☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)

منتخب شاعری

2020-02-02

تہذیب

دورحاضر میں لوگ مغربی تہذیب پر عمل کرتے ہیں مگر ذکر مشرقی تہذیب کا کرتے ہیں ۔انہیں بیٹی کا رشتہ امیر گھرانے میں کرنا ہوتا ہے لیکن نکاح پڑھانے والا کوئی فقیر ڈھونڈتے ہیں۔ ماں باپ کو دن بھر ستانے کے بعد گاڑی کے پیچھے لکھتے ہیں ۔۔’’یہ سب میری ماں کی دعا ہے‘‘۔۔ تعلیم انگریزی میں حاصل کرنا چاہتے ہیں اور نوکری یورپ میں تلاش کرتے ہیں،مگر مرنا گنبد خضریٰ کے سائے میں چاہتے ہیں۔

تلوار

اگر اللہ کے خوف سے آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں، اور دوزخ کا تصور ڈراتا ہے۔اگردنیا آپ کو اپنی طرف نہیں کھینچتی ، اگر اللہ کی عبادت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح کرنی چاہیے اگر نیکی آپ کو اپنی طرف راغب کرتی ہے اورآپ برائی سے رک جاتے ہیں تو پھر آپ صالح ہوتے ہیں۔ کچھ صالح بنتے ہیں، صالح ہونا خوش قسمتی کی بات ہے۔یہ دو دھاری تلوار پر چلنے کے برابر ہے اس میں زیادہ وقت لگتا ہے اس میں زیادہ تکلیف سہنا پڑتی ہے۔ (عمیرہ احمد )

خلعت

حکایت شیخ سعدیؒ

زمانہ قدیم میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کا جسم بہت ہی بھاری بھرکم تھا۔ موٹاپے کی وجہ سے بے چارہ حرکت کرنے سے قاصر تھا۔ اس نے حکماء کو جمع کیا اور کہا کوئی ایسا حیلہ کرو کہ میرا جسم تھوڑا پتلا ہو جائے۔ لیکن کوئی علاج کارگر نہ ہوا۔ اس دوران اس کے دربار میں ایک حاذق طبیب کو لایا گیا اس کے فن کا شہرہ دور دور تک تھا۔ اس نے بادشاہ کے جسم کا معائنہ کیا بادشاہ نے اسے وافر انعام و اکرام کا لالچ دیا۔ وہ طبیب کہنے لگا آپ کا اقبال سلامت رہے۔ میں حکمت و طب کے ساتھ ساتھ علم نجوم سے بھی واقفیت رکھتا ہوں آپ مجھے ایک رات کی مہلت دیں، میں آپ کی قسمت کا مشاہدہ کروں گا اور دیکھوں گا کہ کون سی دوا آپ کو موافق رہے گی۔ اگلے دن وہ بادشاہ کے پاس آیا اور دہائی دینے لگا امان! امان! بادشاہ سلامت نے کہا تمہیں امان ہے (تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا)۔ جان بخشی کے وعدہ پر اس حکیم نے بادشاہ سے گزارش کی کہ میں نے آپ کے زائچہ میں غوروفکر کیا تو پتہ چلا کہ آپ کی مبارک زندگی میں صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے۔ اگر آپ پسند فرمائیں تو کل میں آپ کا علاج کروں گا۔ اگرآپ کومیری بات پر اعتبار نہیں تو مجھے اپنے پاس روک لیجئے۔ اگرمیری بات سچی ہوئی تو مجھے رہا کر دیا جائے وگرنہ مجھ سے قصاص لیا جائے۔ بادشاہ نے اس کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ دوسری طرف خود بادشاہ ہر قسم کی عیش و عشرت چھوڑ چھاڑ کر گوشہ نشین ہو گیا۔ جوں جوں ایک ایک دن گزر رہا تھا اس کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ وہ بہت لاغر ہو گیا۔ اس کا گوشت کم ہو گیا۔ جب اٹھائیس دن گزرگئے تو اسے اپنے سامنے حاضر کرنے کا حکم دیا اور پوچھا اب بتائو میرا ستارہ کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا میرے پاس غم کے سوا آپ کی بیماری کا کوئی علاج نہ تھا۔ میں اس بہانے کے سوا اور کسی طرح بھی آپ کو غمگین نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں نے یہ عذر تراشا۔ اس طرح آپ کی فالتو چربی ختم ہو گئی۔ بادشاہ نے خوش ہو کر اسے انعام و اکرام سے نوازا۔

