☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غورطلب(ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() خواتین(نجف زہرا تقوی) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) ستاروں کی چال(مرزا وحید بیگ)
Dunya Magazine

منتخب شاعری

2020-06-21

تلوک چند محرومؔ

 اس کا گلا نہیں کہ دعا بے اثر گئی
اک آہ کی تھی، وہ بھی کہیں جا کے مر گئی
اے ہم نفس، نہ پوچھ جوانی کا ماجرا
موجِ نسیم تھی، ادھر آئی، اُدھر گئی
دامِ غمِ حیات میں اُلجھا گئی اُمید
ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ احسان کر گئی
اس زندگی سے ہم کو نہ دنیا ملی، نہ دین
تقدیر کا مشاہدہ کرتے گزر گئی
بس اتنا ہوش تھا مجھے روزِ وداعِ دوست
ویرانہ تھا نظر میں، جہاں تک نظر گئی
ہر موجِ آبِ سندھ ہوئی وقفِ پیچ و تاب
محرومؔ جب وطن میں ہماری خبر گئی

انور دہلوی

 نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے
پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے
چلی آتی ہے ہونٹوں پر شکایت
ندامت ٹپکی پڑتی ہے جبیں سے
کہاں کی دل لگی کیسی محبت
مجھے اک لاگ ہے جانِ حزیں سے
ادھر لائو ذرا دستِ حنائی
پکڑ دیں چور دل کا ہم یہیں سے
وہاں عاشق ُکشی ہے عینِ ایماں
انھیں کیا بحث انورؔ کفر و دیں سے

جگن ناتھ آزادؔ

 ممکن نہیں کہ بزمِ طرب پھر سجا سکوں
اب یہ بھی ہے بہت کہ تمھیں یاد آ سکوں
یہ کیا طلسم ہے کہ تری جلوہ گاہ سے
نزدیک آ سکوں نہ کہیں دور جاسکوں
ذوقِ نگاہ اور بہاروں کے درمیاں
پردے گرے ہیں وہ کہ نہ جن کو اُٹھا سکوں
کس طرح کر سکو گے بہاروں کو مطمئن
اہلِ چمن جو میں بھی چمن میں نہ آ سکوں
تیری حسیں فضا میں مرے اے نئے وطن
ایسا بھی ہے کوئی جسے اپنا بنا سکوں؟
آزادؔ سازِ دل پہ ہیں رقصاں وہ زمزمے
خود سن سکوں مگر نہ کسی کو سنا سکوں

جلال لکھنوی

 وہ دل نصیب ہوا، جس کو داغ بھی نہ ملا
ملا وہ غم کدہ، جس میں چراغ بھی نہ ملا
گئی تھی کہہ کے میں لاتی ہوں زُلفِ یار کی ُبو
پھری تو بادِ صبا کا دماغ بھی نہ ملا
اسیر کر کے ہمیں، کیوں رہا کیا صیّاد
وہ ہم صفیر بھی چھوٹے، وہ باغ بھی نہ ملا
بھر آئے محفلِ ساقی میں کیوں نہ آنکھ اپنی
وہ بے نصیب ہیں خالی ایاغ بھی نہ ملا
چراغ لے کے ارادہ تھا بخت کو ڈھونڈیں
شبِ فراق تھی، کوئی چراغ بھی نہ ملا
جلالؔ باغِ جہاںمیں وہ عندلیب ہیں ہم
چمن کو پھول ملے، ہم کو داغ بھی نہ ملا

بیٹے کی دعا

  حضرت ابو محمد نے فرمایا ،ایک شخص ہر جمعرات اور جمعہ کو اپنی ماں کی قبر پر جاتا تھا،قرآن پاک کی آیات پڑھ کر اپنی ماں اور دوسروں کی مائوں کے حق میں توبہ استغفار کرتا ۔ ایک روز اس کی ماں خواب میں نظر آئی۔ بیٹے نے پوچھا، ماں جی کیا حال ہے ؟
ماں نے کہا، بیٹا !اللہ تعالیٰ نے بڑا آرام دے رکھا ہے۔ تم جو جمعہ اور جمعرات کو قرآن پاک پڑھتے ہو۔یہ عمل جاری رکھنا، ہمیں بہت سکون ملتا ہے۔ جب تم آتے ہو تو دوسری ارواح میرے پاس جمع ہوجاتی ہیں اور مجھے کہتی ہیں، تیرا بیٹا آیا ہے یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔

