☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کلچر(ایم آر ملک) فیچر( طارق حبیب مہروز علی خان، احمد ندیم) متفرق(محمد سعید جاوید) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا اسپیشل(طاہر محمود) سپیشل رپورٹ(نصیر احمد ورک) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) سیاحت(نورخان سلیمان خیل)

منتخب شاعری

2020-02-09

حزیں لدھیانوی
شرار دل کے لیے روشنی نظر کے لیے
اثاثہ کچھ تو مجھے چاہیے سفر کے لیے
شبوں کے زخم سے سینہ چمن چمن ہے مگر
یہ سارے پھول ہیں محبوبۂ سحر کے لیے
خزاں کا دور، ستم باغباں کا، سنگ زنی
تمام عمر ہیں یہ امتحاں شجر کے لیے
سوئمبروں کی ہیں رسمیں نہ دورِ تیر و کماں
شعور چاہیے اب رزمِ خیر و شر کے لیے
حزیںؔ اُسے بھی سرِ رہ گزار لے آئے
جو ایک دل کا دیا رہ گیا تھا گھر کے لیے
 

 

شکیب جلالی
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
نہ اتنی تیز چلے، سرپھری ہوا سے کہو
شجر پہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے
برا نہ مانئے لوگوں کی عیب جوئی کا
انھیں تو دن کو بھی سایا دکھائی دیتا ہے
یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
مری نگاہ سے چھپ کر کہاں رہے گا کوئی
کہ اب تو سنگ بھی شیشہ دکھائی دیتا ہے
کھلی ہے دل میں کسی کے بدن کی دھوپ شکیبؔ
ہر ایک پھول سنہرا دکھائی دیتا ہے
 

 

یزدانی جالندھری
اک خوشی کے لیے ہیں کتنے غم
مبتلائے صد آرزو ہیں ہم
دل و لوح و قلم کا ہم سر ہے
داستانیں ہیں کتنی دل پہ رقم
عظمتِ رفتگاں ہے نظروں میں
اپنے ماضی کو ڈھونڈتے ہیں ہم
پارہ پارہ ہے خود جنوں لیکن
فکرِ انساں اسی سے ہے محکم
بھیگی بھیگی ہے ہر کرن ان کی
ہے ستاروں کی آنکھ بھی پرنم
یوں نہ ہوتی سحر کی رُسوائی
کاش کھلتا نہ روشنی کا بھرم
کم تر اس کو نہ کہیے یزدانیؔ
آدمی خود ہے جانِ دو عالم
 

 

میرا جی
نگری نگری پھرا مسافر، گھر کا رستہ بھول گیا
کیا ہے تیرا، کیا ہے میرا، اپنا پرایا بھول گیا
کیا بھولا، کیسے بھولا، کیوں پوچھتے ہو بس یوں سمجھو
کارن دوش نہیں ہے کوئی، بھولا بھالا بھول گیا
کیسے دن تھے، کیسی راتیں، کیسی باتیں گھاتیں تھیں
من بالک ہے، پہلے پیار کا سندر سپنا بھول گیا
اندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا شرمائی
دھندلی چھب تو یاد رہی، کیسا تھا چہرہ، بھول گیا
یاد کے پھیر میں آ کر دل پر ایسی کاری چوٹ لگی
دکھ میں سکھ ہے، سکھ میں دکھ ہے، بھید یہ نیارا بھول گیا
ایک نظر کی، ایک ہی پل کی بات ہے دوری سانسوں کی
ایک نظر کا نور مٹا جب اک پل بیتا، بھول گیا
سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہ
لہر لہر سے جا سر پٹکا، ساگر گہرا بھول گیا
کوئی کہے یہ کس نے کہا تھا، کہہ دو جو کچھ جی میں ہے
میراؔ جی کہہ کر پچھتایا اور پھر کہنا، بھول گیا
 

 

