☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(عبدالمجید چٹھہ) عالمی امور(صہیب مرغوب) فیشن(طیبہ بخاری ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خواتین(نجف زہرا تقوی) رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) فیچر(ایم آر ملک)
Dunya Magazine

منتخب شاعری

2020-06-28

بڑے لوگ بڑی باتیں

 اگر تم تنہا ہو اور زندگی کے لمحات کو بوجھل محسوس کر رہے ہو، تو کیا ہوگا،تمہیں یہ احساس کھائے جا رہا ہے کہ تم دنیا میں ہو؟تو سوچو ذرا کہ تم دنیا میں اکیلے آئے تھے ،اکیلے ہی جائو گے ۔جب قدرت نے تمہیں تنہا ہی تخلیق کیا ہے تو اکیلے ہونے سے ڈرنا کیسا۔ (خلیل جبران)
زندگی کیا ہے؟ یہ بھی میری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اونی جراب ہے جس کا ایک سرا میرے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے ۔جب ادھیڑتے ادھیڑتے دھاگے کا دوسرا سرا میرے ہاتھ میں آجائے گا تو یہ طلسم جسے زندگی کہا جاتا ہے ٹوٹ جائے گا ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ آدمی زندہ ہے۔(سعادت حسن منٹو)
یہ مرد کی دنیا ہے، مرد نے بنائی ہے اور بگاڑی ہے۔ عورت ایک ٹکڑا ہے۔ مرد کی دنیا کا، جسے اس نے اپنی محبت اور نفرت کے اظہار کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ وہ اسے اپنے موڈ کے مطابق پوجتا بھی ہے اور ٹھکراتا ہے عورت کو دنیا میں اپنا مقام پیدا کرنے کے لیے صبر،ہوشیاری، دانش مندی ،سلیقہ مندی سے کام لینا پڑتا ہے جس سے مرد کو اس کا محتاج بنا دے۔(عصمت چغتائی)

تیکھی باتیں

 عقل جتنی چھوٹی ہوگی ،زبان اتنی لمبی ہوگی کیونکہ خالی برتن ہی شورکرتاہے ۔
کون کہتاہے مرد بدل جاتے ہیں ، مرد کبھی نہیں بدلتے انہیں شادی سے پہلے بھی شادی کا شوق ہوتاہے اورشادی کے بعد بھی !!
لوگ یہ نہیں جانتے کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ کیا ہوگالیکن وہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ کیا ہوگا۔
انسان کی عقل صرف اتنی ہے کہ اسے جانور کہاجائے توناراض ہو جاتا ہے ،اورشیر کہاجائے تو بانچھیں کھل جاتی ہیں۔
کاش انسان بھی ’’نوٹ‘‘کی طرح ہوتے،روشنی کی طرف دیکھ کر اصلی یا نقلی کا پتہ چلا لیتے ۔
ہم لڑکیوں کی ڈرائیونگ کے خلاف نہیں لیکن خطرے کے وقت بریک کی جگہ چیخ مارنا کہاں کی دنش مندی ہے ؟

مختصر پر اثر

 جس معاشرے میں بے حسی عام ہو جائے وہاں کسی دوسرے عذاب کی ضرورت نہیں رہتی۔
ہزار غلطیوں کے باوجود آپ اپنے آپ سے پیار کرتے ہیں لیکن کسی دوسرے کی ایک غلطی کو معاف کرنا کیوں پسند نہیں کرتے۔
اپنے خیالات کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہارے الفاظ بن جاتے ہیں۔ اپنے الفاظ کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہارے اعمال بن جاتے ہیں۔ اپنے اعمال کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہارے کردار بن جاتے ہیں۔ اور اپنے کردار کی حفاظت کرو کیونکہ یہ تمہاری پہچان بن جاتا ہے۔
ہر بچھڑنے والا رشتہ ہمارے اندر موجود احسان کو مردہ کر کے چلا جاتا ہے۔
ایک شخص بن کر نہ جیو،بلکہ ایک شخصیت بن کر جیو کیونکہ شخص تو مر جاتا ہے لیکن شخصیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
آدمی خود تو دوسروں سے لاکھوں کروڑوں مانگتا ہے لیکن جب کسی کو دینا ہو تو جیب میں سکے ڈھونڈتا ہے۔

