☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل فیشن دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ

منتخب شاعری

2019-04-14

حکایت شیخ سعدی ؒ جامع جواب

ایک فلسفی نے ایک مجذوب سے پوچھا کہ کیوں سائیں جی ! خدا جب نظر نہیں آتا تو پھر تم لوگ اس کی گواہی کیوں دیتے ہو۔ اور جب ہر کام اللہ ہی کرتا ہے تو پھر بندہ مجرم کیوں ہے ؟ اور شیطان جب آگ سے بنا ہوا ہے تو پھر اسے دوزخ میں ڈالنے سے اس کو کیا تکلیف ہوگی۔ آگ آگ کو کیسے تکلیف دے سکتی ہے؟

سائیں صاحب نے ان تینوں سوالات کے جواب میںایک مٹی کا ڈھیلا اٹھایا اور کھینچ کر اس فلسفی کے سر پر دے مارا۔ فلسفی کا سر پھٹ گیا اور وہ سیدھا عدالت میں پہنچا اور سائیں پر مقدمہ دائر کر دیا۔ سائیں صاحب عدالت میں بلائے گئے۔ قاضی صاحب نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے اسے ڈھیلا کیوںمارا؟۔ سائیں صاحب بولے کہ ان کے تینوں سوالات کا ایک ہی جامع جواب دیا ہے۔ قاضی صاحب نے کہا مگر یہ جواب کیسے ہوا؟

تو وہ بولے کہ اس فلسفی سے پوچھیے کہ ڈھیلا لگنے سے اسے تکلیف ہوئی؟۔فلسفی بولا۔ یقینا ہوئی۔ سائیں صاحب بولے مگر وہ تکلیف تمہیں نظر بھی آئی۔ فلسفی نے کہا نظر تو نہیں آئی مگر محسوس تو ہوئی۔ سائیں صاحب نے کہا ،بس یہ تمہارے پہلے سوال کا جواب ہے کہ خدا نظر تو نہیں آتا مگر معلوم تو ہے۔ دوسرے سوال کا جواب اس طرح ہے کہ جو کرتا ہے خدا کرتا ہے۔ پھر تم نے دعویٰ مجھ پر کیوں کیا؟

۔ تیسرے سوال کاجواب اس طرح ہے کہ فلسفی بھی مٹی کا بنا ہوا ہے اور ڈھیلا بھی مٹی ہی کا تھا۔ تو جس طرح مٹی نے مٹی کو تکلیف پہنچائی اسی طرح آگ بھی آگ کوتکلیف دے سکے گی۔ فلسفی جھٹ بول اٹھا کہ تینوں مسئلے میری سمجھ میں آگئے۔ میں اپنا دعویٰ واپس لیتا ہوں۔ یعنی فلسفہ بعض اوقات گمراہی کا باعث بن جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں کی باتیں مبنی بر حکمت ہوتی ہیں۔

تندرست رہنے کا راز

کسی بادشاہ نے رسول پاک ؐ کی خدمت میںایک طبیب بھیجا اورکہاکہ آپ ﷺکی جماعت میں اگر کوئی بیما ر ہو تو اس سے علاج کروالیا کرے۔

طبیب مدتوں مدینے میں حاضر رہا مگر کسی شخص نے علاج کے لیے اس سے رجوع نہ کیا۔طبیب نے مسلسل یہ بیکاری دیکھ کر ایک دن آپ ؐکی خدمت میں عرض کی:’’کہ حضورپاک ﷺ ،ہم جانتے ہیں کہ آپ رحمت العالمین بن کر تشریف لائے ہیں مگر خاکسار اتنی مدت سے آپ ﷺکے جانثاروں کی خدمت کے لیے حاضر ہے مگر کوئی بیمار مجھے دکھانے نہیں آیا۔

حضورپاک ؐ نے فرمایا: ان لوگوں کا قاعدہ یہ ہے کہ جب بھوک غالب ہو تب ہی کھانے کو ہاتھ لگاتے ہیں ۔اور ابھی پیٹ بھرتانہیں کہ ہاتھ اٹھالیتے ہیں ۔اس لیے انہیں آپؐ کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل ہی نہیں سکتا۔

حکیم نے کہا :’’بے شک تندرستی کا یہ ہی اصلی راز ہے۔ میرا یہاں رہنا بے کارہے‘‘ ۔یہ کہہ کر حکیم نے اپنی راہ لی ۔

