☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(علامہ مفتی ابو عمیر سیف اﷲ سعیدی ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) جرم و سزا(سید عبداللہ) صحت(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() فیچر(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کھیل(پروفیسر عثمان سرور انصاری) خواتین(نجف زہرا تقوی)

منتخب شاعری

2020-03-15

شکر
شکر ادا نہ کرنا بھی ایک بیماری ہوتی ہے۔ ایسی بیماری جو ہمارے دلوں کو روز روز کشادگی سے تنگی کی طرف لے جاتی ہے۔ جو ہماری زبان پر شکوہ کے سوا کوئی اور بات آنے ہی نہیں دیتی۔ اگر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنے کی عادت نہیں تو ہم انسانوں کا شکر بھلا کیسے کریں گے۔ اگر ہمیں خالق کے احسانات کو یاد کرنے کی عادت نہیں تو مخلوق کے احساس کو بھی یاد رکھنے کی عادت بھی نہیں سیکھ سکتے (پیر کامل)
 

 

عورت راج
عورت کے کئی روپ ہیں اور سبھی بہت دلنشین ہیں ۔ یہ بیٹی بن کر ماں باپ اور بھائیوں کے دلوں پر راج کرتی ہے۔ بہن بن کر بھائی کی سچی محبت پاتی ہے ، دوست بن کر ماں کا بازو بن جاتی ہے۔ اس کا ہاتھ بٹاتی ہے ۔بیوی بن کر یہ شوہر کا ہمیشہ ساتھ نبھانے والی ہر دکھ سکھ کی ساتھی بن جاتی ہے۔ جب وہ ماں بنتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے درجات اس قدر بلند کر دیتا ہے کہ جنت اس کے قدموں کے نیچے ہوتی ہے۔
 

 

موڈ
یہ مرد کی دنیا ہے، مرد نے بنائی ہے اور بگاڑی ہے۔ عورت ایک معمولی حصہ ہے مرد کی دنیا کا، جسے اس نے اپنی محبت اور نفرت کے اظہار کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ وہ اسے اپنے موڈ کے مطابق پوجتا بھی ہے اور ٹھکراتا ہے ۔ عورت کو دنیا میں اپنا مقام پیدا کرنے کے لیے صبر،ہوشیاری، دانش مندی ،سلیقہ مندی سے کام لینا پڑتا ہے جس سے مرد کو اس کا محتاج بنا دے۔(عصمت چغتائی)
 

 

دوائی
ایک دفعہ مُلّا صاحب گدھے پر سوار کہیں جارہے تھے کہ گدھا راستے میں َاڑ گیا۔مُلّا صاحب نے بڑی خوشامد کی، چمکارا پچکارا، مارا پیٹا مگر گدھا ٹَس سے مَس نہ ہوا۔ سامنے ایک حکیم کی دکان تھی۔ مُلّا صاحب دوڑ کر حکیم کو بلالائے۔ اُس نے گدھے کو کوئی ایسی دوا دی کہ وہ رسی تڑا کر بھاگ کھڑا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ مُلّا صاحب نے حکیم سے کہا۔ ’’ اب مجھے بھی کوئی ایسی دوا دیجیے کہ میںدوڑ کر گدھے کو پکڑ سکوں۔‘‘
 

 

انداز گفتگو
 عمدہ گفتگو سے روح تازہ ہوتی ہے۔ وہی بات دوسرے الفاظ میں اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ اسے سن کر روح افسردہ ہوتی ہے۔خلیفہ ہارون الرشید نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ ان کے تمام دانت گر پڑے ہیں۔ بیدار ہوتے ہی انہوں نے علی الصبح ایک تعبیر خواب بتانے والے کو طلب کیا اور کہ اس خواب کا کیا مطلب ہوسکتا ہے۔ اس شخص نے کہا حضور کی عمر دراز ہو۔ اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ آپ کے تمام بہن بھائی، بیٹے اور رشتہ دار آپ کے سامنے فوت ہو جائیں گے۔ ہارون الرشید نے حکم دیا کہ اس شخص کو سو کوڑے لگائے جائیں کہ اس نے ایسی وحشت ناک تعبیر بتائی ہے۔ جب عزیزواقارب ہی نہ رہیںتو جینے کا کیا فائدہ۔ اب ایک دوسرے شخص کو اسی خواب کی تعبیر بتانے کے لیے بلایا گیا۔ اس شخص نے خواب سن کر کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ امیرالمومنین اپنے تمام اقرباء سے زیادہ طبعی عمر پائیں گے۔ ہارون الرشید نے کہا تعبیر تو وہی ہے۔ لیکن دوسری تعبیر کے الفاظ میں بہت فرق ہے۔ چنانچہ دوسرے شخص کو سو کوڑوں کی بجائے سو دینار عطا کئے۔
 