مختصر پر اثر

گنہگار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ساری نعمتیں مجھ پر برس رہی ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ میں کس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں ۔ نعمتوں کی کثرت پر یا اس کے در گزر پر۔ (حکیم بو علی سینا )

خوشی کی صورت میں آہستہ ہنسا کرو تاکہ غم نہ جاگ جائے ۔ غمگین ہونے کی صورت میں آہستہ سے رویا کرو تاکہ آنے والی خوشی کہیں ناامیدی میں نہ بدل جائے۔(چارلی چپلن )

سقراط کے سامنے ایک شخص خوشبو ، اعلیٰ پوشاک ، کمال کے لباس میں ملبوس ، ایک چھتری لیے نظر آیا۔ سقراط حیران ہوا،کہ یہ کون ہے۔ پھر اس نے اسے کہا کہ’’ جناب ،کچھ ارشاد فرمائیے تاکہ پتہ چلے کہ آپ کے اندر کیا ہے۔

دو قسم کے لوگوں سے دور رہنا چاہیے، ایک مصروف اور دوسرا مغرور۔ مصروف آدمی صرف اپنی مرضی سے بات کرتا ہے اورمغرور آدمی صرف اپنے مطلب سے۔

حیا تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے ،اس کے بغیر منظم معاشرے کا قیام نا ممکن ہے ، بے حیائی پھیلانے والوں کیلئے سخت عذاب کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ڈگری تو محض تعلیمی اخراجات کی رسید ہوتی ہے، علم تو انسان کی گفتگو اور اس کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ ورنہ باقی سب کچھ بے کار ہو جاتا ہے۔

سائبان

شوہر سائبان کی مانند ہوتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ کا احساس دلاتا ہے ۔ قسمت کی سختی کو اپنی تدبیر سے آسان کرتا ہے اور زمانے کی بے رخی پر اپنی محبت کا یقین دلاتا ہے۔آج معمولی معمولی بات پر طلاق کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اپنے تعلیم یافتہ اور خود مختار ہونے کا زعم میں مرد کے تابع ہونے میں رکاوٹ بنتا ہے ۔جب یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کا ہے عورت کو مرد کی رعایا کا درجہ حاصل ہے اور مرد سے عورت کے متعلق سوال کیا جائے گا ۔مگر اس سے یہ بھی نہ سمجھ لیا جائے کہ عورت مرد کی غلام ہے ۔حضرت رسول اللہ ﷺکا آخری خطاب نماز اور عورتوں کے حقوق سے متعلق تھا۔ عورت کا حسن خدمت اور اس کی عزت انکساری میں ہے۔ یہی وہ ہتھیار ہیں اس سے کسی کو بھی زیر کیا جاسکتا ہے، شوہر کو بھی ۔ شوہر وہ ڈھال ہے جو بیوی کوزمانے کے ’’شیاطین ‘‘سے محفوظ رکھتا ہے۔

جیسی کرنی ویسی بھرنی

کسان کی بیوی نے اپنے شوہر کو ایک کلو کے پیڑوں کی صورت میں مکھن بنا کر دیا تاکہ وہ اسے شہر میں بیچ آئے ۔کسان مکھن دکاندار کوفروخت کر کے پتی ، چینی ،تیل اور دوسری چیزیں خرید کر واپس آگیا۔مکھن کو فریزر میں رکھتے وقت دکاندار کو خیال آیا کہ کیوں نہ وزن کر لیاجائے ۔جب وزن کیا توہر پیڑا900 گرام کا نکلا ۔غصے میں دکاندار نے سارے پیڑے تول ڈالے مگر ہر پیڑوں کا وزن 900 گرام تھا۔اگلی بار جب کسان مکھن لے کرآیا تودکاندار غصے سے چلایا ۔۔۔ بے ایمان ،دھوکے باز شخص ۔900 گرام کو ایک کلو گرام کہہ کر بیچتا ہے۔ میں تیری شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ کسان افسردہ ہو گیا ۔ کہنے لگا۔۔میرے بھائی، مجھ سے بدظن نہ ہو۔ ہمارے پاس باٹ کے پیسے نہیں ،جو ایک کلو چینی آپ سے لے کر جاتا ہوں، اسے ترازو کے پلڑے میں رکھ کر دوسرے پلڑے میں مکھن تولتا ہوں۔یہ سن کر دکاندار کھسیانا ہوگیا۔