مختصر پراثر
آنسو ئوں کو بہت سمجھایا کہ تنہائی میں آیا کرو، یوں بھری محفل میں تماشا نہ بنایا کرو آنسو بھی تڑپ کے بولا ۔۔تجھے محفل میں اکیلا پایا اسی لیے چلاآیا۔
 زندگی بھر خود فریبی اورخوش گمانیوں میں رہنے سے بہتر ہے کہ انسان ایک ہی بار خود کو جھلستی ہوئی حقیقت کے روبروکرلے۔
مشکلات زندگی کا حصہ ہیں،انہیں ہنس کر باہر گزارنا زند گی کا آرٹ ہے۔
کبھی کبھی کچھ بھی بولنے کا دل نہیں چاہتا ایسالگتاہے کہ ہم اپنے احساس کو صیحح الفاظ میں ڈھال نہیں سکیں گے اور اگر ڈھال بھی لیں تو سامنے والا شاید سمجھ نہیں سکے گااس لیے خاموشی کا سہارا لئے مسکرا کے جیتے رہتے ہیں۔
سب سے خوبصورت اورصاف زبان رویوں کی ہوتی ہے کچھ کہنا سننابھی نہیں پڑتا اورساری بات بھی سمجھ آجاتی ہے ۔
دعا اوریقین دونوں نظر نہیں آتے کہ بے رنگ ہوتے ہیں مگر یہ دونوں وہ رنگ لاتے ہیں جو ناممکن کو ممکن بنادیتاہے ۔
 

 

دلچسپ حقیقتیں
قدیم یونان میں اولمپک کھیل دیکھنے والی عورت کو قتل کردیا جاتا تھا۔
دنیا کی سب سے مختصر جنگ برطانیہ اور زنجبار (افریقہ) کے درمیان لڑی گئی تھی۔ 38 منٹ میں برطانیہ جنگ جیت گیا تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران دنیا بھر میں لوہے کی کمی ہو گئی تھی اس لئے "آسکر ایوارڈ" بھی پلاسٹر آف پیرس سے بنا کر دئیے گئے تھے۔
 پاناما نہر کے دوران تقریباً 35 ہزار مزدور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور 20 ہزار تعمیرات کے دوران ملیریا اور پیلے بخار میں مبتلا ہوگئے تھے۔
اے بی75 بمبار طیارہ 28 جولائی 1945ء کو ایمپائر اسٹیٹ کی عمارت کی 79 ویں منزل سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا تھالیکن دو طیاروں نے یہی مٹی کی مانند تباہ کردی تھی۔ 
 

 

ماں سے محبت
ایک شخص نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو پرس غائب تھا، جیب کٹ چکی تھی۔پرس میں تھا ہی کیا، چند روپے ۔یوں تو چند روپوں کی کوئی اہمیت نہیں لیکن بے روزگار آدمی کے لیے یہ بھی بہت بڑی دولت ہے ۔پرس میں ماں کے نام ایک خط بھی تھا۔ خط میں لکھا تھا ،’’ماں میری نوکری چھوٹ گئی ہے ، پیسے نہیں بھیج سکوں گا‘‘۔پوسٹ کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔ کچھ دنوں بعد اسے ماں کا خط ملا جسے پڑھ کر وہ حیران رہ گیا۔ ماں نے لکھا تھا۔۔۔’’بیٹا تیرا بھیجا ہوا 50روپے کا منی آرڈر ملا۔ تو کتنا اچھا ہے ،پیسے بھیجنے میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کرتا۔ میں کافی دنوں تک شش و پنج میں رہا کہ آخر ما ں کو پیسے کس نے بھیجے ہوں گے۔کچھ دنوں بعد کچھ اور خط ملا۔میں آڑھی ترچھی ہینڈ رائٹنگ بڑی مشکل سے پڑھ سکھا۔ لکھا تھا۔۔’’بھائی! 9روپے تمہارے اور 41 روپے اپنے ملا کر میں نے تمہاری ماں کو 50روپے کا منی آرڈر بھیج دیا ہے۔ فکر نہ کرنا، ماں تو سب کی ایک جیسی ہوتی ہے‘‘ ۔(تمہاراجیب کترادوست )
 

