☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(خالد نجیب خان) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین(مریم صدیقی)

منتخب شاعری

2020-03-22

ماں
مائیں بچوں کی تربیت دو طرح سے کرتی ہیں۔ایک قسم کی ماںاپنی بیٹی کوسکھاتی ہے تم شوہر کے گھر کا اور اپنے گھر کا موازنہ مت کرنا ۔وہ اسے جھکنا، سیکھنا اور نرمی رکھنا سکھاتی ہے۔ اسے نئے گھر میںاپنے لئے جگہ بنانا اور اس کے بعد اپنی جائز بات منوانابتاتی ہے۔ لیکن مائوں کی دوسری قسم بتاتی ہے کہ ۔۔بیٹی ،تم اگر آج جھک گئی پھر زندگی بھر جھکنا پڑے گا۔ اس قسم کی مائیں اپنی بچیوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سکھاتی ہیں ۔ کہتی ہیں کسی کی ہلکی سی ایک بات کے جواب میں سب کی بولتی بند کر دینا۔ اس قسم کی مائیں زندگی لمبی پاتی ہیں اور نہ ہی خوبصورت ۔وہ اس خوبصورت زندگی کو لڑائی جھگڑے میں ہی کھو دیتی ہیں۔ 
 

 

انسانیت
ایک ماں مولوی صاحب کے پاس گئی ۔کہنے لگی ،کوئی ایسا تعویز لکھ دیں کہ میرے بچے ر ات کو بھوک سے نہ رویا کریں۔ مولوی نے ’’تعویذ‘‘ لکھ کر دے دیا ۔اگلے دن کسی نے نوٹوںسے بھرا ہوا تھیلا ان کے صحن میں پھینک دیا۔ شوہر نے ایک دکان کرائے پر لی۔ کاروبار میں برکت ہوئی اور پیسے کی ریل پیل شروع ہو گئی۔ ایک دن خاتون کی نظر اس پرانے صندوق پر پڑی۔ جس میں انہوں نے مولوی صاحب کا دیا ہوا ’’تعویذ‘‘ رکھا تھا ۔ مولوی صاحب نے اس میں کیا لکھا ہے،اسی تجسس پر اس نے اسے کھولا۔ لکھا تھا ’’ جب پیسے کی ریل پیل ہو جائے ،تو سارا پیسہ اپنی تجوری میں بھرنے کی بجائے کچھ ایسے گھروں میں پہنچا دینا جہاں رات کو بچوں کے رونے کی آوازیں آتی ہوں۔ 
 

 

اعتماد
عورت جب اپنے بیٹے کے ساتھ سفر کرتی ہے تو گاڑی کی بریکیں لگنے پر ’’بسم اللہ‘‘ کہتی ہے، گاڑی سنبھالنے کا اشارہ کرتی ہے اور بار بار رفتار کم کرنے کا اشارہ کرتی ہے ۔یہی بیٹا جب جوان ہوتا ہے،یا 50سال کا بھی ہو جاتا ہے تو وہ ماں ایسا ہی کرتی ہے۔ اسے کہتے ہیں خیال رکھنا۔اور یہی عورت جب اپنے شوہر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتی ہے تو بریک ،لگنے موڑ آنے اور جمپ کے دوران شادی کو ایک ہفتہ ہو یا 50سال،وہ آرام سے بیٹھی رہتی ہے۔اسے معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی ڈرائیوکرنے والا اس کا خاوند ہے جو اس کی جان اور عزت کا رکھوالا ہے۔ وہ ایسا کام نہیں کرے گا جو اس کی جان یا صحت کے خلاف ہو۔ اسے کہتے ہیں اعتماد کرنا۔
 

 

ترقی کا راز
اٹلی میں میرا ٹریفک کا چالان ہوا۔مصروفیت کے باعث فیس ٹائم پر ادا نہ کر سکا۔کورٹ جانا پڑا۔جج کے سامنے پیش ہوا تو اُس نے وجہ پوچھی۔میں نے کہا کہ،پروفیسر ہوں۔ مصروف ایسا رہا کہ وقت ہی نہ ملا۔اِس سے پہلے کہ میں بات پوری کرتا ۔جج نے کہا۔" A teacher is in the Court"اور سب لوگ کھڑے ہو گئے۔اور مجھ سے معافی مانگ کر چالان کینسل کر دیا۔اُس روز میں اُس قوم کی تر قی کا راز جان گیا۔(اشفاق احمد)
 

