☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(احمدعلی محمودی ) خصوصی رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(محمد سعید جاوید)

منتخب شاعری

2020-02-16

تین گروہ
ایک قافلہ دوران سفر ایک صحرا میں پہنچا۔ وہاں انہوں نے خدا کے ایک برگزیدہ بندے کو دیکھاکہ میدان میں تپتی ریت پر نماز کی نیت باندھے اس طرح کھڑا ہے جیسے کوئی صحن گلستان میں پہنچ کر مست و بے خود ہو جاتا ہے۔گرمی کی تپش اتنی تھی دیگ کا پانی جوش مارنے لگے لیکن برگزیدہ بندہ نماز میں اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرتا ہوا گہری فکر میں غرق تھا۔بہت دیر بعد جب وہ معرفت کی گہرائی میں سے ابھر کر آیا تو حاجیوں نے دیکھا کہ اس کے بازئووں اور چہرے سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔جیسے ابھی ابھی وضو کیاہو۔ انہوں نے پوچھا ،یہ پانی کہاں سے آیا؟ زاہد نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر جواب دیا ،اوپر سے۔ لوگوں نے پھر عرض کیا کہ یہ پانی جب آپ کی خواہش ہوتی ہے تب ملتا ہے یا کبھی یہ خواہش قبول نہیں ہوتی؟ مردِ فقیر نے آسمان کی جانب نگاہ کی اور کہا ’’اے میرے خالق! ان حاجیوں کی سن۔ ان کے سینے کھول دے اور حق ان پر واضح کر۔ تو نے چونکہ اپنے رحم و کرم سے مجھ پر اس بلندی سے دروازہ کھولا ہے اس لیے میں بلندی سے اپنا رزق مانگنے کا عادی ہوگیا ہوں۔‘‘زاہد اپنے رب سے یہ عرض کر رہی رہا تھا کہ یکایک ایک جانب سے کالی گھٹا اٹھی اور دیکھتے دیکھتے چھاجوں مینہ برسنے لگا۔ پیاسے لوگوںکی تو عید ہوگئی۔ انہوں نے جھٹ پٹ اپنے اپنے مشکیزے بھر لیے۔ اس مرد درویش کی یہ کرامت دیکھ کر ایک گروہ نے اپنے دلوں میں جو بت خانے سجا رکھے تھے ،وہ ڈھا دیئے۔ دوسرے گروہ کے دل میں خدا کی قدرت اور اللہ والوں کی قوت پر یقین کامل ہوا۔ تیسرا گروہ منکروں کا تھا۔ یہ بدنصیب کچے پھل کی مانند ترش کے ترش ہی رہے اور ان کا نقص ہمیشہ قائم رہا۔
 

 

انسانی خواہشات
جنگل میں ایک گائے رہتی تھی۔ وہ علی الصبح تازہ گھاس چرنے کے لیے نکلتی۔ دن بھر گھاس چرتی اور سورج ڈوبنے تک خوب پیٹ بھر جاتا۔ ساری رات وہ اس غم میں گھلتی رہتی کہ خدا معلوم اگلے روز گھاس چرنے کو ملے یا نہ ملے۔ اس غم میں صبح تک پھر دبلی ہو جاتی۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ ہر روز صبح سویرے وہ جنگل پھر سرسبز شاداب ہو جاتا اور گھاس اونچی اونچی ہو جاتی تاکہ گائے اپنا پیٹ اچھی طرح بھرلے اور اس کے بدن پر پھر چربی کی تہ چڑھ جائے۔یہ سلسلہ بہت دن تک جاری رہا۔ دن میں گھاس چرتے چرتے گائے فربہ ہو جاتی اور رات کو اس فکر میں گھلنے لگتی کہ اگلے روز کیا کھائے گی۔اے عزیز! گائے کی عقل میں یہ بات نہ آتی تھی کہ جب رَبِ کائنات ہر روز اس کے جنگل میں جانے سے پہلے ہی رزق کاسامان مہیا فرما دیتا ہے تو پھر اسے اگلے روز کی فکر میں ہڈیوں کا گودا سکھانے کی کیا ضرورت ہے۔ 
گائے دراصل انسان کا نفس ہے اور سرسبز جنگل یہ دنیا۔ حق تبارک و تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہر روز اپنے وعدے کے مطابق رزق عطا فرماتا ہے لیکن یہ کم عقل اور بدفطرت آدمی پھر اسی فکر میں سوکھ سوکھ کر کانٹا ہوا جاتا ہے کہ ہائے! کل کیا کھائوں گا۔ ارے بدبخت! یہ تو سوچ کہ روزِ پیدائش سے لے کر اب تک تو برابر کھا رہا ہے اور تیرے اس رزق میں کمی نہیں آئی بلکہ یہ دیکھ کہ رزق پہلے سے بھی کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ کیا تیری بچپن کی خوراک اور جوانی کی خوراک مقدار میں ایک ہی ہے؟ لہٰذا فکرِ فرو اسے باز آ اور خدا کی جانب سے رزق کی فراہمی پرایمان رکھنا چاہیے۔ 
 