کھٹی میٹھی باتیں

کسی نے شادی شدہ سے پوچھا کہ رات کو آن لائن کب آتے ہو؟اس نے کہا برتن دھونے کے بعد۔ ہینڈسم لڑکے اکثر سنگل ہی رہتے ہیں، لڑکیاں ان کو دیکھ کر سوچ لیتی ہیں، پتہ نہیں کتنی دوستیاں پال رکھی ہوں گی اس نے۔ مجھے جتنی چائے پسند ہے مجھے لگتا ہے میں جنت میں جاتے ہی دودھ کی نہر میں بھی پتی ڈال دوں گا۔ پریشان حال نوجوان نے بابا جی سے کہا کہ ’’میں جب کوئی کام کرتا ہوں ،میری بیوی آگے دیوار کی طرح کھڑی ہوتی ہے‘‘۔ بابا جی نے کہا،ٹرک چلا کر دیکھ خیر ہو گی !

سب سے بڑا مدد گار

پتہ ہے خدا کب ملتاہے؟ جب تم ٹھوکر کھاؤ،جب تم دکھی ہو جاؤ،جب کوئی تم اپنی محبوب چیز یا رشتہ گنوائو، تب د کھی دل کیساتھ اللہ تعالیٰ سے رجوع کرو ۔بس وہی توہے جو ٹھکراتانہیں۔ تھک ہار کر اللہ کو یاد کرو ۔ایسا یاد کرو،دعا کرو کہ اب کی با ر مجھے اکیلا مت چھوڑنا ۔اگرا للہ تعالیٰ نے سیدھی راہ دکھا دی تو کوئی تمہارا ساتھ چھوڑے یا پکڑے کسی کی پروا نہیں ۔اور یہ دعا کرتے رہو۔۔۔ یا اللہ ،جو میرے مقدر میں نہیں لکھا ،اس کی کوشش اورتمنا میں مجھے مبتلا نہ کر اورجو میری تقدیر میں لکھ دیاہے اسے آسان بنا دے ۔

نافرمانوںکا بھی خیال

پتہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا کتنا خیال رکھتاہے ؟وہ سارا دن ہمیں اور ہمارے کاموں کودیکھتا رہتاہے ۔ہماری نافرمانیاں دیکھتا رہتاہے ، ہماری کوئی حرکت اس سے چھپی ہوئی نہیں ہوتی۔ اس کے باوجودصبح ہوتے ہی اپنے ہی فرشتوں کے ہاتھوں ہم سب کو رزق بھیجتاہے ۔نافرمانوں کا بھی خیال رکھتا ہے کہ شاید کبھی توبہ کر لے اور راہ راست پر آجائے ۔کتنا خیال ہے اسے ہمارا !

کیا ہم اپنے رب کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کے تمام احکامات پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتے ؟۔

دوسری غلطی

کسی سودا گر کو ایک سو دے میں لاکھوں روپے کا گھاٹا پڑ گیا۔ اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔

بیٹابولا :ابا جان، آپ کا فرمان سر آنکھوں پر،کسی سے نہیں کہوں گا، مگر آخر چھپانے میں کیا مصلحت ہے،اس کا فائدہ تو بتا دیجئے۔

باپ نے کہا :تاکہ مصیبت ایک کے بجائے دو نہ ہوجائیں۔ ایک تو مال میں گھاٹا کھائیں دوسرے لوگ ہمارا تمسخر اُڑائیں۔ دشمنوں کو اپنا دکھڑا سُنائیں گے تو اُن کی زبان پر افسوس ہو گا اور دل میں خوشی۔