 

لڑکیاں
 یہ پوری محبت کرتی ہیں، ادھوری نہیں، یہ مکمل اعتبار کرتی ہیں،آدھا اعتبار نہیں کرتی، دوسری محبت کا تصور نہیں کرتیں، مرد پہلی محبت میں بھی دوسری محبت کر لیتے ہیں مگر یہ لڑکیاں نازک مزا ج ہوتی ہیں ان کا احساس بہت کومل ہوتا ہے ان کی ادائوں کے ہزاروں رنگ ہیں جیسے جب شدید غصے میں ہوتی ہیں تو آنکھوں سے آنسو چمکنے لگتے ہیں۔یہ محبت کا خراج نہیں مانگتیں بلکہ اس کو کامل رکھتی ہیں۔ لڑکیاں بڑی عجیب ہوتی ہیں۔
 

 

والدین کا سایہ
ایک روز چڑیا کو اپنے رزق کی تلاش میں بہت لمبا سفر طے کرنا پڑا۔ وہ  آسما ن پر گھومتی رہی، تب کہیں جا کر اپنے بچوں کے لئے کچھ جمع کر پائی۔جب وہ گھونسلے میں واپس پہنچی تو بچوں نے پوچھا،ماں:تم نے اتنا بڑا سفر طے کیا ہے، ذرا ہمیں بھی تو بتائو آسمان کتنا بڑا ہے؟
چڑیا نے اپنے بچوں کو پروں میں سمیٹے ہوئے اطمینان سے جواب دیا:بچو!یاد رکھو، والدین کے سائے سے بڑی دنیا میں کوئی چیزنہیں۔
 

 

مختصر ،پر اثر
دو طرح سے چیزیں دیکھنے میں چھوٹی نظر آتی ہیں ایک دور سے دوسرا غرور سے۔
کسی کو اس کی ذات اور لباس کی وجہ سے حقیر نہ سمجھنا کیونکہ تم کو دینے والا اور اس کو دینے والا ایک ہی ہے اللہ ہے۔ وہ یہ اْسے عطا اور آپ سے لے بھی سکتا ہے۔
دوست کو دولت کی نگاہ سے مت دیکھو ، وفا کرنے والے دوست اکثر غریب ہوتے ہیں۔
پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے۔
دنیا میں سب سے مشکل کام اپنی اصلاح کرنا اور آسان کام دوسروں پر تنقید کرنا ہے۔
نفرت دل کا پاگل پن ہے۔
انسان زندگی سے مایوس ہوتو کامیابی بھی ناکامی نظر آتی ہے۔
اگر کوئی تم کو صرف اپنی ضرورت کے وقت یاد کرتا ہے تو پریشان مت ہونا بلکہ فخر کرنا کہ اْس کو اندھیروں میں روشنی کی ضرورت ہے اور وہ تم ہو۔
 

 

ظرف
 ماں کہتی ہے شوہر کے ارادے کتابوں میں تھوڑی لکھے ہوتے ہیںکہ کب ہاتھ تھام لے اور کب چھوڑ دے۔ لیکن میں کہتی ہوں کہ ارادے تو عورتوں کے بھی کہیں نہیں لکھے ہوتے ۔
ماں کہتی ہے: عورت مجبور ہوتی ہے ۔میں کہتی ہوں مجبور تو مرد بھی ہوتا ہے۔
ماں کہتی ہے :نہیں، عورت میں اللہ نے بہت زیادہ قوت برداشت رکھی ہوتی ہے۔میں کہتی ہوں عورت سے قوت برداشت مرد سے کہیں زیادہ رکھی ہوتی ہے ، قوت برداشت میں حضرت یعقوبؑ کا قصہ کافی نہیں۔
ماں کہتی ہے :عورت مرد کی ہر غلطی معاف کر دیتی ہے۔اب میں خاموش ہوں کیونکہ عورت شوہر کی ہر غلطی کو معاف کر دیتی ہے مگر شوہر اس کی ذرا سی بھول چوک کو کبھی معاف نہیں کرتا۔
 