 

نو شیرواں کی دانشمندی
نو شیرواں ایک عادل اور نیک بادشاہ تھا۔وہ اور اس کا لشکر کہیں جنگ لڑنے جارہے تھے کہ راستے میں جہاں پڑائو پڑا وہاں زندگی کے آثار کچھ زیادہ نہیں تھے۔ کچھ کھانے کے لیے شکار کیا ہوا گوشت بھون رہے تھے۔ لیکن نمک نہیں تھا۔ ایک سپاہی قریبی گائوں میں نمک لینے کے لئے گیا۔ سپاہی جب نمک لینے گیا تو گائوں والوں نے بہت عزت کی کہ عادل بادشاہ کا سپاہی نمک لینے کے لیے آیا ہے۔ انہوں نے بہت سا نمک دے دیا۔ سپاہی جب نمک لے کر واپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا کیا نمک پیسے دے کر لائے ہو۔ سپاہی نے کہا کہ اتنا تھوڑا نمک تو گائوں والوں نے بغیر پیسوں کے ہی دے دیا۔ اور خیر اتنے سے نمک کی قیمت کیا دینی ہے۔ نوشیرواں نے کہا فوراً جا کر اس نمک کی قیمت دے کر آئو کیونکہ دنیا میں برائی پہلے معمولی بات سے پھیلتی ہے۔ پھر جو بھی آیا اس نے اضافہ کیا حتیٰ کہ یہ لوگوں کے لیے عذاب بن گئی۔ اگر رعایا کے باغ سے بادشاہ ایک سیب کھائے گا تو اس کے سپاہی باغ کے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے۔ انصاف ہمیشہ اوپر سے ملتا ہے۔ اگر ایک حکمران یا کسی بھی شعبہ کا بڑا افسر انصاف پسند ہو گا تو اس کی رعایا، اس کا عملہ یا ماتحت بھی انصاف پسند ہوں گے۔
 

 

جمالِ حق
ایک عورت حضرت جنید بغدادی ؒ کے پاس آکر کہنے لگی کہ یا حضرت ! میرا شوہر دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے۔ فرمایا اگر اس کے نکاح میں اس وقت چار عورتیں نہیں، تو اُسے دوسرا نکاح کرنا جائز ہے۔عورت بولی؛ یا حضرت! اگر غیر مردوں کو عورتوں کی طرف دیکھنا جائزہوتا تو میں اپنا چہرہ کھول کر آپ کو دکھاتی۔ تاکہ آپ مجھے دیکھ کر بتاتے کہ جس شخص کے نکاح میں میری جیسی صاحب جمال عورت ہو، اُسے میرے سوا دوسری عورت سے نکاح کرنا لائق ہے۔ حضرت جنیدؒ نے عورت کی یہ بات سن کر ایک نعرہ مارا۔ اور رونے لگے۔ اور اس کا سبب پوچھنے پر بتایا کہ میرے ذہن میںاس وقت یہ خیال آیا ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر دنیا میں کسی کو مجھے دیکھنا جائز ہوتا۔ تو میں اپنے جمال سے حجاب اٹھا کر اس پر ظاہر ہو جاتا تاکہ وہ مجھے دیکھتا۔ پھر اسے معلوم ہوتا کہ جس کا مجھ جیسا رب ہو اس کے دل میں مجھے چھوڑ کر کسی اور سے محبت ہونی چاہیے۔یاد رکھیے،اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اسکے غیر سے محبت کرنا بہت بڑی نادانی ہے۔ 
 

 