بغض

اگرمیاں بیوی کے بسنے کا ارادہ ہو ،کوئی ان کا گھر اجاڑ نہیں سکتا۔لوگ کچھ کر لیں، گھر بسا رہتا ہے۔اگر میاں بیوی کے دل میں ایک دوسرے کے لیے بغض آجائے تو گھر اجڑ جایا کرتے ہیں ۔پھر گھر نہیں بستا۔ آپس میں فاصلے اتنے نہ بڑھائیں انا اور بغض کے جذبات اتنے نہ بڑھائیں کہ خلوص ان میں دب جائے۔ آپ کا گھر کسی اور نے نہیں بچانا آپ نے ہی بچانا ہے۔ وقتی ہار دائمی جیت ثابت ہوتی ہے مگر یاد رکھیں وقتی جیت اکثر دائمی ہار میں بدل جاتی ہے۔

تاثیر

لفظ زندگیوں کا رخ بدل سکتے ہیں ،ان میں میں بے انتہا تاثیر ہوتی ہے۔یہ مردہ دلوں کو زندہ اور زندہ دلوں کو پل بھر میں مردہ کر سکتے ہیں۔الفاظ جب تک ہماری دسترس میں ہیں ،تب تک ہم اس قابل ہیں ہم انہیں نکال کر پھولوں جیسا معطر بنا دیں ، اور چاہیں تو انگاروں کی طرح جلتا ہوا بنا دیں ۔ لفظوں کو کسی سمت میں روانہ کرتے وقت پل بھر کے لیے یہ سوچ لینا چاہیے کہ یہی لفظ کوئی ہم کو سناتا تو ہم پر کیا گزرتی ۔ لفظ آنسوئوں کا سبب بھی بنتے ہیں اورڈھیروں مسکراہٹوں کا بھی۔

دکھڑا کہہ دینا!

جب آپ کی آنکھوں میں بہت سے آنسو جمع ہو جائیں، جب آپ کے دکھوں کا مداوا نہ ہو، جب کسی سے کچھ کہنے کو حوصلہ نہ ہو ،تب آپ کبھی پریشان نہ ہوں بس اس ذات(رب کائنات) کی جانب دیکھنا ،اس سے اپنا دکھڑا کہہ دینا ۔بے شک وہی تو ہے جو روتے کو ہنسا دیتا ہے ۔ وہی تو ہے جو بگڑی بنا دیتا ہے ۔وہی تو ہے جو ڈوبتی کشتی کو پار لگا دیتا ہے بس اس سے امید رکھنا، یقین رکھنا دیر ہویا سویر وہ نوازتا ضرور ہے۔

گستاخی

تم تو بڑے لیڈر تھے ،ماں باپ سے بھی نہیں ڈرتے تھے ۔ کسی نا گہانی آفت سے کبھی خوفزدہ نہ تھے۔ تم بڑے حوصلے والے تھے لیکن آج تم اپنے سائے سے ڈر رہے ہو ۔تم اپنی اولاد سے خوف زدہ ہو ،تمہارے بچوں نے تمہیں کس اذیت سے گزارا ہے ۔بے خوف دل میں خوف کا پیدا ہونا یہ بڑا انتشار ہے۔ بزرگوں سے کی گئی گستاخیوں کی سزا گستاخ بچوں کی شکل میں ملتی ہے ۔بے ادب اور گستاخ اولاد والدین کو سجدہ ریز کر دیتی ہے۔ میرے دوست والدین کی روحوں سے مافی مانگو، تاکہ تمہارے بچے تمہیں عبرت کا نشان نہ بنا دیں۔ جس نے والدین کا ادب کیا اسی نے مودب اولاد پائی۔(واصف علی واصف ؒ)