 

حکایت شیخ سعدیؒ
راز کی حفاظت 
 ایک بادشاہ نے شہر میں منادی کروا دی کہ جو شخص بادشاہ کی خدمت میں کوئی ایسی چیز پیش کرے جو اسے حیرا ن کر دے تو اسے انعام و اکرام دیا جائے گا ۔بہت سے لوگ اپنے اپنے شاہکار لے کر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن بادشاہ مطمئن نہ ہوا۔ چند دن بعد ایک شخص بادشاہ کی خدمت میں تین بت لے کر حاضرہوا اور کہا کہ بادشاہ سلامت یہ بت آپ کو حیرت و استعجاب میں ڈالیں گے۔بادشاہ نے تینوں بتوں کو دیکھا اور کہا یہ تینوں بت ایک جیسے ہیں ان میں کوئی فرق نہیں۔ بادشاہ نے اپنے امراء اور وزراء کو بلایا ان کی رائے لی گئی لیکن وہ بادشاہ کی بات سے متفق تھے کہ ان میں شکلاً جسماً کوئی فرق نہیں۔ اور نہ ہی کوئی حیرت و استعجاب کی بات ہے۔ بادشاہ نے کہا تم ثابت کرو کہ یہ بت آپس میں کس طرح مختلف ہیں۔اس شخص نے ایک سلاخ لی اور پہلے بت کے کان میں ڈالی۔ وہ سلاخ ایک کان سے داخل ہوکر دوسرے کان سے نکل آئی۔ اس آدمی نے کہا یہ ایسے شخص کی نمائندگی کرتا ہے جو ایک کان سے سنتا ہے اور دوسرے کان سے نکال دیتا ہے۔ پھر اس نے دوسرے بت کے کان میں سلاخ ڈالی تو وہ منہ کے راستے باہر نکل آئی۔ اس شخص نے بادشاہ سے کہا یہ ایسے شخص کی نمائندگی کرتا ہے جو کوئی بات سنبھال کر نہیں رکھتا، جو سنتا ہے فوراً کسی دوسرے سے کہہ ڈالتا ہے۔ پیٹ کا ہلکا ہے۔ پھر اس نے وہ سلاخ تیسرے بت کے کان میں ڈالی تو وہ اندر رک گئی۔ اس نے کہا کہ یہ ایسے شخص کی نمائندگی کرتا ہے جو دوسرے کے رازوں کی حفاظت کرتا ہے۔ سب کی سنتا ہے لیکن کہتا کسی سے نہیں۔ سب نے کہا یہی سب سے افضل ہے۔ 
 

 