کڑوا شہد
ایک ہنس مکھ اور خوش اخلاق آدمی شہد کا کاروبار کرتاتھا ۔لوگ اس کی خوش مزاجی اور میٹھی باتوں پر ایسے فریفتہ تھے کہ اس کا شہد ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ۔اسی گاؤں میں ایک بد مزاج آدمی اس کی ترقی دیکھ کر جلتارہا۔ اس نے سوچا کہ اس کے شہد میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں جو دھڑا دھڑ بک رہاہے ۔چلو، ہم بھی یہ ہی دھندہ کرتے ہیں۔ چنانچہ اس نے بھی شہد کا کاروبار شروع کردیا ۔لیکن اس کی ترش روئی کودیکھ کر لوگ اس کے نزدیک بھی نہیں پھٹکتے تھے ۔سارا دن گلی کوچوں میں ہانک لگاتا لیکن ایک گاہک بھی ہاتھ نہ آیا ۔رات کو تھک ہار کر خالی ہاتھ گھر واپس پہنچ گیا۔بیوی سے کہنے لگا ، میرے شہد میں معلوم نہیں کیا خرابی ہے کوئی خرید تاہی نہیں ۔بیوی نے ہنستے ہوئے جواب دیا’’ تلخ آدمی کا شہد بھی تلخ ہوتاہے ۔‘‘
نادان کا رزق

خلیفہ ہارون الرشید نے جب مصر کو فتح کیا تو اپنے حبشی غلام خفیف کو اس کا گورنر مقررکیا ۔کہتے ہیںکہ اس تعیناتی کی ایک وجہ تھی۔ جب ایک سال بے موسمی بارشوں کی وجہ سے مصر میں کپاس کی پوری فصل تباہ ہوگئی تب کاشتکاروں نے فریادکی۔ حبشی غلام کہنے لگا :’’تمہیں فصل پہلے ہی نہیں بونی چاہیئے تھی۔ تم اون بوتے تاکہ تباہی نہ ہوتی ۔‘‘

ایک دانانے یہ بات سنی تو حیران رہ گیا۔کہنے لگا ۔۔اگر رز ق میں اضافہ عقل کی وجہ سے ہوتا تو تمام بے وقوف مفلس ہوتے ۔خالق کائنا ت نادان کو اسی طرح رزق پہنچاتاہے کہ عقل مند خود حیران رہ جاتاہے ۔

مختصر، پراثر

حالات کیسے بھی ہوں، دعا مانگتے رہو۔ خیر مانگتے رہو ، معجزہ ہونے میں کبھی دیر نہیں لگتی۔

کچھ فیصلے نہایت مشکل ہوتے ہیں ،لیکن کرنا ہی پڑتے ہیں۔ زندگی میں ایسا کئی بار ہوتا ہے کہ آپ کسی سے بچنا چاہتے ہیں مگر وہ آپ کو نہیں چھوڑتا ،دامن سے چپکا رہتا ہے ۔ اورکچھ لوگ آپ سے چھپتے ہیں،آپ کو اتنا نا پسند کرتے ہیں کہ دولمحے گزارنا نہیں چاہتے ۔

ایک شخص کہنے لگا بیٹیوں کے اتنے مسئلے ہوتے ہیں اچھا ہوا میری کوئی بیٹی نہیں۔اسے جواب دیا کہ اللہ بھی بیٹی اسی کو دیتا ہے جس میں اسے پالنے کی اوقات ہوتی ہے۔

تنہائی آس پاس کے لوگوں کی غیر موجودگی کا نام نہیں۔ ہم بہت سے لوگوں میں بھی رہتے ہوئے تنہا ہوسکتے ہیں ،ارد گرد موجود لوگوں کی ہم میں عدم دلچسپی یا ہماری ان سے دوری ہمیں تنہا کردیتی ہے ۔

خود تو رزق دیتا ہے کیڑوں کو پتھروں میں ،تو کیوں پریشان ہے۔ ہیرے موتیوں کے چکروں میں،اڑ جا آسمان میں غوطہ لگا سمندر میں ،تجھے اتنا ہی ملے گا جتنا ملے ہے تیرے مقدر میں۔

ہیبت

ایک بادشاہ سے لوگوں نے پُوچھا کہ آپ نے اپنے باپ کے وزیروں میں کونسی خطا دیکھی جو انہیں جیل میں ٹھونس دیا۔