سفر در سفر

میں نے انتظار کرنے والوں کو دیکھا،انتظار کرتے کرتے ٹوٹ جانے والوں کو بھی اور مر جانے والوں کو بھی۔میں نے مضطرب نگاہوں اور بے چین بدنوں کو دیکھا ہے ۔آہٹ پر لگے کانوں کے زخموں کو دیکھا ہے، انتظار میں لگے کانوں کو دیکھا ہے،منتظر آدمی کے دو وجود ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو مقررہ جگہ پر ہوتا ہے جہاں انتظار کر رہا ہوتا ہے اور دوسرا وہ جو جسد کی پذیرائی کے لیے کہیں دور پہنچ جاتا ہے، جب انتظار کی گھڑیاں دنوں مہینوں اور سالوں پر پھیل جاتی ہے تو کبھی کبھی دوسرا وجود واپس نہیں آتا اور انتظار کرنے والے کا وجود اس خالی ڈبے کی طرح رہ جاتا ہے، جسے لوگ خوبصورت سمجھ کر رکھ لیتے ہیں اور کبھی اپنے آپ سے جدا نہیں کرتے ۔یہ خالی ڈبہ کئی بار بھرتا ہے، قسم قسم کی چیزیں اندر سمیٹتا ہے ،مگر یہ اس میں لوٹ کر واپس نہیں آتا ۔جو پذیرائی کے لیے آگے نکل گیا تھا ،ایسے میں پورے طور پر شانت ہو جاتے ہیں، ان مطمئن اور پر سکون لوگوں پر لوگوں کی پرسنیلٹی میں بڑی کشش ہوتی ہے، انہیں اپنی باقی ماندہ زندگی اسی چارم کے سہارے گزارنا پڑتی ہے ،یہ چارم آپ کو صوفیاء کرام کی شخصیت میں نظر آئے گا، اسی چارم کی حقیقت آپ کو عمر رسیدہ پروفیسر کی آنکھوں میں نظر آئے گی۔( اشفاق احمد )

ولیمہ

کسی پرندے کا ولیمہ تھا۔ اس نے اپنے چند دوستوں کو بلایا۔ قاصد غلطی سے لومڑی کے پاس چلا گیا۔ لومڑی نے دعوت قبول کر لی۔ جب قاصد نے واپس آکر بتایا تو سب پرندے پریشان ہو گئے انہوں نے کہا تم نے مفت میں ہمیں مروا دیا۔ سرخاب نے کہا میں کسی ترکیب سے لومڑی کو روک لوں گا۔ وہ لومڑی کے پاس گیا اور اسے کہا تمہارابھائی (پرندہ) تمہیں سلام کہہ رہا ہے اور کہتا ہے کہ دعوت پیر کو ہوگی۔ کون سے کتوں کے ساتھ تمہاری نشست رکھی جائے۔ سلوقی نسل کے کتے ہوں یا کروی کتوں کے ساتھ۔ یہ سن کر لومڑی نے جھر جھری لی اور کہا میرے بھائی کو سلام کہہ کر معذرت کرنا اور یہ بتانا کہ میں نے عرصہ دراز سے یہ نذر مان رکھی ہے کہ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھوں گی۔

مزاح نگار
مزا ح نگار الف لیلہ، شہر زاد کی طرح ایک ہزار کہانیاں سنا کر اپنی جان بچا لیتا ہے لیکن سچ بول کرسقراط کی طرح پیالہ پینا پڑتا ہے ۔مزاح نگار کو ہنستے ہوئے وہ بات کہہ دیتا ہے کہ سننے والے کو بعد میں خبر ہوتی ہے ۔ میں نے کبھی کسی اچھے مزاح نگار کو اس کی تحریر کی پاداش میں جیل جاتے نہیں دیکھا۔اس کی میٹھی بات بھی شوخ کی آنکھ اور دلیر کے وار کی طرح کبھی خالی نہیں جاتی۔
مکینک