 

ایمان
 سب گائوں والوں نے ایک دفعہ بارش کے لیے دعائیں مانگیں ۔وہ ایک جگہ اکٹھے تھے تو ایک بچہ چھتری لے آیا۔۔ یہ ہے ایمان۔ 
اگر بچے کو ہم ہوا میں پھینکتے ہیں تو وہ ہنستا ہے ، اسے پتہ ہے کہ جس نے اسے پھینکا ہے وہی اس کو پکڑ لے گا۔۔ یہ ہے یقین
ہر رات ہم بستر پر سو جاتے ہیں۔ ہمیں دوبارہ اٹھنے کا نہیں پتہ ہوتا لیکن پھر بھی الارم لگا دیتے ہیں۔۔ یہ ہے امید 
 ہمیں اللہ پر پورا ایماناور یقین رکھتے ہوئے خیر کی دعا کرنا چاہیے ۔
 

 

مایوسی
لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ابلیس کا گناہ فقط تکبر ہے۔ لیکن میرا خیال ہے تکبر کا حاصل مایوسی ہے اور جب ابلیس کسی بات پر مُصر ہوا کہ وہ مٹی کے پتلے کو سجدہ نہیں کر سکتا تو وہ تکبر کی چوٹی پر تھا۔ لیکن جب تکبر ناکامی سے دو چار ہوا تو ابلیس نا امید ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام بھی جنت سے نکالے گئے لیکن وہ مایوس نہیں ہوئے۔ یہی تو ساری بات ہے۔ ابلیس نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ میں تیری مخلوق کو تیری رحمت سے مایوس کر دوں گا، ناامید اورمایوس لوگ میرے گروہ میں داخل ہوں گے۔ اللہ جانتا ہے اس کے چاہنے والوں کا اغواء ممکن نہیں ۔وہ کنوئیں میں لٹکائیں جائیں یا صلیب پر، وہ مایوس نہیں ہوں گے۔(بانو قدسیہ)
 

 

جادو ٹونا
بھارت میں کئی رسمیں جادو ٹونا کرنے والوں کے کہنے پر اپنائی گئی ہیں۔ ایسی باتیں ماننے والوں کو برے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ دہلی سے 70 کلو میٹر دور پلکھوا میں پیش آیا ۔ایک کم سن بچی کو اس کے والد اور ماموں ایک ہندو پجاری کے کہنے پر زندہ دفن کرنے جارہے تھے کہ پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔ پجاری نے کہا تھا کہ ایسا کرنے سے دوسرے بچے کی صحت بہتر ہوگی۔اس خاندان میں ایک اور بچی کم خوراکی کے مرض کا شکار ہے۔ بچی کے والد دنیش نے بتایا کہ وہ جادو ٹونا کرنے والے کی ہدایت پر ایسا کر رہے تھے اور بچی کے ماموں اس کام میں ان کی مدد کر رہے تھے۔
 

 

بیٹی اوربہو
ہمارے ہا ں کئی لوگ ایسے ہیں کہ اگر ان کی اپنی بیٹی کوئی کام نہ کرے ، عیب جوئی کرے تو ماں اس کی ہر بری عادت کو چھپاتی ہے اور اس کی بہو چھوٹی سی معمولی سی کوئی غلطی کر بیٹھے تو ساس سارے محلے میں بتاتی پھرے گی یہ کتنی نا انصافی کی بات ہے جب ساس اپنی بہو کو بیٹی سمجھنے لگ جائے اور بہو اپنی ساس کو ماں تو زندگی پر سکون ہو جائے گی۔ماں اور بیٹی کے درمیان نفرتیں نہیں محبتیں ہوا کرتی ہیں۔(کتاب’’ مثالی ازدواجی زندگی کے سنہری اصول‘‘)
 