برداشت
عورت کی سب سے قیمتی چیز چاہے جانے کا احساس ہے۔ وہ سب کچھ سہ لینے کا جگر رکھتی ہے مگر کوئی اس کی محبت اور وفا کو ٹھکرا دے، یہ برداشت سے باہر ہے۔ عورت کو سب سے زیادہ تسکین اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی اسے یہ احساس دلا دے کہ وہ اس کی نظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے وہ عورت اپنے حسن و جمال ،کسب و کمال کو چندہ اہم نہیں دیتی۔ و ہ تو اپنی ذات کے حوالے سے اہمیت اور معتبر سمجھتی ہے و رنہ حسن و جمال ابھرتی ڈوبتی دھوپ ، کسب و کمال حسب و نسب قوس قزح کے جھلماتے رنگوں کی طرح عورت تو خوبصورت ہوتی ہے بس اسے اپنی نسوانیت کی توہین برداشت نہیں(بابا محمد یحییٰ خان )۔ 
 

 

مختصر، پراثر
جو آدمی کسی کی تلخ بات پر کچھ نہ بولے اور صبر کرے، اس سے زیادہ خطرناک آدمی کوئی نہیں،کیونکہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والو ں کے ساتھ ہے ،وہ اپنی خاموشی اور صبر سے ظالم کی آخرت کو تباہ کر دیتا ہے۔
گھر کبھی تنگ نہیں ہوتے بس دل سکڑ جاتے ہیں ایک ہی گھر میں لوگ اب اجنبیوں کی طرح رہتے ہیں بات کرنے کی کمی ہے لفظ کم ہیں احساس کی کمی ہے۔ بس دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ یا اللہ ایک احساس پیدا کر دے۔ اور یہ احساس ہی اصل زندگی ہے۔ 
بہترین آنکھ وہ ہے جو حقیقت کا سامنا کرے۔ 
اس شخض کو کبھی موت نہیں آتی جو علم کو زندگی بخشتا ہے۔
 

 

امتحان میں ڈال د یا
ایک جگہ عورتو ں کا ایک گروپ بیٹھا اپنے اپنے شوہروں کی خوبیاں بیان کررہا تھا۔ان عورتوں نے آپس میں پوچھا کہ کس کا شوہر اس سے سب سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ سبھی نے ہاتھ کھڑے کر دئیے ۔ تب ایک دانا نے کہا کہ اپنے اپنے شوہروں کو یہ پیغام بھیجو کہ ۔۔۔’’مجھے تم سے پیار ہے‘‘۔ سات آٹھ بیویوں نے یہ پیغامات بھیج دئیے۔ ان کے جوابات کچھ ایسے تھے ۔
 تمہاری طبیعت ٹھیک ہے۔ 
اب کیا ہوگیا۔ 
ایکسیوز می۔
 صرف اتنا بتائو پیسے کتنے چاہیں۔
نشہ تو نہیں کیا ۔
 تم نے پھر کسی کار سے ٹکر مار دی؟
سب سے اچھا جوا ب تھا ۔۔ارے تو ہے کون! 
 

 

نیکی کی مہلت
بنی اسرائیل میں سے کسی نے بہت سا مال جمع کیا تھا، جب مرنے لگا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا،میرا سب قسم کا مال مجھے دکھلائو۔ سب قسم کی قیمتی چیزیں اور زر وجواہرات اس کے سامنے لائے گئے، جب اس نے ان چیزوں کو دیکھا تو بہت رویا۔ ملک الموت نے جو اس کو روتے دیکھا تو کہا؛ روتا کیوں ہے؟ قسم ہے رب العزت کی کہ میں تیرے جسم سے تیری جان کو نکالے بغیر نہ نکلوں گا۔ اس نے کہا مجھے اتنی مہلت تو دے کہ میں ان چیزوں کو اللہ کی راہ میں صدقہ دے دوں۔ ملک الموت نے کہا؛ یہ نہیں ہوگا۔ اب مہلت کا وقت گیا۔ اس وقت سے بیشتر جو اتنی مہلت دراز تجھے حاصل تھی،اس میں کیوں نہ دے دیا۔ یہ کہہ کر اس کی روح قبض کر لی۔ 
 

 