ماں کی طاقت
سمندر کے کنارے پر ایک درخت میں چڑیا نے گھونسلہ بنا رکھا تھا۔ایک دن تیز ہوا سے گھونسلہ اور اس کا بچہ سمندر میں جاگر ا۔جب چڑیا بچے کو نکالنے لگتی تو پر گیلے ہو جاتے ۔چڑیا نے سمندر سے کہا کہ اپنی لہر سے میرے بچے کو باہر نکال دے۔ سمندر ٹس سے مس نہ ہوا۔ چڑیا آگ بگولہ ہو کر بولی۔’’ میں سارا پانی پی کر تجھے ریگستان بنا دوں گی‘‘۔
 سمندر بولا :اے چڑیا تو میرا کیا بگاڑ سکتی ہے‘‘۔
 چڑیا نے یہ سنا تو بولی ۔۔چل خشک ہونے کو تیار ہو جا۔اس نے ایک گھونٹ بھرا اور درخت پھر بیٹھ گئی ،پھر ایک گھونٹ بھرا اور درخت پر بیٹھ گئی۔ یہ عمل آٹھ دس مرتبہ دہرایا ۔
سمندر گھبرا کر بولا: پاگل ہو گئی ہے، مجھے ختم کرنے لگی ہے؟
 مگر چڑیا اپنی دھن میں لگی رہی۔ ابھی 25-26مرتبہ ہی ہوا تھا کہ سمندر نے ایک لہرکے ساتھ بچے کو باہر پھینک دیا۔ درخت یہ سب دیکھ رہا تھا، وہ بولا۔۔ اے طاقت کے بادشاہ تو ایک چڑیا سے ڈر گیا؟
سمندر نے کہا:اے درخت ،میں تجھے پل بھرمیں اکھاڑ سکتا ہوں ۔ آدھی دنیا تباہ کر سکتا ہوں۔ اس چڑیا کی کیا مجال ۔ میں تو اس ماں کے جذبے سے ڈر گیا ہوں جس کے سامنے تو عرش بھی ہل جاتا ہے۔ جس طرح وہ مجھے پی رہی تھی مجھے لگا کہ وہ مجھے ریگستان بنا دے گی۔
 

 

دولت
پیسہ انسان کو اوپر لے جاتا ہے لیکن انسان پیسہ لے کر اوپر نہیں جاسکتا،کمائی چھوٹی یا بڑی ہو سکتی ہے لیکن روٹی کا سائز ہر گھر میں ایک جیسا ہوتا ہے۔ انسان اڑنے کو پر چاہتااور پرندہ رہنے کو گھر مانگتا ہے۔ چھوٹی باتیں دل میں رکھنے سے بڑے بڑے رشتے کمزو رپڑ جاتے ہیں۔ کبھی پیٹھ کے پیچھے آپ کی بات چلے تو گھبرانا مت۔ کیونکہ بات انہی کی ہوتی ہے جن میں کوئی بات ہوتی ہے۔ 
 

 

عیادت کے آداب
ایک مرتبہ ایک صاحب نے کہا انہیں اسہال کی شکایت ہو گئی۔ کچھ لوگ ان کی عیادت کے لیے آئے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے۔ ان کے دیر تک بیٹھے رہنے سے مریض کو شدید تکلیف ہوئی۔ جس پر ایک بزرگ سے کہنے لگے :میرے لئے کوئی دعا فرمائیے۔بزرگ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا،’’ اے اللہ! ہمیں عیادت کے آداب سکھا‘‘۔
 

 

زندگی
رشتے اور راستے زندگی کے دو پہلو ہیں ۔کبھی رشتے نبھاتے نبھاتے راستے کھو جاتے ہیں اور کبھی راستوں میں رشتے۔ کسی کو رشتے راس آجاتے ہیں اور کسی کو راستے۔ بس فرق اتنا ہے ، راستوں کے دکھ برداشت ہو جاتے ہیں ،رشتوں کے دکھ برداشت نہیں ہوتے۔ اپنے رشتوں کا خاص خیال رکھیے چاہے وہ خون کے ہوں یا دوستی کے ۔ 
 

 

پہچان
ہمیشہ اپنے خیالات کی حفاظت کرو کیونکہ یہ الفاظ بن جاتے ہیں، اپنے الفاظ کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہارے اعمال بن جاتے ہیں، اپنے اعمال کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہارا کردار بن جاتے ہیں اور اپنے کردار کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہاری پہچان بن جاتا ہے۔
 

 