وفاداری پر شک

 ایک میاں بیوی کے ہاں کئی برس تک اولاد پیدا نہ ہوئی۔ تنہائی سے تنگ آکر انہوں نے ایک کتا پال لیا۔ وقت اسی طرح گزرتا رہا۔ کئی سال بعد دونوں کوا للہ تعالیٰ نے ایک بیٹا عطا کیا۔دونوں کی توجہ بیٹے کی جانب ہو گئی۔ ایک دن وہ اپنے بیٹے کو سوتا ہوا چھوڑ کر گھر کے پچھلے باغ میں ٹہلنے چلے گئے۔ وقت کا احساس نہ ہوا ،دیر سے واپس لوٹے تو کتا گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا ۔ منہ خون آلود تھا۔ یہ حالت دیکھ کر باپ سمجھا کہ کتے نے ان کے بیٹے کو کھا لیا ہے ،بس پھر کیا تھا ،آئو دیکھا نہ تائو۔۔ بچے کو دیکھنے سے پہلے بندوق سے کتے کو گولی ماری دی ۔ جب وہ بچے کے کمرے کی طرف بھاگاتو دیکھا کہ بچہ آرام سے اپنے بستر میں سو رہا ہے ،قریب ہی ایک بڑا سا سانپ پڑا ہے جس کا سر کتے نے کھا لیا تھا۔

ماں کی مار

 ماں اولاد کو غلطیوں پر بہت ہلکے سے مارتی ہے ۔اتنی نرمی سے کہ بچہ تھپڑ کی بجائے پیار کو محسوس کرے۔بچپن میں ماں کے پیار بھرے تھپڑ دنیا کے تھپڑوں سے بچا لیتے ہیں۔اسی میں بچے کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ راست بازی بھی شامل ہوتی ہے ۔ لاڈ پیار میں کچھ نہ کہنے والی مائوں کے بچوں کو دنیا بہت تھپیڑے مارتی ہے۔ ان کا معاشرے میں زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ والدین اولاد کی تربیت پر توجہ دیں ورنہ بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا ۔بہترین درس گاہ ماں کی گود کے سوا کچھ نہیں جس سے بچے کبھی نہ بھولنے والا سبق لیتے ہیں۔ بچے ماں کا کہا بہت مانتے ہیں اور وہ کبھی نہیں کرتے جس سے ماں منع کرے ۔بچے وہ ضرور کرتے ہیں جو بڑوں کو کرتا ہوا دیکھیں ۔چنانچہ بچوں کے سامنے اپنے آپ کو صحیح راستے پر رکھیں۔

کامیابی کے اصول

 ہم نے کئی با ردیکھا کہ کروڑ پتی افراد کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ سکول کے زمانے میں خوب محنت کرتے ہیں۔ وہ بہترین طلباء میں شمار نہیں ہوتے۔ وہ سکول میں یہ سیکھتے ہیں کہ لوگوں کی نفسیات کو کیسے سمجھا جائے، ان کے ساتھ مضبوط تعلق کیسے مضبوط کیا جائے۔سکول میں ان کروڑپتی لوگوں کا’’آئی کیو‘‘ زیادہ اچھا نہیں ہوتا۔ یہ درمیانے درجے کے طلباء میں شمار ہوتے ہیں۔سکول میں سیکھا ہوا ہی یہی انداز انہیں کروڑ پتی بننے میں مدد دیتا ہے۔عملی زندگی میں ان کے جوہر کھل کر سامنے آتے ہیں۔ یہ لوگوں کے ساتھ بہترین ڈیل کر سکتے ہیں اور مواقع کو استعمال کرنا بہتر طور پر جاننے لگتے ہیں۔دراصل ان لوگوں کی کامیابی کا راز قسمت وغیرہ نہیں بلکہ سخت محنت ہے۔