کاش یہ جھوٹ ہوتا

 لوگ اچھی سیرت کو نہیں ، صورت کو ترجیح دیکھتے ہیں
غریب کا کوئی دوست نہیں ہوتا،ماں کے سوا کوئی وفادار نہیں ہوتا۔
آج عزت پیسے کی ہے ،انسان کی نہیں۔
جس شخص کے لیے دل سے مخلص ہو، وہی دھوکہ دیتا ہے۔
ہر بچھڑنے والا رشتہ ہمارے اندر موجود احسان کو مردہ کر کے چلا جاتا ہے۔
کچھ لوگ ہمارا یقین ہار جاتے ہیں کچھ پیار ،کچھ ہمارا اعتماد اور کچھ ہماری خوشیوں کو ہی مار دیتے ہیں۔

آرام طلبی کا فائدہ

 ہمارے پڑوس میں حکیم محمد عمر دراز رہتے تھے نہایت چاق و چوبند ہر روز صبح 4بجے اٹھ کر ورزش کرتے تھے۔ پھر ٹھنڈی ہوا کھانے کو سیر کو نکل جاتے تھے۔ ہمیں بہت ترغیب دی لیکن ہم کبھی ان کی باتوں میں نہ آئے، بلکہ لحاف کواور سر کو کھینچ لیا۔ نتیجہ ان کی لالچ کرنے کا یہ ہوا کہ ایک روز سڑک پر مااپنی چھتری اور صحت کے ایک ٹرک کے نیچے آگئے ،یہ بات تو ہر کوئی مانے گا کہ ٹرک ،سڑک پر چلنے والوں پر زیادہ چلتے ہیں بانسبت چار پائی پر لیٹنے والوں کے ۔(ابن انشاء)

وقت گزرتا نہیں!

 وقت بہت ظالم ہے یہ اتنی آسانی سے گزرتا ہے نہ ماضی بنتا ہے۔ یہ ہم پر بیتتا ہے۔ اور پھر آگے بڑھتا ہے۔ کمزور لوگ ٹوٹ جاتے ہیں اور طاقتور اپنی زندگی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جو انسان لوگوں سے جھوٹ بولنے میں ذرا برابر ندامت محسوس نہ کر سکے جو اس کے دل کے بہت قریب ہے وہ شخص کسی بھی اعتماد اور بھروسہ کے قابل نہیں۔ بابا جی کہتے ہیں رشتے بہت نازک ہوتے ہیںانہیں سنبھالنے کے لیے نزاکت کی ضرورت پڑتی ہے رشتہ کی کتاب پر اگر پہلا لفظ ایمانداری نہ لکھا ہو تو اس کے آخری صفحہ پر جدائی لکھا ہوا ملتا ہے۔

ازدواجیات

 ٭ تم پاک دامنی کے ساتھ رہو تو تمہاری عورتیں پاک دامن رہیںگی۔ (طبرانی)
٭ عورت پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر سب سے بڑا حق اس کی ماں کا ہے۔ (مستدرک حاکم)
٭ اگر میں کسی مخلوق کے لیے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے (ترمذی)
٭ جس عورت کا اس حال میں انتقال ہو کہ اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں جائے گی۔ (ترمذی)
٭ عورتو! صدقہ دو کہ میں نے جہنم میں اکثریت تمہاری ہی دیکھی ہے کیونکہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کے حسن معاملت کا انکار کرتی ہو۔ (الحدیث)
٭ جہنم میں عورتوں کی کثرت کا سبب شوہر کا کفر (ناشکری)کرنا اور اُن کا احسان نہ ماننا ہے (ایمان، بخاری)