کوئی شے کم تر نہیں
کچھ لوگ ایک دوسرے کو حقیر جانتے ہیں۔بہت بڑا آمدمی سمجھتے ہیں۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ گھر کے مقابلے میں دروازہ چھوٹا سا ہوتا ہے،دروازے کے مقابلے میں تالے اور تالے کے مقابلے میں چابی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ لیکن یہ چھوٹی سی چابی پورے گھر کو کھول سکتی ہے۔ اسی طرح ایک پائیدار اور اچھی سوچ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔انسان کی بڑائی اس کی عقل اورہنر میں چھپی ہوتی ہے۔نہ کہ مالا و دولت میں۔  
 

 

ہم کتنا بدل گئے ہیں؟
دور حاضر میںباپ بیٹے سے سیکھتا ہے، موبائل پر انٹرنیٹ کا استعمال۔
 کل تک باپ سکھاتا تھا ۔۔دینی غیرت، اخلاقیات اور شرم و حیا۔
آج ماں بیٹی سے سیکھتی ہے ۔۔فیشن کے نئے نئے ڈیزائن، 
کل تک ماں سکھاتی تھی ۔۔۔ادب احترام ، حیا ،محرم اور نا محرم کی تمیز۔
 

 

بزرگوں کی ڈگر
حق اپنا چھوڑ کر مجھے جانا بھی نہیں ہے
دنیا کے خدائو کو منانا بھی نہیں ہے
چلنا ہے مجھ کو بزرگوں کی ڈگر پہ
 حالانکہ شرافت کا زمانہ نہیں ہے
 

 

منیر نیازی
بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا
اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا
اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اُکتائے ہوئے رہنا
 

 

امیر مینائی
وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اُٹھا رکھا ہے
محتسب پوچھ نہ تو شیشے میں کیا رکھا ہے
پارسائی کا لہو اس میں بھرا رکھا ہے
کہتے ہیں آئے جوانی تو یہ چوری نکلے
میرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے
اس تغافل میں بھی سرگرمِ ستم وہ آنکھیں
آپ تو سوتے ہیں فتنوں کو جگا رکھا ہے
ہیں تمہارے ہی تو جلوے کے کرشمے سارے
اس کو کیا تکتے ہو، آئینے میں کیا رکھا ہے
آدمی زاد ہیں دنیا کے حسیں لیکن امیرؔ
یار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے
 

 

انور دہلوی
نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے
پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے
چلی آتی ہے ہونٹوں پر شکایت
ندامت ٹپکی پڑتی ہے جبیں سے
کہاں کی دل لگی کیسی محبت
مجھے اک لاگ ہے جانِ حزیں سے
ادھر لائو ذرا دستِ حنائی
پکڑ دیں چور دل کا ہم یہیں سے
وہاں عاشق ُکشی ہے عینِ ایماں
انھیں کیا بحث انورؔ کفر و دیں سے
 

 

پرواز جالندھری
جن کے ہونٹوں پہ ہنسی پائوں میں چھالے ہوں گے
ہاں وہی لوگ تمہیں چاہنے والے ہوں گے
مے برستی ہے فضائوں پہ نشہ طاری ہے
میرے ساقی نے کہیں جام اُچھالے ہوں گے
شمع وہ لائے ہیں ہم جلوہ گہہ جاناں سے
اب دو عالم میں اُجالے ہی اُجالے ہوں گے
ان سے مفہوم غم زیست ادا ہو شاید
اشک جو دامن مژگاں نے سنبھالے ہوں گے
ہم بڑے ناز سے آئے تھے تری محفل میں
کیا خبر تھی لبِ اظہار پہ تالے ہوں گے
 

 