اشفاق احمد کا انتظار

 میں نے انتظار کرنے والوں کو دیکھا،انتظار کرتے کرتے ٹوٹ جانے والوں کو بھی اور مر جانے والوں کو بھی۔میں نے مضطرب نگاہوں اور بے چین بدنوں کو دیکھا ہے ۔آہٹ پر لگے کانوں کے زخموں کو دیکھا ہے، انتظار میں لگے کانوں کو دیکھا ہے،منتظر آدمی کے دو وجود ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو مقررہ جگہ پر ہوتا ہے جہاں انتظار کر رہا ہوتا ہے اور دوسرا وہ جو جسد کی پذیرائی کے لیے کہیں دور پہنچ جاتا ہے، جب انتظار کی گھڑیاں دنوں مہینوں اور سالوں پر پھیل جاتی ہیں تو کبھی کبھی دوسرا وجود واپس نہیں آتا اور انتظار کرنے والے کا وجود اس خالی ڈبے کی طرح رہ جاتا ہے، جسے لوگ خوبصورت سمجھ کر رکھ لیتے ہیں اور کبھی اپنے آپ سے جدا نہیں کرتے ۔یہ خالی ڈبہ کئی بار بھرتا ہے، قسم قسم کی چیزیں اندر سمیٹتا ہے ،مگر یہ اس میں لوٹ کر واپس نہیں آتا ۔جو پذیرائی کے لیے آگے نکل گیا تھا ،ایسے میں پورے طور پر شانت ہو جاتے ہیں، ان مطمئن اور پر سکون لوگوں پر لوگوں کی پرسنیلٹی میں بڑی کشش ہوتی ہے، انہیں اپنی باقی ماندہ زندگی اسی چارم کے سہارے گزارنا پڑتی ہے ،یہ چارم آپ کو صوفیاء کرام کی شخصیت میں نظر آئے گا، اسی چارم کی حقیقت آپ کو عمر رسیدہ پروفیسر کی آنکھوں میں نظر آئے گی۔( ’’سفر در سفر‘‘ سے اقتباس)

بیوی کی بیماری

  اہلیہ کو بڑھاپے تک صحت مند اور تندرست رکھنے اور بچوں کی اعلیٰ صلاحیتوں کے لئے پوری کوشش کیجئے کہ آپ سے بیوی کو کوئی غم نہ پہنچے ،اسے آپ پر اعتماد ہو اور ہر الجھن بالا عتماد کہہ سکے۔دل ہی دل میں نہ گٹھے۔ بیوی بچوں کی جائز خواہشات کو پورا کر کے ان کے اندر امید، بلند ہمتی ، حوصلہ اور محبت کے جذبات پیدا کریں۔ استطاعت کے موافق بیوی کے اعتماد کو ٹھیس مت پہنچائیں۔ اس کی باتیں دھیان سے سنیں اور خوش رکھنے کی حتی الامکان کوشش کریں۔ انشاء اللہ وہ ہر قسم کی جسمانی اور ذہنی بیماریوں سے محفوظ رہے گی ۔اس کی تندرستی اور خوشیوں میں آپ کی خوشی چھپی ہوئی ہے۔

تنہائی

 پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ کو تنہائی سے ڈر نہیں لگتا اکیلے بیٹھنا برا نہیں لگتا آنکھ سے آنسو نہیں گرتے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی رہتی ہے۔کیونکہ ہم اتنے عاد ی ہو چکے ہوتے ہیں کہ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی بات ٹھیک کرے تب بھی اور کوئی غلط کرے تب بھی صحیح ۔

رہائی

 رات کو بیوی کی اچانک آنکھ کھلی، شوہر کو غائب پایا۔ کیا دیکھتی ہے کہ شوہر کچن میں کافی کا منہ کپ کو لگائے گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے۔
بیوی :اقس فکر مندی کی وجہ کیا ہے؟
شوہر:’’تمہیں یاد ہے کہ 20سال پہلے تم نوجوان تھیں اور ہم چوری چوری ملے تھے‘‘۔
شوہر آہ بھرتے ہوئے ،لفاظ اس کے منہ سے نہیں نکل رہے تھے:’’ اور تمہارے باپ نے مجھے پکڑ لیا تھا‘‘۔
بیوی (ساتھ کرسی پر بیٹھتے ہوئے) :ہاں مجھے یاد ہے ۔
شوہر : تمہارے باپ نے مجھ پر شارٹ گن تانتے ہوئے کہا تھا ’’یا تو تم میری بیٹی سے شادی کر لو یا پھر میں تمہیں 20 سال کے لیے جیل بھیجوا دیتا ہوں‘‘۔
بیوی :ہاں ڈئیر، یاد ہے ۔شوہر( آنسو پوچھتے ہوئے ‘: اگر اس وقت میں جیل میں ہوتا تو آج رہا ہو گیا ہوتا۔