والدین کا احترام

  والدین کا احترام عمر کے ہر حصے میں واجب ہے لیکن جب دونوں شباب کی بہاروں، رعنائیوں اور توانائیوں سے محروم ہو کر بڑھاپے کی زندگی گزار رہے ہوں تو اولاد کو چاہئے کہ ان کا زیادہ خیال رکھے۔ ایسا نہ ہوکہ اولاد کی ذرا سی بے رخی والدین کے لیے دل کا روگ بن جائے۔جب والدین اولاد کے رحم و کرم کے محتاج ہوں تو حالات کے ان بے رحم تھپیڑوںمیں اولاد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایسا کوئی قولی یا فعلی رویہ اختیار نہ کرے جس سے والدین کو ایذاء پہنچے۔بلکہ اس وقت انسان اپنے بچپن کو یاد کرے کہ جب وہ اپنے والدین کی شفقت اور حسن سلوک کا اس سے زیادہ محتاج تھا۔ اپنے بدن کو ڈھانپ نہیں سکتاتھا، خود اپنی مرضی سے کروٹ نہیں بدل سکتا تھا، اپنی غذاکا بندوبست نہیں کر سکتا تھا، حتیٰ کہ اپنے بدن کے ساتھ لگی نجاست کو نہیں دھو سکتا تھا۔ اس بے بسی کے عالم میں باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا نے شجر سایہ دار کی مانند اسے اپنی محبت کی گھنی چھاؤں سے نوازا۔ یہ ماں ہی تو تھی جو بچے کو پہلے کھلاتی تھی پھر خود کھاتی تھی۔ جو بچے کو پہلے پلاتی تھی بعد میں خود پیتی تھی۔ جو بچے کو پہلے سلاتی تھی بعد میں خود سوتی تھی۔ جو اپنے سر کی ایک چادر کے ایک کونے سے بیٹے کے جوتوں کو صاف کرتی تھی۔ جواپنے ہاتھوں سے بچے کے پاؤں میں جوتا پہناتی تھی۔ آج اس ماں کے احسانات کا بدلہ چکانے کا وقت آپہنچا۔ اسی لئے حضرت نبی کریمﷺ نے ارشا فرمایا: ’’جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے‘‘۔

بیوی کی آنکھ کا آنسو

 بیوی کی آنکھ میں کبھی آنسو نہ آنے پائے ، بیوی جب روتی ہے تو شوہر کی جیب سے برکت اڑ جاتی ہے ایک ایک آنسو اسے بہت مہنگاپڑتا ہے اورپھر شوہر بھی رونے والا ہو جاتا ہے۔ ایک نوجون نے دوزخ کا ذکر سنا تو وہ ریت پر جا کر لیٹ گیا ، تڑپنے لگا اور کہنے لگا اے نفس دیکھ دوزخ کی آگ یہ ریت کی آگ برداشت نہیں دوزخ کی آگ کیسے برداشت کرے گا رات کو مردار بن کر ساری رات سوتا ہے اور دن کو بے کار پھرتا ہے تیرا کیا بنے گا حضور اکرم ﷺ یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے ،فرمایا: ادھر آ، تجھے خوشخبری سنائوں ،تمہارے لیے آسمان کے دروازے اللہ تعالیٰ نے کھول دئیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خوش ہو رہا ہے اور فرشتوں سے کہہ رہا ہے کہ دیکھو میرا بندہ ایسا ہوتا ہے۔(مولانا طارق جمیل)

یورپ میں وی آئی پی

 امریکہ میں دو شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کو وی آئی پی میں شمار کیا جاتا ہے، ایک سائنسدان اور دوسرے استاد۔ترقی یافتہ فرانس کی عدالتوں میں استاد کے سوا کسی کو کرسی پیش نہیں کی جاتی۔ جاپان میں پولیس استاد کو گرفتار کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت لیتی ہے ۔کوریا میں استاد اپنا کارڈ دکھا کر وی آئی پی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، ان سہولتوں سے جو ہمارے ہاں صرف وزیروں، مشیروں، یا وی آئی پیز کے لیے مخصوص ہیں ہمارے زوال کی بڑی وجہ علم کی ناقدر ی ہے۔

امی نے روک لیا!