مختصر پر اثر
جس معاشرے میں بے حسی عام ہو جائے وہاں کسی دوسرے عذاب کی ضرورت نہیں رہتی۔ 
 خیالات کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہارے الفاظ بن جاتے ہیں۔ اپنے الفاظ کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہارے اعمال بن جاتے ہیں۔ اپنے اعمال کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہارے کردار بن جاتے ہیں۔ اور اپنے کردار کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہاری پہچان بن جاتا ہے۔
کسی نے پوچھا قسمت بھی بھلا کوئی چیز ہے۔ یہ تو انسان کے خود ہاتھ کی میل ہے جیسا چاہے ویسا کرلے۔ تب میں نے کہا دنیا میں 7براعظم ہیں 206سے ممالک اور سوا چھ ہزار سے زیادہ مذہب ہیں لیکن پھر بھی میں مسلمان پیدا ہوایہ ہے قسمت۔ 
حیا تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے اس کے بغیر منظم معاشرے کا قیام نا ممکن ہے اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ حیا والا ہے۔ اس نے اسی لیے بے حیائی کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ بے حیائی پھیلانے والوں کیلئے سخت عذاب کی نشاندہی کی گئی ہے۔
 

 

مقابلہ
چینیوں اور جاپانیوں کی خصوصیات اور ان کی محنت کا تذکرہ زبان زد عام تھا۔ ایک دفعہ دونوں ملکوں میں مقابلہ بازی کا پروگرام رکھا گیا۔ ایک بڑے سے ہال میں دونوں ملک کے نمائندے موجود تھے اور اسی ہال میں مقابلہ تھا۔ اس ہال کو دو حصوں میں تقسیم کر کے درمیان میں دیوار کھڑی کر دی گئی تاکہ دونوں ایک دوسرے کے کام کو نہ دیکھ سکیں۔ انہیں صرف اتنا کہا گیا کہ اپنے اپنے حصے میں کوئی بھی ایسا کام کریں جو دوسروں کو حیران کر دے۔کام کی مدت ایک مہینہ تھی۔ چینیوں نے اپنے حصہ میں دیواروں پر نقش و نگار بنانے شروع کر دئیے۔ اس قدر خوبصورت نقش و نگار بنائے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ جاپانی اپنے حصہ میں دیواروں پر پتھروں کی رگڑائی کرتے رہے۔ جاپانیوں نے دیواروں پر اس قدر رگڑائی کی کہ اس میں انہیں اپنا عکس نظر آنے لگا۔ مقابلہ کی مدت ایک مہینہ تھی۔ مہینہ ختم ہوا تو استاد آئے انہوں نے پہلے ہال کے درمیان سے دیوار گرائی۔ دیوار کا گرنا تھا کہ سارا ہال خوبصورت نقش و نگار کا منظر پیش کر رہا تھا۔ دیکھنے والے حیران رہ گئے دراصل چینیوں کے بنائے گئے نایاب اور خوبصورت نقش و نگار جاپانیوں کی رگڑائی شدہ دیواروں پر خوبصورت عکس دینے لگے اور یوں مقابلہ جاپانی جیت گئے۔ 
 

 

لومڑی سے زیادہ ہوشیاری
مجالد بن سعید نے امام شعبی سے کہا کہ قاضی شریح کے بارے میں ضرب المثل مشہور ہے کہ وہ لومڑی سے زیادہ چالاک ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ امام شعبی نے مجھے بتایا کہ قاضی شریح طاعون کی وبا کے وقت نجف چلے گئے ۔ جب وہ نماز پڑھتے تو ایک لومڑی ان کے سامنے کھڑی ہو جاتی اور نماز میں مخل ہو تی۔کچھ دنوں کے بعد انہوں نے لومڑی کو دھوکہ دینے کے لیے اپنی قمیض کوایک لاٹھی کے اوپر لٹکا دیا ، اس پر اپنی ٹوپی اور عمامہ بھی رکھ دیا۔ لومڑی اپنی عادت کے مطابق آئی اور وہاں کھڑی ہو گئی۔ قاضی شریح نے اسے دبوچ لیا اور خوب پٹائی کی۔ اسی لیے کہا جاتاہے کہ قاضی شریح لومڑی سے بھی زیادہ چالاک ہیں۔ 
 