 

قدرت
مورناچتے ہوئے روتا ہے، اور ہنس مرتے ہوئے بھی گاتا ہے۔ یہی زندگی کا اصول ہے۔
دکھ والی رات کو نیند نہیں آتی اور خوشی والی رات کو سویا نہیں جاتا ۔
ہر دشواری کے بعد آسانی آتی ہے اور ہر آسانی کے بعد دشواری لکھی ہوتی ہے۔ 
ہر انسان کے لیے ایک وقت مقرر ہے ، نصیب کا لکھا مل کر رہتا ہے ۔ کب کہاں کیسے یہ صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے بیشک ہماری تدبیر سے اللہ کی حکمت بہت بلند و بالا ہے اور ہماری تدبیر ایک حقیر سی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔ 
 

 

محبت کی مانگ
اگر کسی سے کچھ مانگنا ہے تو محبت مانگو،محبت مل جائے تو سب کچھ مل جاتا ہے، محبت کے بغیر سب چیزیں ایسے ملتی ہیں جیسے مرنے کے بعد کفن ملتا ہے۔ اگر میری مانو تو محبت بھی نہ مانگو کیونکہ مانگی ہوئی محبت کا مزہ بگڑی ہوئی شراب جیسا ہوتا ہے۔(بانو قدسیہ)
 

 

مسکراہٹ
لوگوں کے سامنے مسکراتے رہو۔ کیونکہ معاشرہ آپ کو ہنستے کھیلتے دیکھنا چاہتا ہے ۔جو دکھ میں ہوتا ہے اس سے سبھی کنی کترا جاتے ہیں ۔سبھی لوگ خوشیوں میں شریک ہونا پسند کرتے ہیں ۔جنازے میں کو ئی کوئی ساتھ دیتا ہے۔ مگر اللہ کے سامنے گڑ گڑاتے رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ عاجزی اور گڑ گڑانے والوں کی سنتا ہے۔ 
 

 

کام کی بات
ایک شام کسی ہوٹل پر بیٹھے ایک چرسی نے مجھ سے چرس کے لیے پیسے مانگے ۔میں نے کھانا کھلانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ چرس کے پیسے نہیں دوں گا۔ وہ بولا ،کھانا کھلانے والا کوئی اور ہے ۔تم بس چرس کے پیسے دے دو۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی پیسے دے دئیے۔ جب وہ جانے لگا تو میں بھی پیچھے ہو لیا ۔ قریب ہی ایک شادی ہو رہی تھی۔ کھانے کے برتن ادھر ادھر رکھے جارہے تھے۔ ایسے میں ایک آدمی کے ہاتھ سے برتن چھوٹ گیا۔ تو وہ پلیٹ اٹھا کر آگے چلا گیا۔ میں نے قریب سے گزرتے ہوئے اسے یہ کہتے ہوئے سنا کہ میرا رب بہت مہربان ہے ناراض بھی ہو تو بھوکا نہیں سونے دیتا۔ بس میں نے نافرمانی کی تو پلیٹ میں نہیں دیا ورنہ ہمیشہ کھانا تو پلیٹ میں ہی ملتا ہے۔
 

 