ایک دن دادا اور دادی نے جوانی کے دن کو یاد کرنے کا پروگرام بنایا۔
دادا نے کہا:’’ ہم پہلے کی طرح دریا کے کنارے ملیں گے‘‘
حسب وعدہ دادا جان تیار ہو کر ہاتھ میں پھول لے کر دریا کے کنارے پہنچ گئے ، ٹھنڈی ہوائوں میں دادی جان کاانتظار کرتے رہے مگر وہ نہ آئیں۔دادا جان کو بہت غصہ چڑھا ۔جب وہ واپس آئے تو دادی کرسی پر بیٹھی مسکرا رہی تھیں۔دادا جان اور ناراض ہو گئے۔
داد اجان: تم کیوں نہیں آئیں؟
’’امی نے روک لیا‘‘:دادی جان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

بکری اور لومڑی

 ایک لومڑی کنوئیں میں جاگر ی۔ بہت کوشش کی لیکن بے سود۔ اتنے میں وہاںایک بکری پانی پینے وہاں آئی۔ لومڑی سے پوچھا اے بہن! کیا یہ پانی اچھا ہے۔ لومڑی نے جواب دیا واہ واہ! ایسا میٹھا، ہاضم، شیریں اور خوش گوار پانی، میں تو اس کی تعریف کر ہی نہیں سکتی۔ میں نے تو خوب پیا۔ اتنا پیا کہ ڈرتی ہوں زیادہ پینے سے بیمار نہ پڑ جائوں۔ بکری یہ سن کر بلا سوچے سمجھے اندر کود گئی۔ لومڑی اس کے اوپر چڑھ کر اس کے سینگوں پر پائوں رکھ کر جھٹ پٹ کنوئیں سے باہر آگئی اور بکری وہیں رہ گئی۔

زندگی اور موت

 جب سانپ زندہ ہوتو وہ کیڑے مکوڑ ے کھاتا ہے اور جب سانپ مر جائے تو کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں اسے کھا جاتی ہیں ،
وقت کبھی بھی بدل سکتا ہے۔
ایک درخت سے کئی لاکھ ماچس کی تیلیاں بنتی ہیں لیکن ماچس کی ایک تیلی کئی لاکھ درختوں کو جلا سکتی ہیں ۔
وقت کبھی بھی بدل سکتا ہے۔
اس لیے زندگی میں کبھی کسی کو ستائیے مت۔ اس وقت آپ طاقتور ہوں گے مگر وقت کبھی بھی بدل سکتا ہے۔