جلی کٹی باتیں

 میں ’’پیار‘‘ لکھتی رہی اور وہ ’’پیاز‘‘ پڑھتا رہا ،اس ایک نکتے نے میری محبت کا سالن بنا دیا۔
انعم اتنی دبلی پتلی تھی کہ اس کی شناختی کارڈ کی تصویر پرشناختی نشان کے خانے میں لکھا تھا۔۔گردن کے ساتھ منہ کا نشان۔
عورتیں بہت محنتی ہوتی ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 100 میں سے 12عورتیں قدرتی طور پر خوبصورت ہوتی ہیں باقی سب اپنی محنت سے خوبصورت بنتی ہیں۔

سست رفتاری

 ایک امریکی بولا ہماری ریاست ٹیکساس کے کیا کہنے آپ پیر کی صبح کو ٹرین میں سوار ہوں اور اس کے بعد رات ، پھر دن ، پھر منگل اور پھر بدھ بس سفر کرتے رہیں اور پھر جب بدھ کی شام کو ٹرین سے اتریں گے تو ریاست پھر بھی ختم نہیں ہوئی ہوگی۔
ساتھ بیٹھا ہوا پاکستانی بولا :کوئی بات نہیں، ہمارے پاکستان میں اس سے بھی سست رفتارٹرینیں چلتی ہیں۔

زبان کا شیریں ، دل کا بے حد تلخ

 حکایت مولانا رومیؒ
ایک شخص بظاہر زبان کا شیریں ، لیکن دل کا بے حد تلخ تھا۔ مخلوقِ خدا کو اذیت دینے کی تدبیریں دن رات سوچتا۔ ایک مرتبہ اس کمینہ خصلت شخص نے راستے کے بیچ میں لمبے لمبے کانٹوں کی ایک جھاڑی اُگا دی۔ چند دن کے اندر جھاڑی خاصی بڑھ گئی اور اس میں بے شمار کانٹے اُگ آئے۔ ہر چند لوگ اس سے بچ بچا کر نکلتے لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی کانٹا تلوے زخمی کر دیتا یا دامن تار تار کرتا۔ لوگوں نے پریشان ہو کر اس شخص سے بارہا کہا کہ تو نے اپنے گھر کے سامنے عین راستے پر یہ جھاڑی کیوں اُگنے دی؟ اب تکلیف کی انتہا ہو چکی ہے۔ اسے اکھاڑ دے۔ وہ مسکرا کر نہایت نرمی سے جواب دیتا کہ بہت بہتر، ابھی اکھاڑ ڈالتا ہوں۔ مگر جھاڑی نہ اکھاڑتا، یہاں تک کہ جھاڑی نے آدھا راستہ گھیر لیا۔
آخر حاکم وقت تک یہ بات پہنچی۔ اس نے فوراً اس شخص کو بلا کر سختی سے حکم دیا کہ ابھی جا اور جھاڑی اکھاڑ دے۔ اس نے عرض کیا کہ ابھی حکم کی تعمیل کرتا ہوں۔ وہ حاکم شہر سے وعدہ کر چلا آیا لیکن جھاڑی پھر بھی نہ اکھاڑی۔ کوئی اس طرف توجہ دلاتا تو کہہ دیتا کہ آج فرصت نہیں کل یہ کام کروں گا۔ اسی کل کل پر ٹالنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دن جھاڑی اتنی بڑھ گئی کہ اب اس کا ہٹانا آسان نہ رہا اور راستہ بالکل بند ہوگیا۔اور وہ خود بھی مصیبت میں پھنس گیا۔جس سے نکلنا اس کے لئے آسان نہ رہا۔
اے عزیز! نتیجہ اس حکایت کا یہ ہے کہ برائی کو دور کرنے میں تساہل سے کام مت لے۔ یاد رکھ جس قدر وقت گزرتا جائے گا، اسی قدر برائی کی خاردار جھاڑی بڑھتی چلی جائے گی اور تیرے قویٰ مضمحل ہوتے چلے جائیں گے۔ ہر بری عادت کو خاردار جھاڑی سمجھ۔ لوگ بارہا تجھے ان برے افعال پر روکتے ٹوکتے ہیں اور تووعدہ بھی کرتا ہے کہ آئندہ ایسا نہ کرے گا لیکن پھر ادبد کر وہی ایذا دہی کے کام کرتا ہے۔ دوسروں کو اذیت تیری ہی بری حرکتوں سے پہنچتی ہے اور اگر تجھے دوسروں کی پروا نہیں تو اپنا ہی کچھ خیال کر۔ کیا تجھے اپنے ہی زخم دکھائی نہیں دیتے۔