ادیب روش صدیقی کا خاکہ
کلام سن کر عظمت کو اور صورت کو دیکھ کر شفقت کو دل چاہتاہے۔ کلام نہایت وزنی اور خود نہایت ہلکے پھلکے۔ سناتے اس طرح ہیں گویا پھدک رہے ہیں۔ کلام کے زور میں اکثر خود اُڑ تے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ آواز اچھی ہے اور گلے میں سر بھی ہے مگر جوش میں آکر جب بے سرے ہوتے ہیں۔ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ خلافت فنڈ کے لئے اپیل کرتے کرتے بالشتیوں کے مولانا شوکت علی کوغصہ آگیا ہے۔ نتھنے پھول جاتے ہیں۔ گھونسہ تان لیتے ہیں اور پھر اسی گھونسے سے تعریف کرنے والوں کو سلام بھی کر لیتے ہیں۔ مشاعروں کی شرکت عبادت کی طرح پابندی سے کرتے ہیں آج آگرہ میں ہیں تو کل گوپامؤ میں کبھی بنارس میں ہیں تو کبھی کسی غیر معروف مقام پر مشاعرے میں نظر آرہے ہیں نیشنلسٹ شاعر ہونے کا دعویٰ ہے۔ وردی کے طور پر کبھی کبھی کھدر بھی پہن لیتے ہیں۔ ورنہ اصل آپ کو سیاست سے کوئی تعلق ہے نہیں۔ نظم کے علمبرداروں میں اس طرح شامل ہیں جس طرح راجہ پورس کی فوج میں ہاتھی شامل تھے یعنی بوقتِ ضرورت غزل بھی اس طرح پڑھ دیتے ہیں کہ نظم کی تمام علمبرداری سرنگوں ہوکر رہ جاتی ہے۔ فطرتاً بہت معصوم ، صورتًا خام مگر اقتصادی معاملات میں نہ معصوم نہ خام بلکہ نہایت پکے بزنس مین ’’یک سخن‘‘ کی قسم کے ضدی بھی اور ’’نونقد نہ تیرہ اُدہار‘‘ کی قسم کے منہ پھٹ بھی۔ (شوکت تھانوی)
 

 

ذوالنون مصری کی دیوانگی
حکایت شیخ سعدیؒ
مشہور ہے کہ ایک مرتبہ قطبِ وقت اور سرتاجِ اولیاء حضرت ذوالنّون مصری علیہ الرحمتہ جذب و مستی میں آکر مجنوں ہوگئے۔ لوگ ان کے اس مبارک جنون کا سبب نہ جان سکے اور حاکم وقت کے حکم پر انہیں گرفتار کر کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پیروں میں بیڑیاں ڈال زندان کے حوالے کر دیا۔ حکومت چونکہ غنڈوں اور بدمعاشوں کے ہاتھ میں تھی جو حضرت ذوالنون مصری کے رتبے اور منصب سے آگاہ نہ تھے  ،اس لیے انہیں زندان کے مصائب بھگتنے ہی پڑے۔ ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے کہ قوت و اقتدار کا قلم جب نااہل اور غدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو منصور جیسا ولی بھی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ نالائقوں اور بدطینت افراد کے پاس جب بادشاہت آتی ہے تو وہ نبیوںکو بھی جلاد کے حوالے کر دیتے ہیں۔
قصہ مختصر حضرت ذوالنون مصری قید خانے میں پھینک دئیے گئے۔ ان کے دوستوں، عقیدت مندوں اور جاں نثاروں نے جب یہ خبرِ وحشت اثر سنی تو ہر طرف سے قید خانے پر ہجوم کیا تاکہ حضرت ذوالنون کی مزاج پرسی اور خیر و عافیت معلوم کریں۔ ان میں سے اکثر کا خیال یہ تھا کہ حضرت ذوالنون جان بوجھ کر دیوانے بنے ہیں۔ ممکن ہے ان کے اس فعل میں کوئی حکمت ہوکیونکہ وہ عشق کے طور طریق میں سب عاشقوں کے قبلہ و کعبہ اورحق تعالیٰ کی آیات میں سے ایک آیت ہیں  ،لیکن ایسی عقل و خرد سے اللہ کی پناہ جو ذوالنون مصری کے عشق و عرفان کی دولت کو جنون سمجھتی ہو۔
غرض اسی قسم کی ہزار ہا قیاس آرائیاں کرتے یہ معتقدین اور دوست حضرت ذوالنون مصریؒ کے نزدیک پہنچے۔ انہوں نے وہیں سے للکار کر کہا ’’خبردار! کون ہو تم؟ اب ایک قدم آگے نہ بڑھنا۔ جہاں تک آگئے ہوبس وہیں رُکے رہو ورنہ تم جانو گے۔‘‘
انہوں نے ادب سے عرض کیا ’’حضرت! ہم سب آپ کے معتقد اور جاں نثار ہیں۔ ہم نے سنا تھا کہ آپ پر جنون اور دیوانگی کی تہمت لگا کر ظالموں نے زندان میں بند کر دیا ہے۔ آپ تو صاحب فضل و کمال اورعقل کے بحرِ ذخار ہیں۔ نہ جانے کس احمق نے آپ پر مجنون ہونے کا شبہ کیا۔ بہرحال اپنے جاں نثاروں اور محبوبوں سے کچھ پوشیدہ نہ رکھیے اور تمام باتیں کھل کر بیان فرمایئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اصل بات چھپی رہے اور آپ کی جان جائے۔‘‘
جب حضرت ذوالنونؒ نے ان کی جاں نثاری کے دعوے دیکھے تو جی میں کہا کہ یہی انہیں آزمانے کا وقت ہے۔ چنانچہ آپ نے ان سب کو کچی پکی گالیاں دینی شروع کیں اور ہاتھ میں جو آیا پھینک پھینک کر مارنے لگے۔ یہ حال دیکھ کر سب جاں نثار معتقد اور دوست بھاگ نکلے۔ ایک بھی نہ رُکا۔ جب میدان صاف ہوگیا  تب حضرت ذوالنون نے قہقہہ لگا کر ایک درویش سے کہا :
’’ذرا دیکھو ان جاں نثاروں اوردوستوں کو ۔ ذرا سی چوٹ کے خوف سے ایک بھی نہ ٹکا۔ سب پیٹھ دکھا گئے۔ ارے! دوستوں کو تو اپنے دوست کی تکلیف جان کے برابر عزیز ہوتی ہے اور دوست کی جانب سے جو تکلیف پہنچے وہ گراں نہیں ہوتی  بلکہ تکلیف مغز اور دوستی اس کا پوست ہے۔
اے عزیز! آز مائش،مصائب اور تکلیف پر خوش ہونا (کسی سے) دوستی کی علامت ہیکیونکہ ہر چہ از دوست می رسد نیکوست (دوست کی جانب سے جو کچھ آتا ہے  وہ اچھا ہی اچھا ہے) دوست کی مثال سونے کی سی اور آزمائش آگ کی طرح ہے۔ کھراسونا آگ ہی میں تپ کر کندن بنتا ہے اور اس میں کھوٹ شامل نہیں رہتی۔
 