محتسب اور مست

  مولانا رومیؒ
شہر کا کوتوال ایک شب معمول گلی کوچوں کی گشت پر تھا۔ ایک مکان کی دیوار کے نیچے نگاہ گئی تو دیکھا ایک آدمی چاروں شانے چت پڑا خراٹے لے رہا ہے۔ کوتوال نے اس کی پسلیوں میں ٹھوکر رسید کی۔ سونے والا ہڑ بڑا کر اٹھا۔ کوتوال نے ڈپٹ کر کہا ’’کون ہے تو؟ معلوم ہوتا ہے تو نے پی رکھی ہے؟‘‘ اس آدمی نے جواب دیا ’’ہاں! جو صراحی میں ہے، وہی پی ہے۔‘‘ کوتوال نے پوچھا۔ ’’سچ سچ بتا، صراحی میںکیا ہے؟‘‘ اس نے کہا وہی جو میں نے پی ہے۔‘‘ کوتوال نے غصے سے بل کھا کر کہا ’’مجھ سے الٹی سیدھی نہ کر صاف صاف بتا کہ جوچیز تو نے پی ،وہ کیا ہے؟‘‘ اس شخص نے کہا ’’کہہ تو رہا ہوں کہ وہی پی ہے جو صراحی میں موجود ہے۔‘‘
غرض کوتوال میں اور اس میں دیر تک یونہی سوال جواب ہوتے رہے اور وہ شخص ٹس سے مس نہ ہوا۔ آخر عاجز آکر کوتوال نے کہا :’’اچھا یوں نہ مانے گا۔ ذرا منہ کھول کر آہ آہ تو کر۔‘‘
اس نے بھاڑ سا منہ کھول کر اونچی آواز میں ہو ہو شروع کر دی۔ کوتوال نے جھلا کر کہا ’’ابے یہ کیا کرتا ہے؟‘‘ میں نے تجھے آہ آہ کرنے کو کہا تھا تو نے ہو ہو کا راگ الاپنا شروع کر دیا؟‘‘ وہ مست کہنے لگا ’’اے محتسب آہ آہ تو درد و غم کے موقعوں پر کی جاتی ہے اور ہم مست میخواروں کی ہو ہو سرخوشی کا اظہار ہے۔‘‘
کوتوال نے کہا ’’میں یہ فضول بکواس نہیں سننا چاہتا اور نہ مجھے اس فلسفے کا کچھ پتا ہے۔ اب یہاں سے اٹھ ، زبان کو لگام دے اور میرے ساتھ چل۔ جب حوالات میں بے بھائو کی پڑیں گی، تب یہ ساری ہو ہو بھول جائے گا۔‘‘
مست نے نعرہ مار کر کہا ’’چل چل ، لمبا بن ، تو کون ، میں کون بھلا یہ تو بتا کہ میرا کیا جرم ہے اور کس بنا پر تو مجھے حوالات کا ڈراوا دیتا ہے؟‘‘
کوتوال نے کہا ’’اب یہ بھی بتائوں؟ سن تو نے شراب پی ہے اور یہ جرم ہے تجھے قید خانے تک چلنا پڑے گا۔‘‘
مست نے جھومتے ہوئے جواب دیا ’’جا بھائی جا۔ کیوں وقت ضائع کرتا ہے۔ بھلا بھوکے ننگے سے بھی کچھ حاصل ہوسکتا ہے؟ اگر مجھ میں چلنے کی طاقت ہوتی تو یہاں کیوں پڑا رہتا سیدھے سیدھے اپنے گھر کو نہ جاتا اور یہ قصہ ہی کیوں در پیش ہوتا؟ اے محتسب غور سے سن کہ اگر میں اپنے حواس میں ہوتا تو مشائخ کی طرح مشیخت کی کوئی دکان جماتا۔ یہاں چاروں شانے چت پڑا نہ رہتا۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