ایک ڈاکٹر صاحب کا ٹی وی خراب ہوگیا۔ انہوں نے مکینک کو بلا بھیجا۔مکینک نے ادھر ادھر ہاتھ مارنے کے بعد 5سو ر وپے فیس لے لی ۔ساتھ ہی کہا ’’ اگر کوئی پرزہ خراب ہو تو وہ آپ منگوائیں گے‘‘

ڈاکٹر مسکراتے ہوئے :بھائی مکینک، آپ تو ہم سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے ،میں تو مریضوں کے معائنہ کی فیس صرف سو روپے لیتا ہوں۔مکینک مسکراکر: ہم اپنے پرزے کی گارنٹی بھی دیتے ہیں۔

خواجہ میر دردؔ

ہے غلط، گر گمان میں کچھ ہے

تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے

دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے

آن میں کچھ ہے، آن میں کچھ ہے

لے خبر تیغِ یار! کہتے ہیں

باقی اس نیم جان میں کچھ ہے

ان دنوں کچھ عجب ہے حال مرا

دیکھتا کچھ ہوں، دھیان میں کچھ ہے

دردؔ تو جو کرے ہے جی کا زیاں

فائدہ اس زیان میں کچھ ہے

امیر مینائی

وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے

آج کی بات کو کیوں کل پہ اُٹھا رکھا ہے

محتسب پوچھ نہ تو شیشے میں کیا رکھا ہے

پارسائی کا لہو اس میں بھرا رکھا ہے

کہتے ہیں آئے جوانی تو یہ چوری نکلے

میرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے

اس تغافل میں بھی سرگرمِ ستم وہ آنکھیں

آپ تو سوتے ہیں فتنوں کو جگا رکھا ہے

ہیں تمہارے ہی تو جلوے کے کرشمے سارے

اس کو کیا تکتے ہو، آئینے میں کیا رکھا ہے

آدمی زاد ہیں دنیا کے حسیں لیکن امیرؔ

یار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے

اختر ہوشیار پوری

منزلوں کے فاصلے دیوار و در میں رہ گئے

کیا سفر تھا میرے سارے خواب گھر میں رہ گئے

اب کوئی تصویر بھی اپنی جگہ قائم نہیں

اب ہوا کے رنگ ہی میری نظر میں رہ گئے

جتنے منظر تھے مرے ہمراہ گھر تک آئے ہیں

اور پسِ منظر سوادِ رہ گزر میں رہ گئے

اپنے قدموں کے نشاں بھی بند کمروں میں رہے

طاقچوں پر بھی دیے خالی نگر کے رہ گئے

کر گئی ہے نام سے غافل ہمیں اپنی شناخت

صرف آوازوں کے سائے ہی خبر میں رہ گئے

ناخدائوں نے پلٹ کر جانے کیوں دیکھا نہیں

کشتیوں کے تو کئی تختے بھنور میں رہ گئے

کیسی کیسی آہٹیں الفاظ کا پیکر بنیں

کیسے کیسے عکس میری چشمِ تر میں رہ گئے

ہاتھ کی ساری لکیریں پائوں کے تلووں میں تھیں

اور میرے ہم سفر گردِ سفر میں رہ گئے

کیا ہجومِ رنگ اخترؔ کیا فروغِ بوئے گل

موسموں کے ذائقے بوڑھے شجر میں رہ گئے

امام بخش ناسخ

ساتھ اپنے جو مجھے یار نے سونے نہ دیا

رات بھر مجھ کو دلِ زار نے سونے نہ دیا

خواب ہی میں نظر آتا وہ شبِ ہجر کہیں

سو مجھے حسرتِ دیدار نے سونے نہ دیا

خفتگی بخت کی کیا کہیے کہ جز خوابِ عدم

عمر بھر دیدۂ بیدار نے سونے نہ دیا

یہی صیاد گلا کرتا ہے میرا ہر صبح

نالۂ مرغِ گرفتار نے سونے نہ دیا

سمجھے تھے بعدِ فنا پائیں گے راحت ناسخؔ

حشر تک وعدۂ دیدار نے سونے نہ دیا

وصیت

ایک صاحب نے مرتے وقت وصیت بتانا شروع کی۔ انہوں نے ایک ایک بیٹے کا نام لیتے ہوئے انہیں ’’گھر‘‘ دینے کو کہا۔