عبادت گزار اور درخت
حکایت سعدی ؒ 
ایک عابد عرصہ دراز سے عبادت الٰہی میں مشغول تھا۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ یہاں ایک قوم ہے، جو ایک درخت کی پرستش کرتی ہے۔ عابد سن کر غضب میں آیا اور اس درخت کے کاٹنے کے لیے تیار ہو گیا۔ اس کو شیطان ایک شیخ کی صور ت میں ملا اور پوچھا کہ کہاںجاتا ہے۔ عابد نے کہا کہ میں اس درخت کے کاٹنے کو جاتا ہوں جس کی لوگ پرستش کرتے ہیں۔ وہ کہنے لگا تو فقیر آدمی ہے، تمہیں ایسی کیا ضرورت پیش آ گئی کہ تم نے اپنی عبادت اور ذکر کو چھوڑا اور اس کام میں لگ پڑا۔ عابد بولا یہ بھی میری عبادت ہے۔ شیطان نے کہا میں تجھے ہرگز درخت نہ کاٹنے دو ں گا۔ اس پر دونوں میں لڑائی شروع ہو گئی۔ عابد نے شیطان کو نیچے ڈال دیا اور سینہ پر بیٹھ گیا۔ شیطان نے کہا کہ مجھے چھوڑ دے، میں تیرے ساتھ ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ وہ ہٹ گیا تو شیطان نے کہا، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس درخت کا کاٹنا فرض نہیں کیا اور تو خود اس کی پوجا نہیں کرتا۔ پھر تجھے کیا ضرورت ہے کہ اس میں دخل دیتا ہے۔ درخت کا کاٹنا منظور ہے تو اپنے کسی نبی کو حکم بھیج کر کٹوا دے گا۔ عابد نے کہا میں ضرور کاٹوں گا۔ پھر ان دونوں میں جنگ شروع ہو گئی۔ عابد اس پر غالب آگیا۔ اس کو گراکر اس کے سینہ پر بیٹھ گیا۔ شیطان عاجز آ گیا۔ اس نے ایک اور تدبیر سوچی اور کہا کہ میں ایک ایسی بات سناتا ہوں جو میرے اور تیرے درمیان فیصلہ کرنے والی ہو اور وہ تیرے لیے بہت بہتر اور نافع ہے۔ عابد نے کہا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا مجھے چھوڑ دے تو میں تجھے بتائوں۔ اس نے چھوڑ دیا تو شیطان نے کہا کہ تو ایک فقیر آدمی ہے، تیرے پاس کوئی شے نہیں، لوگ نان نفقہ کا خیال رکھتے ہیں۔ کیا تو نہیں چاہتا کہ تیرے پاس مال ہو اور اس سے اپنے خویش و اقارب کی خبر رکھے اورخود بھی لوگوں سے بے پرواہ ہو کر زندگی بسر کرے۔ اس نے کہا ہاں یہ بات تو دل چاہتا ہے۔ شیطان نے کہا کہ اس درخت کو کاٹنے کے ارادے سے باز آجا۔ میں ہر رات کو تیرے سر کے پاس دو دینار رکھ دیا کروں گا سویرے اٹھ کے لے لیا کر۔ اپنے اہل و عیال و دیگر اقارب وہمسایہ پر خرچ کیا کر۔ تیرے لیے یہ کام بہت مفیداور مسلمانوں کے لیے بہت نافع ہو گا۔ اگر یہ درخت تو کاٹے گا تو اس کی جگہ وہ ایک اور درخت لگائیں گے۔ تو ا س میں کیا فائدہ ہو گا۔ عابد نے تھوڑا فکر کیا اور کہا کہ شیخ نے سچ کہا۔ میں کوئی نبی نہیں ہوں کہ اس کا کاٹنا مجھ پر لازم ہو اور مجھے حق سبحانہ وتعالیٰ نے اس کے کاٹنے کا کام امر فرمایا ہے کہ میں نہ کاٹنے سے گناہ گار ہوں گا اور جس بات کا اس شیخ نے ذکر کیا ہے، وہ بے شک مفید ہے۔ یہ سوچ کر عابد نے منظور کر لیا اور پورا عہد کر کے واپس آگیا۔ رات کوسویا صبح اٹھا تو دینار اپنے سرہانے پا کر بہت خوش ہوا۔ اسی طرح دوسرے دن بھی دو دینار مل گئے اور پھر تیسرے دن کچھ نہ ملا تو عابد کو غصہ آیا اور پھر درخت کاٹنے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ پھر شیطان اسی صورت میں سامنے آگیا۔ اور کہنے لگا کہ اب کہاں کا ارادہ ہے۔ عابد نے کہا کہ درخت کو کاٹوں گا۔ اس نے کہا کہ میں ہرگز نہیں جانے دوں گا۔ اسی تکرار میں ان دونوں میں کشتی ہوئی۔ شیطان نے عابد کو گرا لیا اور سینہ پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اگر اس ارادے سے باز آ جائے تو بہتر ورنہ تجھے ذبح کر ڈالوں گا۔ عابد نے معلوم کیا کہ مجھے اس کے مقابلہ کی طاقت نہیں! کہنے لگا کہ اس کی وجہ بتائو کہ کل تو میں نے تم کو پچھاڑ دیا تھا آج تو غالب آ گیا ہے۔ کیا وجہ ہے۔ شیطان بولا کہ کل تو خالص خدا کے لیے درخت کاٹنے نکلا تھا۔ تیری نیت میں اخلاص تھا۔ لیکن آج دو دیناروں کے نہ ملنے کا غصہ ہے۔ آج تیرا ارادہ محض خدا کے لیے نہیں۔ اس لیے میں آج تجھ پر غالب آ گیا۔ 
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی سلام اے فخرِ موجودات فخرِ نوع انسانی سلام اے ظلِ رحمانی، سلام اے نورِ یزدانی ترا نقشِ قدم ہے زندگی کی لوحِ پیشانی سلام اے سرِ وحدت اے سراجِ بزمِ ایمانی زہے یہ عزت افزائی، زہے تشریف ارزانی ترے آنے سے رونق آگئی گلزارِ ہستی میں شریکِ حال قسمت ہو گیا پھرفضلِ ربانی سلام اے صاحبِ خلقِ عظیم انساں کو سکھلا دے یہی اعمالِ پاکیزہ یہی اشغالِ روحانی تری صورت، تری سیرت، ترا نقشا، ترا جلوہ تبسم، گفتگو، بندہ نوازی، خندہ پیشانی اگرچہ فقر فخری رتبہ ہے تیری قناعت کا مگر قدموں تلے ہے فرِ کسرائی و خاقانی زمانہ منتظر ہے اب نئی شیرازہ بندی کا بہت کچھ ہو چکی اجزائے ہستی کی پریشانی زمیں کا گوشہ گوشہ نور سے معمور ہو جائے ترے پرتو سے مل جائے ہر اک ذرے کو تابانی حفیظ بے نوا کیا ہے گدائے کوچہِ الفت عقیدت کی جبیں تیری مروت سے ہے نورانی ترا در ہو مرا سر ہو مرا دل ہو ترا گھر ہو تمنا مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی سلام ، اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے سلام، اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے    