 

زبان اور دل
کہتے ہیں کہ ’’ عقلمند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہوتی ہے۔جب وہ کسی سے کوئی بات کہنا چاہتا ہے تو پہلے دل کی طرف رجوع کرتا ہے۔اگر وہ بات دل کو بھائے تو تب زبان پر لاتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے۔اس کے برعکس جاہل کا دل اس کی زبان کی نوک پر ہوتا ہے،وہ کبھی دل کی طرف رجوع نہیں کرتا بلکہ جو کچھ بھی زبان پر آئے کہہ دیتاہے ۔
 

 

’’ جلاد پرندہ‘‘
 ’’شرامک‘‘ ایک ظالم پرندہ ہے اسے’’ جلاد پرندہ‘‘ بھی کہتے ہیں ۔یہ جس پرندے کا شکار کرتا ہے اسے نیم جان کرکے کسی درخت کی ٹہنی یا کانٹے سے لٹکا کر اس کا دم توڑتا ہے اور تڑپتا ہوا دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ شکار کو اس طرح لٹکاتا ہے جیسے قصائی بکروں کی کھال اتارنے کے لیے لٹکاتا ہے ،جب شکار ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے کھاتا ہے۔ 
 

 

ہوشیاری!
سردار جی گلی کے کونے پر شاپر سے کوڑا نکال کر پھینک کر چلے گئے۔کچھ دیر بعد گلی میں واپس آئے تو دیکھا کہ محلے دار آپس میں لڑ رہے تھے ۔ ایک شخص اونچی آواز میں چیخ رہا تھا کہ یہ کوڑا کس نے پھینکا ہے؟
 دوسرا شخص بولا: کسی کتے کے بچے نے پھینکا ہوگا!۔
سردار جی ایک سائیڈ پر ہولئے اور بہت ہنسے ۔ لڑنے والوں میں سے ایک بندے کو پکڑ کر کہنے لگے ،’’ کوڑا تو میں نے پھینکا ہے اور نام کتے کے بچے کا لگ گیا!۔
 

 

ساس کی ’’سائنس‘‘!
ایک روز میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا۔ بیوی نے اپنی ماں کوفون ملایا اور کہا 
’’میرا ان سے جھگڑا ہوگیا ہے ۔میں 3،4مہینے کے لیے آپ کی طرف آرہی ہوں۔ 
ماں : جھگڑا تو اس کمبخت نے کیا ہے،سزا بھی اسے ہی ملنی چاہیے ۔تو رک، بیٹی میں آتی ہوں، پانچ چھ مہینے کے لیے!۔
 

 

انوکھا چور
دو ٹھگوں نے ایک گدھا چوری کیا۔ وہ اسے بیچنے بازار پہنچ گئے ۔وہاںایک شخص ملا۔ جس کے ہاتھ میں ٹرے میں مچھلی تھی۔ اس نے پوچھا کیا یہ گدھا بیچوگے؟ 
وہ کہنے لگا :ہاں۔
 اس نے کہا :اچھا یہ ٹرے پکڑو تاکہ میں گدھے پر سوار ہو کر اسے چیک کر سکوں۔یہ کہہ کر وہ گدھے پر بیٹھ کر کچھ دورتک گیا۔واپس آیا،دوبارہ سوار ہوا اور ایک گلی میں داخل ہو کر اسے بھگا کرلے گیا۔ کچھ پتہ نہ چلاکہ وہ شخص کہاں چلا گیا ہے۔ ٹھگ واپس آیا۔ دوسرے نے پوچھا :گدھے کا کیا بنا؟ 
وہ کہنے لگا :جتنے میں خریدا تھا ،اتنے میں ہی بیچ دیا اور یہ ٹرے اور مچھلی ہمارا منافع ہے ۔ 
 