 

ابن انشا
دیکھ ہماری دید کے کارن کیسا قابلِ دید ہوا
ایک ستارہ بیٹھے بیٹھے تابش میں خورشید ہوا
آج تو جانی رستہ تکتے، شام کا چاند پدید ہوا
تو نے تو انکار کیا تھا، دل کب نااُمید ہوا
آن کے اس بیمار کو دیکھے، تجھ کو بھی توفیق ہوئی
لب پر اُس کے نام تھا تیرا، جب بھی درد شدید ہوا
ہاں اُس نے جھلکی دکھلائی، ایک ہی پل کو دریچے میں
جانو اک بجلی لہرائی، عالم ایک شہید ہوا
تو نے ہم سے کلام بھی چھوڑا عرضِ وفا کے سنتے ہی
پہلے کون قریب تھا ہم سے، اب تو اور بعید ہوا
دنیا کے سب کارج چھوڑے نام پہ تیرے انشاؔ نے
اور اُسے کیا تھوڑے غم تھے تیرا عشق مزید ہوا
 

 

بے خود دہلوی
شمعِ مزار تھی، نہ کوئی سوگوار تھا
تم جس پہ رو رہے تھے، یہ کس کا مزار تھا
تڑپوں گا عمر بھر دلِ مر حوم کے لیے
کم بخت، نامراد لڑکپن کا یار تھا
سودائے عشق اور ہے، وحشت کچھ اور شے
مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا
جادو ہے یا طلسم تمھاری زبان میں
تم جھوٹ کہہ رہے تھے،مجھے اعتبار تھا
کیا کیا ہمارے سجدہ کی رُسوائیاں ہوئیں
نقشِ قدم کسی کا سرِ رہگذار تھا
اس وقت تک تو وضع میں آیا نہیں ہے فرق
تیرا کرم شریک جو پروردگار تھا
 

 