مزید پڑھیں

پیام لائی ہے باد صبا مدینے سے کہ رحمتوں کی اٹھی ہے گھٹا مدینے سے فرشتے سینکڑوں آتے ہیں اور جاتے ہیں بہت قریب ہے عرش خدا مدینے سے الٰہی کوئی تو مل جائے چارہ گر ایسا ہمارے درد کی لا دے دوا مدینے سے حساب کیسا نکیریں ہوگئے بے خود جب آئی قبر میں ٹھنڈی ہوا مدینے سے خدا کے گھر کا گدا ہوں فقیر کوئے نبیؐ مجھے تو عشق ہے مکے سے یا مدینے سے چلے ہی آو مزار حسین پر سیماب کچھ ایسی دور نہیں کربلا مدینے سے     

مزید پڑھیں

نہ کلیم کا تصور … نہ خیالِ طور سینا… میری آرزو محمدؐ… میری جستجو مدینہ… میں گدائے مصطفیؐ ہوں… میری عظمتیں نہ پوچھو… مجھے دیکھ کر جہنم کو بھی آگیا پسینہ… سوا اِس کے میرے دل میں… کوئی آرزو نہیں ہے… مجھے موت بھی جو آئے تو ہو سامنے مدینہ… میں مریض مصطفیؐ ہوں مجھے چھیڑو نہ طبیبو… میری زندگی جو چاہو مجھے لے چلو مدینہ… کبھی اے شکیل دل سے نہ مٹے خیال احمد… اسی آرزو میں مرنا… اسی آرزو میں جینا…    

مزید پڑھیں