14جولائی 1926کو ارونگ آباد میں جنم لینے والے حمایت علی شاعر نے اردو شاعری میں بہت نام کمایا۔انہوںنے فلموں کیلئے گیت بھی لکھے اور خود بھی ریڈیو پر ڈراموں میں کردار اداکئے ۔ قیام پاکستان کے بعد سندھ میں ہجرت کی اور جام شورو کو اپنا مسکن بنایا اور اردو یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔1956میں منظر عام پر آنے والے شاعری کے پہلے مجموعے ’’آگ میں پھول‘‘نے مقبولیت حاصل کی اور اسی مجموعے پر 1958میں صدارتی ایوارڈ مل بھی گیا۔ ان کا گیت ۔۔۔’’جاگ اٹھا ہے سارا وطن ‘‘1965کی جنگ کی طرح آج بھی روح کو گرماتا ہے۔فلمی گیت ’’نہ چھڑ اسکو گے دامن ‘‘نے بھی مقبولیت کے ریکارڈ توڑے۔ گزشتہ برس 16جولائی کو ہم سے جدا ہونے والے حمایت علی شاعر کے کریڈٹ میں ’’مٹی کا قرض‘‘ ، تشنگی کا سفر اور ’’ہارون کی آواز‘‘ بھی شامل ہیں۔ ذیل میں نمونہ کلام شائع کیا جا رہا ہے۔ حضور آپؐ کی امت کا ایک فرد ہوں میں حضور آپﷺ کی امت کا ایک فرد ہوں میں مگر خود اپنی نگاہوں میں آج گرد ہوں میں میں کس زباں سے کروں ذکر اسوہ حسنہﷺ کہ اہل درک و بصیرت ،نہ اہل درد ہوں میں بزعم خود تو بہت منزل آشنا ہوں میں مگر جو راستے میں ہی اڑتی پھر ے وہ گرد ہوں میں عجیب ذوق سفر ہے کہ صورت پرکار جو اپنے گرد ہی گھومے وہ رہ نورد ہوں میں میں اپنی ذات میں ہوں اپنی قوم کی تصویر کہ بے عمل ہی نہیں ،جہل میں بھی فرد ہوں میں ٭٭٭ جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے اترا ہوا چہرہ مری دھرتی کا نکھر جائے ہم بھی ہیں کسی کہف کے اصحاب کی مانند ایسا نہ ہو جب آنکھ کھلے وقت گزر جائے کشتی ہے مگر ہم میں کوئی نوحؑ نہیں ہے آیا ہوا طوفان خدا جانے کدھر جائے ایک شہر خدا سینے میں آباد ہے لیکن اے دوست جہاں تک بھی تری راہ گزر جائے میں کچھ نہ کہوں گا اور یہ چاہوں گا کہ مری بات خوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جائے ٭٭٭ جب بھی اُسے دیکھوں، وہ نیا ہی نظر آئے ہر شخص سے وہ شخص جدا ہی نظر آئے ہاں ایک نظر تم بھی اُسے دیکھو تو شاید تم کو مری ناکردہ گناہی نظر آئے مرمر سے بدن پر وہ قبا آبِ رواں سی وہ حسن کہ آپ اپنی گواہی نظر آئے جلوت میں گزرتی رہی جس دل پہ قیامت خلوت میں اُسے کیوں نہ تباہی نظر آئے  

مزید پڑھیں

ورکر باس سے ، ’’میں دو منٹ میں آیا‘‘،’’بس آخری بار معاف کر دیں‘‘،’’آئندہ غلطی نہیں ہو گی ‘‘،’’آج ٹریفک بہت تھی‘‘۔ لڑکا منگیتر سے ،’’مجھے تمہاری بہت فکر ہے‘‘، ’’تم میری زندگی کی پہلی اور آخری پسند ہو‘‘،’’ہماری شادی ضرور ہوگی‘‘ ،’’ہر مشکل وقت میں مجھے اپنے ساتھ پائو گی،تم نہ ملیں تو کنوارہ رہ جائوں گا‘‘۔ شوہر بیگم سے ’’ میرا فون سائلنٹ پر تھا ،امی کی کال آئی ہوئی تھی‘‘ ۔’’نیا باس آیا ہوا ہے بہت سخت ہے‘‘۔  

مزید پڑھیں

لڑکیاں بڑی عجیب ہوتی ہیں،یہ مکمل اعتبار کرتی ہیں،آدھا اعتبار نہیں کرتی، یہ مکمل محبت کرتی ہیں ادھوری نہیں، ان کے ہاں دوسری محبت کا تصور نہیں ہوتا، مرد پہلی محبت میں بھی دوسری محبت کر لیتے ہیں مگر یہ لڑکیاں نازک مزا ج ہوتی ہیں ان کا احساس بہت کومل ہوتا ہے ان کی ادائوں کے ہزاروں رنگ ہیں جیسے جب شدید غصے میں ہوتی ہیں تو آنکھوں سے آنسو چمکنے لگتے ہیں۔یہ محبت کا خراج نہیں مانگتیں بلکہ اس کو کامل رکھتی ہیں۔  

مزید پڑھیں