قتیل شفائی

 معروف شاعر قتیل شفائی کو ہم سے بچھڑے ہوئے 19 برس بیت گئے لیکن وہ اپنی شاعری کی صورت میںآج بھی زندہ ہیں۔قتیل شفائی نے24 دسمبر 1919 ء کوہری پور (ہزارہ) میں آنکھ کھولی۔والدین نے محمد اورنگزیب نام رکھا لیکن قتیل شفائی کے نام سے شہرت پائی ۔ 1948ء میں پہلی پاکستانی فلم’’تیری یاد‘‘ کے لئے گیت لکھنے کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد وہ فلم انڈسٹری کی ضرورت بن گئے۔11 جولائیء 2001کو انتقال سے دو سال پہلے 1999ء میں ’’بڑے دل والا‘‘ میں آپ کی شاعری شامل تھی۔201 فلموں کے لئے 2500 گانے لکھے ۔ 1994 ء میں پرائڈ آف پرفارمنس پانے والے اس مایہ ناز شاعر کے20 سے زائد مجموعہ کلام شائع ہو چکے ہیں۔ برسی کے حوالے سے ذیل میں نمونہ کلام شائع کیا جا رہا ہے

 

اپنا ہی جب دل دھڑکا تو ہم سمجھے وہ آئے ہیں
بند جھروکے، سونی گلیاں یا پھر غم کے سائے ہیں
چاند ستارے نکلے ہیں لیکن میرے لیے کیا لائے ہیں
جس دن سے تم بچھڑ گئے یہ حال ہے اپنی آنکھوں کا
جیسے دو بادل ساون کے آ پس میں ٹکرائے ہیں
اب تو راہ نہ بھولو گے تم اب تو ہم سے آن ملو
دیکھو ہم نے پلک پلک پر سو سو دیپ جلائے ہیں
ہائے قتیل اس تنہائی میں کیا سوجھی ہے موسم کو
جس دن سے وہ پاس نہیں اس دن سے بادل چھائے ہیں
٭٭٭٭
گرمیِ حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں
شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں
بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیّال سے ہم
شعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں
خودنمائی تو نہیں شیوۂ اربابِ وفا
جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں
ربطِ باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیںگے دشمن
آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں
جب بھی آ تا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
٭٭٭٭
انگڑائی پہ انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
تم کیا سمجھو تم کیوں جانو بات مری تنہائی کی
کون سیاہی گھول رہا تھا وقت کے بہتے دریا میں
میں نے آنکھ جھکی دیکھی ہے آج کسی ہرجائی کی
ٹوٹ گئے سیّال نگینے، پھوٹ بہے رخساروں پر
دیکھو میرا ساتھ نہ دینا، بات ہے یہ رسوائی کی
وصل کی رات نجانے کیوں اصرار تھا ان کو جانے پر
وقت سے پہلے ڈوب گئے، تاروں نے بڑی دانائی کی
اُڑتے اُڑتے آس کا پنچھی دور اُفق میں ڈوب گیا