 

امریکہ رے امریکہ۔۔۔
امریکہ میں کئی کہاوتیں مشہور ہیں آج ہم ان میں سے کچھ آپ کو بھی سناتے ہیں۔
عمل پریشانی کو بھگا دیتا ہے۔ 
اگر تم لکھ پڑھ سکتے ہوتو اپنے استاد کے شکرگزار بنو۔
موتی اس وقت تک انمول ہے جب تک وہ اپنے خول میں بند ہے۔
بہادر ایک بار اور بزدل بار بار مرتا ہے۔
دریا کے ساتھ ایسی سخاوت سے پیش آئو جیسے اپنے بھائی سے پیش آتے ہو۔
پریشانیوں میں گھرے رہنا موت کو جلد دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اپنے کل کو اپنے آج پر حاوی مت ہونے دو۔
اگر تم اپنے کردار کی حفاظت کرو گے تو تمہارا کردار بھی اپنی حفاظت خود کر لے گا۔ 
 

 

حکایت مولانا رومی ؒ
بد دیانت سوداگر
دہلی کے شہر میں دو سوداگررہتے تھے۔ ان کا گھی کا کاروبار تھا۔ان کی دکانیں ایک دوسرے کے نزدیک تھیں۔ ایک دفعہ ان میں سے ایک سوداگرنے ایک ہزار سونے کے سکے دوسرے سے قرض لیے۔ مگر آئندہ اس نے قرض کو واپس ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ دوسرا سوداگر اکبر کے دربار میں چلا گیا اور شکایت درج کروائی۔ اکبر شہنشاہ نے اس مقدمے کو بیربل کے حوالے کر دیا۔ بیر بل نے دونوں سوداگروں کے بیانات قلمبند کیے۔ مدعی نے کہا :’’ اس سوداگر نے مجھ سے ایک ہزار سونے کے سکے قرض لیے تھے۔ اب وہ واپس ادا کرنے سے انکاری ہے۔‘‘
دوسرے سوداگر نے کہا :’’نہیں جناب یہ جھوٹ ہے۔ وہ مجھ سے حاسد ہے اس لیے وہ مجھے جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنا چاہتا ہے۔‘‘
بیربل نے دونوں سوداگروں کو دس دن کے بعد عدالت میں مقدمے میں انصاف کے لیے آنے کے لیے کہا۔ پھر بیربل نے دس کنستروں کا آرڈر دیا اور ہر کنسترمیں بیس سیر گھی بھردیا۔ ان کنستروں میں سے صرف دو میں اس نے ایک ایک سنہری سکہ رکھ دیا۔ اس کے بعد شہر کے گھی کے سوداگروں کو بلایا۔ وہ دو سوداگر بھی آئے۔ اس نے ہر ایک کو گھی کا کنستر دیا اور کہا :’’ہر کنستر میں بیس سیر گھی ہے۔ گھر لے جائیے اور گھی کی کوالٹی کا محتاط انداز میں معائنہ کرتے ہوئے قیمت کا تعین کریں۔‘‘
اس نے دانستہ طور پر سنہری سکوں والے کنٹینر مدعی اور مدعاالیہ کو دئیے۔ سوداگر ٹین اپنے گھر لے گئے۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے گھی کا جائزہ لیا اور اس کی مارکیٹ قیمت کا تعین کیا۔ انہوں نے اپنے اپنے ٹین میں سے سنہری سکے بھی پائے۔ جس سوداگر نے عدالت میں اپیل کی تھی وہ ایماندار تھا۔ اس نے سنہری سکہ واپس کر دیا۔ مگر دوسرے سوداگر نے کنستر سے سنہری سکہ نکال لیا اور اس کو اپنے بیٹے کو دے دیا۔مقررہ دن سوداگر شہنشاہ کی عدالت میں اپنے گھی کے کنستروں کے ساتھ آئے۔ بیربل نے بڑی احتیاط سے مدعا الیہ کے کنستر کو دیکھا۔ اس کو پتہ چلا کہ گھی کی کوالٹی کم کر دی گئی ہے۔ جب اس نے اس کے بارے میں تحقیق کی تو مدعا الیہ سوداگر نے کہا کہ:’’مہاراج! گرمی کی وجہ سے گھی کی کوالٹی کم ہو گئی ہے۔‘‘ 
’’ میں دوسرے گھی کے کنستروں کی پڑتال کروں گا‘‘۔بیربل نے جواب دیا۔
بیربل اندر گیا اور اس نے اپنے نوکروں سے کہا :’’تم مدعا الیہ کے گھر جائو اور اس کے بیٹے کو اس سنہری سکے کے ساتھ عدالت میں آنے کے لیے کہوجو اس کے باپ نے جو گھی کے کنستر سے حاصل کیا تھا۔ جلد ہی مدعا الیہ تاجر کا بیٹا سنہری سکے کے ساتھ عدالت میں آگیا۔ بیربل نے اس سے دریافت کیا:’’پانچ سونے کے سکے جو کہ گھی کے کنستر میں تھے، کہاں ہیں؟‘‘
اس نے جواب دیا:’’ہمیں کنستر سے صرف ایک ہی سونے کا سکہ دستیاب ہوا تھا پانچ نہیں تھے۔‘‘
اس کی بات سنتے ہی بیربل مدعا الیہ تاجر کی طرف مڑا اور کہا:’’اگر تم مجھے ایک سونے کے سکے کے لیے دھوکہ دے سکتے ہوتو یہ بھی بالکل ممکن ہے کہ تم نے مدعی کو بھی دھوکہ دیا ہو گا۔آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟‘‘۔
تاجر کے پاس سوائے اپنے جرم تسلیم کرنے کے کوئی چارہ نہ تھا۔ اس نے بیربل سے معافی طلب کی اور مدعی کو ایک ہزار سونے کے سکے لوٹا دئیے ۔
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ایک امریکی بولا :ہماری ریاست ٹیکساس کے کیا کہنے ،آپ پیر کی صبح کو ٹرین میں سوار ہوں اور بدھ تک سفر کرتے رہیں ۔ جب بدھ کی شام کو ٹرین سے اتریں گے تو ریاست پھر بھی ختم نہیں ہوئی ہوگی۔… ساتھ بیٹھا ہوا پاکستانی بولا :کوئی بات نہیں، ہمارے پاکستان میں اس سے بھی سست رفتارٹرینیں چلتی ہیں۔     