صفی لکھنوی
جانا جانا جلدی کیا ہے، ان باتوںکو جانے دو
ٹھہرو ٹھہرو، دل تو ٹھہرے، مجھ کو ہوش میں آنے دو
پائوں نکالو خلوت سے، آئے جو قیامت آنے دو
سیّارے آپس میں ٹکرائیں اگر، ٹکرانے دو
مہرِ منوّر جامِ طلائی، ماہ کٹورا چاندی کا
چرخ کے خم خانے میں یہی ہیں، گردش میں پیمانے دو
دورِ بہارِ حسن تو ہو، پھر جوشِ جنوں کا قحط نہیں
کوکے گی باغوں میں کوئل، بور آموں میں آنے دو
بادل گرجا، بجلی چمکی، روئی شبنم، پھول ہنسے
مرغِ سحر کو ہجر کی شب کے افسانے دہرانے دو
ہاتھ میں ہے آئینہ و شانہ پھر بھی شکن پیشانی پر
موجِ صبا سے تم تو نہ بگڑو زُلفوں کو بل کھانے دو
کثرت سے جب نام و نشاں ہے کیا ہوں گے گمنام صفیؔ
نقش دلوں پر نام ہے اپنا، نقشِ لحد مٹ جانے دو
 

 

اثر لکھنوی
رہے جو ہوش تو وہ جانِ جاں نہیں ملتا
بغیر کھوئے ہوئے کچھ یہاں نہیںملتا
ہزار جلوۂ رنگیں، ہزار ذوقِ نظر
بیانِ حسن کو حسنِ بیاں نہیں ملتا
مذاقِ دید کی تکمیل ہو تو کیوں کر ہو
کہ وہ ملے تو پھر اپنا نشاں نہیں ملتا
وہ اشک جس سے جھپک جائے آنکھ تاروں کی
بغیر لذتِ سوزِ نہاں نہیں ملتا
تری تلاش میں طے کی ہیں بارہا میں نے
وہ منزلیں کہ جنھیںکارواں نہیں ملتا
پئے سجود ہیں مجھ کو وہ رفعتیں درکار
زمیں تو کیسی جہاں آسماں نہیں ملتا
نجانے کب سے ہوں سرگشتہ جستجو میں اثرؔ
بتائے جو مجھے میرا نشاں نہیں ملتا
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ایک امریکی بولا :ہماری ریاست ٹیکساس کے کیا کہنے ،آپ پیر کی صبح کو ٹرین میں سوار ہوں اور بدھ تک سفر کرتے رہیں ۔ جب بدھ کی شام کو ٹرین سے اتریں گے تو ریاست پھر بھی ختم نہیں ہوئی ہوگی۔… ساتھ بیٹھا ہوا پاکستانی بولا :کوئی بات نہیں، ہمارے پاکستان میں اس سے بھی سست رفتارٹرینیں چلتی ہیں۔     

مزید پڑھیں

یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا کوئی تم سا نظر نہیں آتا ڈھونڈتی ہیں جسے مری آنکھیں وہ تماشا نظر نہیں آتا ہو چلی ختم انتظار میں عمر کوئی آتا نظر نہیں آتا جھولیاں سب کی بھرتی جاتی ہیں دینے والا نظر نہیں آتا زیر سایہ ہوں اُس کے اے امجدؔ جس کا سایہ نظر نہیں آتا    

مزید پڑھیں

چمک جگنو کی برقِ بے اماں معلوم ہوتی ہے قفس میں رہ کے قدرِ آشیاں معلوم ہوتی ہے کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے کسی کے دل میں گنجائش نہیں وہ بارِ ہستی ہوں لحد کو بھی مری مٹی گراں معلوم ہوتی ہے ہوائے شوق کی قوت وہاں لے آئی ہے مجھ کو جہاں منزل بھی گردِ کارواں معلوم ہوتی ہے ترقی پر ہے روز افزوں خلش دردِ محبت کی جہاں محسوس ہوتی ہے وہاں معلوم ہوتی ہے نہ کیوں سیمابؔ مجھ کو قدر ہو ویرانیِ دل کی یہ بنیادِ نشاطِ دو جہاں معلوم ہوتی ہے    

مزید پڑھیں