 

فراق گورکھپوری کو برجستہ جواب
 ڈاکٹر اعجاز حسین الٰہ آبادی یونیورسٹی میں غزل پڑھا رہے تھے۔فراق گورکھپوری بھی وہاں بیٹھے تھے۔انہوں نے ڈاکٹر اعجاز حسین سے پوچھا: یہ ایسا کیوں کہا جاتا ہے کہ غزل گو شعراء عام طور سے بد کردار ہوتے ہیں؟۔
اعجاز صاحب برجستہ بولے: ان کے سامنے آپ کی مثال رہتی ہے۔
کلاس میں ایک زبردست قہقہہ پڑا اور فراق صاحب کی آواز قہقہوں میں دب گئی،وہ جو اب میں کچھ کہنا چاہتے تھے۔
 

 

صبر
 ایک دن ابن زیاددربار میں آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کونے میں بلی بیٹھی ہے۔ ایک صاحب نے اسے بھگانا چاہا لیکن ابن زیاد نے کہا،رہنے دو۔ میں دیکھوں تو سہی اس کا ماجرا کیا ہے؟ ابن زیاد نے ظہر کی نماز پڑھی اور واپس دربار میں آگیا۔وقت ہونے پر عصر کی نماز پڑھی اور واپس آوہیں آ گیا،بلی بدستور اپنی جگہ بیٹھی تھی۔ غروب آفتاب سے قبل ایک چوہا نکل آیا۔ بلی نے اس پر حملہ کر دیا اور پکڑلیا۔ یہ دیکھ کر ابن زیاد کہنے لگا ۔۔ جس کی کوئی حاجت ہو ،وہ اس بلی کی طرح اس پر صبر کرے تو ضرور کامیاب ہو گا۔ 
 

 

داغ ؔدہلوی
پکارتی ہے خموشی مری فغاں کی طرح
نگاہیں کہتی ہیں سب رازِ دل، زباں کی طرح
چھڑا دے قید سے، اے قید! ہم اسیروں کو
لگا دے آگ قفس میں بھی آشیاں کی طرح
جلا کے داغِ محبت نے دل کو خاک کیا
بہار آئی مرے باغ میں، خزاں کی طرح
یہ سدّراہ ہوا، کس کا پاسِ رسوائی
رُکے ہوئے ہیں مرے اشک، کارواں کی طرح
ادائے مطلبِ دل، ہم سے سیکھ جائے کوئی
انھیں سنا ہی دیا حال، داستاں کی طرح
ہم اپنے ضعف کے صدقے، بٹھا دیا ایسا
ہلے نہ در سے ترے سنگِ آستاں کی طرح
خدا قبول کرے، داغؔ تم جو سوئے عدم
چلے ہو عشقِ بتاں لے کے ارمغاں کی طرح
 

 

جگر مراد آبادی
کام آ خر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
دل کچھ اس صورت سے تڑپا، اُن کو پیار آ ہی گیا
جب نگاہیں اُٹھ گئیں اللہ رے معراجِ شوق
دیکھتا کیا ہوں، وہ جانِ انتظار آ ہی گیا
ہائے یہ حسنِ تصور کا فریبِ رنگ و بو
میں یہ سمجھا جیسے وہ جانِ بہار آ ہی گیا
ہاں سزا دے اے خدائے عشق اے توفیقِ غم
پھر زبانِ بے ادب پر ذکرِ یار آ ہی گیا
اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ میں
درحقیقت، جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا
جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پائے یار پر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا
 

 

بہادر شاہ ظفر
یار تھا، گلزار تھا، مے تھی، فضا تھی، میں نہ تھا
لائقِ پابوسِ جاناں، کیا حنا تھی میں نہ تھا
ہائے ساقی یہ ہو ساماں اور عاشق واں نہ ہو
یار تھا، سبزہ تھا، بدلی تھی، ہوا تھی، میں نہ تھا
میں سسکتا رہ گیا اور مر گئے فرہاد و قیس
کیا انھیں دونوں کے حصے میں قضا تھی، میں نہ تھا
میں نے پوچھا کیا ہوا وہ آپ کا حسن و شباب
ہنس کے بولا وہ صنم، شانِ خدا تھی، میں نہ تھا
اے ظفرؔ یہ دل پہ میرے داغ کیسا رہ گیا
خانہ باغِ یار میں خلق خدا تھی، میں نہ تھا
 