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

14جولائی 1926کو ارونگ آباد میں جنم لینے والے حمایت علی شاعر نے اردو شاعری میں بہت نام کمایا۔انہوںنے فلموں کیلئے گیت بھی لکھے اور خود بھی ریڈیو پر ڈراموں میں کردار اداکئے ۔ قیام پاکستان کے بعد سندھ میں ہجرت کی اور جام شورو کو اپنا مسکن بنایا اور اردو یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔1956میں منظر عام پر آنے والے شاعری کے پہلے مجموعے ’’آگ میں پھول‘‘نے مقبولیت حاصل کی اور اسی مجموعے پر 1958میں صدارتی ایوارڈ مل بھی گیا۔ ان کا گیت ۔۔۔’’جاگ اٹھا ہے سارا وطن ‘‘1965کی جنگ کی طرح آج بھی روح کو گرماتا ہے۔فلمی گیت ’’نہ چھڑ اسکو گے دامن ‘‘نے بھی مقبولیت کے ریکارڈ توڑے۔ گزشتہ برس 16جولائی کو ہم سے جدا ہونے والے حمایت علی شاعر کے کریڈٹ میں ’’مٹی کا قرض‘‘ ، تشنگی کا سفر اور ’’ہارون کی آواز‘‘ بھی شامل ہیں۔ ذیل میں نمونہ کلام شائع کیا جا رہا ہے۔ حضور آپؐ کی امت کا ایک فرد ہوں میں حضور آپﷺ کی امت کا ایک فرد ہوں میں مگر خود اپنی نگاہوں میں آج گرد ہوں میں میں کس زباں سے کروں ذکر اسوہ حسنہﷺ کہ اہل درک و بصیرت ،نہ اہل درد ہوں میں بزعم خود تو بہت منزل آشنا ہوں میں مگر جو راستے میں ہی اڑتی پھر ے وہ گرد ہوں میں عجیب ذوق سفر ہے کہ صورت پرکار جو اپنے گرد ہی گھومے وہ رہ نورد ہوں میں میں اپنی ذات میں ہوں اپنی قوم کی تصویر کہ بے عمل ہی نہیں ،جہل میں بھی فرد ہوں میں ٭٭٭ جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے اترا ہوا چہرہ مری دھرتی کا نکھر جائے ہم بھی ہیں کسی کہف کے اصحاب کی مانند ایسا نہ ہو جب آنکھ کھلے وقت گزر جائے کشتی ہے مگر ہم میں کوئی نوحؑ نہیں ہے آیا ہوا طوفان خدا جانے کدھر جائے ایک شہر خدا سینے میں آباد ہے لیکن اے دوست جہاں تک بھی تری راہ گزر جائے میں کچھ نہ کہوں گا اور یہ چاہوں گا کہ مری بات خوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جائے ٭٭٭ جب بھی اُسے دیکھوں، وہ نیا ہی نظر آئے ہر شخص سے وہ شخص جدا ہی نظر آئے ہاں ایک نظر تم بھی اُسے دیکھو تو شاید تم کو مری ناکردہ گناہی نظر آئے مرمر سے بدن پر وہ قبا آبِ رواں سی وہ حسن کہ آپ اپنی گواہی نظر آئے جلوت میں گزرتی رہی جس دل پہ قیامت خلوت میں اُسے کیوں نہ تباہی نظر آئے  

مزید پڑھیں

ورکر باس سے ، ’’میں دو منٹ میں آیا‘‘،’’بس آخری بار معاف کر دیں‘‘،’’آئندہ غلطی نہیں ہو گی ‘‘،’’آج ٹریفک بہت تھی‘‘۔ لڑکا منگیتر سے ،’’مجھے تمہاری بہت فکر ہے‘‘، ’’تم میری زندگی کی پہلی اور آخری پسند ہو‘‘،’’ہماری شادی ضرور ہوگی‘‘ ،’’ہر مشکل وقت میں مجھے اپنے ساتھ پائو گی،تم نہ ملیں تو کنوارہ رہ جائوں گا‘‘۔ شوہر بیگم سے ’’ میرا فون سائلنٹ پر تھا ،امی کی کال آئی ہوئی تھی‘‘ ۔’’نیا باس آیا ہوا ہے بہت سخت ہے‘‘۔  

مزید پڑھیں

لڑکیاں بڑی عجیب ہوتی ہیں،یہ مکمل اعتبار کرتی ہیں،آدھا اعتبار نہیں کرتی، یہ مکمل محبت کرتی ہیں ادھوری نہیں، ان کے ہاں دوسری محبت کا تصور نہیں ہوتا، مرد پہلی محبت میں بھی دوسری محبت کر لیتے ہیں مگر یہ لڑکیاں نازک مزا ج ہوتی ہیں ان کا احساس بہت کومل ہوتا ہے ان کی ادائوں کے ہزاروں رنگ ہیں جیسے جب شدید غصے میں ہوتی ہیں تو آنکھوں سے آنسو چمکنے لگتے ہیں۔یہ محبت کا خراج نہیں مانگتیں بلکہ اس کو کامل رکھتی ہیں۔  

مزید پڑھیں