے خواب میں ایک بادشاہ کو بہشت میں اور ایک پارسا کو دوزخ میں دیکھا۔ اس نے پوچھا کہ بادشاہ کی ان بلندیوں اور پارسا کی ان پستیوں کا کیا سبب ہے، عوام کا قیاس تو اس کے برعکس تھا۔ ندا آئی کہ یہ بادشاہ درویشوں سے عقیدت کے باعث بہشت میں ہے اور یہ پارسا بادشاہوں کے تقرب کی بنا پر دوزخ میں۔

کھوٹا سکہ

سکہ کھوٹا ہے یا کھرا ؟اس کا پتہ آزمائش میں ہی پتہ چلتا ہے َعورت کی دل داری شوہر کی روزگاری کے وقت شروع ہوتی ہے ۔بیروزگاری، پیسے کی تنگی میں گزر بسر کرنے والی عورت ہی سچی اور کھری ثابت ہوتی ہے۔ جبکہ مرد کی وفاداری کا پتہ عورت کی بیماری میں چلتا ہے۔ بیمار بیوی کا ساتھ دینے والا وفا دار شوہر ہی کہلا سکتا ہے ورنہ یہ نکاح کا رشتہ کاغذ سے زیادہ کچھ نہیں۔

پیروڈی

دہلی میں پیروڈی شاعری کا مشاعرہ تھا۔ جب گلزار زتشی کا نام صدارت کے لیے پیش کیا گیا تو وہ انکسار سے بولے : حضور ! میں صدارت کا اہل کہاں ہوں؟

اس پر کنور مہندر سنگھ نے فرمایا : مطمئن رہیں ، آپ بھی صدر کی پیروڈی ہی ہیں۔

طالب جوہری

اس کی سرد حویلی تک دھوپ کا تپتا صحرا تھا

اوٹ میں سوکھی جھاڑی کے، سایہ چھپ کر بیٹھا تھا

گونج رہی تھی جب یہ صدا اسماء کی تشریح کرو

بول رہا تھا صرف انساں، چار طرف سناٹا تھا

ماہی گیر اکیلا تھا، لوٹ کے کیسے گھر آیا

نائو کے چپو ٹوٹے تھے اور سمندر گہرا تھا

ہم نے جو گھر بار تجا ایک ستارے کی خاطر

ان دیکھی دنیائوں سے کون سا ایسا رشتہ تھا

فطرت کی بے ظرفی بھی کیا کیا روپ بدلتی ہے

آگ لگی تھی جب گھر میں، بادل ٹوٹ کے برسا تھا

سایہ بانٹنے والا خود سائے سے محروم رہے

قسمت نے ان پیڑوں کو دھوپ میں جلنا لکھا تھا

کوزہ گروں کی بستی میں مٹی کی کمیابی ہے

کوزے کتنے مہنگے تھے، پانی کتنا سستا تھا

اک موہوم نشانی پر طالبؔ ہم نے کوچ کیا

منزل بھی انجانی تھی، رستہ بھی ان دیکھا تھا

جلیل مانک پوری

ادا ادا تری موجِ شراب ہو کے رہی

نگاہِ مست سے دنیا خراب ہو کے رہی

غضب تھا اُن کا تلون کہ چار ہی دن میں

نگاہِ لطف نگاہِ عتاب ہو کے رہی

تری گلی کی ہوا دل کو راس کیا آتی

ہوا یہ حال کہ مٹی خراب ہو کے رہی

وہ آہِ دل جسے سن سن کے آپ ہنستے تھے

خدنگِ ناز کا آخر جواب ہو کے رہی

پڑی تھی کشتِ تمنا جو خشک مدت سے

رہینِ منتِ چشمِ پُرآب ہو کے رہی

ہماری کشتیِ توبہ کا یہ ہوا انجام

بہار آتے ہی غرقِ شراب ہو کے رہی

کسی میں تاب کہاں تھی کہ دیکھتا اُن کو

اُٹھی نقاب تو حیرت نقاب ہو کے رہی

وہ بزمِ عیش جو رہتی تھی گرم راتوں کو

فسانہ ہو کے رہی ایک خواب ہو کے رہی

جلیلؔ فصلِ بہاری کی دیکھیے تاثیر

گری جو بوند گھٹا سے شراب ہو کے رہی

صوفی تبسم

دل کو جب بے کلی نہیں ہوتی

زندگی، زندگی نہیں ہوتی

جان پر کھیلتے ہیں اہلِ وفا

عاشقی دل لگی نہیں ہوتی

کیا کرو گے کسی کی دلداری

تم سے تو دلبری نہیں ہوتی

موت کی دھمکیاں نہ دو مجھ کو

موت کیا زندگی نہیں ہوتی

غور سے دیکھتا ہوں جب تم کو

میری ہستی مری نہیں ہوتی

عشق میں ہوشیاریاں بھی ہیں

محض وارفتگی نہیں ہوتی

توبہ کرتے ہیں اس لیے زاہد

ہم نے اس وقت پی نہیں ہوتی

عشق کی اشک ریزیوں کے بغیر

آبرو حسن کی نہیں ہوتی

اُس کو میں بزم کس طرح کہہ دوں

جس میںصورت تری نہیں ہوتی

دل تبسمؔ کسی کو دو پہلے

مفت میں شاعری نہیں ہوتی

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

نگری نگری پھرا مسافر، گھر کا رستہ بھول گیا

کیا ہے تیرا، کیا ہے میرا، اپنا پرایا بھول گیا

کیا بھولا، کیسے بھولا، کیوں پوچھتے ہو ب ...

مزید پڑھیں

رہے جو ہوش تو وہ جانِ جاں نہیں ملتا

بغیر کھوئے ہوئے کچھ یہاں نہیں ملتا

ہزار جلوۂ رنگیں، ہزار ذوقِ نظر

بیانِ حسن کو حسنِ بیا ...

مزید پڑھیں

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے

ورنہ کہیں تقدیر تماشہ نہ بنا دے

اے دیکھنے والے مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو

تم کو بھی محبت کہیں ...

مزید پڑھیں