 

تابش دہلوی
اک فریب، اے نگاہ اور سہی
سانس جب تک ہے، آہ اور سہی
کم نگاہی تری قبول مگر
اس طرف اک نگاہ اور سہی
طور کے بعد پھر کوئی منظر
اب کوئی جلوہ گاہ اور سہی
حرم و دیر و آستانۂ یار
خیر یہ سنگِ راہ اور سہی
مجھ کو اقرارِ جرم شوق نہیں
اب یہ عذرِ گناہ اور سہی
منزلِ ناز میں ہے حسن اب تک
شوق کی کوئی راہ اور سہی
دوستی ہم سے کی تو ہے تابشؔ
ہو سکے تو نباہ اور سہی
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی سلام اے فخرِ موجودات فخرِ نوع انسانی سلام اے ظلِ رحمانی، سلام اے نورِ یزدانی ترا نقشِ قدم ہے زندگی کی لوحِ پیشانی سلام اے سرِ وحدت اے سراجِ بزمِ ایمانی زہے یہ عزت افزائی، زہے تشریف ارزانی ترے آنے سے رونق آگئی گلزارِ ہستی میں شریکِ حال قسمت ہو گیا پھرفضلِ ربانی سلام اے صاحبِ خلقِ عظیم انساں کو سکھلا دے یہی اعمالِ پاکیزہ یہی اشغالِ روحانی تری صورت، تری سیرت، ترا نقشا، ترا جلوہ تبسم، گفتگو، بندہ نوازی، خندہ پیشانی اگرچہ فقر فخری رتبہ ہے تیری قناعت کا مگر قدموں تلے ہے فرِ کسرائی و خاقانی زمانہ منتظر ہے اب نئی شیرازہ بندی کا بہت کچھ ہو چکی اجزائے ہستی کی پریشانی زمیں کا گوشہ گوشہ نور سے معمور ہو جائے ترے پرتو سے مل جائے ہر اک ذرے کو تابانی حفیظ بے نوا کیا ہے گدائے کوچہِ الفت عقیدت کی جبیں تیری مروت سے ہے نورانی ترا در ہو مرا سر ہو مرا دل ہو ترا گھر ہو تمنا مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی سلام ، اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے سلام، اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے    

مزید پڑھیں

پیام لائی ہے باد صبا مدینے سے کہ رحمتوں کی اٹھی ہے گھٹا مدینے سے فرشتے سینکڑوں آتے ہیں اور جاتے ہیں بہت قریب ہے عرش خدا مدینے سے الٰہی کوئی تو مل جائے چارہ گر ایسا ہمارے درد کی لا دے دوا مدینے سے حساب کیسا نکیریں ہوگئے بے خود جب آئی قبر میں ٹھنڈی ہوا مدینے سے خدا کے گھر کا گدا ہوں فقیر کوئے نبیؐ مجھے تو عشق ہے مکے سے یا مدینے سے چلے ہی آو مزار حسین پر سیماب کچھ ایسی دور نہیں کربلا مدینے سے     

مزید پڑھیں

نہ کلیم کا تصور … نہ خیالِ طور سینا… میری آرزو محمدؐ… میری جستجو مدینہ… میں گدائے مصطفیؐ ہوں… میری عظمتیں نہ پوچھو… مجھے دیکھ کر جہنم کو بھی آگیا پسینہ… سوا اِس کے میرے دل میں… کوئی آرزو نہیں ہے… مجھے موت بھی جو آئے تو ہو سامنے مدینہ… میں مریض مصطفیؐ ہوں مجھے چھیڑو نہ طبیبو… میری زندگی جو چاہو مجھے لے چلو مدینہ… کبھی اے شکیل دل سے نہ مٹے خیال احمد… اسی آرزو میں مرنا… اسی آرزو میں جینا…    

مزید پڑھیں