وہ کہنے لگا، خطا تو کوئی نظر نہ آئی البتہ یہ ضرور دیکھا کہ ان کے دل میں میری بے حد ہیبت ہے اور میرے عہد پر وہ پورا اعتماد نہیں رکھتے۔ میں ڈرگیا کہ وہ اپنے نقصان کے خوف کی وجہ سے کہیں میری جان لینے کی نہ ٹھان لیں۔ لہٰذا میں نے دانائوں کے قول پر عمل کیا۔ دانائوں نے فرمایا ہے ، جو تجھ سے ڈرتا ہے تو بھی اس سے ضرور ڈر خواہ تو اس جیسے سینکڑوں لوگوں کو لڑائی میں کیوں نہ چت کر دے۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جب بلی مسمی شکل بنا بیٹھتی ہے تو اس وقت وہ اپنے پنجے سے چیتے کی آنکھیں بھی نوچ ڈالتی ہے۔ سانپ لوگوں کے پائوں پر اس لیے ڈستا ہے کہ وہ خود ڈرتا ہے کہ چرواہا پتھر سے اُس کا سر کچل دے گا۔اس لئے کسی کو بھی حد سے زیادہ ڈرا نے سے اس کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور وہ بلا وجہ حملہ کر دیتا ہے۔

انسان کی قدر وقیمت

کبھی کبھی انسان معاشرہ میںاپنی ناقدری پر کڑھتا رہتا ہے۔ایسے لوگوں کو بے فکر رہنا چاہئے۔ یہ جان لینا چاہیے کہ ہر انسان کی قدر وقیمت کا تعین وقت کرتاہے ۔درجات اوپراللہ تعالیٰ کے پاس طے ہوتے ہیں۔ اگرا نسانی رویوں میںالجھو گے تو زندگی بھر الجھ کر رہ جاؤ گے۔ انسان کے اندر جتنی ناشکری بھری ہے اس کا ذکر تو بہت سے مفکرین نے بھی کیا ہے۔اس لئے غیب کو جاننے والے اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار رہو۔ساری الجھنیں ، ساری مشکلات خودبخود دورہوجائیں گی۔

نمرہ احمد کی باتیں

کیاکچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول پاک ﷺکے ساتھ عشق کا لفظ جوڑنا شروع کردیاہے ؟جی ہاں ایسا ہی ہے۔ہماری زبان جس زبان سے نکلی ہے ،اس میں عشق کالفظ مرد اور عورت کی ایسی محبت کے لیے استعمال ہوتاہے جو معتبر نہیں سمجھی جاتی۔ اس لفظ میں شرافت نہیں ہوتی ۔خود سوچیں، کیا کبھی تم کہہ سکتی ہو کہ تمہیںاپنے ماں باپ سے عشق ہے ؟ عجیب لگتاہے نا؟۔تو پھراللہ پاک اور رسول پاک ﷺکی محبت کے لیے یہ لفظ بالکل درست نہیں ۔

کامیابی کی کنجی
ایک دانا نے کسی سے پوچھا :میں بہت پریشان رہتا ہوں کوئی حل بتا دیجئے ۔ دانا نے کہا:مصیبت پر پریشان ہو جانا انسان کے انسان ہونے کی دلیل ہے۔ مگر پریشان رہنا اللہ تعالیٰ پر توکل نہ ہونے کی دلیل ہے اس لیے پریشانی کو روگ نہ بنائو۔ ہمیشہ کامیاب رہو گے۔
ماں
بچپن میں جان بوجھ کرآنسو بہاتے تھے ،خوب روتے تھے، چاہتے تھے کہ کسی طرح ماں دیکھ لے ۔تاکہ ہمیں ہماری مطلوبہ چیز مل جائے۔ آج روتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ ماں نہ دیکھ لے۔ وہ پوچھے گی تو کیا جواب دیں گے ۔
کانٹے
میں حیرت زدہ رہتا ہوں، ہر وہ شخص معافی مانگتا رہتا ہے جس نے کبھی کسی کا دل ہی نہ دکھایا ہو اور میں حیرت زدہ رہتا ہوں وہ کبھی معافی نہیں مانگتا جس نے بار بار دل توڑے ہوں۔پھرکتنا مشکل ہوتاہے ان لوگوں کی لاپرواہی برداشت کرنا ان کی بات کو سہنا اور سمجھنا جن کی طرف سے ہمیں ہمیشہ یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ ہمیں کبھی ایک کانٹا بھی چبنے نہ دیں گے،اور کبھی دل نہ توڑیں گے!۔
ظالم کی نیند

ایک بزرگ فرماتے ہیں، ایک ظالم بادشاہ نے کسی پارسا سے پوچھا کہ سب سے افضل عبادت کونسی ہے؟۔