مزید پڑھیں

یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا کوئی تم سا نظر نہیں آتا ڈھونڈتی ہیں جسے مری آنکھیں وہ تماشا نظر نہیں آتا ہو چلی ختم انتظار میں عمر کوئی آتا نظر نہیں آتا جھولیاں سب کی بھرتی جاتی ہیں دینے والا نظر نہیں آتا زیر سایہ ہوں اُس کے اے امجدؔ جس کا سایہ نظر نہیں آتا    

مزید پڑھیں

چمک جگنو کی برقِ بے اماں معلوم ہوتی ہے قفس میں رہ کے قدرِ آشیاں معلوم ہوتی ہے کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے کسی کے دل میں گنجائش نہیں وہ بارِ ہستی ہوں لحد کو بھی مری مٹی گراں معلوم ہوتی ہے ہوائے شوق کی قوت وہاں لے آئی ہے مجھ کو جہاں منزل بھی گردِ کارواں معلوم ہوتی ہے ترقی پر ہے روز افزوں خلش دردِ محبت کی جہاں محسوس ہوتی ہے وہاں معلوم ہوتی ہے نہ کیوں سیمابؔ مجھ کو قدر ہو ویرانیِ دل کی یہ بنیادِ نشاطِ دو جہاں معلوم ہوتی ہے    

مزید پڑھیں