کہنے لگے :بیٹا، تم ڈیفنس والے پانچ بنگلے لے لینا۔دوسرے بیٹے سے : میں تم سے بہت پیار کرتاہوں ،کلفٹن والی 20کوٹھیاں میں تمہیں دے رہا ہوںاور بیگم ،صدر والے 11فلیٹ تمہارے ہوئے ۔

پاس کھڑی نرس بہت متاثر ہوئی اور اس کی بیوی سے بولی۔’’ آپ کتنے خوش قسمت ہیں۔ آپ کے شوہر کتنے امیر ہیں۔ بیوی بولی: کہاں کے امیر، یہ دودھ والا ہے، اپنے گاہکوں کے نمبر بتا رہا ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی سلام اے فخرِ موجودات فخرِ نوع انسانی سلام اے ظلِ رحمانی، سلام اے نورِ یزدانی ترا نقشِ قدم ہے زندگی کی لوحِ پیشانی سلام اے سرِ وحدت اے سراجِ بزمِ ایمانی زہے یہ عزت افزائی، زہے تشریف ارزانی ترے آنے سے رونق آگئی گلزارِ ہستی میں شریکِ حال قسمت ہو گیا پھرفضلِ ربانی سلام اے صاحبِ خلقِ عظیم انساں کو سکھلا دے یہی اعمالِ پاکیزہ یہی اشغالِ روحانی تری صورت، تری سیرت، ترا نقشا، ترا جلوہ تبسم، گفتگو، بندہ نوازی، خندہ پیشانی اگرچہ فقر فخری رتبہ ہے تیری قناعت کا مگر قدموں تلے ہے فرِ کسرائی و خاقانی زمانہ منتظر ہے اب نئی شیرازہ بندی کا بہت کچھ ہو چکی اجزائے ہستی کی پریشانی زمیں کا گوشہ گوشہ نور سے معمور ہو جائے ترے پرتو سے مل جائے ہر اک ذرے کو تابانی حفیظ بے نوا کیا ہے گدائے کوچہِ الفت عقیدت کی جبیں تیری مروت سے ہے نورانی ترا در ہو مرا سر ہو مرا دل ہو ترا گھر ہو تمنا مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی سلام ، اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے سلام، اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے    

مزید پڑھیں

پیام لائی ہے باد صبا مدینے سے کہ رحمتوں کی اٹھی ہے گھٹا مدینے سے فرشتے سینکڑوں آتے ہیں اور جاتے ہیں بہت قریب ہے عرش خدا مدینے سے الٰہی کوئی تو مل جائے چارہ گر ایسا ہمارے درد کی لا دے دوا مدینے سے حساب کیسا نکیریں ہوگئے بے خود جب آئی قبر میں ٹھنڈی ہوا مدینے سے خدا کے گھر کا گدا ہوں فقیر کوئے نبیؐ مجھے تو عشق ہے مکے سے یا مدینے سے چلے ہی آو مزار حسین پر سیماب کچھ ایسی دور نہیں کربلا مدینے سے     

مزید پڑھیں

نہ کلیم کا تصور … نہ خیالِ طور سینا… میری آرزو محمدؐ… میری جستجو مدینہ… میں گدائے مصطفیؐ ہوں… میری عظمتیں نہ پوچھو… مجھے دیکھ کر جہنم کو بھی آگیا پسینہ… سوا اِس کے میرے دل میں… کوئی آرزو نہیں ہے… مجھے موت بھی جو آئے تو ہو سامنے مدینہ… میں مریض مصطفیؐ ہوں مجھے چھیڑو نہ طبیبو… میری زندگی جو چاہو مجھے لے چلو مدینہ… کبھی اے شکیل دل سے نہ مٹے خیال احمد… اسی آرزو میں مرنا… اسی آرزو میں جینا…    

مزید پڑھیں