بزرگ نے جواب دیا: تیرا دوپہر کو سو جانا، تاکہ کم از کم ان چند لمحات میں تو تو خلقِ خدا کو نہ ستائے۔میں نے دوپہر کے وقت ایک ظالم کوسو ئے ہوئے دیکھ کر کہا کہ یہ فتنہ ہے سویا ہی رہے تو بہترہے۔

زمانہ بدل گیا

زمانہ بدل گیا۔ کسی زمانے میںسمجھ دار بیویاں اپنے شوہر سے پوچھا کرتی تھیں کہ ’’میاں جی !بتائیں آج کھانا کیسا بنا ہے؟

اب تو بیوی کھانا رکھنے سے پہلے خود ہی بتادیتی ہے :’’ آج کا سالن بہت مزے کا پکاہے ‘‘

اورشوہر بے چارہ تڑپ کر رہ جاتاہے ۔

آرزو لکھنوی

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو

رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں

مہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو

روح نکل کر باغِ جہاں سے باغِ جناں میں جا پہنچے

چہرے پہ اپنے میری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو

خندۂ گل بلبل میں ہوگا گل میں نغمہ بلبل کا

قصہ ایک، زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو

اپنا جنونِ شوق دیا کیوں خوف جو تھا رُسوائی کا

بات کرو خود قابلِ شکوہ اُلٹے مجھ کو اُلہنے دو

حیدر علی آتش

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا

زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف

قارون نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا

چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ گر

دل صاف ہو ترا، تو ہے آئینہ خانہ کیا

طبل و علم نہ پاس ہے اپنے، نہ ملک و مال

ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا

آتی ہے کس طرح سے مری قبضِ روح کو

دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا

ترچھی نگہ سے طائرِ دل ہو چکا شکار

جب تیر کج پڑے گا، اُڑے گا نشانہ کیا

یوں مدعی حسد سے نہ دے

داد تو نہ دے آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا

میرا جی

نگری نگری پھرا مسافر، گھر کا رستہ بھول گیا

کیا ہے تیرا، کیا ہے میرا، اپنا پرایا بھول گیا

کیا بھولا، کیسے بھولا، کیوں پوچھتے ہو بس یوں سمجھو

کارن دوش نہیں ہے کوئی، بھولا بھالا بھول گیا

کیسے دن تھے، کیسی راتیں، کیسی باتیں گھاتیں تھیں

من بالک ہے، پہلے پیار کا سندر سپنا بھول گیا

اندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا شرمائی

دھندلی چھب تو یاد رہی، کیسا تھا چہرہ، بھول گیا

یاد کے پھیر میں آ کر دل پر ایسی کاری چوٹ لگی

دکھ میں سکھ ہے، سکھ میں دکھ ہے، بھید یہ نیارا بھول گیا

ایک نظر کی، ایک ہی پل کیبات ہے دوری سانسوں کی

ایک نظر کا نور مٹا جب اک پل بیتا، بھول گیا

سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہ

لہر لہر سے جا سر پٹکا، ساگر گہرا بھول گیا

ہنسی ہنسی میں، کھیل کھیل میں، بات کی بات میں رنگ مٹا

دل بھی ہوتے ہوتے آخر گھائو کا رستا بھول گیا

اپنی بیتی جگ بیتی ہے جب سے دل نے جان لیا

ہنستے ہنستے جیون بیتا، رونا دھونا بھول گیا

جس کو دیکھو اس کے دل میں شکوہ ہے

تو اتنا ہے ہمیں تو سب کچھ یاد رہا، پر ہم کو زمانہ بھول گیا

کوئی کہے یہ کس نے کہا تھا، کہہ دو جو کچھ جی میں ہے

میراؔ جی کہہ کر پچھتایا اور پھر کہنا، بھول گیا

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے

تھے وہی بت وہی خدا ٹھہرے

ٹھہرے اس در پہ یوں تو کیا ٹھہرے

بن کے زنجیر بے صدا ٹھہرے

زندگانی ...

مزید پڑھیں

اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیا

عہد جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں ...

مزید پڑھیں

شرم کی کشش حسن سے زیادہ ہوتی ہے رونا دل کوروشن کرتاہےماں، باپ کی خدمت دونوں جہاں میں آزمائش ہے۔ اولاد کے لیے جو چیز گھر لاؤ، پہلے لڑکی کو ...

مزید پڑھیں